انابت الی اللہ
Al-Risala, June 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ غافر کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ ہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے وہ تمھارے لیے رزق نازل کرتا ہے۔ اور نصیحت صرف وہی شخص حاصل کرتا ہے جو انابت کرنے والا ہو۔ ‘‘ (13: 40)
قرآن کی اس آیت میں تین باتیں کہی گئی ہیں۔ پہلی بات ہے، نشانیوں (آیات) کا ظاہر ہونا۔ دوسری چیز ہے، ان نشانیوں سے رزقِ خداوندی کا ملنا۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہ رزق صرف اُن افراد کو ملتا ہے جن کے اندر انابت کی صفت پائی جائے۔ آیات سے مراد وہ نشانیاں (signs) ہیں جو تخلیق میں ظاہر ہوئی ہیں۔ رزق سے مراد وہ ربانی اسباق (divine lessons) ہیں جو ان نشانیوں میں چھپے انابت کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ یہ ربانی سبق کن خوش قسمت افراد کو حاصل ہوتا ہے۔ انابت کا لفظی مطلب ہے، بار بار واپس آنا (to return from time to time)۔ ہے کہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے آدمی کے ساتھ بار بار وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو ڈسٹریکشن کہا جاتا ہے، یعنی توجہ کا ہٹ جانا۔ یہی چیز رزقِ ربانی کے حصول میں اصل رکاوٹ ہے۔ تخلیقات میں اور زندگی کے تجربات میں رزقِ ربانی کے آئٹم ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ سوچے تو وہ ہر وقت ان چیزوں میں نصیحت کا رزق پا تا رہے گا، لیکن حالات کے تحت بار بار آدمی کی توجہ مطلوب نشانے سے ہٹتی رہتی ہے۔ انسان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس ڈسٹریکشن سے یہی وہ انسان ہے جس کو قرآن میں منیب (13: 42) کہا گیا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی خواہشیں اُس کو نشانیوں میں غور وفکر سے ہٹا دیتی ہیں۔ کبھی کوئی مسئلہ اس کی توجہ کو موڑ دیتا ہے۔ شکایت کی نفسیات اس کے لیے ڈسٹریکشن کا سبب بن جاتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ محاسبہ کے ذریعے اپنے آپ کو تمام قسم کے ڈسٹریکشن سے بچائے، تاکہ وہ خدائی نشانیوں (divine signs) سے مسلسل اپنے لیے ایمانی رزق حاصل کرتا رہے۔