ایک واقعہ
Al-Risala, May 2012, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر عبد المحیط خاں نے 28 جون 1995 کی ملاقات میں اپنی سروس کے زمانے کے کئی سبق آموز تجربات بتائے۔ ان میں سے ایک تجربہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
مسٹر اے ایم خاں نے 1955 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ای (B.E) کی ڈگری لی۔ 1963 میں چندولی (ضلع بنارس، یوپی) کے پرائیویٹ پالی ٹیکنیک میں ایک جگہ خالی ہوئی۔ یہ سینئر لکچرر کی جگہ تھی۔ اسی کے ساتھ کامیاب امیدوار کو الیکٹریکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ (head) کا عہدہ بھی سنبھالنا تھا۔
اس کا انٹرویو بنارس کے کمشنر جے بی ٹنڈن کی سرکاری رہائش گاہ پر تھا۔ کمشنر صاحب چندولی پالی ٹیکنیک میں بحیثیت عہدہ اس کی مینیجنگ کمیٹی کے صدر بھی ہوتے تھے۔ چناں چہ وہ بھی انٹرویو میں انٹرویو بورڈ کے ایک پروفیسر رام سرن تھے۔ دوسرے رکن پروفیسر گیرولا تھے۔ گیرولا بنارس ہندو یونیورسٹی میں مسٹر خاں کے استاد رہ چکے تھے۔
پروفیسر رام سرن نے مسٹر خاں سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ــــ کیا آپ جانتے ہیں کہ
انسٹرو منٹ ٹرانسفارمر کیا ہوتا ہے:
Mr. Khan, do you know what is instrument transformer? مسٹر خان نے ابھی سوال کا جواب نہیں دیا تھا کہ پروفیسر گیر ولانے کمشنر ٹنڈن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جاب کے لیے سب سے بہتر امید وار ہیں۔ ان کے لیے انٹرویو دینے کا کوئی سوال نہیں: He is the best candidate for the job. There is no question for interview. اس کے بعد پروفیسر گیر ولانے کہا کہ ـــ مسٹر خان، آپ جا سکتے ہیں: