دعوتی زندگی
Al-Risala, May 2012, pp. 30–38
By Maulana Wahiduddin Khan
برادرَم عبدالمحیط خاں میرے دعوتی مشن میں پوری طرح میرے ساتھ تھے۔ وہ اپنی پوری زندگی ماہ نامہ الرسالہ کی ایجنسی چلاتے رہے۔ وہ ہر مہینے الرسالہ کے کچھ پرچے منگاتے تھے۔ وہ اپنے پاس رکھتے تھے اور بقیہ شمارے مفت تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، وہ ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی اسلامی کتابیں برابر منگاتے رہتے تھے اور اُنھیں لوگوں کو مطالعے کے لیے دیتے تھے۔ انھوں نے اپنی سروس کے زمانے میں دو مکان بنائے تھے۔ ایک، فیض آباد میں اور دوسرا، علی گڑھ میں۔ بعد کو انھوں نے اپنا علی گڑھ کا مکان فروخت کر دیا۔ اس کی رقم سے 6 لاکھ روپے وہ میرے وراثتی حصے کے طور پر مجھ کو بھیجنا چاہتے تھے۔ میں نے منع کر دیا۔ انھوں نے اپنے اہل خانہ کو وصیت کردی کہ یہ رقم دوبارہ مجھے بھیجی جائے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیٹی فہمیدہ خانم نے میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم سے ٹیلی فون پر یہ بات بتائی۔ ڈاکٹر فریدہ نے اُن سے کہا کہ میرے والد ذاتی طور پر اس رقم کو قبول نہیں کریں گے، اس لیے آپ چاہیں تو یہ رقم القرآن مشن (Al-Quran Mission) میں دے دیجیے، تاکہ اس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک قرآن کا ترجمہ پہنچایا جا سکے۔ چناں چہ یہ پوری رقم القرآن مشن (نئی دہلی) میں دے دی گئی۔
برادرم عبدالمحیط خاں ایک صالح کردار کے آدمی تھے۔ اسی کے ساتھ ان کے اندر دعوت کے کام کا گہرا جذبہ تھا۔ یہی جذبہ انھوں نے اپنے گھر والوں میں پیدا کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ان کی بیٹی
فہمیدہ خانم اُن کی وفات کے بعد مسلسل طور پر دعوت کا کام کر رہی ہیں۔ وہ ہمارے یہاں سے چھپا ہوا دعوتی لٹریچر برابر منگاتی ہیں، وہ خود بھی اس کو پڑھتی ہیں اور دوسروں کو مطالعے کے لیے دیتی ہیں۔ عبد المحیط خاں کو ہمارے دعوتی مشن سے بہت دلچسپی تھی۔ وہ اس سے مکمل اتفاق کرتے تھے۔ وہ اس کی توسیع واشاعت کے لیے برابر کوشش کرتے رہتے تھے۔ اس معاملے میں بھی انھوں نے کسی کی مخالفت کی پروا نہیں کی۔ وہ کھلے طور پر اور آخر وقت تک ہمارے دعوتی مشن کے حامی بنے رہے۔ میں نے اکتوبر 1976 میں دہلی سے ماہ نامہ الرسالہ جاری کیا۔ عبد المحیط خاں شروع ہی سے الرسالہ کا باقاعدہ مطالعہ کرنے لگے۔ مزید یہ کہ انھوں نے الرسالہ کی ایجنسی لے لی۔ وہ الرسالہ کو خود بھی پڑھتے اور دوسروں کو اسے پڑھنے کے لیے دیتے۔ اسی طرح اُن کے پاس میری تمام کتابیں موجود وہ ان کتابوں کو مسلسل پڑھتے رہتے تھے اور لوگوں سے ان کے مضامین کا چرچا کرتے تھے۔ میرے مشن کے بارے میں ان کو کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا، حتی کہ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی واحد صحیح مشن ہے اور لوگوں کو اس مشن کا ساتھ دینا چاہئے۔ میری لکھی ہوئی تفسیر قرآن اردو، عربی، ہندی اور انگریزی میں چھپی ہے۔ اس کا نام’’ تذکیر القرآن‘‘ ہے۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں وہ روزانہ تذکیر القرآن پڑھتے رہتے تھے۔ اس کے نوٹس (notes) وہ برابر لکھتے رہتے تھے۔
میری عادت ہے کہ میں ہر ایک سے اس کے تجربات پوچھتا ہوں۔ عبد المحیط خاں سے جب میری ملاقات ہوتی تو میں ہمیشہ ان کے تجربات پوچھتا تھا۔ اُن کا ایک تجربہ میں نے اُنھیں کے لفظوں میں یہ تجربہ میری کتاب ’’سبق آموز واقعات‘‘ میں شائع ہوا ہے، اُس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ 1954ء میں جب کہ میں بنارس ہندو یونی ورسٹی میں انجینئرنگ کا طالب علم تھا، ایک واقعہ پیش آیا جو کہ اب تک مجھے یاد ہے۔ میرے استاد ڈاکٹر پران ناتھ نے لاپلاس ٹرانسفارم (Laplace Transform) کو پڑھانا شروع کیا تو انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک دلچسپ کہانی ہے جو ہمارے موجودہ پرنسپل سے متعلق ہے۔ یہ پروفیسر ایم۔ گپتا تھے جو اُس وقت بنارس ہندو یونی ورسٹی کے انجینئرنگ کالج کے
پرنسپل تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ پروفیسر گپتا مزید تعلیم کے لیے گلاسگو یونیورسٹی گئے تھے اور وہاں سے انھوں نے ٹاپ کیا تھا۔ گلاسگو کا پروفیسر ایک روز بلیک بورڈ پر ایک الیکٹریکل پرابلم کو حل کر رہا تھا۔ اس درمیان میں ڈفرینشیل ایکویشن (differential equation) کا سوال آگیا۔ گلاسگو کے پروفیسر نے اس کو عام طریقے سے حل کیا، جس میں کافی وقت لگا اور سارا بلیک بورڈ بھر گیا۔ پروفیسر گپتا نے اس موقع پر کھڑے ہو کر کہا: میرا خیال ہے کہ یہاں لاپلاس ٹرانسفارم کو آپلائی کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ سوال بہت مختصر طریقے سے حل ہو جائے گا۔ پروفیسر نے اس تجویز پر عمل کیا تو صرف دو لائنوں میں سوال حل ہوگیا۔ اگر چہ دونوں طریقوں کا آخری جواب ایک ہی تھا، مگر پروفیسر نے کہا: جب مختصر طریقہ ہمارے پاس موجود ہے تو لمبے طریقے کو اختیار کرنا ہی سرے سے غلط ہے، اس نے بلیک بورڈ پر اپنے لکھے ہوئے حل کو مٹا دیا اور پروفیسر گپتا کے طریقے کو لکھتے ہوئے کہا: This is the only method اسی قسم کا ایک اور واقعہ 1964ء کا ہے۔ حکومت ہند کی وزارت تعلیم نے امریکی حکومت کے ایجوکیشن ڈویژن کے تعاون سے چندی گڑھ میں ’’سمر اسکول فار ٹیچرس‘‘ کا ایک پروگرام شروع کیا۔ اس میں ہندوستانی شخصیتوں کے علاوہ، تین امریکی پروفیسر آئے ہوئے تھے، اس وقت میں چندولی میں سینئر لکچر رتھا اور اسی حیثیت سے میں نے چندی گڑھ کے اس پروگرام میں شرکت کی تھی۔ یہ پہلا کورس تھا جو 15 جون سے 24 جولائی 1964ء تک ہوا۔
امریکی پروفیسر منچل نے ایک روز کلاس میں سوال کیا— تخلیقی لوگ کون ہوتے ہیں (Who are creatives)۔ مختلف لوگوں نے مختلف نام لیے۔ ایک شخص نے کہا پوئیٹ (شاعر) پروفیسر نے کہا، کیا (What)۔ پروفیسر منچل کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ بار بار ’روہاٹ‘ کہتے رہے اور ہمارے ساتھی بار بار ’پوئیٹ‘ دہراتے رہے۔ بالآخر انھوں نے اس کی اسپیلنگ بتائی: پی اوای ٹی (poet)۔ اب پروفیسر منچل سمجھ گئے کہ ہمارے ساتھی کی مراد شاعر سے ہے۔ مگر ہندوستانی اور امریکی تلفظ کے فرق کی وجہ سے وہ سمجھ نہیں پاتے تھے۔ کیوں کہ ہندوستانی تلفظ اس لفظ کا پوئیٹ ہے جب کہ امریکی تلفظ میں
