Al-Risala · May 2012

عبد المحیط خاں کی یادداشتیں

Al-Risala, May 2012, pp. 53–72

By Maulana Wahiduddin Khan

عبد المحیط خاں مرحوم رٹائرمنٹ کے بعد زیادہ تر علی گڑھ اور فیض آباد میں رہتے تھے۔ زمانے میں اُن پر زیادہ تر موت کی یاد اور آخرت کی سوچ کا غلبہ ہوتا تھا۔ وہ اپنا زیادہ وقت ’’تذکیر القرآن‘‘ اور دوسری اسلامی کتابیں پڑھنے میں گزارتے تھے۔ مطالعے کے دوران وہ الرسالہ اور میری کتابوں کے منتخب حصے ایک نوٹ بک میں لکھتے رہتے تھے۔ اس طرح ان کی بہت سی تحریریں متفرق اجزا کی صورت میں جمع ہو گئی ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تحریروں کا یہ مجموعہ ان کی صاحب زادی

فہمیدہ خانم نے مجھ کو دیا۔ یہاں ان اقتباسات کے کچھ منتخب حصے نقل کئے جاتے ہیں :

• معرفت، خدا کی شعوری دریافت کا نام ہے، وہ کسی پُر اسرار چیز کا نام نہیں۔

• معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی عطیہ (divine gift) ہے۔ دنیا میں جس انسان کو معرفت کا عطیہ ملا، وہی وہ انسان ہے جو آخرت میں جنت کے عطیہ کا مستحق قرار پائے گا۔ معرفت گویا کہ کسی انسان کے لیے خدا کا دنیوی انعام ہے، اور جنت کسی انسان کے لیے خدا کا اُخروی انعام۔ • معرفت صرف اُس سینے میں جگہ پاتی ہے جو مکمل طور پر منفی احساس سے خالی ہو۔ جس دل کے اندر نفرت اور غصہ اور انتقام موجود ہو، اُس دل میں کبھی معرفت جگہ نہیں پائے گی۔ • دعا ایک طاقت ہے۔ نازک وقتوں میں دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ دعا اس اعتماد کا سرچشمہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کھونا آخری نہیں، بلکہ ہر کھونے میں از سر نو پانے کا راز چھپا ہوا ہے۔ • شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ شکر جنت کی قیمت ہے۔ شکر کے بغیر ایمان نہیں۔ شکر کے بغیر سچی خدا پرستی نہیں۔ شکر کے بغیر آدمی اُن اعلیٰ کیفیات کا تجربہ نہیں کر سکتا جس کو قرآن میں ربانیت (79 :3) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین داری کی اصل روح شکر ہے۔ شکر کے بغیر دین داری ایسی ہی ہے جیسے پھل کا اوپر ی چھلکا۔ • آخرت میں نجات صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں کہ اُن کے پاس دو میں سے کوئی ایک چیز اپنی اعلیٰ صورت میں موجود ہو۔ وہ دو چیزیں یہ ہیں—— سچا عمل، یا سچی دعا۔ سچا عمل وہ ہے جو خالص رضا الہی کے لیے کیا جائے ۔ اور سچی دعاوہ ہے جو کامل عجز کی سطح پر کی گئی ہو۔ • جنت کیا ہے، جنت دراصل خدا کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے (66:11)۔ موت سے پہلے کی دنیا میں مومن اپنے احساس کے اعتبار سے، خدا کے پڑوس میں جیتا ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں مومن واقعہ کے طور پر خدا کے پڑوس میں زندگی گزارے گا۔ • جنت ایک حقیقی انعام ہے اور حقیقی انعام کسی کو ایک حقیقی عمل ہی کے ذریعے مل سکتا ہے، اس سے کم تر

درجے کی کوئی چیز جنت کی قیمت نہیں بن سکتی۔

جو لوگ اپنی موجودہ زندگی میں جنت کے طالب نہ بن سکیں، جن کا دل جنت کے سوا کسی اور چیز میں لگا ہوا ہو، وہ اللہ کے مطلوب انسان نہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں ان کا کیس ناقدری کا کیس ہے، نہ کہ قدر دانی کا کیس۔

آخرت کی جنت اُس کے لیے ہے جو اس دنیا کی لذتوں سے اپنے آپ کو بے رغبت بنا لے، اور آخرت کی جہنم اُس کے لیے ہے جو اس دنیا کی لذتوں میں گم رہے، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر جائے۔

جہنم کے دروازے پر لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، اور جنت کی طرف جانے والا راستہ بالکل سونا پڑا کیسا عجیب ہے یہ غیر خدائی منظر جو آج خدا کی دنیا میں ہر طرف نظر آتا ہے۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں۔ موت ایک نئے دور حیات کا آغاز ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے جو آج کے ملے ہوئے مواقع کو کل کے لیے استعمال کرے۔

موت کے مقابلے میں ہر ایک کے لیے شکست مقدر ہے۔ کسی کا عہدہ، کسی کی مقبولیت، کسی کی دولت، کسی کا اقتدار، غرض کسی کی کوئی چیز اس کو ہر گز موت سے بچانے والی نہیں۔ کیسا عجیب ہے آج کا وہ موقع جس کو انسان کھورہا ہے، اور کیسی بھیا نک ہوگی کل کی وہ محرومی جس سے انسان دوچار ہوگا، اور جس سے اپنے آپ کو بچانا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ موت کا مطلب مرنے والے کے لیے یہ ہے کہ وہ عمل کی دنیا سے نکل کر جزا کی دنیا میں چلا گیا۔ اپنے خالق کے سامنے حساب و کتاب کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔ جہاں تک زندہ رہنے والوں کا معاملہ ہے، موت اُن کے لیے ایک سنگین یاد دہانی (reminder) کی حیثیت رکھتی ہے۔ لوگ اپنی سال گرہ (birthday) مناتے ہیں، حالاں کہ ہر سال گرہ صرف اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی کی عمر کا ایک سال اور کم ہو گیا۔ ایسی حالت میں، ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ ہر سال کی تکمیل پر آنے والی موت کو یاد کرے ۔ کیوں کہ اگلی سال گرہ کا آنا یقینی نہیں، لیکن موت کا آنا یقینی ہے۔

موت ایک ایسا گیٹ ہے جس کے اندر آدمی داخل ہونے کے لئے مجبور ہے۔ اور داخل ہونے کے بعد اس کو خالق کائنات کا آخری فیصلہ (final judgement) سننا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کے لئے کوئی اور عدالت موجود نہیں۔

موت کا فرشتہ کبھی آپائنٹمنٹ (appointment) لے کر نہیں آتا، وہ بتائے بغیر اچانک آدمی کے پاس آجاتا ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے جو ہر دن کو اپنا آخری دن سمجھے۔ جو آدمی دوسروں کی موت کے واقعے میں خود اپنی موت کو دیکھے، وہی زندہ انسان ہے۔ اس کا انتظار نہیں کرتا کہ خود اُس پر ایک مہلک تجربہ گزرے، اس کے بعد وہ اُس سے سبق لے۔ زندہ انسان وہ ہے جو دوسروں پر گزرنے والے تجربات سے نصیحت حاصل کرے۔ مرنے والے مر گئے— یہ سب کو معلوم ہے۔ مگر ایک اور خبر ایسی ہے جو کسی کو معلوم نہیں، وہ یہ کہ مجھے بھی ایک دن مرنا ہے۔ ایک دن میرا بھی وہی انجام ہونے والا ہے جو انجام دوسروں کا ہو چکا ہے۔

ہر آدمی اپنی ساری توانائی خرچ کر کے زیادہ سے زیادہ پیسہ کماتا ہے، صرف اس لیے تاکہ وہ جہنم کا زیادہ مہنگا ٹکٹ خرید سکے— یہ جملہ اکثر نہایت درد کے ساتھ میری زبان سے نکل جاتا ہے۔ آدمی اپنے بچوں کے مادی مستقبل کی تعمیر میں اپنے آپ کو ہلکان کئے رہتا ہے، یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے اور خود اُس کو ایک ایسے مستقبل کی طرف ہانک دیا جاتا ہے جس کے لیے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔

امتحان ہال کے اندر ایک طالب علم جس نفسیات کے ساتھ رہتا ہے، اُسی نفسیات کے ساتھ ہم کو اپنی پوری زندگی میں رہنا ہے۔ ہر ایک کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے دیے ہوئے پرچے کو درست طور پر حل کرے، تاکہ امتحان کی مدت پوری ہونے کے بعد جب اُس کا رزلٹ سامنے آئے تو وہ اُس کے لیے کامیابی کی خوش خبری ہو، نہ کہ ناکامی کا اعلان۔

آخرت کی جنت صرف اُس انسان کے لیے مقدر ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہو گیا ہو۔

آج لوگوں کے پاس الفاظ ہیں جن کو وہ بے تکان دہرا رہے ہیں۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ چھن چکے ہوں گے۔ وہاں کوئی سننے والا نہ ہوگا جوان کی باتوں کو سنے۔ زندگی ایک بے اعتبار چیز ہے، جب کہ موت بالکل یقینی ہے۔ ہم ہر لمحہ موت کی طرف بڑھ رہے ہم زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں۔ جو چیز ابھی اگلے لمحہ آسکتی ہو، وہ گویا ہر وقت آرہی ہے۔ اس کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ آچکی ہے، بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ وہ آنے والی ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو‘۔ آدمی زندگی چاہتا ہے۔ مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں صرف موت اس کا استقبال کرنے کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔

انسان اپنی عظمت کا محل تعمیر کرتا ہے، مگر موت کا طوفان اس کو تنکوں کی طرح اڑا کر یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کوئی قدرت حاصل نہیں۔

فیصلہ کا یہ دن ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔ اس دن ہر آدمی اپنی اصل صورت میں ظاہر ہو خواہ اس نے اپنے اوپر کتنے ہی زیادہ پردے ڈال رکھے ہوں، خواہ اس نے اپنے آپ کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں چھپا رکھا ہو۔

ہر آدمی کی اصل حقیقت خدا کے علم میں ہے، مگر دنیا میں خدا لوگوں کی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ آخرت میں وہ ہر ایک کی حقیقت کو کھول دے گا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا کی ترازو کھڑی ہو اور ہر آدمی کو تول کر دیکھا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ اس وقت کا آنا مقدر ہے۔ کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے بچا نہیں سکتا۔ کامیاب صرف وہ ہے جو آج ہی اپنے آپ کو خدا کی ترازو میں کھڑا کرے، کیوں کہ جو شخص کل خدا کی ترازو میں کھڑا کیا جائے، اس کے لیے بربادی کے سوا اور کچھ مقدر نہیں۔ موت سے پہلے آدمی کو بہت سے کام نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد آدمی کے سامنے صرف ایک ہی کام ہوگا— یہ کہ خدا کے غضب سے وہ کس طرح بچےـ ہر آدمی چل رہا ہے۔ ہر آدمی کا چلنا موت پر ختم ہوتا ہے۔ موت کسی کے لیے جنت کا دروازہ ہے اور

کسی کے لیے جہنم کا دروازہ۔ وہ انسان بڑا خوش قسمت ہے جس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اپنے آپ کو جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا پائے۔

آہ، وہ انسان جس کو اسی چیز کا شوق نہیں جس کا اسے سب سے زیادہ شوق کرنا چاہیے۔ آہ، وہ انسان جو اسی چیز سے سب سے زیادہ بے خوف ہے جس سے اسے سب سے زیادہ خوف کرنے کی ضرورت ہے۔ زندگی عمل کا وقفہ ہے اور موت خدا کی عدالت میں پیشی کا وقت۔

ایک دعا خدا یا، جب اہل دنیا سے میرا ساتھ چھوٹے تو مجھے خدا وند ذوالجلال کی قربت حاصل مجھے انسانوں کی مجلس سے اٹھنا پڑے تو مجھے فرشتوں کی مجلس میں شامل ہونا نصیب جب موت مجھے اپنے لوگوں سے منقطع کر دے تو میں اکیلا نہ ہو جاؤں، بلکہ مجھے اعلیٰ تر مجلس میں خدا اور اس کے فرشتوں کی صحبت میں رہنے کی سعادت حاصل ہو جائے۔ فہمیدہ خانم کا خط برادرم عبد المحیط خاں کے پس ماندگان میں تین خواتین شامل ہیں۔ اُن کی اہلیہ عابدہ خاتون (پیدائش: 1942)، ان کی دو لڑکیاں ، فہمیدہ خانم (پیدائش: 1964)، اور سعیدہ خانم (پیدائش: 1965)۔ فہمیدہ خانم فیض آباد (یوپی) میں رہتی ہیں اور دوسری صاحب زادی بمبئی میں مقیم ہیں۔ کے متعلق فہمیدہ خانم کا ایک خط مجھے ملا ہے۔ اُس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: تعلیم ختم ہونے کے بعد پاپا (عبدالمحیط خاں) نے کئی جگہ تھوڑے دن سروس کی۔ ,Hydel. Dep. Jamia وغیرہ۔ پھر ان کو ٹلیکم گڑھ (مدھیہ پردیش) میں سروس ملی۔ پروموشن (promotion) کے بعد وہ چندولی پالی ٹکنیک میں سینئر لیکچرر کی پوسٹ پر آئے۔ پھر جلد ہی پالی ٹکنیک کے پرنسپل ہوگئے تھے۔ سروس سروس کرنے کے تقریباً 2 سال بعد ہی ان کی شادی 1959 میں عابدہ خاتون سے ہوئی۔ عابدہ خاتون، شاہ گنج (جون پور، یوپی) کے مشہور ڈاکٹر بدر الدین بی یوایم ایس (وفات: 1985) کی صاحب زادی ہیں۔ پاپا، امی سے بے انتہا محبت کرتے تھے جس کو خاندان کا ہر فرد جانتا ہے۔ امی نے بھی ہر موقع پر ان کا پورا ساتھ دیا۔ ان کی مرضی کے بغیر کبھی کوئی کام نہیں کیا۔

