سوال و جواب
Al-Risala, June 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے آپ کی کتاب ”اسلام دورِ جدید کا خالق“ کا مطالعہ کیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آج جو سائنسی اور ٹیکنیکل ترقی ہو رہی ہے، اس کا آغاز اسلام نے کیا ہے۔ اسلام سے پہلے فطرت کو مقدس سمجھنے کی وجہ سے اس کو تحقیق و ریسرچ کا موضوع نہیں بنایا گیا۔ اسلام نے ساتویں صدی میں آکر اس تقدس کو ختم کیا اور فطرت کی تحقیق و تسخیر کا دروازہ کھولا۔ اس طرح انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ فطرت کی آزادانہ تحقیق کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ لیکن ایک دن میں ماحولیات پر ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس میں ماحولیات کے بگڑنے کی اہم وجہ فطرت کو ریسرچ و تحقیق کا موضوع بنانا بتایا گیا ہے: At present we are not adhering to the old tradition properly. Hence man has become one of the factors for the present day environmental problems. The ancient people respected nature and also understood the value of nature. They worshipped the earth, fire, air, water and sky. (Environmental Education, HS 1st year, TN Textbook corporation, 2009, p. 3)
آپ نے جو بتایا، وہ بالکل حقیقت ہے، اور اس کتاب میں ماحولیاتی مسائل کی جو وجہ بتائی جارہی ہے وہ بھی بظاہر درست معلوم ہوتی ہے۔ براہِ کرم، میرے کنفیوژن کو دور کریں۔ (فرہاد احمد سلفی، بنگلور) یہ صحیح ہے کہ موجودہ زمانے میں ماحولیاتی مسائل (ecological problem) پیدا ہوئے ہیں، مگر ان مسائل کا سبب فطرت کا مطالعہ نہیں ہے، بلکہ وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنزیومرم (consumerism) کہا جاتا ہے۔ اور دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ کنزیومر گڈس (consumer goods) سے مراد اصلاً اشیاء صرف ہیں، لیکن موجودہ زمانے میں نئی ٹکنالوجی کے تحت جو صنعتیں قائم ہوئیں، اُن کی ترقی کے لیے یہ نظریہ وضع کیا گیا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اشیاء صرف استعمال کریں، تاکہ صنعت کو زیادہ سے زیادہ ترقی حاصل ہو: Consumerism: advocacy of a high rate of consumption and spending as a basis for a sound economy.
اشیاء صرف (consumer goods) میں اضافے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر ایک نیا نظام وضع ہوا۔ یہ بینکوں سے اندھا دھند قرض کا نظام تھا۔ لوگوں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ نقد خریداری کا انتظار نہ کریں، بلکہ بینکوں سے سودی قرض لے کر وہ حسب خواہش جو چیز چاہیں، حاصل کریں — اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قدیم زمانے کا مبنی بر ضرورت سماج (need-based society) ختم ہو گیا اور اس کی جگہ مبنی بر حرص سماج (greed-based society) وجود میں آیا۔
مگر یہ سادہ معاملہ نہ تھا۔ اس کے نتیجے میں وہ بھیانک مسئلہ پیدا ہوا جس کو ضرورت سے زیادہ کاربن اخراج (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ جدید صنعتی دور سے پہلے بھی کاربن کا اخراج ہوتا تھا، لیکن وہ فضا کے اندر جذب ہو جاتا تھا اور انسان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتا تھا۔ لیکن جدید صنعتی نظام اور بڑھے ہوئے کنزیومرزم کی بنا پر وہ مصنوعی مسئلہ پیدا ہوا ہے جس کو گرین ہاؤس گیس (greenhouse gas) کہا جاتا ہے، یعنی فضا میں مضر گیس کا نقصان دہ حد تک بڑھ جانا: The problem of the gradual rise in temperature of the earth's atmosphere, caused by an increase of gases, such as carbon dioxide in the air surrounding the earth, which trap the heat of the sun. فطرت کو تحقیق کا موضوع بنانا ایک خالص علمی اور نظری کام تھا۔ یہ کام خواہ کتنا ہی زیادہ کیا جائے، اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، مگر جدید صنعت کے ظہور کے بعد معیارِ زندگی میں مصنوعی اضافہ اور اشیاء صرف کے اندھا دھند استعمال کے نتیجے میں وہ مسائل پیدا ہوئے جن کو ماحولیاتی مسائل کہا جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ فطرت کی تحقیق کو لامحدود طور پر جاری رکھتے ہوئے صنعتی سرگرمیوں پر کنٹرول قائم کیا جائے۔
الرسالة مشن کو سمجھنے کے لیے اردو زبان کی اہمیت کیا ہے، اس کو واضح فرمائیں۔ (عظیم الدین، لکھنؤ) ہمارے دعوتی مشن سے جو لوگ جڑے ہوئے ہیں، اُن لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو
انگریزی کتابوں یا ٹی وی اور نیٹ پر میری تقریروں کے ذریعے ہمارے دعوتی مشن سے متعارف ہوئی مگر میں سمجھتا ہوں کہ الرسالہ مشن کو پوری طرح جاننے کے لیے ماہ نامہ الرسالہ کا مسلسل مطالعہ بہت جو لوگ اردو جانتے ہیں، ان کے لیے ماہ نامہ الرسالہ ایک طاقت ورذہنی غذا کی حیثیت رکھتا ہے، وہ ان کے لیے مسلسل طور پر ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔
افراد کے پاس یہ عذر ہے کہ ہم اردو نہیں جانتے یا اردو کم جانتے ہیں، مگر یہ کوئی عذر نہیں۔ ضرورت شوق کی ہے۔ اگر شوق ہو تو اردو زبان سیکھنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ مثلاً مہاراشٹر یہ (ناندیڑ) کے کشن جیونت راؤ پٹیل کے ایک دوست عثمان چاوش (وفات: 2006) تھے۔ انھوں نے مسٹر کشن پٹیل کو الرسالہ کے کچھ مضامین پڑھ کر سنائے۔ ان مضامین کوسن کر کشن راؤ پٹیل کے اندر اتنا زیادہ شوق پیدا ہوا کہ انھوں نے مسلسل محنت کر کے اردو زبان سیکھ ڈالی۔ اب وہ الرسالہ کے مسلسل قاری ہیں۔ تاریخ میں اس نوعیت کی بہت سی مثالیں ہیں۔ مثلاً مولانا عنایت رسول چریا کوٹی (وفات: 1902) نے بائبل کو عبرانی زبان میں پڑھنے کے لیے عبرانی زبان سیکھی۔ شری آروبندو گھوش (وفات: 1950) نے رابندر ناتھ ٹیگور (وفات: 1941) کی کتاب ’’گیتا نجلی‘‘ کو بنگلہ زبان میں پڑھنے کے لیے بنگلہ زبان سیکھی۔ آج کل لوگ جاب کے لیے کثرت سے انگریزی فرانسیسی اور جرمن پرے لے جائیے، منہ رُہا سُن کر زُبان سیکھ رہے ہیں، وغیرہ۔