Al-Risala · July 2012

افراد، نہ کہ مجموعہ

Al-Risala, July 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کی صحیح تعبیر صرف وہ ہے جو خالق کے تخلیقی پلان کی روشنی میں کی تعبیر تاریخ کے اس موضوع پر، قرآن کو ایک مستند ماخذ کا درجہ حاصل ہے۔ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا کے منصوبہ تخلیق کے مطابق، تاریخ کی تعبیر کیا ہونا چاہئے۔ پچھلے ادوار میں ہزاروں مورخین پیدا ہوئے، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان تمام مورخین کی تیار کردہ کتابیں صرف تاریخی واقعات کا دفتر (chronicles) ہیں، وہ انسانی تاریخ کی معنویت کو واضح نہیں کرتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کتب تاریخ کی روشنی میں تاریخ صرف بے معنی واقعات کا ایک جنگل نظر آتی ہے۔ اِسی حقیقت کو انگریز مورخ ایڈورڈ گبن (وفات: 1794) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— انسانیت کی تاریخ،

جرائم، حماقت اور بدقسمتی کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے:

History, which is, indeed, little more than the register of crimes, follies and misfortunes of mankind. تعبیر تاریخ کے اعتبار سے، سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تمام مورخین تاریخ کو مجموعہ کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور وہ مجموعہ کے اعتبار سے، اس کے حسن و قبح کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مگر خدائی تخلیق کے مطابق، تعبیر تاریخ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مجموعہ انسانیت کو دیکھ کر تاریخ کی تعبیر نہ کی جائے، بلکہ افراد انسانی کو دیکھ کر اس کی تعبیر کی جائے۔ مجموعہ کے اعتبار سے دیکھنے کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ تاریخ کا کوئی عہد عہد زریں (golden age) نظر نہیں آتا۔ لیکن اگر افراد کے اعتبار سے، تاریخ کو دیکھا جائے تو ہر عہد، زریں افراد (golden individuals) کا عہد نظر آئے گا۔ معیاری افراد کا انتخاب اصل یہ ہے کہ خالق نے موجودہ دنیا کو اس لیے نہیں بنایا کہ یہاں مجموعہ کی سطح پر معیاری نظام (ideal system) بنایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے، وہ چاہے مصلح بن کر رہے یا مفسد بن کر رہے۔ اس لیے یہاں مجموعہ کی سطح پر کبھی معیاری نظام نہیں بن سکتا۔ معیاری نظام کا مقام صرف جنت ہے اور وہ جنت ہی میں بنے گا۔ موجودہ دنیا دراصل معیاری افراد کا انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ نسل سے معیاری افراد کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ مثلاً آدم کی پہلی نسل میں قابیل، قابل رد تھا اور ہابیل، یہی معاملہ پوری تاریخ میں جاری ہے۔ ہر دور میں اور ہر نسل میں خدا معیاری افراد کو منتخب کر رہا ہے اور غیر معیاری افراد کو رد کر رہا ہے۔ رد و قبول کے اسی معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ثلّة من الأولين وثلة من الآخرين (40-39 :56) یعنی اگلوں میں سے ایک بڑا گروہ اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔

قابل قبول اور قابلِ رد انسانوں کی یہ مطلوب فہرست جب مکمل ہو جائے گی تو اس کے بعد

خالقِ کائنات موجودہ دنیا کو ختم کر کے ایک اور دنیا بنائے گا، جہاں وہ معیاری دنیا ہوگی جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ قابلِ قبول افراد اس جنت میں بسا دیے جائیں گے، جہاں وہ ابد تک خوف و حزن سے پاک زندگی گزاریں گے۔ اور ناقابلِ قبول افراد کو رد کر کے کائناتیکوڑے خانے میں ڈال دیا جائے گا، جہاں وہ ابد تک حسرت کی زندگی گزاریں گے۔

Printed page