Al-Risala · June 2012

وسیلہ کی حقیقت

Al-Risala, June 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

وسیلہ کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول، ثم صلّوا علىّ، فإنّه من صلّى علىّ صلاة، صلّى الله عليه بها عشراً، ثم سلوا الله له لى الوسيلة، فإنّها منزلة في الجنة. لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله، وأرجوا أن أكون هو، فمن سأل لى الوسيلة، حلّت له الشفاعة (صحیح مسلم، رقم الحديث: 387, 582) یعنی جب تم موذن کو سنو تو تم بھی وہی کہو جو موذن نے کہا ہے، پھر میرے لیے دعا کرو۔ جو میرے لیے ایک دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس پر اپنی دس رحمتیں بھیجتا ہے۔ پھر تم میرے لیے اللہ سے وسیلہ مانگو، کیوں کہ وسیلہ جنت کا ایک درجہ ہے۔ درجہ اللہ کے بندوں میں سے کسی بندے کو ملتا ہے، اور میں امید کرتا ہوں کہ میں وہ بندہ ہوں گا۔ نے میرے لیے وسیلہ کی دعا کی ، اٗس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔

1 - وسیلہ کا لفظی مطلب قربت (nearness) ہے۔ یہ لفظ قرآن میں اسی معنی میں آیا ہے۔ ایک جگہ فرشتوں کی نسبت سے، اور دوسری جگہ انسان کی نسبت سے۔ فرشتوں کی نسبت سے، قرآن میں آیا ہے کہ وہ اللہ کے وسیلہ، یعنی قربت کے طالب رہتے ہیں (57 :17)۔ اسی طرح قرآن میں انسان کی نسبت سے آیا ہے کہ تم اللہ کے وسیلہ، یعنی قربت کے طالب بنو (35 :5)۔ 2 - مذکورہ روایت میں وسیلہ کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ دعا کرو کہ آپ کو اللہ کا وسیلہ، یعنی اللہ کی قربت حاصل ہو، جو کہ اللہ کی طرف سے کسی انسان کے لیے ایک عظیم رحمت ہے اور جنت میں اس کے درجے کو بڑھانے والی ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: اللهم آت محمداً الوسيلة والفضيلة (صحیح البخاري، رقم الحديث: 614) یعنی اے اللہ، محمد کو وسیلہ اور فضیلت دے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جملے میں ’فضیلۃ‘ کا لفظ کسی نئے مفہوم کے لیے نہیں ہے۔ وہ وسیلہ کے لفظ

کی مزید وضاحت ہے: والفضیلۃ تفسيراً للوسيلة (فتح الباري، 2/113)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدایا! تو محمد کو قربت کا درجہ دے، جو کہ فضیلت کا ایک درجہ ہے۔

3- عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وسیلہ سے مراد سفارش (recommendation) ہے، یعنی قیامت میں لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے جنت اور مغفرت حاصل ہوگی۔ وسیلہ کا یہ مفہوم ایک خود ساختہ مفہوم ہے، وہ لفظی طور پر کسی روایت میں موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغفرت تمام تر اللہ کا ایک عطیہ ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں اس بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ 4- روایت میں حلت لہ الشفاعة کے الفاظ آئے ہیں، یعنی اس کے لیے شفاعت واجب یہاں شفاعت سے مراد سفارش نہیں ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایسا آدمی اپنے عمل کی بنا پر اس قابل ہوگیا کہ رسول اللہ اس کو پہچانیں اور قیامت میں اس کو اپنی امت کا ایک فرد شمار کریں۔ 5- شفاعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک شخص جو اپنے عمل کے اعتبار سے جنتی نہ ہو، وہ پیغمبر کی سفارش سے جنتی بن جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ قیامت کے دن کسی انسان کے اخروی مستقبل کا فیصلہ تمام تر اللہ کی مرضی سے ہوگا، لیکن اُس کے اعلان کا طریقہ یہ ہوگا کہ انبیاء اور دُعاۃ کو بلند مقام (اعراف) پر کھڑا کیا جائے گا۔ انھوں نے جن لوگوں کے اوپر دعوت و شہادت کا کام کیا ہوگا، وہ اُن کو قیامت کے دن صاف طور پر پہچان لیں گے اور ہر ایک کے لیے اللہ کے فیصلے کا اعلان کریں گے۔ 6- وسیلہ (قربت) کوئی پر اسرار چیز نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ تعلق باللہ کے دو درجے ہیں۔ ایک درجہ اطاعت، اور دوسرا درجہ قربت۔ مومن کو چاہئے کہ وہ درجہ قربت میں اللہ سے تعلق قائم کرے، اور اسی اعلیٰ درجہ قربت کے لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں دعا کرے۔ دعا کا کوئی تعلق سفارش کے خود ساختہ نظریے سے نہیں۔

7- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا و صلاۃ کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ اظہارِ تعلق کی ایک صورت ہے۔ ایک انسان جو سچائی کا طالب ہو، لمبی جستجو کے بعد جب اس کو پیغمبر اسلام کے ذریعے ہدایت ملے تو فطری طور پر ایسا ہوگا کہ اس کو پیغمبر اسلام سے قلبی تعلق ہو جائے گا اور وہ اس تعلق کا

اعتراف الفاظ کی صورت میں کرے گا۔ اسی اعتراف کا دوسرا نام درود و صلاة ہے۔

8- حدیثوں کی نوعیت زیادہ تر یہ ہے کہ کوئی واقعہ گزرا تو اُس کی نسبت سے آپ نے لوگوں کو ایک اسلامی تعلیم بتادی۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کسی موقع پر جب مسجد سے اذان کی آواز آئی تو اُس وقت آپ کے پاس جو لوگ موجود تھے ، اُن سے آپ نے مذکورہ بات فرمائی۔ آپ کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ موذن کے کلمات کو سننے والا بھی اُسی طرح دہرائے۔ اُس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ سننے والا مسجد میں حاضر ہو اور نماز کے ذریعے وہ قربت الہی (19: 96) کا تجربہ کرے ۔ اس طرح اس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اعلیٰ اعتراف کا جذبہ پیدا ہو، جن کے ذریعے عبادت کا یہ نظام اور دوسری تعلیمات الہیہ حاصل ہوئیں ۔ اسی جذبۂ اعتراف کا یہ اظہار ہے کہ مومن یہ کہے کہ خدایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قربت کا درجہ عطا فرما اور آپ کو جنت کے اعلیٰ مقامات پر فائز فرما۔ 9- حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ "جو میرے لیے ایک بار دعا کرتا ہے، اللہ اُس پر دس رحمتیں " حدیث کے یہ الفاظ دُرود“ کی کسی علاحدہ خصوصیت کو نہیں بتا رہے ہیں۔ وہ ایک عام سنتِ الہی کو بتا رہے ہیں، جیسا کہ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی عمل کا کم از کم دس گنا اجر دیتا ہے اور عمل کی کیفیاتی قدر کے مطابق ، اس کا انعام سات سوگنا تک یا اس سے بھی زیادہ دیا جاتا حدیث کے مذکورہ الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کو اس کا اجر ملے گا۔ جس کی کم سے کم مقدار دس گنا ہوگی ۔ صلاة و سلام در اصل پیغمبر کے حق میں ایک مومن کی طرف سے اعتراف کا کلمہ ہے۔ جس کا اعتراف جتنا شدید ہوگا، اتناہی اس کا اجر بڑھتا جائے گا۔ وسیلہ کا یہ مفہوم قرآن وحدیث کے متن سے بالکل واضح ہے۔ مگر اُس کو سمجھنے کے لیے ایک لازمی شرط ہے، وہ یہ کہ آدمی اپنے روایتی شاکلہ (traditional mindset) کو توڑے ۔ وہ خالص علمی انداز میں کھلے ذہن کے ساتھ قرآن وحدیث کا موضوعی (objective) مطالعہ کرے ۔ وسیلہ کی مذکورہ تشریح کو سمجھنے کے لیے اس شرط کو پورا کرنا ضروری ہے۔

Printed page