سوسائٹی کی نسبت سے فرد کی ذمے داری
Al-Risala, June 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے سوسائٹی کو لیجئے۔ پچھلے زمانے میں سوسائٹی سے مراد آپ کا قریبی سماج ہوتا تھا۔ الیکٹرانک دور میں جی رہے ہیں، اس لیے اب سوسائٹی کا لفظ وسیع تر سماج کے ہم معنیٰ بن گیا ہے۔ اقتصادورٹس میں دِکھ رہی ہے۔ اس کی رگ رگ میں یہ احساس سوسائٹی سے مراد قریبی سوسائٹی بھی ہے، اور الیکٹرانک سوسائٹی بھی۔
سماجی زندگی کا اخلاقی معیار یہ ہے کہ ہر فرد اپنی سوسائٹی میں اُس کا دینے والا ممبر (giver member)بن کر رہے۔ وہ سوسائٹی میں اس طرح رہے کہ اُس سے دوسروں کو کچھ نفع مل وہ سوسائٹی کے حق میں اپنی ڈیوٹی کو ادا کرے۔ مثلاً وہ دوسروں کے لیے کوئی پرابلم پیدا نہ کرے ۔ وہ دوسروں سے کئے ہوئے عہد کو لازماً پورا کرے۔ وہ دوسروں کے جان و مال میں اُنھیں کوئی نقصان وہ سماج میں ایک قابل پیشین گوئی کردار والا انسان (predictable character) بن کر رہے، یعنی سماج اُس سے جائز طور پر جو اُمید رکھے، اُس اُمید میں وہ پورا اترے۔ ایک واقعہ اس معاملے کو اچھی طرح واضح (illustrate) کرتا ہے۔ شکا گو (Chicago) امریکا کا ایک شہر ہے۔ شکا گو کے لفظی معنی جنگلی پیاز (wild onion) کے ہیں۔ پہلے یہ شہر اپنی گندگی اور جرائم اور ناقص مکانات کے لیے مشہور تھا۔ اس لیے اس کا یہ نام پڑ گیا۔ آج شکا گو ایک اعلیٰ درجے کا خوب صورت شہر ہے۔
شکا گو کی جدید تاریخ رچرڈ ڈیلی (Richard J. Daley) کی طرف منسوب ہے۔ میں پیدا ہوا، اور 1976 میں اس کی وفات ہوئی۔ 1955 میں وہ شکا گو کا میئر منتخب ہوا، اور آخر عمر تک وہ شکا گو کا میئر رہا۔ میئر بننے کے بعد اس نے از سر نو شہر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ اس نے قدیم شکا گو کو ہر اعتبار سے نیا شکا گو بنا دیا۔
رچرڈ ڈیلی کی کامیابی کا خاص راز یہ تھا کہ اس نے شکا گو کی جدید تعمیر کو وہاں کے باشندوں میں سے ہر ایک کا ذاتی مسئلہ بنا دیا۔ اُس نے ہر ایک کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ یہ کام مجھے کرنا ہے، اور میں ہی اس کو انجام دوں گا۔ اس نے شکا گو میں بسنے والے ہر شخص کو یہ ماٹو دیا ۔ میں اس کو کروں گا: I will do it. ایک فرد کے لیے سماج میں جینے کے دو اصول ہیں ۔ ایک، یہ کہ وہ سماجی ذمے داریوں کو اپنے او پر لے ۔ دوسرا، یہ کہ وہ سماجی ذمے داریوں کو دوسروں کے اوپر ڈالے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایک ہے، آئی ول ڈوا سپرٹ (I will do spirit) کے ساتھ سماج میں رہنا ۔ اور دوسرا ہے،
دے ول ڈوآٹ اسپرٹ(They will do it spirit) کے ساتھ سماج میں رہنا۔ ان دونوں طریقوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جس سماج کے افراد آئی ول ڈوآٹ اسپرٹ (I will do it spirit) کے ساتھ رہیں، وہ سماج ترقی کرے گا۔ اس کے ہر شعبے درست طور پر کام کریں گے۔ اس کے برعکس، جس سماج کے افراد دے ول ڈوآٹ اسپرٹ (They will do it spirit) کے ساتھ رہیں، وہ سماج غیر ترقی یافتہ سماج ایسے سماج کے ہر شعبے بگاڑ کا شکار ہو جائیں گے۔ آئی ول ڈوآٹ (I will do it) ذمے دار شخصیت کی علامت ہے اور دے ول ڈوآٹ (They will do it) غیر ذمے دار شخصیت کی علامت۔ سماجی رسپانسبلٹی کا تصور ہر فرد کو ڈیوٹی کانشس (duty-conscious) بناتا ہے۔ میں ہر فرد اس کا گور ممبر (giver member) بن کر رہنے کی کوشش کرتا ہے، نہ کہ صرف ٹیکر ممبر اس کے برعکس، جس سماج میں لوگوں کے اندر رسپانسبلٹی کا احساس نہ ہو، وہاں کا ہر فرد رائٹ کانشس (right-conscious) بن جائے گا۔ ایسے سماج کا ہر فرد، سماج سے اپنے لیے لینا چاہے گا، لیکن خود سماج کو دینے کی اسپرٹ اس کے اندر موجود نہ ہوگی۔