ہمیشہ ان کی پسند، ناپسند کا خیال رکھا۔ آخری دنوں میں انھوں نے امی سے کہا تھا: ’’تمھاری حکیمانہ باتوں سے مجھے بہت سکون ملتا ہے۔ وہ گھر سے جب بھی آفس کے لیے نکلتے تھے، یا کسی اور کام سے، پہلے وہ 2 رکعت نماز ادا کرتے، اور دعائیں پڑھ کر ہم لوگوں کو پھونک دیتے، پھر گھر سے نکلتے تھے۔ ایک بات جو امی سے وہ اکثر مسکرا کر کہتے تھے’’ آپ میری ناک ہیں، اور دونوں بیٹیاں میری آنکھ ہیں۔ ‘‘ اس طرح وہ ہم سب سے، بہت محبت کرتے تھے۔

انھوں نے جس طرح محنت سے پڑھائی کی، اسی طرح انھوں نے محنت اور ایمان داری سے سروس بھی کی۔ 37 سال کی سروس میں ان کی ایمان داری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا۔ وہ ہمیشہ حق پر قائم رہتے تھے، چاہے وہ کسی کا بھی معاملہ ہو۔ عہد کرنے کے بعد عہد کی خلاف ورزی کو وہ بہت ناپسند کرتے ان کے بارے میں ہر جگہ مشہور تھا کہ وہ بہت ایمان دار ہیں اور غلط چیز کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ اس لیے جہاں بھی ان کا ٹرانسفر ہوتا، لوگ ڈر جاتے۔ اسی طرح وہ سری نگر (گڑھوال، مدھیہ پردیش) دو دفعہ گئے تھے۔ پہلی بار وہاں پالی ٹیکنیک کھلنے جار ہا تھا۔ دوسری دفعہ وہاں کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ پاپا وہاں 3 سال رہے، پھر وہ فیض آباد پالی ٹیکنیک آگئے۔ یہاں کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ وہ زیادہ تر وہیں بھیجے جاتے تھے، جہاں حالت بگڑی رہتی۔ فیض آباد میں ان کے آنے کی خبر سنتے ہی لوگ اتنا ڈر گئے کہ پہلے سال کوئی لڑکا امتحان دینے ہی نہیں آیا کہ نقل نہیں ہوگی اور اس طرح ان لوگوں کا ایک سال خراب ہو گیا۔

دوسرے سال پھر یہ ہوا کہ خان صاحب ہیں اور نقل کی سختی ہے تو کچھ لوگوں نے لڑکوں کو غنڈہ گردی سکھائی، اُس وقت اندرا گاندھی کی گورنمنٹ تھی اور ایمرجنسی کا زمانہ تھا۔ پالی ٹیکنیک کی نمائش لکھنؤ میں لگی ہوئی تھی ۔ پاپا لکھنؤ گئے ہوئے تھے۔ یہاں لڑکوں نے احتجاج میں روڈویز کی بس پالی ٹیکنیک کے سامنے جلا دی۔ اس طرح کافی بچے جیل چلے گئے اور وہ سال بھی تقریبا خراب ہوا۔ نے ڈی ایم سے کہہ کر لڑکوں کو جیل سے نکلوایا۔ اُس وقت فیض آباد کے ڈی ایم سچد انند پانڈے

(Sachidanand Pandey) تھے، وہ پاپا کو بہت زیادہ مانتے تھے۔ ابھی تک پاپا ان کی بات بتا کر انھیں یاد کرتے تھے۔ اس زمانے میں اے سی آر (ACR) ڈی ایم لکھا کرتا تھا۔ پاپا سے وہ اتنا خوش رہتے تھے کہ انھوں نے پاپا کے لیے جو اے سی آر لکھا، اتنا اچھا اے سی آر کسی نے نبیس لکھا۔ جب 1997 میں جنتا پارٹی کی حکومت آئی تو اُس وقت کے اسٹیٹ منسٹر نے کچھ لڑکوں کا داخلہ کرانے کے لیے اُن کے پاس بھیجا۔ ان لڑکوں کے مارکس داخلے کے لیے کافی نہ تھے۔ اس کو پاپا نے سختی سے رد کر دیا اور لڑکوں کا داخلہ نہیں لیا۔ اس وجہ سے منسٹر صاحب اتنے ناراض ہوئے کہ انھوں نے پاپا کے ٹرانسفر کا آرڈر لکھوا دیا۔ آرڈر کو ٹائپ کراکے وہ کیبنٹ منسٹر کے ساتھ فیض آباد آئے، جب پاپا نے کیبنٹ منسٹر سے اپنے خلاف شکایت سنی تو انھوں نے بھری محفل میں کیبنٹ منسٹر کو، اسٹیٹ منسٹر صاحب کی ساری باتیں بتائیں کہ انھوں نے یہ کیا اور یہ کیا اور بغیر اجازت کے بچوں کے ہاسٹل میں جاکر اُن کو میرے خلاف بھڑکا یا۔ پاپا پندرہ سے ہیں منٹ تک منسٹر صاحب کے خلاف بولے۔ جب کیبنٹ منسٹر کو ساری باتیں معلوم ہوئیں تو وہ ناراض ہوئے اور انھوں نے لکھ دیا کہ خان صاحب فیض آباد سے نہیں جائیں گے، وہ یہیں رہیں گے۔ اس طرح وہ پھر 5 سال فیض آباد میں رہے۔ وہ فیض آباد سے گئے ہیں، اُس وقت وہ یوپی کا سب سے اچھا پالی ٹیکنیک مانا جاتا تھا۔ اسی طرح پاپا زیادہ تر اس جگہ بھیجے جاتے جہاں ڈسپلن (discipline) نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، وہ بہت پریشان ہوتے اور کبھی کبھی ہمت بھی ہار جاتے۔ مگر پھر بڑے ابا (مولانا وحید الدین خاں) کو خط لکھ کر پوچھتے، ان کے خط کو وہ ابھی تک سنبھال کر رکھتے تھے۔ (بڑے ابا ہی کی کتابوں کو پڑھ کر پاپا آخر وقت میں اتنے دین دار ہو گئے تھے کہ ان کو دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ اسی کو سچا مومن اور اللہ کا حقیقی بندہ کہتے ہیں)۔ اس طرح پھر وہ سنبھل کر اپنی ہمت کو بڑھاتے تھے اور ہمیشہ کامیاب ہوئے۔ یہاں اس سلسلے میں پاپا کے نام بڑے ابا کے دو خطوط نقل کئے جاتے ہیں:

اس سے پہلے ایک خط لکھ چکا ہوں ۔ امید کہ ملا ہو گا۔ تمھارے خط میں جس پریشانی کا ذکر تھا،

اس کی وجہ سے دل برابر تمھاری طرف لگا رہا اور تمھارے لئے دعائیں کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ مدد فرمائے اور تمھارے مسائل کو حل کر دے۔

تمھاری اصل مشکل تمھاری معیار پسندی (idealism) ہے۔ تمھاری خواہش یہ رہتی ہے کہ لوگ صحیح طریقہ سے رہیں اور ٹھیک کام کریں۔ یہ خواہش اچھی ہے۔ مگر اس میں اپنے آپ کو اتنا زیادہ involve کر دینا ٹھیک نہیں ہے کہ خود اپنی صحت و عافیت بھی خطرہ میں پڑ جائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرو۔ مگر جب دیکھو کہ تمھاری کوشش کے باوجود لوگ اصلاح نہیں قبول کر رہے ہیں تو تم خود اپنی فکر کرو: فإذا رأيت شحاً مطاعاً، وهوى متبعاً، وإعجاب كل ذي رأي برأيه، فعليك نفسك، ودع عنك أمر العوام۔ یعنی جب تم دیکھو کہ لوگ حرص کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ہر شخص اپنی ہی رائے کو ٹھیک سمجھتا ہے تو اپنے آپ کو بچاؤ اور لوگوں کو چھوڑ دو۔

میرا خیال ہے کہ اس حدیث میں تمھارے لیے بڑی نصیحت ہے۔ تم بس اسی کو پکڑ لو۔ وقت تم لوگوں کے لئے کڑھنے میں لگاتے ہو، اس کو نماز، مطالعہ قرآن اور اسلامی کتابوں کے پڑھنے میں لگاؤ، یہ تمھاری دنیا و آخرت کے لیے زیادہ مفید ہوگا۔

آج کا انسان اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ وہ کچھ سننے کے لئے تیار نہیں۔ لوگوں کے سوچنے کی سطح اُس سے بالکل مختلف ہے جو ہماری ہے۔ اس لئے ہماری کوئی بات ان کے دماغ میں بیٹھتی ہی نہیں۔ اس کے بعد ہر آدمی کو آخرت کا سفر کرنا ہے، پھر لوگوں کے پیچھے بے فائدہ کڑھنے میں اپنا وقت کیوں ضائع کیا جائے۔ کیوں نہ اس وقت کو اپنی آخرت کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ترقی یا اضافہ تنخواہ وغیرہ کے بارے میں بہت زیادہ سوچنا چھوڑ دو۔ حدیث میں ہے کہ آدمی کو اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ اس لئے غم میں پڑ کر آدمی صرف اپنے کو ہلکان کرتا ہے۔ وہ مقدر کو بدل نہیں سکتا۔

مزید یہ کہ جن لوگوں کی بڑی بڑی تنخواہیں ہیں، ان میں سے کسی کو میں نے خوش نہیں دیکھا۔

میں، بہت سے ایسے لوگوں سے قریبی تعلق رہا جن کی تنخواہیں 8 سے 10 ہزار روپے مہینہ تھیں۔ اندر سے سخت قسم کے ذہنی تناؤ (frustration) میں مبتلا تھے۔ وہ مجھ کو رشک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ کہ میری سرے سے کوئی آمدنی ہی نہیں۔ سارا معاملہ اللہ تو کل ہے۔

حال میں لیبیا کا ایک باشندہ ہندوستان آیا تھا اور یہاں ناز ہوٹل میں ٹھہرا تھا۔ وہ مجھ سے ملا اور نہ صرف لیبیا بلکہ تمام عرب ملکوں کو لعن طعن کرتا تھا۔ کہتا تھا کہ ہندوستان میں جھونپڑی میں رہنا اچھا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں عرب ملک میں کوٹھی میں رہوں۔ طرابلس میں مجھے کئی لوگ ملے جو اتنے پریشان تھے کہ جہنم کا ڈر نہ ہو تو خود کشی کر لیں۔ اصل یہ ہے کہ جو مقام آدمی کو ملا نہیں رہتا، اس کو دور سے وہ اچھا دکھائی دیتا ہے اور جب وہ مل جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو نیا عذاب ہے۔ تم کو میری مخلصانہ نصیحت ہے کہ تم حالات کو اپنی رفتار پر چھوڑ دو، جس طرح دوسرے پرنسپل چھوڑے رہتے ہیں۔ بس ضروری حد تک اپنے فرائض انجام دو۔ تم اس قسم کی پریشانیوں کو چھوڑ کر قرآن وغیرہ پڑھنا شروع کر دو۔ با قاعدہ پڑھو اور اسلامی چیزوں کا مطالعہ کرو۔

اس وقت خط لکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی، مگر تمھاری پریشانی بار بار یاد آتی رہی، اس لئے لکھنے بیٹھ گیا کہ شاید کچھ فائدہ ہو۔ زندگی کا اصل راز دوسروں سے تصادم نہیں ہے، بلکہ حالات کے ساتھ تمھارا ذہن ہر وقت اس پر کام کرتا ہے کہ تم جس طرح ٹھیک سمجھتے ہو، اسی طرح اس سوچ کو ختم کر دو۔ تم کو بحیثیت مسلمان اس طرح سوچنا ہے کہ دنیا میں مجھے تھوڑے دن کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں اپنے اور اپنے اہل وعیال کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے اور آخرت کی تیاری کرنا ہے۔ ان دو چیزوں کے سوا کسی بھی تیسری چیز کو تمھیں اہمیت نہ دینا چاہئے۔ کالج کے معاملہ میں ویسا ہی بن جانا چاہیے جس طرح دوسرے پرنسپل رہتے ہیں۔ خوب سمجھ لو کہ اصل مسئلہ اپنے آپ کو بچانا ہے، نہ کہ دوسروں کو۔ قرآن میں ہے: يا أيها الذين آمنوا قُوا أنفسكم وأهليكم ناراً۔ یعنی اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔

تم جن چیزوں کے لئے کڑھتے ہو، اس کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے نہ آخرت میں۔ تم کو اپنے

دماغ کی قوتوں کو اپنی دنیا و آخرت کی بہتری کے لیے لگانا چاہیے۔ دوسروں کو ان کے حال پر اگر یہ بالفرض ضروری رہا ہو تو تم نے اپنی طرف سے اتمام حجت کر دیا ہے۔ اب اس سلسلے میں تمھاری ذمہ داری نہیں ہے۔

