معیارِ تاریخ
Al-Risala, July 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی تاریخ کو دیکھنے کا صحیح معیار ہے۔ اس معیار سے تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ فساد کے جنگل میں ہمیشہ اعلیٰ درجے کے صالح افراد پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اسی جنگل میں آدم کے بیٹے ہابیل بھی تھے۔ جنھوں نے اپنے قاتل سے کہا: لئن بسطتَ إليَّ يدك لتقتلني ما أنا بباسط يدي إليك لأقتلك۔ إني أخاف الله رب العالمين (28: یعنی اگر تم مجھ کو قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ ہابیل کا یہ قول امن کا قول تھا۔ ہابیل نے اپنی اس روش سے امن پسندی کی وہ اعلیٰ ترین مثال قائم کی جس کے آگے امن پسندی کا کوئی اور درجہ نہیں۔
اسی طرح، تاریخ کے اس جنگل میں ہاجرہ اُمِ اسماعیل جیسی خاتون پیدا ہوئیں ۔ ڈھائی ہزار سال پہلے، خدا کے منصوبے کے مطابق، ایک نئی نسل برپا کرنے کے لیے یہ قربانی دی کہ وہ اپنے چھوٹے بچے (اسماعیل) کو لے کر عرب کے صحرا میں آباد ہو گئیں۔ اُس وقت اُن کی زبان سے یہ تاریخی کلمہ نکلا کہ جب خدا کا یہی منصوبہ ہے تو خدا ہم کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا (إذن لا يضيعنا ہاجرہ کی اِسی قربانی کے نتیجے میں بنو اسماعیل کی وہ نسل پیدا ہوئی جو اعلیٰ انسانی اوصاف کی حامل ایک مغربی اسکالر پروفیسر ڈی ایس مارگولیتھ (وفات: 1940) نے اِس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بنو اسماعیل کی اِس نسل کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) قرار دیا تھا۔ اسی طرح، تاریخ کے اس جنگل میں ابو بکر اور عمر جیسے افراد پیدا ہوئے، جن کو اقتدار ملا، لیکن انھوں نے اپنے آپ کو بگاڑ سے کامل طور پر بچایا۔ مہاتما گاندھی نے ابو بکر اور عمر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا
کہ اگرچہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے، مگر انھوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری : Though, they were masters of vast empire, yet they lived the life of paupers. (Harijan, July 27, 1937) انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ خدا نے انسان کی فطرت میں جنت کا تصور ودیعت کر دیا ہے۔ اسی لیے ہر عورت اور مرد جو پیدا ہوتے ہیں، وہ تمناؤں اور خواہشوں (desires) کے ساتھ پیدا ہوتے ہر انسان کے اندر فطری طور پر ایک تصوراتی دنیا بسی ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے، انسان ایک طالب جنت مخلوق (paradise-seeking animal) ہے۔
اسی فطرت کی بنا پر ایسا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا انسان اپنے لیے ایک معیاری دنیا کی تعمیر میں لگ جاتا ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی طاقت اور اپنے تمام وسائل کو ایک ایسی دنیا کے حصول میں لگا دیتا ہے، جو اس کے لیے خوشی اور سکون کی دنیا ہو، جہاں اس کو پورے معنوں میں فل فل مینٹ (fulfilment) مل سکے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر آدمی جو اس دنیا میں آیا، وہ اپنی مطلوب دنیا کی تعمیر میں ناکام رہا، اور مایوسی کی نفسیات میں مر کر اس دنیا سے چلا گیا۔ اس عموم میں کسی بھی شخص کا کوئی استثنا نہیں۔ راقم الحروف نے ایک بار انٹرنیٹ کے ذریعے ایسے تقریباً 400 ممتاز افراد کے بارے میں یہ معلوم کیا کہ ان کے آخری ایام کیا تھے۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ بلا استثنا اُن میں سے ہر شخص سخت مایوسی (despair) کی حالت میں مرا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں جو معیاری دنیا بسی ہوئی ہے، وہ جنت ہے۔ مگر جنت کو پانے کا مقام آخرت ہے، نہ کہ موجودہ دنیا۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جنت میں بسائے جانے کے قابل بنائے۔ مگر ساری تاریخ میں انسان نے یہ کیا کہ ہر ایک موجودہ دنیا ہی میں اپنی جنت کی تعمیر کرنے لگا۔ ایسا کرنا خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ ہر انسان صرف ناکامی کی ایک مثال بن کر رہ گیا۔ مفکرین اور مصلحین نے عام طور پر اپنا نشانہ یہ بنایا کہ وہ اس دنیا میں انصاف اور انسانی اقدار (human values) کے اعتبار سے ایک معیاری دنیا بنائیں ۔
مگر اُن کا نشانہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا، اِس لیے وہ کبھی واقعہ نہ بن سکا۔ خدا کا تخلیقی نشانہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں معیاری نظام (ideal system) وجود میں لایا جائے، بلکہ خدا کا تخلیقی نشانہ یہ ہے کہ معیاری افراد وجود میں آئیں۔ اِس قسم کے معیاری افراد تاریخ میں بکھرے ہوئے ہیں۔ آخِرت میں یہ ہوگا کہ اِن افراد کو منتخب کرکے اُنھیں جُنت کی معیاری دنیا میں بسادیا جائے گا۔ تعبیر تاریخ کی مثالیں تاریخ کی تعبیر (interpretation of history) ایک مُستقل سبجکٹ ہے، مگر اِس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ سب کی سب کنفیوژن کا کیس ہیں۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی شخص اِس موضوع پر اب تک ایسی کتاب نہ لکھ سکا جس میں انسانی تاریخ کی قابلِ فہم تعبیر پیش کی گئی ہو۔ اِس موضوع پر سب سے زیادہ نمایاں نام غالباً کارل مارکس (وفات: 1883) کا ہے۔ نے بطور تاریخ کی ایک متعین تعبیر دینے کی کوشش کی۔ مارکس کی اِس تعبیر تاریخ کو مادی تعبیر تاریخ (material interpretation of history) یا تاریخی مادیت (historical materialism) کہا کارل مارکس نے یہ کیا کہ اِس نے نیوٹن کے دریافت کردہ قانونِ فطرت (law of nature) کو انسانی تاریخ پر منطبق کر دیا، مگر مارکس کی یہ تعبیر تاریخ پہلی ہی نسل میں اہلِ علم کے درمیان قابلِ رد انسان ایک صاحبِ اختیار مخلوق ہے۔ اِس کے برعکس، مادہ کوئی ذاتی اختیار نہیں رکھتا۔ حالت میں ایک کے قانون کو دوسرے کے اوپر چسپاں کرنا قیاس مع الفارق ہے، جو کہ عملاً ممکن نہیں۔ پہلی عالمی جنگ (1918-1914) کا واقعہ اِس مارکسی نظریے کی عملی آزمائش تھا۔ یہ نظریہ اِس پہلی ہی آزمائش میں مکمل طور پر رد ہو گیا۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ مشہور کمیونسٹ لیڈر ولادمیر لینن (وفات: 1924) نے 1919 میں کمیونسٹ انٹرنیشنل (comintern) قائم کی۔ اُس کا نظریہ تھا کہ ساری دنیا کے مزدور ایک طرف ہیں اور تمام دنیا کے سرمایہ دار ایک طرف۔ اِس کے بعد 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی ۔ یہ جنگ جن ملکوں کے درمیان ہوئی، اُن ملکوں کے سربراہ مارکسی تصور کے مطابق، سرمایہ دار طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ مارکسی تصور کے مطابق، یہ فرض کر لیا گیا کہ اِن ملکوں کے
مزدور اپنے ملکوں کی سرمایہ دار حکومتوں کا ساتھ نہیں دیں گے، بلکہ وہ عالمی مزدور طبقہ (class) کا ساتھ دیں گے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ ہر ملک کے مزدوروں نے خود اپنے ملک کی حکومتوں کا ساتھ دیا۔ طرح تاریخی مادیت یا جدلیاتی مادیت کا نظریہ اپنے پہلے ہی تجربے میں ختم ہو گیا۔ اسی طرح کچھ اور اہل علم نے انسانی تاریخ کو ایک تعبیر دینے کی کوشش کی۔ مگر عملاً وہ بھی کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے۔ اس کی ایک مثال کیمبرج کے پروفیسر ایچ بٹرفیلڈ (H. Butterfield) انھوں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جو 146 صفحات پر مشتمل ہے۔ 1931 میں لندن سے چھپی ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: