This is a spiritual gift for you.
Al-Risala, January 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
ایئر پورٹ کے مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ یہ ایئر انڈیا کا جہاز تھا جو درمیان میں رکے بغیر دہلی سے نیو یارک (امریکا) جاتا ہے۔ جہاز کے اندر میرے ساتھیوں نے اپنا دعوتی مشن جاری رکھا۔ انھوں نے جہاز کے اندر کئی لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔ جہاز کے پائلٹ اور جہاز کے عملہ کو بھی قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ جہاز کے اندر ایک ہندوائر ہاسٹس کو ہمارے ساتھی نے قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ اس نے کہا کہ اس سے پہلے حج کی فلائٹ میں ایک مسلمان نے مجھ کو قرآن کا عربی نسخہ دیا تھا۔ میں بہت چاہتی تھی کہ میں انگریزی زبان میں قرآن کا ترجمہ پڑھوں۔ آج قرآن کا انگریزی ترجمہ پا کر مجھ کو بہت خوشی مذکورہ ایئر ہاسٹس جب قرآن لے کر گئی تو ایک دوسری ایئر ہاسٹس آئی۔ اس نے ہمارے
ساتھی سے کہا کہ مجھے بھی قرآن کی ایک کاپی چاہیے۔ اس نے ہمارے ساتھی کا نام پوچھا۔ ’’رجت ملہوترا‘‘ نام سن کر اس کو تعجب ہوا۔ اس نے مسٹر رجت ملہوترا (Rajat Malhotra) سے کہا کہ آپ کیسے قرآن دے رہے ہیں۔ مسٹر رجت نے کہا کہ میں سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کا ایک سی پی ایس کے تحت ہم، لوگوں کوپیں اور اسپرچولٹی کا پیغام پہنچارہے ہیں۔ ائیر انڈیا کی فلائٹ دہلی سے نیویارک کے لیے براہ راست فلائٹ ہے۔ دہلی سے نیویارک کا فاصلہ تقریباً 12 ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ 15 گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ کچھ لوگوں نے دہلی میں کہا تھا کہ یہ آپ کے لیے ایک ٹائرسَم (tiresome) سفر ہوگا۔ مگر جہاز کے اندر نیند آگئی۔ اس کی وجہ سے وقت بہ آسانی نیند انسان کے لیے ایک عجیب نعمت ہے، سفر میں بھی اور حضر میں بھی۔ قرآن میں اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: و جعلنا نومکم سباتاً (78: 9) یعنی ہم نے نیند کو بنایا تمھاری تکان رفع کرنے کے لیے۔
راستے میں جہاز کے اندر مختلف اخبارات برائے مطالعہ موجود تھے۔ دہلی سے چھپنے والے ایک اخبار میں یہ خبر تھی کہ ہماچل پردیش کے ایک اہم علاقے میں ایک وی آئی پی (VIP) کی بیٹی کو گھر بنانے کے لیے زمین دی گئی۔ چوں کہ عام قانون کے تحت یہ زمین نہیں دی جاسکتی تھی، اس لیے قانون میں تبدیلی کرکے ان کو یہ زمین دی گئی۔
یہ عام بات ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کی فرمائش کو رد نہیں کرپاتے۔ ماں باپ اسی کو محبت سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کو فیور (favour) دیتے رہیں۔ مگر یہ ایک تباہ کن مزاج ہے۔ بچوں کے بگاڑنے کا سب سے بڑا سبب بلاشبہ اسی قسم کی نام نہاد پدرانہ شفقت ہے۔ انڈیا کے بڑھے ہوئے کرپشن کا سب سے بڑا سبب یہی اولاد نوازی ہے۔
جہاز فضا میں بلند ہوکر 35 ہزار فٹ کی بلندی پر تیزی سے پرواز کرنے لگا۔ کوئی زمینی سواری اس طرح تیزی سے نہیں چل سکتی، کیوں کہ بار بار راستے میں مختلف قسم کی رکاوٹیں آتی ہیں جو اس کے سفر کو کھنڈت کرتی رہتی ہیں۔ لیکن ہوائی جہاز کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ تمام رکاوٹوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔
وہ اونچی بلڈنگوں اور پہاڑوں سے بھی اوپر چلا جاتا ہے۔ اس لیے جہاز کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ مسلسل اپنی پرواز کو جاری رکھ سکے۔ میں نے سوچا کہ یہی انسان کا معاملہ بھی ہے۔ انسان بھی اپنے ذہنی سفر (intellectual journey) کو اُسی وقت کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے، جب کہ وہ زندگی میں پیش آنے والے مختلف مسائل میں نہ الجھے، وہ تمام مسائل سے اوپر اٹھ جائے۔ انسان اپنے ذہنی ارتقا کے سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے۔
اُس وقت فضا میں بادل تھے۔ جہاز بادلوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ ہوائی جہاز کے اسٹاف کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہمارا جہاز جلد ہی نیویارک کے ائیر پورٹ پر اترنے والا جہاز کا ایک ائیرپورٹ سے ٹیک آف کرکے ہوا میں اُڑنا اور پھر دوسرے ائیرپورٹ پر لینڈ کرنا، ٹکنالوجی کا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر مجھ کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ دراصل فرشتے تھے جنھوں نے جہاز کو دہلی سے اُڑایا اور آخر کار اس کو نیویارک کے ائیرپورٹ پر اتار دیا۔
نیویارک کا ائیرپورٹ بہت بڑا ائیرپورٹ ہے اس کے اندر مختلف مقامات پر اس طرح کے جملے لکھے ہوئے تھے۔ مثلاً ایک جملہ یہ تھا— گلوبل وارمنگ سے لڑنے کے لیے ساتھ دیجیے: Let's join hands to fight global warming. آج کل ائیرپورٹ پر رینڈم چیکنگ ہوتی ہے۔ اس کے تحت ائیر پورٹ پر ہمارے دو ساتھیوں کو روک دیا گیا۔ کچھ دیر تک پوچھ گچھ کرنے کے بعد آخر کار ان کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی قسم کا ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا۔ میرے سر پر پگڑی تھی۔ چیکنگ کرنے والے آدمی نے میری پگڑی کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے فوراً اپنی پگڑی اتار دی۔ اس نے مسکرا کر کہا—اوکے۔ اسی طرح چیک کرنے والے آدمی نے میرا جوتا اتروانا چاہا۔ میں نے فوراً اپنا جوتا اتار دیا۔ مسکراتے ہوئے کہا، آگے جائیے۔
اس طرح کی چیکنگ پر اکثر لوگ غصہ ہوجاتے ہیں۔ ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ ہم تو کوئی مجرم نہیں ہیں، پھر ہماری چیکنگ کیوں۔ مگر یہ سوچ درست نہیں۔ چیک کرنے والے کو اگر پیشگی طور پر
یہ معلوم ہو کہ مجرم کون ہے تو وہ اس کی چیکنگ کرنے کے بجائے اس کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی چیکنگ ہمیشہ عمومی اصول کی بنا پر ہوتی ہے، وہ شخصی علم کی بنا پر اس لیے اس طرح کے واقعے پر مشتمل ہونا درست نہیں۔
16 جون 2011 کو ہم لوگ ائر پورٹ سے باہر آئے۔ یہاں دو صاحبان ہمارا انتظار کر رہے خواجہ کلیم الدین (ایم ایس سی)، اور ڈاکٹر وقار عالم ۔ دونوں صاحبان ہمارے دعوتی مشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر وقار عالم نیویارک میں رہتے ہیں۔ ائر پورٹ سے ہم لوگ دو گاڑیوں پر روانہ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہم لوگ ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پہنچے۔ یہ ایک پر فضا مقام تھا۔ لوگوں نے ناشتہ کیا۔ اس کے بعد اہل خانہ اور اپنے ساتھیوں کی مختصر نشست میں کچھ باتیں ہوئیں۔ ڈاکٹر وقار عالم کی اہلیہ کا نام نصرت فاطمہ ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو امریکا میں دوسروں کی طرح تنہائی (loneliness) کا احساس ہوتا ہوگا۔ میں نے کہا کہ آپ اگر تسبیح فاطمہ کی اسپرٹ کو اپنے اندر شامل کر لیں تو آپ کا گھر فرشتوں سے بھرارہے گا۔ میں نے کہا کہ تسبیح فاطمہ کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ تسبیح فاطمہ کا مطلب ہے — فرشتوں کو اپنا مددگار بنانا۔
ڈاکٹر وقار عالم کی لڑکی سائکالوجی کا کورس کر رہی ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ امریکا میں اس کورس کے لئے جاب کے مواقع کیسے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت زیادہ ۔ اُن سے بات کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کہ امریکا میں نفسیاتی علاج کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب مادی دنیا سے مایوسی ہے۔ پہلے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ مادی ترقی ان کو سکون دے گی، لیکن مادی ترقی کے با وجود ان کو سکون نہیں ملا۔ اس صورت حال نے امریکا میں نفسیاتی علاج کی ضرورت بہت زیادہ بڑھادی ہے۔ نیویارک میں مختصر قیام کے بعد ہمارا قافلہ فلیڈ یلفیا (Philadelphia) کے لیے روانہ ہوا۔ پورا سفر اس طرح گزرا جیسے کہ ہم لوگ سر سبز وادی (green valley) کے درمیان سے گزر رہے یہ 6 لین کی نہایت عمدہ سڑک تھی ۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کی گھنی قطاریں ہوائی کثافت (air pollution) بہت کم تھی۔
فطرت کے ان مناظر کو دیکھ کر میں نے کہا کہ مومن کے لیے یہ مناظر ایک کائناتی سامانِ معرفت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر عارفانہ ذہن پیدا ہو چکا ہو تو اس کے لیے یہ پورا سفر ایک ربانی تجربہ بن جائے گا۔ وہ تخلیق کے مناظر میں خالق کی موجودگی (presence) کا تجربہ کرے گا۔ لیے یہ پورا سفر معرفت بن جائے گا۔
تقریباً 2 گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد ہم لوگ فلیڈ یلفیا میں خواجہ کلیم الدین کے مکان پر اُن کا یہ مکان شہر سے دور ایک دیہی علاقہ (countryside) میں واقع ہے جس کا نام بن سلیم امریکا میں دیہی علاقے نہایت صاف ستھرے اور پرفضا ہوتے ہیں۔ طور پر شہروں میں بزنس یا جاب کرتے ہیں اور دیہی علاقے میں گھر لے کر یہاں رہنا پسند کرتے یہاں کے دیہی علاقوں میں وہ تمام سہولتیں پوری طرح موجود ہوتی ہیں جو بڑے بڑے شہروں میں پائی جاتی ہیں۔
اس سفر کا پہلا اجتماع 16 جون 2011 کی شام کو خواجہ کلیم الدین صاحب کے مکان پر ہوا۔ ایک پرفضا اور وسیع مکان تھا۔ یہاں الرسالہ مشن سے وابستہ افراد، عورت اور مرد، دور دور سے آئے۔ اس موقع پر میں نے دعوت کے موضوع پر آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کو سچا داعی بننا ہے تو اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ آپ اپنے دل کو مدعو کی نفرت سے پاک کریں۔ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل ماحول کے بغیر دعوت کا کام کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں، داعی کو یک طرفہ صبر و اعراض کی تعلیم دی گئی ہے۔ تقریر کے بعد حاضرین کو بولنے کا موقع دیا گیا۔ ہر ایک نے دعوتی مشن کی نسبت سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
میں نے کہا کہ امریکا میں دعوت کے کام کو منظم طور پر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ لوگ اپنے درمیان ایک شخص کو امیر مقرر کریں۔ مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا کے دعوتی حلقے کے امیر ہوں گے۔ مزید یہ طے ہوا کہ دعوتی مشن سے وابستہ افراد کا ماہانہ اجتماع کیا یہ اجتماع اگر لوگوں کے جمع ہونے کی صورت میں نہ ہو سکے تو الیکٹرانک اجتماع کیا جائے، یعنی