میرا مشورہ ہے کہ بروقت تو تم فوراً دو چیزیں شروع کر دو۔ ایک، با قاعدہ پانچ وقتہ نماز۔ دوسرے قرآن کا ترجمہ۔ ان میں کافی وقت دو۔ دفتر کا کام صرف بقدر ضرورت کرو۔ انشاء اللہ اس سے آئندہ کی راہ کھلے گی اور تمھاری مشکلیں آسان ہو جائیں گی۔

اماں کی خدمت میں سلام۔ عابدہ سلمہا اور بچوں کو دعائیں دہلی، 17 مئی 1977 برادرم عبد المحیط تمھارا خط مورخہ 24 مئی 1977 ملا۔ مجھے تمھارے بارے میں بڑی فکر تھی۔ دوبارہ خط لکھنے والا تھا کہ تمھارا کارڈ آگیا۔ یہ معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ تم کو خدا کے فضل سے آج کل سکون ہے۔ تعالیٰ تمھاری مدد فرمائے۔ اس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور دوبارہ لکھتا ہوں کہ جیسے دوسرے پرنسپل رہتے ہیں ویسے ہی تم بھی رہو۔ تم کو اپنی جان ہلکان کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ آخرت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک مومن کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے اور ارادہً اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔

تم جانتے ہو کہ حاتم طائی فیاض و سخی تھا اور نوشیرواں بڑا عادل تھا۔ مگر حاتم طائی کی سخاوت اور نوشیرواں کے انصاف کا خدا کے یہاں کوئی وزن نہیں۔ کیوں کہ وہ خدائی نظام کے تحت نہیں تھا۔ تو وہی چیز مطلوب ہے جو اس کے اپنے لئے کی گئی ہو۔ اپنی ضرورتوں کے لیے ہم کو ہر کام کرنے کی خدا کے نقطۂ نظر سے تمھاری ملازمت کسی خدائی کاز کو پورا کرنے کے لیے نہیں ہے۔ تمھاری ملازمت صرف اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہے۔ جتنی فکر تم نظام کو ٹھیک کرنے کی کرتے ہو، اتنی ہی خدا کے لئے کرنے لگو تو تمھاری آخرت کے لئے ضرور فائدہ ہو، جب کہ اس کے پیچھے اپنے

کو ہلکان کرنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔

ایک خاص بات یہ ہے کہ بعض اوقات ”نیکی‘‘ بھی محض عزت (prestige) کا سوال بن جاتی خیر خیرات کرنا، مذہبی اور اخلاقی باتیں کرنا، رشوت نہ لینا، خلاف قانون کام نہ کرنا، بظاہر اچھی باتیں ہیں، مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی مخصوص اسباب سے جو ایک پوزیشن ہو جاتی، اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ وہ خدا کو خوش کرنے کے لئے نہیں، بلکہ اپنی عزت اور نیک نامی کو برقرار رکھنے کے لیے اچھا کام کرتا ہے۔ اس قسم کا عمل چوں کہ نیکی کی صورت میں ہوتا ہے، اس لئے آدمی اس کو سمجھ نہیں پاتا۔ یہ ہے کہ ایمان کی اصل تعریف (definition) یہ ہے کہ آدمی اپنے لاشعور (sub-conscious mind) کو دیکھنے لگے۔ اس وقت وہ صحیح معنوں میں خدا کے لئے کام کر سکتا ہے۔

حدیث میں ہے: إنما الأعمال بالنيات (عمل کا دارومدار نیت پر ہے) خدا کے یہاں جو چیز دیکھی جائے گی وہ صرف یہ کہ خالص خدا کے لئے آدمی نے کیا کام کیا۔ جو کام سوچ سمجھ کر پورے ارادہ کے ساتھ خدا کے لئے نہیں تو وہ بے فائدہ ہے۔ اس کا کوئی اجر نہیں۔ مجھے امید ہے کہ تم میری باتوں پر ضرور غور کرو گے۔ عقل مند وہ ہے جو ان باتوں کو اہمیت دے جو آخرت میں اہم بننے والی ہیں۔ بات کو اہم سمجھ کر آدمی کتنا ہی خوش ہولے۔ موت کے بعد بہر حال اس کو افسوس کرنا پڑے گا۔ اس کی مثال اندرا گاندھی کی زندگی ہے۔ اندرا گاندھی کو ہندوستان میں ڈکٹیٹر جیسا اقتدار ملا۔ اس نے سمجھ لیا کہ اہم بات وہ ہے جو اس کے ذہن میں اہم ہو۔ غیر اہم وہ ہے جو اس کو غیر اہم نظر آئے، حتیٰ کہ اندرا گاندھی کو یہ کہنے کی جرأت ہو گئی کہ ”ایمرجنسی سے پہلے کا دور اب کبھی واپس نہیں آئے گا، مگر جب فیصلے کا دن آیا تو معلوم ہوا کہ اہم کیا ہے اور غیر اہم کیا، اس کے فیصلے کا حق اندرا گاندھی کو حاصل اس کا بنایا ہوا نظام اس طرح اچانک اڑ گیا جیسے آندھی میں تنکا۔

اسی طرح آدمی دنیا میں اپنے ذوق، اپنے حالات، اپنی دلچسپیوں کے تحت اپنی زندگی کا ایک ڈھانچہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ حق وہی ہے جو اس کو حق نظر آئے۔ یہ ذہن اس پر اتنا چھاجاتا ہے کہ یہی اس کا لاشعور بن جاتا ہے۔ وہ اپنی بنائی ہوئی اسی خیالی دنیا میں زندگی گزارتا رہتا ہے، یہاں تک

کہ جب موت آتی ہے تو اچانک اس کو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت تو کچھ اور تھی۔ اس کی زندگی کی پوری عمارت اس طرح دھڑام سے گر جاتی ہے جیسے اس کی کوئی بنیاد ہی نہ تھی۔ اندرا گاندھی کی مثال میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک نمونہ دکھایا ہے۔ اندرا گاندھی کے واقعہ میں جو اس حقیقت کو دیکھ لے، اسی نے اندرا گاندھی کے واقعے کو جانا۔ ورنہ وہ خواہ کتنا ہی اخبار پڑھتا ہو، وہ ابھی تک اس واقعہ سے بے خبر ہے۔ جیسے ایک بے روزگار نو جوان اخبار میں "wants" کے کالموں میں گم ہو اور سارا اخبار الٹ کر بھی اس کو معلوم نہ ہو کہ اخبار میں اصل خبر کیا تھی۔ میری عادت اتنے خطوط لکھنے کی نہیں۔ صرف تمھاری خاطر ایسا کر رہا ہوں۔