اس کو پاییٹ کہتے ہیں۔ اس کے بعد پروفیسر نے کہا:
You are right, I am wrong, because I am in your country. ’’آپ صحیح ہیں۔ میں ہی غلطی پر ہوں، کیوں کہ میں اس وقت آپ کے ملک میں ہوں‘۔ برادرم عبدالمحیط خاں نے بنارس ہندو یونی ورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ (Electrical Engineering) میں داخلہ لے کر بی ای (B.E) کیا تھا۔ اس کے بعد اسی یونی ورسٹی سے انھوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری لی۔ اس طرح انھوں نے سائنس کی باقاعدہ تعلیم حاصل میں نے کبھی کسی کالج اور یونی ورسٹی میں داخلہ نہیں لیا، البتہ مجھے سائنس سے دلچسپی تھی۔ نے سائنس کے موضوع کو پرائیویٹ طور پر کتابوں کے مطالعہ (self study) کے ذریعے پڑھا۔ اس طرح مجھے نظری سائنس (theoretical science) سے کسی حد تک واقفیت ہو گئی تھی۔ پینکل اعتبار سے میں نے اس موضوع پر کوئی تربیت حاصل نہیں کی تھی۔
اس پہلو سے مجھے برادرم عبدالمحیط خاں سے کافی مدد ملی۔ میں ان کے یہاں اُس وقت جاتا تھا، جب کہ وہ پالیٹکنیک (Technical College) کے پرنسپل تھے۔ میں ان سے سائنس کے موضوع پر بات پھر وہ مجھے اپنے کالج کی لیب (laboratory) میں لے جا کر اُس کا عملی مشاہدہ کراتے تھے۔ مثال کے طور پر میں نے فریڈے (Michael Faraday) وغیرہ کو پڑھا تھا۔ سے میں نے جانا تھا کہ نظریاتی طور پر بجلی کیا ہے۔ نظریاتی طور پر بجلی الیکٹران کے بہاؤ کا نام ہے: Electricity means flow of electrons. برادرم عبدالمحیط خاں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی۔ وہ مجھ کو اپنی کالج کی لیب (laboratory) میں لے گئے۔ وہاں انھوں نے مجھ کو ڈائینمو (dynamo) دکھایا۔ انھوں نے مجھے عملی طور پر بتایا کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ اگر ڈائینمو کے اندر میگنیٹک فیلڈ (magnetic field) اور موشن (motion) کو یکجا کیا جائے تو اس سے قانون فطرت کے مطابق، وہاں بجلی پیدا ہو جائے گی۔ اور اگر ڈائینمو میں میگنیٹک فیلڈ کے ساتھ الیکٹرسٹی کو یکجا کیا جائے تو وہاں موشن (motion) پیدا ہو جائے گا۔
پہلے قانون کے ذریعہ پاور ہاؤس بنتا ہے اور دوسرے قانون کے ذریعہ مشین متحرک ہوتی ہے۔ برادرم عبدالمحیط خاں صرف ایک انجینئر نہ تھے، بلکہ اسی کے ساتھ ان کے اندر انسانی ہمدردی کا جذبہ بھی بہت زیادہ تھا۔ وہ لوگوں کی بھلائی کے لیے بہت سوچتے تھے۔ اسی کے ساتھ وہ بقدراستطاعت اس پر عمل بھی کرتے تھے۔
