خلاصۂ کلام
Al-Risala, June 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیومن رسپانسبلٹی کا مطلب ہے— ہیومن ڈیوٹی۔ حضرت مسیح نے کہا تھا:
Render therefore to Caesar the things that are Caesar’s, and to God the things that are God’s. (Luke 20: 25)
یہی بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں کہی ہے— أدّوا إليهم حقهم، وسلوا الله حقكم (صحيح البخاري: رقم الحديث : 7052):
Give to them what is due to them. And ask your dues from God. یہ دونوں اقوال، فرد اور سوسائٹی کے درمیان صحیح تعلق کو بتاتے ہیں۔ فرد اور سوسائٹی کے درمیان صحت مند تعلق اُس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ فرد کے اندر رسپانسبلٹی کی اسپرٹ پوری طرح زندہ ہو۔ جب ایسا ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فرد کا فوکس اپنی ذمے داریوں پر ہوگا۔ فرد یہ چاہے گا کہ سوسائٹی کا جو حق اُس کے اوپر آتا ہے، اس کو وہ پوری طرح ادا کرے۔ جہاں تک فرد کے اپنے حقوق کی بات ہے، وہ کسی مطالبے سے نہیں ملتے، بلکہ وہ خود اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے ملتے ہیں۔ آف رسپانسبلٹی اس بات کی ضامن ہے کہ فرد اور سماج کے درمیان ٹکراؤ کی صورت حال نہ پیدا ہو۔ صحت مند سرگرمیوں کے درمیان دونوں کا ارتقا فطری انداز میں جاری رہے۔ (20 دسمبر 2011) بنگلور میں مولا نا وحیدالدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں : Centre for Peace, Bangalore Tel. 080-22239121, Mob. 09886243194