دہلی، 2 جون 1977 مجھے یاد ہے کہ کتنے اسٹاف کے لوگ ان کے خلاف ہڑتال (strike) کرتے، نعرہ لگاتے، پتلا بھی جلایا گیا، مگر پھر وہی اسٹاف کے لوگ ان کو اتنا پسند کرنے لگتے کہ وہ ان کے ٹرانسفر ہونے پر ہر وہ جگہ جہاں ڈسپلن (discipline) نہیں ہوتا تھا، وہاں ان کے جانے پر ڈسپلن کا ماحول بن جاتا۔ اس طرح ان کا ریکارڈ اتنا اچھا ہوتا کہ ان کے اوپر کوئی انگلی نہ اٹھا سکا۔ پاپا کا ڈائرکٹر ہمیشہ ان سے ناراض رہتا، کیوں کہ وہ اس کی ساری غلط باتوں کو ناپسند کرتے اور اس کو کرنے سے منع کر دیتے ۔ اس لیے ان کا پروموشن نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن پاپا بہت سینئر تھے۔ اس طرح ان کا اچھا ریکارڈ ہونے کی وجہ سے ڈائرکٹر ان کا پروموشن روک نہیں سکتا تھا۔ مگر پاپا نے کبھی کوشش نہ کی کہ ان کا پروموشن پاپا کی عادت نہ تھی کہ وہ ڈائرکٹر کی خوشامد کریں۔ انھوں نے کبھی کسی کے فوٹو پر ہار مالا نہیں انھوں نے ہمیشہ ایمان داری اور سچائی سے زندگی گزاری۔

کبھی بھی کوئی غلط بات جوان کا ڈائرکٹر ان سے کرنے کو کہتا، وہ اس کو نہ کرتے اور اپنے ڈائرکٹر کو باقاعدہ لکھ کر بھیج دیتے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح۔ اس پر ایک بار ان کے ڈائرکٹر نے کہا کہ "مسٹر خان، آپ ایسا لکھ کر بھیج دیتے ہیں کہ میں کسی کو دکھا بھی نہیں سکتا۔ بہر حال وہ 1984 میں جوائنٹ ڈائرکٹر ہوئے۔ بنارس ان کا آفس تھا۔ وہ Circuit House میں P.A. Suits میں

1995 میں پا پارٹائر ہوئے ۔ اور ریٹائر منٹ کے بعد وہ فیض آباد میں رہنے لگے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے حج ادا کیا۔ حج کے بعد انھوں نے ایک کتاب لکھی تھی ’’ حج کیسے کریں‘‘۔ خاص لوگوں کو حج کے بارے میں بتاتے تھے۔

دھیرے دھیرے وہ صرف لکھنے پڑھنے میں مشغول رہنے لگے۔ میتھ (Maths) ان کا پسندیدہ بچوں کو وہ شوق سے میتھ پڑھاتے، باقی ٹائم میں وہ بڑے ابا کی کتابیں پڑھتے جس میں ماہ نامہ الرسالہ، تذکیر القرآن ، مطالعہ قرآن، الربانیہ اور قال اللہ وقال الرسول ان کی پسندیدہ کتابیں وہ کافی کتابیں لوگوں کو دیتے ۔ بڑے ابا کے خلاف کوئی بولتا تو انھیں بہت تکلیف ہوتی۔ کہتے تھے’’ آج کل کا مسلمان جو شیلا ہے، اس کو جو شیلی باتیں ہی پسند آتی ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگوں کو بھائی صاحب (مولانا وحید الدین خاں) کی باتیں کیوں نہیں سمجھ میں آتیں ، یہ ان کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔

اللہ کا شکر ہر دم ان کی زبان پر رہتا۔ وہ اکثر کہتے’’ ہم لوگ یتیم تھے، ہمارا کوئی پرسان حال نہ تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے ہم تینوں بھائیوں کو ہر چیز سے نوازا۔ ہم لوگ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اللہ ہم لوگوں کو اتنا دے گا۔ خدا کا بہت بڑا احسان ہم لوگوں پر ہے۔ ہم لوگوں سے اپنے بچپن کے چھوٹے چھوٹے قصے بتاتے ، مثلاً دادی کا تکلیف سے پرورش کرنا وغیرہ، اور رو دیتے ۔ اپنی سروس کے دوران انھوں نے بڑی عزت پائی، مگر خدا کے شکر کے علاوہ کبھی کوئی ایسی بات نہ کہی جس سے کوئی بڑائی یا گھمنڈ ظاہر ہو۔ ہر چھوٹے بڑے موقع پر وہ خدا کے شکر میں ڈوب جاتے تھے۔ غریبوں کی وہ ہر طرح مدد کرتے۔ فیض آباد میں جہاں وہ رہے، اسی طرح علی گڑھ میں بھی کسی غریب کو پریشان دیکھتے تو اپنی طرف سے وہ اس کی پوری مدد کرتے ۔ انھوں نے تذکیر القرآن کو 8 بار پڑھا اور اپنے اندر ایسا بسا لیا کہ ان کا ہر کام، ہر عمل اللہ کے لئے ہوتا تھا۔ ان کا کام لکھنا اور پڑھنا تھا اور اس پر عمل کرنا۔ ان کا ہر عمل ویسا ہی ہوتا جیسا کہ اللہ نے بتایا ہے ۔ اُن کے صبر کا معاملہ اتنا زبردست تھا کہ وہ اس کے ذریعے اللہ سے بہت قریب ہوتے چلے

انھوں نے اپنی ڈائری میں ایک جگہ لکھا تھا: ’’ایمان روح کی پاکیزگی ہے اور جس کی روح پاک ہو گئی ہو، وہ اپنے معاملات میں ناپاکی کا طریقہ کیسے اختیار کر سکتا ہے‘۔ میرے والد ، اللہ کے ایک ایسے بندے تھے جنھوں نے ساری زندگی سچائی کا ساتھ دیا۔ سے کسی شخص کو جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔ ان کی زندگی میں بہت سے شدید ترین حالات پیدا ہوئے، اس کے باوجود وہ اپنے قول سے پھرے نہیں۔ جھوٹ سے ان کو سخت نفرت تھی۔ گھڑی ہوئی بات، زیر زبر کے فرق، اور بغیر آنکھ کان کے دیکھے سنے، وہ کسی بات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اور اسی طرح کی عادت میری چھوٹی بہن سعیدہ کی بھی ہے۔

