A. M. Khan, Principal
Al-Risala, May 2012, pp. 41–49
By Maulana Wahiduddin Khan
اب مجھے پورا اطمینان ہو گیا کہ یہی اس شخص کی رہائش گاہ ہے، جس سے ملنے کے لیے میں اس وقت یہاں آیا ہوں۔ میں فوراً رکشے سے اتر گیا۔
میں نے کال بیل (call bell) کا بٹن دبایا اور جواب کے انتظار میں مکان کے باہر ٹہلنے لگا۔ سرکاری طور پر تعمیر شدہ رہائش گاہ ”کلاس ون آفیسر‘‘ کے شایانِ شان تھی۔ مگر میں نے دیکھا کہ اس کے رکھ رکھاؤ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ مکان کے چاروں طرف وسیع زمین سوکھی پڑی تھی۔ گملوں کی قطار اور السیشین(Alsatian) کا ہیبت ناک چہرہ بھی اس کی رونق بڑھانے کے لیے موجود نہیں تھا۔ موٹر گیرج تو بنا ہوا تھا، مگر وہ خالی تھا۔ چر اسیوں کی فوج بھی کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک لڑکے نے دروازہ کھولا ۔ اب میں ملاقات کے کمرہ میں تھا ۔ کمرہ بھی بس سادگی کی تصویر تھا۔ نہ صوفہ سیٹ، نہ بیش قیمت قالین، نہ آرائش کے ساز و سامان۔ میرا پہلا تاثر یہ ہوا کہ مسٹر خان ’’آمدنی‘‘ کرنے کے بہترین مقام پر ہوتے ہوئے بھی صرف سرکاری تنخواہ پر قناعت کرتے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ انجینئرنگ کے ادارہ کا ایک پرنسپل اپنی تنخواہ کے علاوہ، بہت بڑی کمائی کر سکتا ہے۔ اگر مسٹر خان اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھاتے تو گھر کے اندر اور باہر کا یہ نقشہ نہ ہوتا۔
میں مسٹر خان سے پہلی بار اس وقت متاثر ہوا جب وہ ہمارے یہاں پالی ٹیکنیک میں لکچر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ ان کا خاص مضمون میتھمیٹکس اور الیکٹریکل انجینئرنگ تھا۔ اپنے مضمون سے انھیں اس طرح دل چسپی تھی جیسے کسی نو جوان کو فلم اور ناول سے دلچسپی ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ اپنے مضمون پر بے حد تیار تھے۔ اور اس طرح پڑھاتے تھے کہ ان کے ایک شاگرد کے الفاظ میں ’’بالکل گھول کر پلا دیتے تھے‘‘۔ پالی ٹیکنیک میں جن درجات کو انھوں نے پڑھایا تھا، ان کا نتیجہ سو فی صد میں انھیں خیالات میں غرق تھا کہ اتنے میں پیچھے کا پردہ اٹھا اور مسٹر خان کمرہ میں داخل
ایک انتہائی شریف انسان، ہنس مکھ چہرہ اور پر وقار شخصیت کے ساتھ میرے سامنے کھڑا تھا۔ ’’مسٹر خان‘‘ ابتدائی گفتگو کے بعد میں نے کہا’’ میں اس وقت آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ آپ اپنی زندگی کے کچھ تجربات مجھے بتائیں ۔ خاص طور پر وہ تجربات جو آپ کے پیشہ (profession) سے متعلق ہیں‘‘۔
’’میں کیا اور میرے تجربات کیا‘‘ مسٹر خان نے سادگی کے ساتھ جواب دیا۔
’’تجربات تو ہر شخص کے ہوتے ہیں اور آپ کے تجربات بھی یقیناً ہوں گے‘‘۔
’’ہاں، اس لحاظ سے میں بھی کچھ تجربات کا نام لے سکتا ہوں‘‘۔
ٹھیک ہے، آپ جس حیثیت سے بھی بتائیں، مجھے تو آپ کے تجربات معلوم کرنے ہیں۔ خاص طور پر وہ تجربات جو آپ کی ملازمت کی زندگی سے متعلق ہیں‘‘۔
’’اس سے آپ کی کیا مراد ہے، یعنی آپ کس قسم کے تجربات مجھ سے سننا چاہتے ہیں‘‘۔ ’’آپ مسلمان ہوتے ہوئے ایک اچھی سرکاری ملازمت میں ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے اس کا موقع ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں پہنچ سکیں اور پہنچنے کے بعد عزت کے ساتھ رہیں‘‘۔ میں نے سوال کو متعین کرتے ہوئے کہا۔ یہ سنتے ہی مسٹر خان کا موڈ بدل ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے ان کی نازک رگ کو چھیڑ دیا ہے۔ ’’یقیناً‘‘ انھوں نے کہا۔ نزدیک یہ دونوں باتیں ممکن ہیں۔ اگر کوئی چیز ناممکن ہے تو وہ خود ہمارے اندر موجود ہے‘‘۔ ’’براہ کرم تفصیل سے بتائیے کہ آپ کا کیا مطلب ہے‘‘۔ میں نے کہا۔
’’آپ کو معلوم ہے کہ میری انجینئرنگ کی تعلیم ہندو یونیورسٹی میں ہوئی ہے۔ ‘‘ انھوں نے کہنا ’’اس وقت سے لے کر اب تک میرا سابقہ ہمیشہ ہندوؤں سے رہا۔ حالاں کہ میں نے کبھی مصالحت یا خوشامد پسندی کے نظریہ کے تحت کوئی بات نہیں کی، اور نہ میں نے کبھی اپنی اسلامیت کو مگر خدا کا شکر ہے کہ مجھے کبھی کسی سے شکایت نہیں ہوئی۔ میں نے 1955ء میں بی ایس سی (انجینئرنگ) پاس کیا۔ اگرچہ میرا اسکنڈ کلاس آیا تھا، مگر جب میں نے اپنے ہندو اساتذہ سے تصدیق
(Testimonial) کے لیے کہا تو انھوں نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ اپنی تحریریں مجھے عطا کیں۔ الیکٹریکل کمیونی کیشن کے پروفیسر نے اپنی تصدیق میں میرا تعارف کراتے ہوئے لکھا: I am confident that Mr. A. M. Khan will prove his merit in any branch of his profession. ( مجھے پورا اعتماد ہے کہ مسٹر خان اپنے پیشہ کے کسی بھی کام میں اپنی اہلیت ثابت کریں گے ) سول انجینئرنگ کے ہندو ریڈر نے یہ بتاتے ہوئے کہ میں اپنے موجودہ مطالعہ کی بنیاد پر جونیر ڈگری یا ڈپلوما کلاسز کو آسانی سے لے سکتا ہوں، میرے بارے میں لکھا: ...and after some experience, any classes without limitation. ( اور کچھ تجربات کے بعد مسٹر خان بلا قید کوئی بھی کلاس لے سکتے ہیں )
”یہ الفاظ تو نہ صرف یہ کہ بے تعصبی کا ثبوت ہیں، بلکہ وہ اپنی حد سے بھی کچھ آگے بڑھے ہوئے “ میں نے اپنا تاثر ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ ”واقعی اگر آدمی لیاقت کا ثبوت دے تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا اسے تسلیم نہ کرے۔ “ ”جی ہاں،“ مسٹر خان نے کہا۔ ”مجھے لیاقت کا دعویٰ تو نہیں ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ میں اپنا کام محنت اور دیانت داری سے کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اب تک میں ملازمت کے تحت تین کالجوں میں رہا ہوں۔ اور تینوں جگہ کا میرا تجربہ یہی ہے کہ اگر آدمی اپنا کام ٹھیک طریقہ سے کرے تو اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آسکتی“۔ کیا براہِ کرم، آپ اپنے کچھ ایسے تجربات بتائیں گے جن سے آپ کے اس خیال کی واقعاتی تائید ہوتی ہو،“ میں نے کہا۔ ”ضرور،“ مسٹر خان نے کہنا شروع کیا۔ ”سب سے پہلے جس ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں میرا تقرر ہوا تھا، اس کا قصہ سنیے۔ میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ ایک ہندو ٹیچر کو معلوم نہیں مجھ سے کیا ضد ہو گئی کہ وہ میرے خلاف ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔ ایک روز تنخواہ تقسیم کرنے کا دن تھا۔ وہ میرے آفس آئے اور کچھ بدتمیزی کے انداز میں باتیں کیں۔ مجھے غصہ آ گیا اور میں نے ان کو آفس سے نکلوادیا۔ اب وہ مجھ سے اور بھی خفا ہو گئے، اور میرے خلاف ایک کیس تیار کیا جس میں مجھ پر طرح طرح کے فرضی الزامات قائم کئے اور اس کو لے کر ڈائرکٹریٹ میں پہنچے۔ پہلے انھوں نے آفس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کی، مگر جب
انھوں نے کچھ توجہ نہ دی تو وہ ڈائرکٹرر سے ان کے دفتر میں ملے۔ جب انھوں نے ڈائرکٹ سے کہا کہ وہ میرے خلاف شکایت لے کر آئے ہیں تو ڈائرکٹر بہت خفا ہوئے۔ انھوں نے کہا’’ہم مسٹر خان کے خلاف کوئی شکایت سننا نہیں چاہتے‘‘۔ اور یہ کہہ کر ان کو آفس سے باہر نکلوا دیا۔ ’’اور آپ جانتے ہیں یہ ڈائرکٹر کون تھا‘‘۔ مسٹر خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اور پھر خود ہی جواب دیا’’وہ کوئی مسلمان نہیں، بلکہ ہندو تھا‘‘۔
’’میں سمجھتا ہوں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ ڈائرکٹر کو معلوم ہوگا کہ آپ کسی قسم کی کوئی گڑبڑ نہیں کرتے اور اپنا کام محنت سے انجام دیتے ہیں‘‘، میں نے اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
’’پھر اسی سے ملتا جلتا قصہ ایک چپراسی کے ساتھ پیش آیا‘‘۔ ہمارے کالج میں بوائلر (boiler) کو نصب کرنے کے سلسلے میں کچھ تعمیرات کی ضرورت تھی۔ میں نے سوچا کہ چپراسیوں کی فوج بے کار پڑی رہتی ہے، ان کو مستریوں کے ساتھ کام پر لگا دوں۔ اس طرح کام بھی ہو جائے گا اور کالج کا فائدہ چپراسیوں میں ایک شخص انسٹرکٹر (instructor) کے گریڈ کا تھا۔ اس سے میں نے کہا تو وہ بولا یہ کام نہیں ہے‘‘۔ مجھے اس کے جواب پر غصہ آیا اور میں نے اس کو معطل (suspend) کر دیا، حالاں کہ قانونی طور پر مجھے معطلی کا اختیار نہیں تھا‘‘۔
’’اب اس ہندو چپراسی نے میرے خلاف زبردست شکایت نامہ تیار کیا اور اس کو ڈائرکٹر کے نام وہاں سے میرے نام چٹھی آئی کہ ڈائرکٹریٹ میں ایسی ایسی شکایت پہنچی ہے اور یہ کہ میں اس کی وجہ بیان کروں۔ میں نے صحیح صحیح بات لکھ دی۔ اور لکھا کہ میں نے جو کچھ کیا، کالج کے مفاد میں کیا۔ بعد ڈائرکٹر کا فیصلہ آیا جس میں چپراسی کو اس سے بھی زیادہ سخت سزا دی گئی جو میں نے تجویز کی تھی۔ میں نصف تنخواہ ملتی ہے۔ ڈائرکٹر نے لکھا کہ اس کو تین مہینے کی بلا تنخواہ جبری رخصت دی جاتی ہے۔ نیز اس کو بدعملی (misconduct) کا مجرم قرار دیا اور لکھا کہ اس کا اندراج اس کی سروس بک میں کیا جائے‘‘۔ ’’مگر حکم کے خلاف ضابطہ ہونے کا ڈائرکٹر نے کوئی نوٹس نہیں لیا‘‘، میں نے کہا۔ ’’ہاں، اس نے فیصلے کے آخر میں لکھا کہ ہیڈ ماسٹر کا یہ فیصلہ اس کے اختیارات سے باہر تھا، اس لیے آئندہ احتیاط کی جائے۔
