Here comes the much awaited Quran.
Al-Risala, January 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کے بارے میں یہ تجربہ ہمارے ساتھیوں کو بار بار پیش آیا ہے۔ جب لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا جاتا ہے تو وہ اس کو اس طرح لیتے ہیں جیسے کہ وہ پہلے سے اس کے منتظر تھے۔ ایک صاحب 40 سال پہلے امریکا میں آئے تھے۔ یہاں انھوں نے بزنس کے علاوہ، کئی ملی کام کئے ۔ مثلاً مسلم لڑکیوں کے لیے اسکول کا قیام ، وغیرہ۔ پہلے وہ اپنے کاموں کے بارے میں بہت زیادہ پر امید تھے ، مگر معلوم ہوا کہ نتیجے کو دیکھ کر وہ مایوس ہو گئے، یہاں تک کہ اب وہ امریکا کو چھوڑ کر اپنے سابق وطن پاکستان واپس چلے گئے ۔ مجھے بتایا گیا کہ وہاں انھوں نے ایک یتیم خانہ قائم کیا ہے اور سوشل ورک (social work) کر رہے ہیں۔
میرے علم کے مطابق، یہ تجربہ بہت عام ہے۔ میں انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر کئی ایسے
مسلمانوں کو جانتا ہوں جنھوں نے ملی ورک شروع کیا۔ ابتدا میں وہ اپنے کام سے بہت پرامید تھے، لیکن بعد کو جب انھوں نے نتیجہ (result) دیکھا تو وہ اپنے کام کے بارے میں مایوس ہوگئے اور آخر تک اسی مایوسی کے عالم میں پڑے رہے۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے یہاں میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس قسم کا حادثہ صرف ملی ورک میں پیش آتا ہے، دعوہ ورک میں نہیں۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ملی ورک اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک ایسا کام ہے جس میں ہمیشہ نتیجہ (result) مطلوب ہوتا ہے، مگر دعوہ ورک کا نشانہ نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ تبلیغ ہوتا ہے، یعنی مدعو تک اپنی بات کو پہنچادینا۔ اسی حقیقت کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: فذکر إنما أنت مذکّر، لست علیہم بمصيطر ۔
یہاں سفر کے دوران ایک بار کراچی سے مولانا عبداللطیف صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ وہ اور ان کے ساتھی پاکستان کے مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر دعوتی کام کر رہے ہیں۔ وہ باقاعدگی کے ساتھ ہر مہینے ماہ نامہ الرسالہ پاکستان سے چھاپ کر شائع کرتے ہیں۔ عبد اللطیف صاحب نے پوچھا کہ امریکا کے سفر میں آپ کے ساتھ کتنے آدمی ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارے ساتھ صرف اتنے ہی آدمی نہیں ہیں جو دہلی سے آئے ہیں، بلکہ وہ اُس سے بہت زیادہ ہیں، یہ فرشتے ہیں۔ ہمارے ساتھ فرشتوں کی ایک فوج ہے۔ جو لوگ تخریبی کام کرتے ہیں، اُن کے ساتھ شیطان کی فوج ہوتی ہے۔ کام کر رہے ہیں، اس لیے ہمارے ساتھ فرشتوں کی فوج ہے۔
جب میں امریکا میں تھا تو انڈیا سے میرے ایک ساتھی نے نئی دہلی کے ایک اردو ماہ نامہ (جولائی 2011) میں چھپا ہوا ایک مضمون بذریعہ ای میل مجھ کو بھیجا۔ یہ مضمون 4 صفحہ پر مشتمل تھا۔ میں میرے بارے میں یہ الفاظ درج ہیں :
"مثبت مثبت کی رٹ لگاتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ نفسیاتی طور پر منفی ذہنیت مولا نا پر مسلط اب انھیں اپنے علاوہ، پوری تاریخ اسلام میں کہیں بھی کوئی قابل قدر شخصیت یا تحریک نظر نہیں آتی۔ مثبت مثبت کی رٹ کے ساتھ تاریخِ اسلام، شخصیاتِ اسلام اور ماضی و حال کے مسلمانوں میں کیڑے نکالنا مولانا کا محبوب مشغلہ بن گیا" (صفحہ 61)
اس قسم کی بات کئی لوگوں نے میرے بارے میں کہی یا لکھی ہے۔ میں نے اُن لوگوں سے کہا کہ آپ متعین حوالے کے ساتھ بتائیں کہ میں نے ان الفاظ میں اس طرح کی بات کہاں لکھی ہے۔ اُن میں سے کسی نے میری اپنی تحریر کے حوالے سے اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔ اصل یہ ہے کہ میری تحریریں تجزیاتی انداز میں ہوتی ہیں۔ مگر اپنے غیر علمی ذہن کی بنا پر لوگ اس کو سمجھ نہیں پاتے، وہ علمی تحلیل و تجزیہ یہ کو تعیب اور تنقیص کے ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔
امریکا میں کچھ ایسے مسلمان ہیں جنھوں نے شروع میں الرساله مشن کا ساتھ دیا، مگر دھیرے دھیرے وہ اس سے الگ ہوگئے۔ ایسے لوگوں سے گفتگو کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ لوگ ملی ذہن کے لوگ تھے۔ ان کی سوچ مسلم اورینٹیڈ (Muslim-oriented) سوچ تھی۔ وہ الرساله مشن سے یہ سوچ کر قریب ہوئے کہ یہ گویا مسلم ایمپاورمنٹ کا ایک مشن ہے۔ دھیرے دھیرے جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ انسان اورینٹیڈ مشن ہے اور اس کا خاص نشانہ غیر مسلموں میں قرآن کا پیغام پہنچانا ہے تو وہ اس سے دور ہوگئے۔ یہ لوگ دوسرے اکثر مسلمانوں کی طرح ملی کام کو کام سمجھنے والے تھے۔ کے نزدیک دوسرے لوگ ان کی نظر میں صرف ’’غیر قوم‘‘ یا ’’اغیار‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لوگ میرے تجربے میں آئے ہیں، انڈیا میں بھی اور انڈیا کے باہر بھی۔
ہمارے کچھ ساتھی خواجہ کلیم الدین صاحب کے ساتھ فلیڈ یلفیا کے پوسٹ آفس گئے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب 11 کارٹن باکس لے کر وہاں گئے تھے۔ ہر باکس میں 100 قرآن تھے۔ قرآن کینیڈا، کیلی فورنیا اور امریکا کے دوسرے شہروں کے لیے بذریعہ ڈاک روانہ کئے گئے۔ میں کئی شہروں میں دعوہ ورک ہو رہا ہے۔ اُن کے لیے فلیڈ یلفیا کے دعوہ سینٹر سے برابر قرآن بھیجا جاتا خواجہ کلیم الدین صاحب کی یہ دعوتی سرگرمیاں امریکا اور کینیڈا دونوں ملکوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ روزانہ دعوت کے مختلف کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر پر یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا کہ ــــ آپ نے تو یہاں ایک دعوہ انڈسٹری کھول دی ہے۔
امریکا کے لیے میرا یہ دسواں سفر تھا۔ اس بار میرا سفر نسبتاً زیادہ لمبا رہا۔ بہت سے لوگوں سے
ملاقاتیں ہوئیں، بہت سے لوگوں کے گھروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرا عام تجربہ یہ تھا کہ یہاں کے لوگ بظاہر پر راحت زندگی گزار رہے ہیں، لیکن یہاں عام طور پر یہ حال ہے کہ جب بھی اُن سے کسی سنجیدہ موضوع پر بات ہوتی ہے تو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذہنی بونے پن (intellectual dwarfism) کا شکار ہیں۔ گویا کہ ہر عورت اور مرد زبان حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ: Here, I am comfortable physically, but here I am deprived intellectually. ذہنی ارتقا سے اِس محرومی کا راز کیا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ امریکا کا کلچر جبری مادیت (compulsory materialism) کا کلچر ہے۔ یہاں کے انسان کے پاس زندگی کے روحانی پہلو کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں، اور فطرت کا قانون ہے کہ زندگی کے جس پہلو کو لمبی مدت تک غیر استعمال شدہ حالت میں رکھا جائے، وہ معطل ہوکر رہ جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بادشاہ بابر جب کشمیر گیا اور اس نے وہاں کے فطری حسن کو دیکھا تو اس نے کہا: اگر فردوس برروئے زمین است ہمین است وہمین است وہمین است لیکن بابر (وفات: 1530) کا یہ قول غالباً امریکا کے خوبصورت شہروں پر زیادہ صادق آتا امریکا میں فطرت کے مناظر بہت زیادہ ہیں۔ پھر یہاں کے مناظر کو خوب صورت تر بنا کر ان کے درمیان خوب صورت شہر بسائے گئے ہیں۔ اس طرح امریکا کے شہروں کے بارے میں زیادہ درست طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکا میں فطرت کے مناظر کے درمیان بنے ہوئے یہ خوب صورت شہر گویا ’مساكن طيبة في جنات عدن‘ کا ایک بعید تعارف ہیں۔
لیکن دو ہفتہ سے زیادہ امریکا میں قیام اور یہاں کے مختلف شہروں میں بار بار جانے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ امریکا کو اگر جنت سے تشبیہہ دی جائے تو امریکا کی جنت، جنت مع الحزن کا مصداق ہوگی اور آخرت کی جنت، جنت بغیر الحزن کا مصداق۔
قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: يمحق الله الربوا ويربى الصدقات (2: 276)
یعنی اللہ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اس آیت کو مفسرین عام طور پر in terms of money لیتے رہے، یعنی ربا (سود) میں کمائی گھٹتی ہے اور غیر ربا اکانومی میں اقتصادیات بڑھتی ہے۔ امریکا کے سفر میں مجھے جو باتیں سمجھ میں آئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ یہ تفسیر جدید انسان کے لیے قابلِ کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ مبنی بر ربا اکانومی میں خوب مادی ترقی ہو رہی ہے۔ ایک مسلمان جو ایک ایشیائی ملک سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں، ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ امریکا کی سوسائٹی میں ہر آدمی سود کے نظام میں جکڑا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو بہت اس کی وجہ سے ہمارے لیے ممکن ہوتا ہے کہ ہم زندگی شروع کرتے ہی تمام چیزیں حاصل یہاں اگر آپ کو جاب مل جائے تو آپ بینک سے سودی قرض لے کر اچانک سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں ، گھر ، کار ، بچوں کی تعلیم ، وغیرہ۔ اس کے بعد کمائی کا ایک حصہ سود کی قسط کی شکل میں دیتے رہیں اور تمام مادی سامان سے فائدہ اٹھاتے رہے۔
میں برابر سوچتا رہا کہ اس آیت کی وہ تفسیر کیا ہے جس سے آج کا ذہن ایڈریس ہو سکتا ہو، جس سے آج کے ذہن کو مطمئن کیا جاسکے۔ پھر میری سمجھ میں آیا کہ یہاں جس برکت کا ذکر ہے، اس سے مراد غالباً ذہنی ترقی اور اسپرچول ترقی ہے۔
ربا (interest) کیا ہے۔ ربا دراصل مورمنی (more money) کلچر کی سب سے زیادہ خود غرضانہ شکل ہے۔ ربا کے نظام میں جو کلچر فروغ پاتا ہے، اس میں سارا زور زندگی کے مادی پہلو پر اس میں ذہنی ارتقا یا روحانی ارتقا کا کوئی خانہ نہیں ہوتا۔ اس طرح ربا کے نظام کے تحت جو ترقی ہوتی ہے، وہ یک طرفہ ترقی (one sided development) ہوتی ہے۔ اس نظام کے تحت لوگ جسمانی اعتبار سے شان دار دکھائی دیتے ہیں، وہ اچھے اچھے کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں، لیکن ذہنی اور روحانی ارتقا کے اعتبار سے عام طور پر وہ پس ماندگی کی آخری حد تک پہنچے ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارے موجودہ پروگرام میں ایک صاحب کینڈا سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کینڈا میں جس آفس میں کام کرتا ہوں، وہاں بہت سے یہودی اور عیسائی ہوتے
وہ لوگ ایک سوال یہ کرتے ہیں کہ تمھارے قرآن میں انجیر اور زیتون کا چرچا کیا گیا ہے ۔ ہمارے کینیڈا میں بہت سے اچھے اچھے پھل ہوتے ہیں ، لیکن ان کا تمھارے قرآن میں کوئی ذکر نہیں ۔ پھر ہم کینیڈا کے لوگ کیسے تمھارے قرآن کو مانیں ۔ قرآن عرب اور شام کے لیے تھا ، وہ امریکا اور کینیڈا کے لیے نہیں ۔ اس قسم کا سوال وجواب صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رک گیا ہے ۔ ذہنی اعتبار سے ترقی یافتہ آدمی اس قسم کا سوال نہیں کر سکتا ۔ امریکا کے زمانۂ قیام میں یہاں مجھ کو شہروں کے علاوہ دیہات (countryside) میں بھی جانے کا اتفاق ہوا ۔ میں نے دیکھا کہ چیزوں کا جو معیار (standard) شہر میں ہے ، وہی دیہات میں بھی ہے ۔ مثلاً مکان ، سڑک ، بجلی وغیرہ کا نظام ۔ ان معاملات میں یہاں شہر اور دیہات میں کوئی فرق اصل یہ ہے کہ امریکا میں چیزوں کی معیار بندی (standardization) کی گئی ہے ، جب کہ انڈیا جیسے ملکوں میں ابھی تک چیزوں کی معیار بندی نہیں ہوئی ہے ۔
امریکا کی ایک صفت یہ ہے کہ یہاں ہر چیز اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے ۔ اس کا بنیادی سبب مسابقت (competition) ہے ۔ یہاں ہر کام کے لیے پرائیویٹ کمپنیاں ہوتی ہیں ۔ ان کے درمیان سخت مقابلہ کا ماحول قائم رہتا ہے ۔ اس سے ہر کمپنی یہ چاہتی ہے کہ وہ کارکردگی کا اعلیٰ معیار پیش کرے ، تا کہ وہ عوام میں مقبولیت حاصل کر سکے ۔