اس طرح ہم لوگوں نے ان سے حق اور انصاف کی باتیں بھی سیکھیں۔ جس طرح انھوں نے بڑھیریا کی جائداد اپنے ذمہ دار بننے کے بعد تقسیم کی، وہ بھی ایک مثال ہے۔ پاپا نے سب کا حصہ سب کے پاس پہنچایا۔ بقول ہماری پھوپھی زاد، بہن جن کا نام سلمیٰ ہے، ’’ہم لوگ نہیں جانتے تھے کہ اماں کا حصہ بھی ہے۔ ماموں نے دینا شروع کیا تو معلوم ہوا‘۔ یہ بات انھوں نے مجھ سے کہی تھی ۔ سے انھوں نے میراث کے متعلق دیو بند سے فتویٰ منگوایا۔ معلوم ہوا کہ جس کی صرف لڑکیاں ہوں، کوئی بیٹا نہ ہو تو جائداد میں بھائی کا حصہ ہوتا ہے، اگر وہ زندہ ہے۔ اور یہ کام وہ انتقال سے چار سال پہلے ہی کر اس طرح انتقال کے بعد پاپا کے مکان کو فروخت کر کے بڑے ابا (مولانا وحید الدین خاں) کا حصہ دیا گیا تھا جو بڑے ابا نے نہ لے کر القرآن مشن (Al-Quran Mission) میں لگا دیا۔ ان کی ایمان داری کا پاک صاف پیسہ پاک جگہ لگ کر پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ یہاں پر بھی ہم لوگوں نے یہی سیکھا کہ حق و انصاف اور ایمان داری میں کتنی برکت ہوتی ہے۔ اپنے اور دوسروں سے چھین لینے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو دینے میں برکت اور محبت ہے۔ اسی طرح ہم لوگوں کے بچپن کے کچھ واقعے ہیں جن کو پاپا سنا کر ہنستے تھے، ان میں سے کچھ ہم لوگوں کو یاد ہیں، وہ یہاں نقل کئے جاتے ہیں:

ہم لوگ بہت چھوٹے تھے۔ امی کبھی کھانے کو ایک ہی پلیٹ میں 2 چمچ لگا کر دے دیتی تھیں ۔

پاپا کہتے آدھا آدھا کرو۔ ہم لوگ جب حصہ لگاتے تو وہ بتاتے کہ کدھر زیادہ ہے اور کدھر کم ہے۔ طرح آخر میں ہم لوگوں کی عادت یہ ہوگئی کہ سعیدہ اپنا حصہ میری طرف کرتی، میں اس کی طرف کہ اس کی طرف زیادہ رہے اور میری طرف کم رہے۔ اکثر بچوں میں لڑائی ہوتی ہے کہ ہمارا کم ہے دوسرے کا زیادہ ہے، مگر ہم لوگ دوسرے کو زیادہ دینے اور اپنے لئے کم لینے پر مطمئن ہوتے تھے۔ ایک بار کوئی انگوٹھی تھی۔ وہ ہم لوگوں کو بہت اچھی لگی۔ انگوٹھی ایک تھی۔ اس کو دونوں لوگ نہیں پہن سکتے تھے۔ اس لئے یہ طے پایا کہ باری باری پہنیں، ایک دن میں اور ایک دن تم۔ اس طرح ایک دن پہن کر دوسرے دن صبح بستر سے اٹھنے سے پہلے ہم انگوٹھی دوسرے کو دے کر اٹھتے تھے کہ صبح کے ساتھ ہی اپنی باری ختم ہوگئی۔ بچپن سے انصاف کرنا سیکھ رہے تھے، کبھی کسی چیز پر لڑائی نہیں ہوئی، دوسرے کو دینے میں زیادہ خوشی ہوتی۔

سعیدہ مجھ سے بے انتہا محبت کرتی تھی، شاید ہم سے بھی زیادہ۔ وہ کوئی کام اکیلے نہیں کرتی، نہ اکیلے کہیں جاتی تھی۔ ایک بار پتا نہیں کیسے وہ اکیلے کہیں چلی گئی۔ کیسے گئی، یاد نہیں۔ مگر روتی ہی جارہی جس کے یہاں گئی تھی، وہ پریشان کہ بچی کیوں روئے جاری ہے۔ انھوں نے اس کو ایک کیلا لا کر دیا، جیسا کہ اکثر بچوں کو دیا جاتا ہے کہ شاید کھانے میں بہل جائے۔ اس نے کیلا لے کر زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ سب پریشان کہ کیا ہو گیا۔ بہت پوچھا تو بولی” آپا کے لیے‘‘۔ پھر دوسرا کیلا دیا تو وہ لے کر گھر آئی، پھر ساتھ بیٹھ کر کھایا۔ اس طرح کے بہت سارے ہم لوگوں کے قصے ہیں۔ ہم اس طرح کی باتوں کی وجہ سے کافی مشہور ہو گئے تھے۔

پاپا بھی اپنے بچپن کے قصے بہت بتاتے تھے۔ پاپا اپنے دونوں بھائیوں سے بے حد محبت اکثر بات کر کے ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ وہ کہتے” میں نے اپنے ابا کو تو دیکھا ہی نہیں، بھائی لوگوں کو ہی باپ کی طرح سمجھا‘‘۔ شکر بے حد کرتے۔ بچپن کے قصہ بتاتے ، کس طرح ہم یتیم ہو گئے اور سب کچھ چھن گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے تینوں بھائیوں کو کس طرح نوازا۔ نہ تھا کہ ہم لوگوں کو پھر سے اتنا ملے گا۔

پاپا کی زندگی میں ہمیں کبھی یہ احساس نہ ہوا کہ وہ کیا چیز تھے۔ شاید بچپن سے ایسا دیکھنے کی عادت تھی۔ ہم نے کبھی سوچا نہ تھا کہ اتنی جلدی اچانک ایک صبح وہ ہم سب کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ ہم لوگوں کی زندگی سوچتے ہیں کہ پاپا کیسے کرتے تھے، ویسا ہی کرنا ہے۔ جوان کو نہیں پسند تھا، وہ نہیں کرنا ہے۔ پاپا کی طرح تو شاید ہم کبھی نہ بن پائیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اس کا کتنا ساری دنیا میں دین پھیلا رہا ہے۔ پوری دنیا میں ان کی کتابیں پڑھی جا رہی ہیں۔ انھیں کی کتابیں پڑھ اللہ کا نیک بندہ ہے، ہر دم خدا کے خوف میں ڈوبا رہنے والا، دیکھنے میں لگتا کہ کسی بڑی پریشانی میں مبتلا تذکیر القرآن کو ہر دم پڑھنے کی وجہ سے تھا۔ ہر خالی وقت میں وہ تذکیر القرآن کو پڑھتے رہتے تھے، پاپا کے انتقال کے بعد سے ہم دونوں بہنوں کو توفیق ہو رہی ہے کہ Al-Quran Mission اس کو قبول فرمائے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمارے بڑے ابا (مولانا وحید الدین خاں) کو اس کا اجر دے جن کی ہم اپنی نمازوں میں ہمیشہ اپنے پاپا کے لیے بے انتہا اجر اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور خدا کا چاہیے، اس کی تمیز سکھائی۔ پاپا کو زندگی میں ماحول سے ایسا دھکا لگا تھا کہ اس ماحول کا جھوٹ اور نا انصافی آخر وقت میں وہ ایک معصوم بچے کی طرح ہو گئے تھے کہ ان کو خدا اور رسول کے علاوہ کوئی اور بات سمجھ نہیں

