اصول پسندی
Al-Risala, May 2012, pp. 27–29
By Maulana Wahiduddin Khan
برادرم عبد المحیط خان مجھ کو بہت زیادہ مانتے تھے۔ وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ میرے اوپر ان کو بہت زیادہ بھروسہ تھا۔ وہ خود اگر چہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے، لیکن جب میں کوئی بات کہتا تو اس کو وہ بلا بحث مان لیتے تھے۔ میرے بارے میں وہ اکثر کہتے تھے کہ میں دنیا میں سب سے زیادہ وحید بھائی کو مانتا ہوں ۔
لیکن اسی کے ساتھ وہ بہت زیادہ اصول پسند آدمی تھے۔ اصول کے معاملے میں وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی نہیں۔ مثلاً ان کی دو لڑکیاں تھیں، لیکن
اپنے سخت اصولوں کی بنا پر انھوں نے ان لڑکیوں کو اسکول میں داخل نہیں کیا۔ ان کی لڑکیوں نے ابتدا میں گھر پر کچھ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد پرائیویٹ امتحان دے کر انھوں نے اپنی تعلیم پوری کی۔ ان کی اصول پسندی کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک بار میں دہلی سے ان کی پالی ٹیکنیک (گونڈہ) یہاں وہ پرنسپل تھے۔ کالج کی لائبریری میں بہت سی کتابیں تھیں ۔ ان میں سے ایک انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کا مکمل سیٹ تھا۔ چند روزہ قیام کے دوران میں برٹانیکا کو برابر پڑھتا رہا۔ آنے لگا تو میں نے برادرم عبد المحیط خاں سے کہا کہ یہ انسائیکلو پیڈیا میرے بہت کام کی ہے۔ کوئی اس کا قدرداں نہیں۔ میں اس کو اپنے ساتھ دہلی لے جاتا ہوں اور مطالعے کے بعد میں اُس کو واپس کردوں گا۔ مگر اپنی اصول پسندی کی بنا پر انھوں نے مجھے اس کی اجازت نہ دی۔ انھوں نے کہا کہ کالج کے قاعدے کے مطابق، آپ یہاں رہ کر انسائیکلو پیڈیا سے استفادہ کرسکتے ہیں، لیکن انسائیکلو پیڈیا کو اپنے گھر لے جانا، لائبریری کے قواعد کے خلاف ہوگا۔
برادرم عبدالمحیط خاں سختی کے ساتھ اپنے اصولوں کے پابند تھے۔ وہ کسی کی بے جارعایت نہیں اصول کے معاملے میں وہ کبھی کسی سے سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر ڈپارٹمنٹ کے کئی لوگوں کو اُن سے شکایت ہوتی تھی، مگر انھوں نے کبھی کسی کی شکایت کی پروا نہیں کی۔ وہ کسی کو خوش کرنے کے لیے اپنے اصول سے ہٹنے پر تیار نہیں ہوتے تھے۔
میں نے اپنے ذاتی مزاج کی بنا پر کئی بار اُن سے ملاقات کے دوران اور خط کے ذریعے کہا کہ تم خود اپنی ذاتی زندگی میں اصول پر قائم رہو، لیکن دوسروں کے بارے میں اعراض (avoidance) کا طریقہ اختیار کرو، مگر انھوں نے اپنی شدید اصول پسندی کی بنا پر میرا یہ مشورہ نہیں مانا۔ عبدالمحیط خاں کو کئی معاملے میں اپنی اس اصول پسندی کی بھاری قیمت دینی پڑی ۔ سے ایک یہ ہے کہ اُن کا تعلق یوپی گورنمنٹ کے محکمہ ٹیکنکل ایجوکیشن سے تھا۔ وہ اپنی سینئرٹی (seniority) کے اعتبار سے ڈائریکٹر کے عہدے کے مستحق ہو چکے تھے، لیکن آخر تک اُن کو ڈائریکٹر کا عہدہ نہیں دیا گیا۔ ان کو جوائنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہونا پڑا۔ عبدالمحیط خاں نے اس نقصان کو
برداشت کیا، مگر وہ اپنے اصول سے کبھی نہیں ہٹے ۔