”کیا آپ کا سابقہ کبھی کسی نیتا سے بھی پیش آیا ہے،“ میں نے ایک نیا سوال کیا۔ ”ہاں، ایسا بھی ہوا،“ مسٹر خان نے کہنا شروع کیا ”ایک بار ایک خراط مشین (Lathe) کی خریداری کے سلسلے میں ایک دکان دار سات سو روپیہ غلط طور پر وصول کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اس کو موقع اس کے علاوہ کالج کے اسٹاف میں بھی کئی لوگ اسی طرح کی وجہ کی بنا پر اندر اندر مجھ سے ان لوگوں نے مل کر ایک ایم ایل اے کے ذریعے سے اسمبلی میں میرے خلاف شکایت پہنچا وہاں سے ڈائرکٹریٹ میں سوال نامہ آیا جو میرے پاس بھیجا گیا۔ اس میں مجھ پر مختلف قسم کے الزامات تھے، مثلاً— آپ مسلم گُٹ کے بڑے پجاری ہیں۔ آپ گھس کھاتے ہیں۔ آپ اپنے کالج میں چوروں کو جگہ دئے ہوئے ہیں، وغیرہ۔
اسی طرح نمبر وار چھ سوالات تھے۔ میں نے ان سوالات کا الگ الگ جواب نہیں دیا۔ میں نے لکھا کہ یہ سب بالکل بے حقیقت باتیں ہیں اور اس طرح کی باتوں کے بارے میں میں کوئی صفائی دینا نہیں چاہتا۔ البتہ ڈپارٹمنٹ خود جو اقدام چاہے کرے۔ آخر میں میں نے لکھا: If the department feels the least doubt about me, I may be relieved from my duties. (اگر ڈپارٹمنٹ کو میرے اوپر ذرا بھی شبہ ہو تو مجھے میری ملازمت سے الگ کر دیا جائے) ”اس کے جواب میں پھر میرے پاس کوئی کاغذ نہیں آیا۔ البتہ مجھے معلوم ہوا کہ ایم ایل اے صاحب نے ایک اور لمبی چوڑی فردِ جرم میرے خلاف تیار کر کے روانہ کی جس کو ڈائرکٹر نے اپنے دفتر میں روک لیا اور دوبارہ اس کو میرے پاس نہیں بھیجا۔ ”آج کل لڑکوں کی طرف سے کالج کے لوگوں کو بڑی شکایت رہتی ہے، اس سلسلہ میں آپ کے تجربات کیا ہیں،“ میں نے پوچھا۔ ”یہاں بھی وہی بات ہے،“ مسٹر خان بولے ”اگر آپ اپنا کام اچھی طرح سے کریں تو آپ کو کبھی شکایت نہیں ہوگی‘۔
”اس سلسلہ میں آپ اپنا کوئی متعین تجربہ بتائیے،“ میں نے کہا۔
”بہت سے تجربات ہیں،“ مسٹر خان بولے ”میں جب دوار کا پالی ٹیکنیک میں سینئر لکچرار کی
حیثیت سے کام کر رہا تھا، ایک بار ایسا ہوا کہ ہمارے کالج کا ایک لڑکا اپنا کپڑا لینے کے لیے شہر کی واشنگ کمپنی میں گیا۔ وہاں کسی بات پر دکان دار سے جھگڑا ہوا اور دکان دار نے لڑکے کو مار دیا۔ میں جب اس کی خبر پہنچی تو تمام لڑکے بگڑ گئے اور لاٹھی اور بلم لے کر بہت بڑی تعداد میں بازار کی طرف مارچ کرنا شروع کر دیا۔ پرنسپل صاحب نے مجھ کو بلوایا، کیوں کہ پرنسپل صاحب کو معلوم تھا کہ لڑکے میرا کچھ لحاظ کرتے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو لڑکے نعرہ لگاتے ہوئے بازار کی طرف بڑھ رہے میں فوراً لاٹھیوں اور بلموں سے مسلح اس مجمع میں گھس گیا، اور کہا کہ تم لوگ آگے نہیں جاسکتے۔ دیر کی کوشش کے بعد بالآخر لڑکوں نے کہا اچھا، اگر آپ کہہ رہے ہیں تو ہم رک جاتے ہیں، ورنہ آج اس دکان دار کی خیریت نہیں تھی‘۔
”یہ پرنسپل کس قوم کا آدمی تھا‘‘ میں نے پوچھا ’ہندو تھا‘، مسٹر خان نے کہا ’’اور دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہندو پرنسپل کی بات لڑکوں نے نہیں مانی اور وہ مسلمان لکچر کی بات مان گئے‘‘۔ بہت عجیب واقعہ ہے‘‘۔ میں نے کہا۔ ’’اور آپ تو اسی پالی ٹیکنیک کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ وقت لڑکوں کا رد عمل کیا رہا‘‘۔