ایک بار انھوں نے بہت درد کے ساتھ کہا۔ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ اس جملہ سے ان کا مطلب یہ تھا کہ انسان کو موجودہ دنیا میں زندگی کا موقع صرف ایک بار ملا ہے۔ ایک محدود مدت کے بعد وہ اس دنیا سے چلا جائے گا۔ عقل مند انسان وہ ہے جو اس محدود مدت کو اعلی مقصد کے لیے استعمال کرے۔ اگر اس نے اعلی مقصد کے سوا کسی اور کام میں اپنی عمر گزاردی تو اس کو دوبارہ یہ موقع ملنے والا نہیں۔ ان کا یہ قول کہ ’’زندگی صرف ایک بار ملتی ہے‘‘ کسی محدود معنی میں نہ تھا۔ وہ دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں تھا۔ ان کو افسوس ہوتا تھا کہ دنیا میں اکثر لوگ صحیح پلاننگ نہ کرنے کی وجہ سے کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ ہر آدمی کا کیس کم تر استعمال کا کیس (A case of under-utilization) بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت کی نسبت سے ہے۔ ہمارے والد فرید الدین خاں یہ کہا کرتے تھے کہ ’’خدا کو منہ دکھانا ہے‘‘۔ برادرم عبدالمحیط خاں کو یہ فکر رہتی تھی کہ لوگ آخرت کے لحاظ سے تیاری نہیں کرتے، پھر اُس وقت ان کا کیا حال ہو گا جب وہ موت کے بعد خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے ۔ برادرم عبدالمحیط خاں کی لڑکی فہمیدہ خانم نے بتایا کہ بعد کے زمانے میں ہم لوگوں سے وہ اکثر آخرت کی بات کرتے تھے۔ ان کا اپنا یہ حال تھا کہ وہ خدا کے خوف سے کانپتے رہتے تھے۔ میرے مشن کا ایک حصہ وہ ہے جو مسلمانوں کی ملی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس معاملے میں لکھنے اور بولنے والوں کا طریقہ عام طور پر یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی مظلومی کو بیان کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان، امتیاز (discrimination) کا شکار ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔
مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ میں اس نظریے کو صدق غلط سمجھتا ہوں۔ اس نظریے کے خلاف لکھنے کا کام میں نے لکھنؤ کے زمانہ قیام (1963-1966) میں شروع کیا تھا۔ اُس زمانے میں، میں لکھنؤ کے ہفت روزہ ”ندائے ملت‘ میں اس قسم کے تعمیری مضامین شائع کرتا اس کے بعد 1967 میں مجھے ”الجمعية ویکلی“ (دہلی) کا ایڈیٹر بنایا گیا۔ اب الجمعیۃ ویکلی میں میرے اس قسم کے تعمیری مضامین چھپنے لگے۔ اس کے بعد 1976 میں میں نے ماہ نامہ ”الرسالہ‘ نئی دہلی سے جاری کیا۔ اُس وقت سے اب تک الرسالہ میں میرے اس قسم کے تعمیری مضامین چھپ رہے ہیں۔ میں اپنے اسلوب کے مطابق، اس موضوع کو واقعات کی زبان میں لکھتارہا ہوں ۔ میں قدیم وجدید تاریخ کے سبق آموز واقعات، میں نے بڑی تعداد میں شائع کئے ہیں۔ اسلوب نے کثیر تعداد میں لوگوں کو زندگی کا نیا حوصلہ دیا ہے۔
عبد المحیط خاں کی زندگی اس معاملے میں ایک عملی مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُن کو عام طور پر اے ایم خاں کہا جاتا تھا۔ اپنے حلقے میں وہ اسی نام سے مشہور تھے۔ اپنے مزاج کے مطابق، انھوں نے کبھی کسی سے رعایت نہیں چاہی اور نہ اُنھیں کبھی کسی سے کوئی فیور (favour) ملا۔ انھوں نے اپنی محنت اور اپنی دیانت داری سے اپنے لیے ممتاز جگہ بنائی۔ میں نے الجمعيۃ ویکلی اور ماہ نامہ الرسالہ میں اُن کے بارے میں چند صفحات شائع کیے تھے، وہ یہاں کسی تبدیلی کے بغیر نقل کئے جاتے ہیں۔ استحقاق پیدا کیجئے مسٹر عبدالمحیط خاں ہائر سکینڈری کے امتحان میں اچھے نمبر سے پاس ہوئے تھے۔ مگر کسی وجہ سے وہ بروقت آگے داخلہ نہ لے سکے، یہاں تک کہ اکتوبر کا مہینہ آگیا۔ اب بظاہر کہیں داخلہ ملنے کی صورت تاہم تعلیم کا شوق ان کو ہندو سائنس کالج کے پرنسپل کے دفتر میں لے گیا۔ ”جناب، میں بی ایس سی میں داخلہ لینا چاہتا ہوں“۔ انھوں نے ہندو پرنسپل سے کہا۔ ”یہ اکتوبر کا مہینہ ہے، داخلے بند ہو چکے ہیں، اب کیسے تمھارا داخلہ ہوگا؟ ”بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ داخلہ لے لیں، ورنہ میرا پورا سال بے کار ہو جائے گا۔
”ہمارے یہاں تمام سیٹیں بھر چکی ہیں، اب مزید داخلے کی کوئی گنجائش نہیں‘۔
پرنسپل اتنی بے رخی برت رہا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ہرگز داخلہ نہیں لے گا اور اب اگلا جملہ طالب علم کو شاید یہ سننا پڑے گا کہ ”کمرے سے نکل جاؤ“۔ مگر طالب علم کے اصرار پر پرنسپل نے بددلی سے پوچھا ”تمھارے مارکس (marks) کتنے ہیں‘۔ پرنسپل کا خیال تھا کہ اس کے نمبر یقیناً بہت کم ہوں گے، اسی لیے اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا۔ چناں چہ طالب علم جب اپنے خراب نتیجہ(result) کو بتائے گا تو اس کی درخواست کورد کرنے کے لیے معقول وجہ ہاتھ آجائے گی، مگر طالب علم کا جواب اس کی امید کے خلاف تھا۔ طالب علم نے کہا جناب 85 فی صد(Sir, eighty five percent)۔ اس جملہ نے پرنسپل پر جادو کا کام کیا۔ فوراُ اس کا موڈ بدل گیا۔ اس نے کہا ”بیٹھو، بیٹھو“۔ کے بعد پرنسپل نے طالب علم کے کاغذات دیکھے اور جب کاغذات نے تصدیق کر دی کہ واقعی وہ پچاسی فی صد نمبروں سے پاس ہوا ہے تو اسی وقت پرنسپل نے پچھلی تاریخ میں درخواست لکھوائی۔ عبدالمحیط خاں کو نہ صرف تاخیر کے باوجود اپنے کالج میں داخل کر لیا، بلکہ کوشش کرکے ان کو وظیفہ (scholarship) بھی دلوایا۔
یہی طالب علم اگر اس حالت میں پرنسپل کے پاس جاتا کہ وہ تھرڈ کلاس پاس ہوتا اور پرنسپل اس کا داخلہ نہ لیتا تو طالب علم کا تاثر کیا ہوتا۔ وہ اس طرح لوٹتا کہ اس کے دل میں نفرت اور شکایت بھری وہ لوگوں سے کہتا کہ یہ سب تعصب کی وجہ سے ہوا ہے، ورنہ میرا داخلہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔ داخلہ نہ ملنے کی وجہ اس کا خراب نتیجہ ہوتا، مگر اس کا ذمہ دار وہ ہندو کالج کو قرار دیتا—ماحول کا رد عمل اکثر خود ہماری حالت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مگر ہم اس کو ماحول کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، تاکہ اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ ثابت کر سکیں۔
اگر آدمی نے خود اپنی طرف سے کوتاہی نہ کی ہو، اگر زندگی میں وہ اُن تیاریوں کے ساتھ داخل ہوا ہو جو زمانے نے مقرر کی ہیں تو دنیا اس کو جگہ دینے پر مجبور ہوگی۔ وہ ہر ماحول میں اپنا مقام پیدا کرلے گا، وہ ہر بازار سے اپنی پوری قیمت وصول کرے گا۔ مزید یہ کہ ایسی حالت میں اس کے اندر اعلیٰ