وہ بات بھی بہت کم کرتے تھے۔ ڈر اور سوچ میں ڈوبے رہتے، کوئی بات کی جاتی تو سمجھ ہی نہیں اس طرح وہ آخرت کی یاد میں گم ہو کر رہ گئے تھے۔

پینشن (pension) لینے کے لئے وہ ہر سال فیض آباد آتے اور ہمارے پاس رہتے تھے۔ طرح نومبر 2009 میں بقر عید سے 2 دن پہلے وہ فیض آباد آئے۔ وہ کمزور ہو گئے تھے، مگر اللہ کے کرم سے ان کو کوئی مرض نہیں تھا۔ جس طرح وہ بیماری سے اور بستر پر پڑ جانے سے ڈرتے تھے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر ہر طرح سے کرم کیا۔ ہر دم اللہ کے خوف سے کانپتے تھے۔ ایسا پریشان رہتے جیسے کسی بڑی مشکل میں آدمی پریشان رہتا ہے۔

اس طرح کی باتیں جو وہ تقریباً روز کہتے تھے کس طرح اللہ کے یہاں پیشی ہوگی۔ آجائے، کس وقت بلاوا آجائے۔ ہم دو بھائی بچے ہیں، پتہ نہیں کس کی باری پہلے ہے۔ بچپن کی باتیں کرتے، سب کو یاد کرتے اور کہتے کہ لگتا ہے میرا وقت قریب آگیا ہے، وغیرہ۔

اپنی زندگی میں جس طرح کی تکلیف ان کو پہنچی تھی، اس کے مطابق باتیں وہ تذکیر القرآن سے ہم لوگوں کو پڑھ کر سناتے تھے، مثلاً: "عام آدمی روٹی پر جیتا ہے، مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر " "دلیل کے ذریعہ کسی کو رد کرنا درست ہے، جب کہ عیب لگا کر کسی کو بدنام کرنا سراسر " "لوگ خود غرض بن کر نہ رہیں، بلکہ وہ لوگوں کے خیر خواہ بن کر رہیں "۔ اس طرح وہ ہر دم اللہ کا کلام سنتے، سناتے، لوگوں کو اس کے بارے میں بتاتے اور اس کو لکھتے ہوئے وقت گزار رہے تھے اور شاید اللہ کے بہت قریب ہو گئے تھے۔ انتقال سے دو روز پہلے انھوں نے امی سے کہا کہ " آج خواب میں چچا کو دیکھا، وہ مجھے بلانے آئے تھے "۔

امی کا پنشن کے کاغذ میں نام نہیں تھا، اس کو درج کروایا، یہ کہہ کر کہ " بہت ضروری ہے، اس کو درج " اُس رات جس دن ان کا انتقال ہوا ہے، انھوں نے امی سے کہا " دل چاہتا ہے، ہم چاروں لوگ (پاپا، امی، دونوں بہن) اکٹھا ہو جائیں "۔ سعیدہ سے ایک سال سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس کو یاد کیا، پھر فون پر اس سے بات کر کے امی سے یہ بات کرتے ہوئے سوئے کہ تم لیٹتے وقت کیا دعائیں پڑھتی ہو، اور خود

بتایا کہ میں یہ دعا ئیں پڑھتا ہوں۔ معمول کے مطابق، وہ صبح 4 بجے تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے اٹھے، ہاتھ روم میں ہی ہارٹ اٹیک ہوا اور جب تک ان کو بستر پر لایا گیا وہ بے ہوش ہو چکے تھے۔ بے ہوش ہونے سے پہلے انھوں نے امی کا ہاتھ پکڑ کر کچھ کہنا چاہا، شاید وہ امی کی طرف سے فکرمند تھے، پھر کلمہ پڑھا، زبان لڑکھڑا رہی تھی اور ڈاکٹر کے آنے سے قبل ہی ان کی روح نکل چکی تھی۔ (إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) زندگی میں ان کا چہرہ پریشان حال رہتا تھا، انتقال ہوتے ہی جیسے ان کو سکون مل گیا ہو۔ چہرہ زندگی میں کسی کا نہ دیکھا تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے ابھی ہنس دیں گے، اتنا چمکتا ہوا چہرہ۔ موجود ہر فرد نے کہا کہ جیسے ابھی ہنس دیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ جرائم اور سیاسی افراد کے نام اور ان کے حالات کا مطالعہ کرنے کی میری عادت کا یہ اگلا حصہ ہے اس کا پہلا حصہ جن اداروں یا افراد کے نام ماہ نامہ اکسالہ اعزازی طور پر جاری کیا گیا ہے، وہ صرف ایک سال کے لئے جو حضرات مسلسل طور پر الرسالہ کو پڑھنا چاہتے ہیں، وہ الرسالہ دفتر کو زرِتعاون کے ساتھ اپنا خریداری نمبر (US No.) یا اپنا مکمل پتہ بھیج کر دوبارہ اپنے پتے پر الرسالہ جاری فرما سکتے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خاں کے اردو اور انگریزی ویڈیو لیکچرز کے لئے ملاحظہ فرمائیں: Maulana Wahiduddin Khan Monday, Tuesday, Wednesday, Thursday 6.30 am ISLAM FOR KIDS Sunday 9.00 am

اسلام: ایک تعارف اسلام: ایک عظیم جدوجہد اسلام اور عصر حاضر اسلام پندرہویں صدی میں اسلام دور جدید کا خالق اسلام دین فطرت اسلام کا تعارف اسلام کیا ہے انسان اپنے آپ کو پہچان انسان کی منزل تاریخ دعوت حق تاریخ کا سبق تعبیر کی غلطی تعمیر کی طرف حقیقت کی تلاش حل یہاں ہے خدا اور انسان دین کی سیاسی تعبیر دین کیا ہے دین و شریعت راہیں بند نہیں رہنماۓ حیات (کتابچہ) سبق آموز واقعات سفر نامہ اسپین و فلسطین سفر نامہ (غیر ملکی اسفار، جلد اول) سفر نامہ (غیر ملکی اسفار، جلد دوم) سوشلزم اور اسلام سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ شتم رسول کا مسئلہ طلاق اسلام میں علما اور دورِ جدید عورت معمارِ انسانیت فسادات کا مسئلہ کامیاب ازدواجی زندگی قال اللہ و قال الرسول قرآن کا مطلوب انسان قیامت کا الارم کشمیر میں امن مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے مذہب اور جدید چیلنج مذہب اور سائنس مطالعہ سیرت (کتابچہ) منزل کی طرف مولانا مودودی، شخصیت اور تحریک میوات کا سفر ہندوستان آزادی کے بعد یکساں سول کوڈ

Printed page