نیچر کی نسبت سے فرد کی ذمے داری
Al-Risala, June 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی ذمے داری کا دوسرا پہلو وہ ہے جو نیچر سے تعلق رکھتا ہے۔ نیچر سے مراد پورا عالم مادیت (entire physical world) ہے۔ یہ عالم جس کے اندر انسان اپنے آپ کو پاتا ہے، وہ انسان کے لیے اتنا زیادہ موزوں ہے جیسے کہ وہ اُسی کے لیے بنایا گیا ہو۔ اسی لیے ایک سائنس داں نے اس کو کسٹم میڈ ورلڈ (custom-made world) کہا ہے۔ اس دنیا کے اندر انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں نہایت متناسب انداز میں موجود ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: واٰتاکم من كل ما سألتموه :
God has given you all that you asked of Him. (14:34)
انھیں تمام چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر موجودہ دنیا میں انسان کی زندگی ممکن ہی نہ ہوتی۔
ہماری یہ موافق دنیا اتفاقاً اس طرح نہیں بن گئی۔ اُس کو بنانے والے نے اُس کو بلا شبہ شعوری منصوبے کے تحت اس طرح بنایا ہے کہ وہ ہر پہلو سے عین ہماری ضرورتوں کے موافق ہے۔ طرح کی ایک موافق دنیا ہم خود وجود میں نہیں لاسکتے تھے۔ یہ دنیا ہم کو خالق کی طرف سے انتہائی استثنائی طور پر بطور خصوصی عطیہ دی گئی ہے۔ قرآن میں موجودہ دنیا کے اس پہلو کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ تم فطری حالت پر باقی رکھتے ہوئے اس کا استعمال کرو، تم اُس میں ہرگز کوئی بگاڑ پیدا نہ کرو۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے ولا تفسدوا فی الأرض بعد إصلاحها : Do not corrupt the land after it has been set in order (7:85)
قرآن کی اس آیت کے مطابق، ہماری دنیا ایک اصلاح یافتہ دنیا ہے۔ وہ پیشگی طور پر انسان کی ضرورتوں کے مطابق، بنائی گئی ہے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اس دنیا کو اپنی ضرورتوں کے لیے استعمال کرے، لیکن کسی انسان کو یا کسی انسانی مجموعے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دنیا کے فطری نظام کو وہ دنیا کے فطری نظام میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا کرے جس کے بعد وہ اگلی نسلوں کے لیے قابلِ استعمال نہ رہے۔ یہ انسان کی وہ ذمے داری ہے جو نیچر کے اعتبار سے، انسان کے اوپر عائد ہوتی اس سلسلے میں قرآن میں یہ ہدایت دی گئی ہے کلوا واشربوا ولا تسرفوا :
Eat and drink, but do not be wasteful (7:31)
مثلاً انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین میں واقع پانی کے ذخیرے کو استعمال کرے، لیکن اُس کو یہ حق نہیں کہ وہ پانی میں کسی قسم کی آلودگی (pollution) پیدا کر کے اس کو انسان کے لیے ناقابلِ استعمال بنا انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی سطح پر اُگے ہوئے درختوں کو استعمال کرے، لیکن اس کو یہ حق نہیں کہ وہ زمین کے درختوں کو کاٹ کر زمین کی ہریالی (greenery) کو ختم کر دے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی زرخیزی کو زراعت کے لیے استعمال کرے، لیکن اس کو یہ حق نہیں کہ وہ زمین کے غلط استعمال سے اس کو ناقابلِ پیداوار بنادے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی فضا کو استعمال کرے، لیکن انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے کسی غیر فطری عمل کے ذریعے وہ خرابی (evil) پیدا کرے جس کو فضائی کثافت
کہا جاتا ہے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ یہاں اپنی انڈسٹری لگائے، مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ یہاں ایسی انڈسٹری لگائے جو اوزون کے زندگی بخش غلاف (layer) کو ڈیمج کردے، وغیرہ۔ نیچر انسان کے لیے ایک بے حد قیمتی تحفہ ہے جو انسان کو بالکل فری دیا گیا ہے، لیکن انسان اس نیچر کا مالک نہیں، وہ اُس کا امین ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ نیچر کے بارے میں خالق کے منصوبے کو جانے اور وہ اس کو خالق کے منصوبے کے مطابق، استعمال کرے۔
خالق کا وہ منصوبہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ خالق نے نیچر کی تمام چیزوں کو انسانی خواہش کے مطابق (according to human greed) نہیں بنایا، بلکہ خالق نے نیچر کی تمام چیزوں کو انسانی ضرورت کے مطابق (according to human need) بنایا ہے۔ اِسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے — إنّا كلّ شيء خلقناه بقدر :
We have created everything in due measure (54: 49)
یہ تخلیقی منصوبہ انسان کے لیے لازم کرتا ہے کہ وہ ایک طرف، اپنی حقیقی ضرورتوں کا تعین کرے اور دوسری طرف، وہ نیچر کی چیزوں کو اُن کی تخلیقی نوعیت کے اعتبار سے جانے، پھر وہ ان دو طرفہ تقاضوں کے مطابق، اپنی زندگی کی پلاننگ کرے۔ اس کے برعکس، انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی خواہش کی بنیاد پر نیچر کا اندھا دھند استعمال کرے، کیوں کہ ایسا کرنے سے نیچر کا متنا سب نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی خواہشیں (desires) لامحدود ہیں۔ اس کے برعکس، نیچر کی تمام چیزیں محدود ہیں۔ ایسی حالت میں انسان اگر خواہشوں (desires) کی بنیاد پر اپنا پلان بنائے، تو اُس کا پلان خالق کے پلان کے مطابق نہ ہوگا۔ انسان اس قسم کے ٹکراؤ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی مشین دو کاگ (cog) پر چل رہی ہے — ایک، ہیومن کاگ (human cog) اور دوسرا، ڈوائن کاگ (divine cog)۔ ڈوائن کاگ کی اپنی مقرر رفتار انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے کاگ کو بھی اُسی رفتار پر چلائے جو ڈوائن کاگ کی رفتار ہے۔
یہ واضح ہے کہ ڈوائن کاگ طاقت ور (strong) ہے اور ہیومن کاگ کمزور (weak) ۔ اپنے کاگ کی رفتار کو اپنی خواہش کے مطابق ، چلانے لگے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ ڈوائن کاگ تو اپنی جگہ باقی رہے گا، لیکن ہیومن کاگ یقینی طور پر ٹوٹ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی ایسی تباہی سے دوچار ہوگی جس کی تلافی کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