اخلاقیات کی پرورش ہوگی۔ وہ اپنے تجربات سے جُرأت، اعتماد، عالی حوصلگی، شرافت، دوسروں کا اعتراف، حقیقت پسندی اور ہر ایک سے صحیح انسانی تعلق کا سبق سیکھے گا۔ وہ شکایت کی نفسیات سے بلند ہو کر سوچے گا۔ ماحول اس کو تسلیم کرے گا، اس لیے وہ خود بھی ماحول کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر اس نے اپنے آپ کو اہل (competent) ثابت کرنے میں کوتاہی کی ہو۔ اگر وہ وقت کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔ اگر وہ کم تر لیاقت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوا ہو تو لازماً وہ دنیا کے اندر اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے گا۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر جو اخلاقیات پیدا ہوں گی، وہ بلاشبہ پست اخلاقیات ہوں گی۔ وہ شکایت، جھنجھلاہٹ، غصہ، حتیٰ کہ مجرمانہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ جب آدمی ناکام ہوتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی نفسیات ابھرتی ہیں۔ اگر چہ آدمی کی ناکامی کی وجہ ہمیشہ اپنی کمزوری ہوتی ہے، مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قصور وار وہ ہمیشہ اپنی ناکامیوں کے لیے دوسروں کو مجرم ٹھہراتا ہے۔ وہ صورتِ حال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
کم تر تیاری آدمی کو بیک وقت دو قسم کے نقصانات کا تحفہ دیتی ہے—اپنے لیے بے جا طور پر ناکامی کا احساس، اور دوسروں کے بارے میں بے جا طور پر شکایت۔
پتھر ہر ایک کے لیے سخت ہے، البتہ وہ اس آدمی کے لیے نرم ہو جاتا ہے جو اس کو توڑنے کا اوزار رکھتا ہو۔ یہی صورت ہر معاملے میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوئے ہوں تو آپ اپنی واقعی حیثیت سے بھی زیادہ حق اپنے لیے وصول کر سکتے ”وقت“ گزرنے کے بعد بھی ایک اجنبی کالج میں آپ کا داخلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کو اپنا واقعی حق بھی نہیں مل سکتا۔ گیس نیچے نہیں سماتی تو اوپر اٹھ کر وہ اپنے لیے جگہ حاصل کرتی ہے۔ پانی کو اونچائی آگے بڑھنے نہیں دیتی تو وہ نشیب کی طرف سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ درخت سطح کے اوپر قائم نہیں ہو سکتا تو وہ زمین پھاڑ کر اس سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کر لیتا ہے۔ یہ طریقہ جو غیر انسانی دنیا میں خدا
نے اپنے براہ راست انتظام کے تحت قائم کر رکھا ہے، وہی طریقہ انسان کو بھی اپنے حالات کے اعتبار سے اختیار کرنا ہے۔
ہر آدمی جو دنیا میں اپنے آپ کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہو، اس کو سب سے پہلے اپنے اندر کامیابی کا استحقاق پیدا کرنا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانے اور پھر اپنے حالات کو سمجھے۔ قوتوں کو صحیح ڈھنگ سے منظم کرے۔ جب وہ ماحول کے اندر داخل ہو تو اس طرح داخل ہو کہ اس کے مقابلے میں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو پوری طرح تیار کر چکا ہو۔ حالات سے اپنی اہمیت منوانے کے لیے ضروری سامان کر لیا ہو۔ اگر یہ سب ہو جائے تو اس کے بعد آپ کے عمل کا جو دوسرا لازمی نتیجہ سامنے آئے گا، وہ وہی ہوگا جس کا نام ہماری زبان میں کامیابی ہے۔ (الجمعیتہ ویکلی، دہلی 24 نومبر 1967)۔