America is at war with Islam
Al-Risala, January 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
عجیب بات ہے کہ القاعدہ کا یہ نظریہ سارے مسلمانوں میں پھیل گیا۔ تقریباً ہر مسلمان امریکا سے نفرت کرنے لگا۔ عرب کے لوگ کہنے لگے کہ: أمريكا عدو الإسلام رقم واحد۔ مگر کسی نے حقائق کی روشنی میں اس کا تجزیہ نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ڈائرکٹ یا انڈائرکٹ طور پر امریکا کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا جو کام ہو رہا ہے، وہ تمام مسلم ملکوں سے بھی زیادہ ہے۔ بات ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ انسان بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار ہوا ہے۔ اس کا پہلا واقعہ آدم اور ابلیس کی صورت میں ہوا۔ ابلیس نے جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعہ آدمی کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ تم کو جنت کی اصل نعمت دی ہی نہیں گئی۔ آدم اس سے متاثر ہوئے اور انھوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا۔ کو جنت میں 99 فی صد سے زیادہ نعمتیں ملی ہوئی تھیں۔ شجر ممنوعہ کی حیثیت ایک فی صد سے بھی کم تھی۔ مگر جھوٹے پروپیگنڈے کے نتیجے میں آدم 99 فی صد سے زیادہ کو بھول گئے اور ایک فی صد سے کم پر
ان کا دھیان چلا گیا۔ شیطان کا یہ فتنہ آج بھی تمام دنیا میں جاری ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسیحی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا ایک پمفلٹ دیا۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا: Have You Been Rescued By the Lifeguard of the Universe? اس پمفلٹ کے صفحہ 13 پر بتایا گیا تھا کہ مسیحی عقیدہ کی حیثیت لائف گارڈ (lifeguard) کی زندگی میں جب بحران آتا ہے تو اس کے ذریعہ آپ نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ جس طرح پانی کے طوفان میں لائف گارڈ آپ کو بچا لیتا ہے، اسی طرح مسیحی عقیدہ، آخرت میں آپ کے لیے لائف گارڈ کا کام دے گا، وہ آپ کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائے گا۔
مسیحی حضرات کے یہاں حضرت مسیح کا تصور مُنَجِّی کا تصور ہے، یعنی نجات دینے والا۔ نظریہ کو بتاتے ہوئے پمفلٹ کے صفحہ 9 پر یہ الفاظ درج ہیں:
When I have leaks in my plumbing, I need a plumber. When electrical things quit, I need an electrician. When my marriage doesn't work, I need a counselor. When the car breaks down, I need a mechanic. When finances fail, I need an advisor. When I am sick, I need a doctor. When I sink, I need a savior. یہ پورا استدلال تمثیل پر قائم ہے۔ تمثیل کے ذریعہ استدلال قدیم زمانہ میں عام تھا۔ خاص طور پر تمام مذاہب تمثیلی استدلال پر قائم تھے۔ سائنس کے ذریعہ جو فکری انقلاب آیا، اس نے تمثیلی استدلال کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں کہا جاتا ہے کہ: Analogy is the weakest form of argument. موجودہ زمانہ میں علمی شعبوں میں تمثیلی استدلال کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مگر مذہب کے دائرہ میں تمثیلی استدلال کا طریقہ بدستور رائج ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ صرف ”شر دھالو‘‘ قسم کے لوگ مذہب کے دائرہ میں آتے ہیں، ذہین اور تعلیم یافتہ افراد مذہب میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جدید انسان کو مذہب کے دائرہ میں لانے کے لیے مبنی بر عقل مذہب کی ضرورت ہے۔ مبنی بر تمثیل مذہب اس زمانہ کے انسان کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
فلیڈیلفیا میں ہماری قیام گاہ جس روڈ پر تھی، اس کے سامنے سڑک کی دوسری طرف ایک وسیع یہ کمپلیکس خصوصی طور پر سینئر سٹی زن کے لیے مخصوص تھا۔ اس کے سامنے وسیع لان تھا۔ اس لان میں فوارہ تھا اور کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ ہمارے ایک ساتھی ٹہلتے ہوئے وہاں تک پہنچ گئے اور لان کے کنارے واک کرنے لگے۔ کچھ دیر کے بعد اندر سے ایک آدمی آیا اور اس نے نرم لہجے میں کہا: You know, this is private property. اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ جگہ صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جو یہاں رہتے ہیں، باہر والوں کے امریکی معاشرہ بہت زیادہ رائٹ کانشس (right-conscious) معاشرہ ہے۔ یہاں حقوقِ انسانی کا جو تصور ہے، اس میں کسی کے پرائیویٹ دائرہ میں داخل ہونا جرم کی حیثیت رکھتا چناں چہ کمپلیکس کے بیرونی حصے میں اس مضمون کے بورڈ جگہ جگہ لگے ہوئے تھے : Trespassers will be prosecuted. پرائیویسی (privacy) کا یہ اصول پُر عافیت زندگی کے لیے بہت اچھا ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس میں انٹریکشن (interaction) کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور انٹریکشن ذہنی ارتقا کے لیے بہت ضروری ہے۔
18 جون 2011 کو فلیڈیلفیا کے سینٹ پال چرچ میں جو پروگرام ہوا تھا، اس میں مسٹر لاری سنائڈر (Larry Snider) بھی موجود تھے۔ انھوں نے سوال وجواب میں حصہ لیا تھا اور میری تقریر پر پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد 23 جون 2011 کی شام کو وہ اپنی اہلیہ ڈانا (Donna) کے ساتھ میری قیام گاہ پر ملاقات کے لیے آئے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ پھر ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں برائے مطالعہ دی گئیں۔ اس کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا۔ ہم لوگوں سے ملاقات کر کے مسٹر لاری سنائڈر بہت متاثر ہوئے۔ چناں چہ بعد کو انھوں نے فلیڈیلفیا کے ایک مقامی نیوز پیپر (بکس کاؤنٹی ٹائمز) میں ’’اسلام اور پیں‘‘ کے موضوع پر ایک مضمون شائع کیا۔ مسٹر لاری سنائڈر کا یہ مضمون اگلے صفحات میں نقل کیا جاتا ہے۔