Mr. Khan, you can go.
Al-Risala, May 2012, pp. 39–40
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر سرن جنھوں نے سوال کیا تھا، وہ خاموش رہے۔ مسٹر خان اپنے کاغذات لے کر کمرہ سے باہر آگئے۔ ایک ہفتہ کے بعد ان کو حسب قاعده آپائنٹمنٹ لیٹر مل گیا۔ وہ چندولی پالی ٹیکنیک میں سینئر لکچرر مع ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ الیکٹریکل انجینئرنگ مقرر ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی ترقی ہوتی رہی، یہاں تک کہ وہ جوائنٹ ڈائرکٹر (ٹیکنکل ایجوکیشنل) کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ آج کل اکثر نوجوان یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ روز گار نہیں، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قابل روزگار افراد نہیں۔ مسٹر اے ایم خان کے ساتھ مذکورہ واقعہ اسی لیے پیش آیا کہ انھوں نے محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی ۔ وہ ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوئے، تعلیم کے دوران ان کا کردار نہایت پروفیسر گیر ولا اور دوسرے متعلق لوگوں کے درمیان ان کی تصویر نہایت عمدہ بنی۔ اسی کی وہ قیمت تھی جو مذکورہ شان دار واقعہ کی صورت میں انھیں ملی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارہ اور ہر دفتر اچھے کارکن کو چاہتا ہے، کیوں کہ اس کے بغیر اس کا کام درست طور پر نہیں چل سکتا۔ کوئی بھی آدمی اپنا دشمن نہیں، اس لیے کوئی بھی آدمی اچھے کارکن کو نظر انداز کرنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھا اور قابل اعتماد کارکن دوسروں کی ضرورت ہے۔ کی ضرورت بن جائیے ۔ اور پھر آپ کے لیے روز گار حاصل کرنا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا۔ اس دنیا کا نظام دو طرفہ لین دین پر چل رہا ہے۔ یہاں شکایت اور احتجاج اور مطالبہ کی کوئی
اس دنیا کا سادہ اصول یہ ہے کہ جتنا دینا اتنا پانا۔ اگر آپ روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو اپنے آپ کو دوسروں کے لیے مفید بنائیے۔ اپنے اندر وہ مہارت پیدا کیجئے جس کی دوسروں کو ضرورت ہے، اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کو روزگار تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد روزگار خود آپ کو تلاش کرے گا، حتیٰ کہ یہ حال ہو جائے گا کہ آپ آگے ہوں گے اور روزگار آپ کے پیچھے جب بھی آپ دنیا میں کوئی جگہ چاہیں اور دنیا والے آپ کو وہ جگہ دینے پر تیار نہ ہوں تو دوسروں کی شکایت نہ کیجئے بلکہ یہ یقین کر لیجئے کہ آپ کے اندر کوئی کمی ہے جس کی بنا پر آپ دوسروں کے لیے قابلِ قبول نہ ہو سکے، اور پھر اس کمی کو دور کرنے میں لگ جائیے ۔ اس کے بعد آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ برادرم عبد المحیط خاں کے بارے میں اُن کی زندگی میں، میں نے کئی تحریریں شائع کی تھیں۔ ان تحریروں میں ان کی زندگی کے وہ پہلو شامل ہوتے تھے جن میں عام لوگوں کے لیے سبق (lesson) اُنھیں تحریروں میں سے ایک تحریر وہ ہے جو انٹرویو کے انداز میں دہلی کے اخبار ’’الجمعیۃ ویکلی‘‘ کے شمارہ 15 ستمبر 1967 میں چھپی تھی۔ یہ انٹرویو پورا کا پورا ایک سبق آموز انٹرویو تھا۔ یہ انٹرویو اخبار میں حسبِ ذیل عنوان کے تحت چھپا تھا: