Al-Risala · June 2012

A fixed set of attitudes

Al-Risala, June 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخی اعتبار سے دیکھیے تو قدیم عرب میں لوگوں کا جو مائنڈ سیٹ تھا، اس کو قبائلی مائنڈ سیٹ (tribal mindset) کہا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد دورِ اقتدار آیا۔ اُس زمانے میں مسلمانوں کے اندر ایک نیا مائنڈ سیٹ بنا۔ سیاسی مائنڈ سیٹ (political mindset) کہا جا سکتا ہے۔ یہ مائنڈ سیٹ تقریباً اٹھارھویں صدی کے آخر تک چلتا رہا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں، مسلمانوں کا سیاسی اور تہذیبی دبدبہ ختم اس کے بعد مسلمانوں کے اندر ردِّ عمل کی نفسیات پیدا ہوئی۔ اب ان کے اندر جو مائنڈ سیٹ بنا، اس کو انتقامی مائنڈ سیٹ (revengeful mindset) کہا جا سکتا ہے۔

یہی انتقامی مائنڈ سیٹ آج تقریباً تمام دنیا کے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ تشدد، خود کش بم باری سب اسی مائنڈ سیٹ کے عملی مظاہر ہیں۔ اب اکیسویں صدی میں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے جو کام کرنا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ اُن کے اندر دوبارہ وہی مائنڈ سیٹ پیدا کیا جائے جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں پایا جاتا تھا، یعنی دعوتی مائنڈ سیٹ۔ یہی مسلمانوں کی اصلاح کا صحیح آغاز ہے۔ اسی طرح کام کرنے سے مسلمانوں کے اندر حقیقی نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔

Printed page