رسپانسبلٹی پر مبنی سماجی اخلاقیات کی معقولیت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ سماج اپنے وسیع تر مفہوم میں، ہر فرد کو بہت زیادہ دے رہا ہے۔ کوئی فرد سماج کو جو کچھ دیتا ہے، وہ اُس سے بہت کم ہے جو اُس کو سماج سے مل رہا ہے۔ کوئی فرد اگر پورے معنوں میں سماج کا گور ممبر بن جائے، تب بھی سماج کے لیے اُس کا عطیہ ایک فی صد سے بھی کم ہوگا، جب کہ سماج نے اس کو جو کچھ دیا ہے، وہ 99 فی صد سے زیادہ ہے۔ اس لیے کسی فرد کے لیے سماجی اخلاقیات میں کوتاہی کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس اصول کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ـــ جو شخص انسان کا معترف نہ ہو، وہ خدا کا معترف بھی نہیں ہو سکتا (من لم يشكر الناس، لم يشكر الله)۔
سوسائٹی صرف اُس قریبی مجموعہ انسانیت کا نام نہیں ہے جہاں ایک فرد پیدا ہوتا ہے، بلکہ سوسائٹی ایک طویل سلسلہ تاریخ کا نام ہے۔ سوسائٹی کا دائرہ، پہلے انسان (آدم) سے لے کر، آج کے انسان تک پھیلا ہوا ہے۔ اس پورے مجموعہ انسانیت نے اپنی لمبی تاریخ کے دوران جو کچھ کیا ہے، اس کو
تہذیب کا ارتقا کہا جاتا ہے۔ تہذیب کے اس ارتقا میں ہر فرد اپنا حصہ پا رہا ہے۔ آج ایک فرد جس مہذب دنیا (civilized world) میں رہ رہا ہے، وہ دنیا ہمیشہ سے موجود نہ تھی۔ وہ پوری انسانیت کی لمبی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
ایک وقت تھا کہ انسان اپنے پیروں پر چلتا تھا، پھر لمبے تجربے کے بعد انسان نے پہیہ بنایا۔ اس طرح، انسان کے لیے پاؤں پر چلنے کے بجائے گاڑی سے چلنے کا دور شروع ہوا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد کشتی بنائی۔ اس طرح دریاؤں اور سمندروں کو بحفاظت پار کرنے کا دور شروع پھر لمبے تجربے کے بعد انسان نے اسٹیم پاور دریافت کیا۔ اس کے بعد ریلوے ٹرین اور اسٹیم شپ کا دور شروع ہوا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد کار بنائی اور انسان تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرنے کے دور میں پہنچا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد ہوائی جہاز بنایا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ انسان فضا میں تیز رفتاری کے ساتھ اُڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچے اور جنگل اور پہاڑ اور سمندر اور بستیاں کوئی بھی چیز اُس کے سفر میں رکاوٹ ثابت نہ ہوں۔
یہ انسانیت کی جدوجہد کے صرف ایک پہلو کی چھوٹی سی مثال ہے۔ اس طرح پورا مجموعہ انسانیت ہزاروں سال تک مسلسل جدوجہد کرتا رہا، یہاں تک کہ لاکھوں کی تعداد میں زندگی کے بے شمار سامان وجود میں آئے، جن کے مجموعے کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے۔ موجودہ تہذیب کو وجود میں لانے میں پورے مجموعہ انسانیت کا حصہ ہے۔ ایک سوئی (needle) سے لے کر ایک ترقی یافتہ شہر تک، ہر چیز میں براہِ راست طور پر پوری انسانیت کی مجموعی جدوجہد اور قربانی شامل ہے۔ یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جو انسانی رسپانسبلٹی کی اخلاقی بنیاد ہے۔ جب ایک فرد اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ آج وہ جس ترقی یافتہ دنیا میں رہ رہا ہے، اُس کو وجود میں لانے کے لیے پوری انسانیت اس میں شریک ہے، اِس معاملے میں وہ پوری انسانیت کا مقروض ہے۔ جب ایک شخص اِس تاریخی حقیقت کا اعتراف کر کے اس کے مطابق، زندگی گزارے تو اسی کا نام سوسائٹی کے حق میں اپنی ذمے داری کو ادا کرنا ہے۔ گویا کہ انسانی رسپانسبلٹی ایک اعتبار سے، پوری نوعِ انسانی (mankind) کے
کنٹری بیوشن (contribution) کا اعتراف ہے، اور دوسرے اعتبار سے، وہ اپنے انفرادی دائرے میں اس کی محدود قیمت ادا کرنا ہے۔
انسانی ذمے داری کی اسی نوعیت کی بنا پر قرآن میں اس کو انسان کی طرف سے انسان کو اس کے حقوق ادا کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها :
God commands you to hand back your trusts to their rightful owners. (4: 58)
اسلام کے اس تصور (concept) کے مطابق، ایک فرد جب انسانی سماج کے حق میں اپنی ذمے داریوں کو ادا کرتا ہے تو وہ دوسروں کو کچھ دیتا نہیں ہے، وہ صرف یہ کرتا ہے کہ دوسروں سے ملے ہوئے میں سے کچھ حصے کو وہ اُن کی طرف لوٹاتا ہے۔ یہ تصور ہر فرد کے اندر اپنی ذمے داری کو ادا کرنے کے لیے طاقت ور محرک (strong incentive) پیدا کرتا ہے، اتنا زیادہ طاقت ور محرک کہ اس سے زیادہ طاقت ور محرک اور کوئی نہیں۔