Al-Risala · July 2012

تاریخ کی بامعنی تعبیر

Al-Risala, July 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بڑی انڈسٹری قائم کی جائے تو بظاہر اُس میں بہت سے اجزا اور بہت سی سرگرمیاں دکھائی دیں گی، لیکن انڈسٹری کا مقصود اصلی صرف ایک ہوگا، اور وہ ہے___ کوئی خاص پروڈکٹ (product) نکالنا، یہی پروڈکٹ انڈسٹری کا حقیقی جُز ہوگا اور بقیہ تمام چیزیں انڈسٹری کے اضافی اجزا قرار پائیں یہی وہ واحد اصول ہے جس پر انڈسٹری کی صحت کارکردگی کو جانچا جائے گا۔ یہی معاملہ انسانی تاریخ کا ہے۔ انسانی تاریخ کے بظاہر بہت سے اجزا ہیں۔ اس میں بظاہر بہت سی سرگرمیاں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، لیکن تاریخ کی توجیہہ کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ تاریخ کے معاملے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے اور خالق کے منصوبے کے مطابق، اس عظیم کارخانہ تاریخ سے کون سا پروڈکٹ نکالنا مقصود ہے۔ اس کے سوا، کوئی دوسرا نقطہ نظر تاریخ کی درست توجیہہ میں کارآمد نہیں ہو سکتا۔

قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کی مختلف سرگرمیوں کے دوران خالق کو جو پروڈکٹ وجود میں لانا مقصود ہے، وہ صرف ایک ہے۔ اس پروڈکٹ کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے، یعنی ایک فرد کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر۔ یہی ربانی افراد خدا کے منصوبہ تخلیق کی اصل غایت (raison d'être) ہیں۔ جب تک یہ ربانی افراد بنتے رہیں گے، اُس وقت تک تاریخ کے ہنگامے جاری رہیں گے، اور جب اس قسم کے افراد پیدا ہونا بند ہو جائیں تو اس کے بعد وہ وقت آجائے گا، جب کہ تاریخ کے موجودہ دور کو ختم کر کے اس کے دوسرے دور کا آغاز کر دیا جائے۔ خالق کے منصوبے کے مطابق، انسانی تاریخ کو عادلانہ اجتماعی نظام (just social system) کی اصطلاح میں جانچنا درست نہیں۔ خالق کا منصوبہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں عادلانہ نظام قائم ہو، بلکہ خالق کا منصوبہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی تجربہ گاہ میں عادل افراد پیدا ہوں اور پھر ان عادل افراد کو منتخب کر کے انھیں یہ موقع دیا جائے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ابدی طور پر رہ سکیں۔ تاریخ کی بامعنی تعبیر (meaningful interpretation of history) صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ مذکورہ اصول کی روشنی میں تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ کوئی دوسرا اصول، تاریخ کی معنویت (meaning) کو واضح کرنے کے لیے کارآمد نہیں۔

Printed page