ٹیلی فونی رابطے کے ذریعہ ، جس کو عام طور پر ٹیلی فون کانفرنسنگ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر میں نے کہا کہ اجتماعی کوشش کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا، اور اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی اتحاد ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ آپ ہر حال میں اپنے ساتھیوں کے درمیان اتحاد کو قائم رکھیں، کسی بھی عذر کی بنا پر اتحاد کو توڑنا آپ کے لیے جائز نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ میں سے ہر شخص اپنے اندر ’’ رائے کی قربانی ‘‘ کا حوصلہ پیدا کرے۔ رائے کی قربانی کے بغیر اتحاد کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ باہمی اتحاد کے ساتھ دعوت کا کام کریں۔ اگر کسی معاملے میں ساتھیوں کی رائے مختلف ہو تو آپ لوگ باہم مشورہ اور کھلا ڈسکشن کریں۔ اگر اس ڈسکشن سے اتفاق رائے ہو جائے تو بہتر ہے۔ اگر مشورہ اور ڈسکشن کے باوجود کسی رائے پر تمام ساتھیوں کا اتفاق نہ ہو سکے تو اُس وقت اپنے ذمے دار کے مشورے پر عمل کریں۔ آپ کا ذمے دار جو رائے دے، اُس پر سب لوگ متفق ہو کر باہمی تعاون سے کام کریں۔ اجتماعی زندگی میں اس کے سوا اتحاد کا اور کوئی فارمولا نہیں۔
16 جون 2011 کو فجر کی نماز خواجہ کلیم الدین صاحب کی رہائش گاہ پر ادا کی گئی۔ میرے ساتھی اور کلیم الدین صاحب کے اہل خانہ شریک ہوئے۔ نماز کے بعد میں نے کچھ تربیتی باتیں مثلاً یہ کہ انسان (آدم ) کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں بسایا، لیکن شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے بعد اس کو موجودہ زمین پر بھیج دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو پہلے یہ موقع دیا گیا تھا کہ اس کی نسل عمومی طور پر جنت میں داخلہ پائے، لیکن آدم کی روش سے یہ بات سامنے آئی کہ جنت انسان کو عمومی بنیاد پر نہیں، بلکہ انتخابی بنیاد پر دی جانی چاہئے۔ اس لیے انسان کو موجودہ زمین پر اب وہی انسان جنت میں جائے گا جو اپنے عمل سے اس کا استحقاق ثابت کرے۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر ایک آئیڈیل دنیا کا اس آئیڈیل دنیا کا دوسرا نام جنت (Paradise) ہے۔ انسان کی اس نفسیات میں ایک اہم سراغ (clue) موجود ہے، اور وہ جنت کا وجود ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ
طالب کا وجود مطلوب کی موجودگی کا ایک فطری ثبوت ہے۔
یہاں کے زمانہ قیام میں برابر لوگوں سے ملاقاتیں اور گفتگوئیں ہوتی رہیں۔ اس طرح مختلف قسم کے تجربات پیش آئے۔ مثلاً ایک ملاقات میں ایک صاحب نے کہا کہ میں ایک سنی فیملی سے تعلق رکھتا ہوں ۔ میری بیوی شیعہ خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ بعد کو ہم دونوں نے آپ کا لٹریچر پڑھا۔ دونوں نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی ۔ اب ہم صرف مسلمان ہیں۔
ایک صاحب نے کہا آپ بڑی عمر کے لوگوں کی اصلاح کا کام کر رہے ہیں۔ زیادہ مفید طریقہ یہ ہے کہ آپ اسکول کھول لیں اور ابتدائی عمر سے اصلاح کا کام شروع کریں۔ انھوں نے کہا: Catch them at tender age. میں نے کہا کہ یہ نظریہ عملاً غلط ثابت ہو چکا ہے۔ بہت سے لوگوں نے یہ کام کیا اور بچوں کو لے کر انھیں اسکولوں میں پڑھایا، لیکن اس کا مطلوب نتیجہ نہ نکل سکا ۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ آپ نتیجہ (result) کی بنیاد پر اپنی رائے بنائیں، نہ کہ محض تصوراتی نظریے کی بنیاد پر۔ میں نے کہا کہ اصل کام ذہن کی تشکیل (intellectual engineering) ہے، جو کہ صرف پختگی (maturity) کی عمر میں کی نا پختگی (immaturity) کی عمر میں ذہن کی مطلوب تشکیل ممکن نہیں۔ مسٹر ندیم کاظمی امریکا کے ایک معروف شخص ہیں جو عرصے سے ملی ورک میں مشغول ہیں۔ گفتگو کے دوران دعوتی کام کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ فارمل ایجوکیشن (formal education) صرف پروفیشن کی نسبت سے ہے۔ جہاں تک شخصیت سازی کا تعلق ہے، اس کے لیے صرف انفارمل ایجوکیشن (informal education) ہی مفید ہوسکتی ہے۔ ان کو ہمارے یہاں کا مطبوعہ انگریزی لٹریچر دیا گیا۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ قرآن کا ڈسٹری بیوشن کر رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک اچھا کام ہے، لیکن یہ ڈسٹری بیوشن دعوت کے نام پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مذہبی ہم آہنگی (interfaith harmony) کے نام پر ہونا چاہیے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ ہم قرآن کا ڈسٹری بیوشن
دعوت کے عنوان سے کر رہے ہیں، آپ اس کام کو مذہبی ہم آہنگی کے نام سے کرنا شروع کر دیجیے۔ آپ تجویز مت پیش کیجیے، بلکہ عملاً خود اس کام کو شروع کر دیجیے۔
16 جون 2011 کی شام کو ڈیوڈ شینک (Rev. David Shenk) اپنی اہلیہ کے ساتھ ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مسلم۔ کرسچن ڈائیلاگ کے موضوع پر ایک کتاب لکھ رہے اپنی اس کتاب میں وہ 52 ایسے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں، جو کہ عیسائیت کے بارے میں لوگ عام طور پر پوچھتے ہیں۔
میں نے مسٹر ڈیوڈ سے ایک سوال پوچھا۔ میں نے کہا کہ اتنا زیادہ کوشش کے باوجود کرسچن ڈائیلاگ نا کام کیوں ہے۔ پھر میں نے کہا کہ میں ایسے کئی ڈائیلاگ میں شریک ہوا میں نے پایا ہے کہ اکثر لوگ ڈیبیٹ (debate) اور ڈائیلاگ میں فرق نہیں کرتے۔ وہ ڈائیلاگ کے نام پر سیمینار کرتے ہیں اور پھر وہاں ڈیبیٹ کرنے لگتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ڈائیلاگ کا مقصد کا من گراؤنڈ تلاش کرنا ہوتا ہے، جب کہ ڈیبیٹ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریق ثانی سے مقابلہ میں اپنی برتری کو ثابت کیا جائے۔ سب سے پہلے اس سوچ کو بدلنا چاہیے ۔ اس کے بعد ہی کوئی ڈائیلاگ مفید ہو سکتا ہے۔
مسٹر ڈیوڈ نے بتایا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ ریورنڈ (Reverend) کا ٹائٹل استعمال نہیں انھوں نے کہا کہ خدا کی نظر میں سب برابر ہیں۔ جب ہم خدا کے یہاں پہنچیں گے تو وہاں ہم ’’ریورنڈ‘‘ نہیں کہے جائیں گے۔
انھوں نے اپنی نئی کتاب (Time in Mogadishu) دی۔ جاتے وقت انھوں نے کہا: You are a group of scholars. 16 جون 2011 کی شام کو مغرب کی نماز میں سورہ الفیل اور سورہ قریش پڑھی گئی۔ بعد دونوں سورتوں کی روشنی میں، میں نے بتایا کہ ان سورتوں میں داعی گروہ کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے، وہ یہ کہ خدا نہ صرف داعی گروہ کی مدد کرے گا، بلکہ وہ اس گروہ کی بھی مدد کرے گا جو ابھی صرف
پوتنشیل داعی گروہ کی حیثیت رکھتا ہو، حتیٰ کہ اگر اسباب کے اعتبار سے، اس کی حفاظت کے مواقع نہ ہوں تو خدا ایسے گروہ کو اپنی خصوصی نصرت کے ذریعے بچائے گا، جیسا کہ بنواسماعیل، جو کہ پوتنشیل داعی گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، ان کو واقعۂ فیل کے وقت خدا کی خصوصی نصرت کے ذریعے بچایا گیا۔ ایک اسلام پسند مسلمان نے گفتگو کے دوران کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات (complete code of life) ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی یہ تعبیر درست نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل اسپرٹ ہے جو ہمارے پورے وجود کو اللہ کے رنگ میں رنگ دیتی ہے۔ اس کے بعد میں نے مذکورہ مسلمان کو صحابی رسول صعصعہ بن معاویہ کا واقعہ سنایا۔ روایت کے مطابق، صعصعہ بن معاویہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے ان کو سورہ الزلزال سنائی، یہاں تک کہ آپ تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے: فمن يعمل مثقال ذرة خيراً يره، ومن يعمل مثقال ذرّة شراً يره (8-7: 99)۔ صعصعہ بن معاویہ نے اس آیت کو سن کر کہا: حسبي أن لا أسمع غيرها (اس کے بعد میں کچھ اور نہ سنوں، تب بھی یہ میرے لیے کافی ہے)۔ مذکورہ آیت صرف محاسبۂ آخرت کی آیت تھی، مگر صحابی رسول کو اسی آیت میں پورا اسلام حقیقت یہ ہے کہ مکمل آئیڈيالوجی کا نام مکمل اسلام ہے، نہ کہ مکمل کو ڈ کا۔ اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات کا نام دینا، اسلام کو ایک مینول فارم (manual form) کی حیثیت دینا ہے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر پر روزانہ تربیتی مجلسیں ہوتی تھیں۔ اوقات میں، میں کسی تربیتی نکتے پر نصیحت کے انداز میں گفتگو کرتا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ہمارے ساتھیوں میں سے بعض افراد شاپنگ یا سائٹ سیئنگ (sight seeing) کے لیے شہر چلے گئے، اور وہ اس تربیتی مجلس میں شریک نہ ہو سکے۔ وہ جب واپس آئے تو میں نے اُن سے کہا کہ آپ لوگ اِس کو معمولی بات سمجھ رہے ہیں، مگر یہ ایک نہایت سنگین بات ہے۔ جو لوگ معمولی عذر (excuses) کی بنا پر اس مجلس میں شریک نہیں ہوئے، وہ فرشتوں کی صحبت سے محروم ہو گئے۔ فرشتوں کی صحبت کوئی سادہ فرشتوں کی صحبت سے انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی ہے۔ یہی خدائی انعام ہے۔
یہ خدائی انعام اسی دنیا سے شروع ہو جاتا ہے اور وہ آخرت تک چلا جاتا ہے۔
ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ شہید جب آخرت میں اپنا اجر دیکھے گا تو وہ یہ تمنا کرے گا کہ کاش، میں 100 بار شہید ہوتا۔ میں نے کہا کہ یہ بات صرف معروف شہادت کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ دعوت دین کی راہ میں دی جانے والی ہر قربانی پر صادق آتی ہے۔ ایک گفتگو کے دوران میں نے کچھ مسلمانوں سے کہا کہ اہل ایمان کے لیے دہرا اجر کی بشارت دی گئی ہے، مگر یہ کوئی فضیلت نہیں۔ یہ اہل ایمان کی دہری ذمے داری کے سبب سے ہے۔ ہونے کی نسبت سے، اور دوسری، امت محمدی کا فرد ہونے کی نسبت سے۔ پیغمبر آخرالزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بعد کی انسانی نسلوں تک خدا کا پیغام پہنچائے۔ نبی کا آنا اگر چہ اب ختم ہوگیا ہے، مگر نبی کا مشن ختم نہیں ہوا۔ اگر ایک مسلمان نم، روزہ نہ کرے تو اس کا مسلمان ہونا مشتبہ ہے۔ اسی طرح اگر وہ دعوت کا کام نہ کرے تو اس کا امت محمدی میں شامل ہونا مشتبہ قرار پائے گا۔ میں نے کہا کہ قیامت میں اگر امت محمدی کے گروپ میں شامل نہ کیا گیا تو اُس وقت ہمارا حال کیا ہوگا۔ روایات میں آیا ہے کہ کچھ لوگوں کو فرشتے پکڑ کر جہنم کی طرف لے جارہے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو اِس حال میں دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ کہیں گے کہ نہیں، اِن لوگوں نے آپ کے بعد آپ کے دین کو چھوڑ دیا تھا۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ انگریزی کے علاوہ، مقامی زبانوں میں کیا کام کر رہے ہیں۔ نے کہا کہ موجودہ زمانے میں مقامی زبانوں کے لوگ بھی زیادہ تر مقامی زبانوں کے علاوہ، انگریزی زبان میں پڑھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں عام طور پر تعلیم یافتہ طبقے کے مطالعے کی زبان انگریزی یہی تعلیم یافتہ طبقہ ملاء قوم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس لیے ہم نے خاص طور پر انگریزی زبان کو اپنی دعوت کی توسیع واشاعت کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہم یہ پسند کرتے ہیں کہ سی پی ایس انٹرنیشنل سے وابستہ افراد از زیادہ سے زیادہ انگریزی زبان ہی میں کام کریں: