Al-Risala · June 2012

نماز میں خشوع

Al-Risala, June 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ فلاح اُن اہلِ ایمان کے لیے ہے جو خشوع کے ساتھ اپنی نماز ادا کرتے ہیں (23: خشوع کا لفظی مطلب فروتنی ہے، یعنی وہ حالت جو مُحاسب ومجازی خدا کی یاد سے پیدا ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی دوسری آیت یہ ہے: الذین یظنون أنهم ملقوا ربهم اس سے معلوم ہوا کہ لقاء رب کے شدید تصور سے انسان کے دل میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، اُسی کا نام خشوع ہے۔ نماز میں خشوع یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اتنا زیادہ بیدار ہو کہ جب وہ نماز کے کلمات اپنی زبان سے ادا کرے تو ان کلمات کا مفہوم اُس کے ذہن کو متحرک کرتا رہے۔ اس کے اعضا نماز کے ظاہری افعال کو ادا کر رہے ہوں اور اس کا ذہن خدا کے سامنے حاضری کو سوچ کر اندیشہ ناک بنا ہوا ہو، حتی کہ یہ کیفیت اتنی زیادہ شدید ہو کہ اس کے بدن پر خوف سے کپکپی طاری ہو جائے ۔ اس کیفیت کو حاصل کرنے کے لیے شدید محنت درکار ہوتی ہے، اس لیے نماز کے ساتھ صبر کو شامل کیا گیا ہے (2:45)۔ ایک فارسی شاعر نے کہا۔ رات کو جب میں نماز کی نیت کرکے کھڑا ہوا تو دل میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ میرا بچہ صبح کو کیا کھائے گا:

Printed page