”یہ اور بھی زیادہ عجیب واقعہ ہے۔ اور سچ پوچھے تو مجھے امید نہیں تھی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے‘‘۔ ”براہ کرم، اس کی کچھ تفصیل بتائیے‘‘۔
”وہ بھی سن لیجئے۔ سب سے پہلے تو یہ ہوا کہ روانگی سے دو دن پہلے لڑکوں کی ایک جماعت میرے پاس آئی اور اس نے اصرار کیا کہ کل آپ دن بھر ہم کو پڑھائیے اور کورس پورا کر دیجیے‘‘۔ ”شاید ان کو احساس تھا کہ آپ کے بعد کوئی ایسا پڑھانے والا ان کو نہیں ملے گا‘‘۔ میں نے کہا۔ ”ہاں، بہر حال ان کو میرے بارے میں اس قسم کی خوش گمانی تھی‘‘۔ مسٹر خان نے کچھ رکتے ہوئے کہا’’چناں چہ حال میں وہاں کے ایک لکچر ر مجھ سے ملے تو انھوں نے بتایا کہ میرے آنے کے بعد جس ہندو لکچر رکو میرا کلاس دیا گیا تھا، کچھ دن کے بعد لڑکوں کا کہنا تھا کہ خاں صاحب جتنا پڑھا گئے تھے، وہی ہم جانتے ہیں، اس کے بعد کا کچھ ہماری سمجھ میں نہیں آیا‘‘۔
پھر روانگی کے دن لڑکوں نے مجھ کو الوداعی پارٹی دی، لوگ کہتے ہیں کہ وہ کالج کی پوری تاریخ میں نرالی پارٹی تھی۔
’’اس کی بھی تفصیل بتائیے،‘ میں نے کہا’’ پارٹی کے بعد‘‘ مسٹر خان نے ہچکچاہٹ کے انداز میں کہنا شروع کیا’’ ایک ایک لڑکے نے مجھ کو ہار پہنائے۔ یہ ہار مقدار میں اتنے زیادہ ہو گئے کہ بلا مبالغہ ایک بیل گاڑی ان سے بھری جا سکتی تھی۔ پھر یہ طلبہ چوں کہ تقریباً سب کے سب ہندو تھے، اس لیے اپنے اصول کے مطابق، ہر ایک نے ’’چرن اسپرش‘‘ بھی کیا، یعنی ہر لڑکا ہار پہنانے کے دونوں ہاتھ جوڑ کر میرے پاؤں چھوتا تھا۔ ’’اس موقع پر آپ کو سپاس نامہ بھی تو دیا گیا ہو گا‘۔ میں نے کہا۔
’’جی ہاں،‘‘ مسٹر خان نے کہا۔ اس کے بعد انھوں نے بڑے سائز پر فریم کیا ہوا ایک ’’ابھی نندن پتر‘‘ (سپاس نامہ) اندر سے منگوایا۔ میں نے دیکھا تو اس میں مسٹر خان کو نہایت عزت اور محبت کے ساتھ خطاب کیا گیا تھا اور ان کو ’’آدرش گروُ‘‘، ’’گیان ندھی‘‘، ’’سوم تیاگی مورتی‘‘، ’’گیان ساگر‘‘ وغیرہ الفاظ سے یاد کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ لڑکوں نے کئی اور قیمتی سامان اظہارِ خلوص کے طور پر مسٹر خان کو دیے۔
’’اس کے بعد سیکڑوں کی تعداد میں تمام لڑکے میرے ساتھ اس طرح اسٹیشن آئے کہ وہ راستہ بھر نعرہ لگا رہے تھے۔ ‘‘ ’’کیا نعرہ تھا‘ میں نے پوچھا۔ ’’وہی جو عام طور پر ہوتا ہے۔ ’’آخر بتائیے کہ وہ نعرے کیا تھے‘۔ میں نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
’’یہی کہ ــــ خان صاحب زندہ باد، گرو جی زندہ باد، خان صاحب امر رہیں، وغیرہ‘‘۔ پھر جب لڑکوں نے آخری طور پر مجھے رخصت کیا تو تمام لڑکے زار و قطار رورہے تھے۔ ’’یہ واقعی نہایت عجیب واقعہ ہے‘‘ میں نے کہا۔ اور جب یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ ابھی 1966 کے آخر میں پیش آیا ہے تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان اگر واقعی اپنا کام ٹھیک طریقہ سے انجام دے تو سارے تعصب کے باوجود ہندوؤں کے اندر انتہائی عزت کا مقام
حاصل کر سکتا ہے اور اگر ساری قوم ایسی ہو جائے تو تعصب کی دیوار سرے سے ڈھ جائے“۔ ’’جی ہاں‘‘ مسٹر خان نے کہا ’’میں تو تعصب وغیرہ کی بات کو بالکل نہیں مانتا۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ بطور واقعہ مجھے تعصب کے وجود سے انکار ہے۔ بلاشبہ تعصب ہر کام میں کچھ نہ کچھ مشکلیں ہوتی ہیں اور تعصب کی حیثیت بھی میرے نزدیک بس زندگی کے ایک ’’چیلنج‘‘ کی ہے۔ جس طرح دوسرے چیلنجوں کو محنت اور دانش مندی سے عبور کیا جاتا ہے، اسی طرح اس چیلنج کو بھی یقینی طور پر عبور کیا جا سکتا ہے۔ زندگی میں دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہوتی کہ کوئی مشکل ہے یا نہیں، بلکہ دیکھنے کی چیز صرف یہ ہوتی ہے کہ مشکل کا کوئی حل موجود ہے یا نہیں۔ موجود ہے تو پھر کوئی مشکل مشکل نہیں‘‘۔
میں مسٹر خان کی ان باتوں کو حیرت کے ساتھ سن رہا تھا۔ کیوں کہ میرا خیال تھا کہ وہ صرف انجینئر ہیں، مگر معلوم ہوا کہ وہ انجینئر ہی نہیں، بلکہ مفکر بھی ہیں۔ ان کے پاس ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک عظیم پیغام ہے۔ ایک ایسا پیغام جو بہت سے مفکروں اور لیڈروں کے پیغامات سے زیادہ قیمت رکھتا ہے۔
’’اب تعصب کی بات پر ایک قصہ اور سن لیجیے‘‘ مسٹر خان کچھ دیر خاموش رہ کر بولے۔ ’’جس پالی کنیک کو چھوڑ کر میں یہاں آیا ہوں، اس کے پرنسپل ہندو تھے اور نہایت متعصب وہاں کام کے دوران مجھے دو جگہیں ملیں۔ ایک، آئی آئی ٹی (I.T.I) میں ٹیکنکل افسر کی جگہ اور دوسرے یہاں پرنسپل کی جگہ، مگر وہ کسی طرح مجھے relieve کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ لمبی کش مکش اور حکومت کے سخت احکام کے بعد انھوں نے مجھے چھوڑا ہے‘‘۔ ’’شاید متعصب ہونے کی وجہ سے وہ آپ کو پریشان کرنا چاہتے ہوں گے‘‘ میں درمیان میں ’’ہاں، عام خیال تو یہی تھا‘‘ مسٹر خان نے کہا۔ ’’مگر مجھے ان کی ایک تحریر ملی جو انھوں نے کمشنر کے نام لکھ کر بھیجی تھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ معاملہ صرف تعصب کا نہیں تھا‘‘۔ ’’وہ کیا تحریر تھی‘‘ میں نے پوچھا۔
یہ دوصفحہ کا ایک خط تھا جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ کیوں مجھ کو یہاں سے relieve کرنا کالج کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس تحریر کا آخری جملہ یہ تھا:
The departure of Mr. A. M. Khan from this institute would cause the education of students to suffer an irreparable loss. (مسٹر اے ایم خان کا اس ادارے سے جانا لڑکوں کی تعلیم کے لیے ایسے نقصان کا باعث ہوگا جس کی تلافی نہیں کی جاسکتی)
اب ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا اور مسٹر خان کی نگاہیں اپنی گھڑی کی سوئی پر جم چکی تھیں۔ ’’مسٹر اے ایم خان‘ میں نے کہا ’’ مجھے آپ سے مل کر بے حد خوشی ہوئی۔ مجھے آپ کی زندگی میں مسلمانوں کے لیے ایک عظیم پیغام نظر آتا ہے۔ میں اس پیغام کو سارے مسلمانوں تک پہنچاؤں گا۔ مجھے یقین ہے کہ مسلمان اگر آپ کے نمونہ کو پکڑ لیں تو ان کے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں (الجمعية ویکلی، صفحہ 6-5)