تعلیم کا شوق
Al-Risala, May 2012, pp. 49–52
By Maulana Wahiduddin Khan
برادر م عبد المحیط خاں کو تعلیم کا بہت شوق تھا۔ وہ تعلیم کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ نے نہایت محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ پہلے انھوں نے ایک گھریلو استاد ماسٹر صدیق صاحب سے گاؤں (بڈھیریا) پر تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے اعظم گڑھ سے ہائی اسکول پاس کیا۔ کے بعد ان کی بقیہ تعلیم ہندو یونی ورسٹی (بنارس) میں ہوئی۔ تعلیم کے زمانے میں شروع سے آخر تک ظہیر الاسلام مرحوم اُن کے ساتھی تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ظہیر الاسلام صاحب نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں سروس حاصل کر لی تھی۔ علی گڑھ میں 1988 میں ان کا انتقال ہوا۔ برادر م عبد المحیط خاں تعلیم کے سلسلے میں طلبا کی مدد کرتے رہتے تھے۔ سروس کے زمانے میں وہ طلبا کو الگ سے پڑھایا کرتے تھے۔ ریٹائر منٹ کے بعد انھوں نے طلبا کو میتھمیٹکس پڑھانے کے لیے اپنے گھر پر ایک مستقل سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سے بہت سے طلبا نے فائدہ اٹھایا۔ ان طلبا میں زیادہ
تعداد ہندو نو جوانوں کی ہوتی تھی۔ تعلیم کے بارے میں وہ نوجوانوں کے ساتھ کس طرح تعاون کرتے تھے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ میرے بھتیجے شکیل احمد خاں انجینئر نے ہائی اسکول کے بعد اپنی تعلیم چھوڑ دی تھی اور اعظم گڑھ میں محمد یونس صاحب کی شرکت میں تیل کی دکان کر لی تھی۔ عبد المحیط خاں کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ وہ دکان سے ہٹا کر شکیل احمد خاں کو اپنے ساتھ لے گئے اور بنارس ہندو یونیننن ورسٹی کے انجینئرنگ کالج میں داخلہ دلوا کر ان کی تعلیم مکمل کرائی۔ شکیل احمد خاں انجینئر تعلیم کے بعد انڈسٹری کے میدان میں آگئے۔ پہلے انھوں نے اپنے والد کے ساتھ الہ آباد میں لائٹ اینڈ کمپنی لمیٹڈ قائم کی۔ وہ عرب امارات چلے گئے۔ وہاں زیادہ بڑے پیمانے پر وہ شارجہ میں کام کرتے رہے۔ 7 اپریل 2010 کو 70 سال کی عمر میں حیدرآباد (انڈیا) میں ان کا انتقال ہوا۔
جدید تعلیم (modern education) کا چرچا ہمارے خاںدان میں بہت پہلے شروع ہوا تھا۔ میرے چچازاد بھائی اقبال احمد خاںسہیل (وفات: 1955) نے بنارس سے ہائی اسکول کیا۔ بعد وہ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ گئے۔ وہاں انھوں نے بی اے، ایم اے، ایل ایل بی کی ڈگری حاصل اقبال احمد خان سہیل علی گڑھ میں ایک نہایت ممتاز طالب علم کی حیثیت رکھتے تھے۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی (وفات: 1977) مولانا اقبال سہیل کے ساتھیوں میں سے تھے۔ مولانا سہیل کی علی گڑھ کی تعلیمی زندگی کے زمانے کا ایک واقعہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں : ” 1918 یا 1919 کا واقعہ ہے، یونی میں ”امُّ الالسنۃ عربی‘ پر پروفیسر خواجہ کمال الدین مرحوم کی اردو میں تقریر تھی۔ مرحوم نے بڑی قابلیت اور اعتماد کے ساتھ تقریر شروع کی۔ سہیل کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا۔ مولانا کو احباب اسپتال لائے تھے۔ یونی میں مجمع دیکھا تو کہا: مولانا، تکلیف نہ ہو تو ذرا تقریر سنتے چلیں۔ مولانا نے کہا اچھی بات ہے، لیکن آنکھوں میں تکلیف زیادہ ہے، جلد اٹھ آئیں گے۔ سب لوگ یونی میں آئے۔ مولانا سہیل سر سے پاؤں تک بڑے وزنی لبادہ میں ملفوف تھے۔ سر پر اونی کنٹوپ تھا۔
آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور اس پر ایک ہرے رنگ کا چھجا (شیڈ) لگا ہوا تھا۔ کمال الدین صاحب نے کم وبیش دو گھنٹے تک تقریر کی۔ حاضرین محوِ حیرت تھے۔ تقریر ختم ہوئی تو پریزیڈنٹ نے اعلان کیا کہ مولانا سہیل، فاضل مقرر کا طلبائے کالج کی طرف سے شکریہ ادا مولانا کے خلاف ’’سازش‘‘ کامیاب ہوئی۔ دوستوں اور ساتھیوں نے مولانا کو ہاتھوں ہاتھ ڈائس پر پہنچا دیا۔ مولانا کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میز کے پاس کھڑے تھوڑی سی ناک، اس سے ذرا بڑی تھوڑی اور ہاتھ کی صرف انگلیاں دکھائی دے رہی مولانا نے بے تکلف تقریر شروع کردی۔ اس اعتماد سے گویا تمام عمر اسی بحث پر تیاری جو لوگ یونین کے مجمع سے واقف ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ اچھے مقرر کے بعد کسی اور کی تقریر سننے کے لیے کوئی نہیں ٹھہرتا اور صدر کا شکریہ بھی اسی بد نظمی کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ مولانا سہیل نے بھی ’’اُم الالسنہ عربی‘‘ پر تقریر شروع کی۔ پون گھنٹے تک تقریر کی۔ پہلوؤں سے موضوع پر روشنی ڈالی۔ نئی نئی مثالیں پیش کیں ۔ تقریر کو اس درجہ دل نشیں اور کہیں کہیں اتنا شگفتہ بنا دیا کہ خواجہ کمال الدین نے بے اختیار ہو کر مولانا کو گلے لگا لیا اور فرمایا: ’’تمھارے ایسا جامع کمالات آدمی ساتھ کام کرنے والا مل جائے تو میں اسلام کا جھنڈا یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر نصب کر دوں‘‘۔ (مضامین رشید، صفحہ 43)
اقبال احمد خاں سہیل کے ذریعے خاندان کے اور بہت سے لوگوں نے جدید تعلیم حاصل کی۔ میرے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں کا داخلہ انھوں نے اعظم گڑھ کے ایک اسکول میں کرایا، لیکن عبدالعزیز خاں صاحب اپنی تعلیم آگے تک جاری نہ رکھ سکے۔ وہ جلد ہی انڈسٹری کی لائن میں چلے گئے۔ عبدالعزیز خاں صاحب نے عبدالمحیط خاں کو یونی ورسٹی کی تعلیم دلائی۔ اس کے بعد عبدالمحیط خاں نے میرے بھتیجے شکیل احمد خاں کو بنارس ہندو یونی ورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم دلائی۔ بعد کو مجھے یہ خیال ہوا کہ ہمارے خاندان میں افراد کے اعتبار سے تو جدید تعلیم آئی، لیکن اجتماعی
اعتبار سے کوئی خاص کام نہ ہوسکا۔ چناں چہ میں نے شکیل احمد خاں سے کہا کہ ہمارے وطن بڑھیا (اعظم گڑھ) میں ایک انگریزی اسکول کھولا جائے ۔ اس طرح بڑھیا میں ایک ہائی اسکول قائم ہوا جو کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے ۔ اس اسکول کا آئیڈیا میں نے ہی دیا تھا ۔ چناں چہ اسکول کے تعارف نامے میں یہ الفاظ درج ہیں:
It was during one of the discussions between Shakil Ahmad Khan and his uncle, Maulana Wahiduddin Khan, that the idea of establishing an educational institution was conceived. یہ معاملہ ڈسکشن (discussion) کا نہ تھا، بلکہ وہ سجیشن (suggestion) کا معاملہ تھا۔ یہ ہے کہ 2000ء کے آغاز میں میرے بھتیجے شکیل احمد خاں انجینئر جوشارجہ میں کاروبار کرتے تھے، دہلی میں مجھ سے ملے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے پاس کچھ رقم ہے، اُس کو میں کسی ملّی کام میں لگانا مسٹر شکیل احمد خاں نے بتایا کہ انھوں نے کچھ مشہور مسلم اداروں کے ذمہ داروں کے سامنے یہ پیش کش کی کہ وہ یہ رقم ان کو دے دیں گے، لیکن شرط یہ ہے کہ ایک مقرر مدت تک ادارہ کا کنٹرول میرے ہاتھ میں ہوگا، مگر کسی نے یہ شرط نہ مانی۔
میں نے شکیل احمد خاں سے کہا کہ اس طرح آپ اپنا پیسہ صرف ڈمپ (dump)
کریں گے ۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ میں نے کہا کہ آپ یہ کیجئے کہ اس رقم سے بڑھیا میں ایک اچھا انگلش میڈیم اسکول کھولیے ۔ شکیل صاحب نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور اس طرح ہمارے خاندان کی مشترک زمین پر یہ اسکول ستمبر 2000ء میں قائم ہوا۔