یہاں کے ایک پروگرام میں ایک صاحب آئے ۔ ان کی गोद میں ان کی چھوٹی بچی تھی ۔ مسلسل اپنی چھوٹی بچی میں مشغول تھے وہ اگر چہ بظاہر ہمارے پروگرام میں شریک تھے ، مگر ان کا سارا دھیان اپنی بچی میں لگا ہوا تھا ۔ اس کا اندازہ مجھے اُس وقت ہوا جب کہ میں نے اپنی ایک بات کو ان سے دہرانے کے لیے کہا تو وہ اس کو صحیح طریقہ پر نہ دہرا سکے ۔ میں نے کہا کہ ہیومنزم (Humanism) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی فلاسفی ہے ۔ خدا کی سیٹ پر انسان کو بٹھانا : Transfer of seat from God to man. میں نے کہا کہ اسی کا نام شرک ہے ، اور یہی فعل ہر زمانے میں ہوا ہے ۔ ہر زمانے میں اور آج
بھی انسان کسی نہ کسی غیر خدا کو خدا کے مقام پر بٹھا رہا کسی نہ کسی غیر خدا کو کوئی انسان اپنا سول کنسرن (sole concern) بناتا رہا ہے۔
Transfer of seat from God to Nature Transfer of seat from God to King Transfer of seat from God to Holymen Transfer of seat from God to Dollar Transfer of seat from God to Self Transfer of seat from God to Children 23 جون 2011 کی صبح کو یہاں کے ایک بلیک مسلم ملاقات کے لیے آئے۔ ہمارے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ ان کا نام رفیق فرینڈ تھا۔ اس کے بعد ان سے ڈسکشن ہوا۔ کہا کہ میں انٹرنیٹ پر آپ کی تحریریں پڑھتا ہوں۔ آپ ہمیشہ آئیڈیالوجی پر زور دیتے ہیں، آپ سسٹم کی بات نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ اسلام کا اصل مشن دعوت ہے۔ دعوت کا مطلب ہے توحید کی آئیڈیالوجی کو لوگوں تک پہنچانا۔ جہاں تک سوشل سسٹم کی بات ہے، وہ تمام تر حالات پر موقوف ہے۔ ہمارا کام افراد کی ذہن سازی کا کام ہے۔ سوشل سسٹم ہمارا نشانہ نہیں۔ امریکا کے زمانہ قیام میں روزانہ لوگ مختلف قسم کے سوالات کرتے تھے اور میں ان کا جواب مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ یہاں ہم کو حلال میٹ نہیں ملتا تو ہم کیا کریں۔ میں نے کہا کہ مچھلی، انڈا اور سبزی، دال کھائیے اور اگر میٹ آپ کے لیے ضروری ہے تو آپ امریکا کو چھوڑ کر اپنے ملک واپس چلے جائیے۔
ایک صاحب نے کہا کہ یہاں کی سوسائٹی میں ہمارے بچے بگڑ رہے ہیں۔ ہم کیا کریں۔ نے کہا کہ آپ لوگ سوسائٹی کو ذمے دار ٹھہراتے ہیں، لیکن میرے نزدیک خود آپ لوگ اس بگاڑ کے ذمے دار ہیں۔ آپ لوگوں نے یہاں آکر صرف ایک کام کیا اور وہ تھا ڈالرکمانا۔ ڈالر کما کر آپ نے اپنے بچوں کی خوب پیمپرنگ (pampering) کی۔ اور پیمپرنگ بچوں کو صرف بگاڑتی ہے۔
ایسا ہی ہوا۔ اب اصلاح کا آغاز یہ ہے کہ آپ خود اپنے آپ کو بدلیں۔ بچوں کو یا سوسائٹی کو ذمے دار ٹھہرانے سے کوئی فائدہ نہیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ میری بیٹی ایک عیسائی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں فتویٰ کی زبان کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ حرام وحلال کی زبان بولیں گے تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ آپ اپنی لڑکی کو بتائیے کہ اس طرح کی شادی کبھی کامیاب نہیں اس طرح کی شادیوں کا انجام ہمیشہ طلاق ہوتا ہے، پھر ایسی شادی سے کیا فائدہ۔ زندگی کا ایک معاملہ ہے، وہ کوئی وقتی معاملہ نہیں۔
امریکا کے صدر براک اوباما نے 22 جون 2011 کی شام کو 13 منٹ کی ایک تقریر کی جو ٹی وی پر ہر جگہ سنائی گئی۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر ہمارا مشن پورا ہو چکا ہے۔ ہم اپنی 33 ہزار فوج کو سال بھر کے اندر واپس بلا لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ نے ہمارے خلاف یہ بات پھیلائی تھی کہ امریکا نے اسلام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے: