Al-Risala · July 2012

The Whig Interpretation of History

Al-Risala, July 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ کسی یونی ورسل مارل کوڈ (universal moral code) کی روشنی میں پوری تاریخ کو ایک اخلاقی تعبیر دی جائے، مگر خود مصنف نے یہ اعتراف کیا ہے کہ تاریخ کی عملی تصویر کے مطابق ، اس قسم کی تعبیر ممکن نہیں۔

اسی طرح ایک مثال مشہور برطانی رائٹر جارج برناڈ شا (وفات: 1950) کی ہے۔ میں اس کی ایک کتاب مین اینڈ سپر مین‘ (Man and Superman) ہے۔ اس کتاب میں اُس نے مفروضہ ارتقائی اصول کی روشنی میں تاریخ کی ایک تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان لازمی ارتقائی قانون کے مطابق، بشر (man) سے فوق البشر (superman) کی طرف سفر کر رہا ہے۔ مگر اس کا یہ نظریہ صرف ایک خیالی کہانی ہے۔ خالص علمی اعتبار سے اس کا کوئی وزن نہیں۔ منفی تصور تاریخ انسانی تاریخ کے بارے میں عام طور پر اہل علم کا نقطۂ نظر منفی ہوتا ہے۔ مثلاً مشہور انگریز مورخ ایڈورڈ گبن (Edward Gibbon) نے لکھا ہے کہ - انسانیت کی تاریخ جرائم، حماقت اور بدقسمتی کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے:

History, which is, indeed, little more than the register of crimes, follies and misfortunes of mankind.

مختلف زبانوں میں جو بڑے بڑے ناول لکھے گئے ہیں، وہ سب کے سب المیہ (tragedy) ہیں، نہ کہ طربیہ (comedy)۔ انسانی تاریخ کے بارے میں اِس قسم کا منفی تصور کیوں ہے۔ سبب دراصل تاریخ کا غیر فطری طریق مطالعہ ہے۔ تاریخ کا فطری طریق مطالعہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تاریخ کے بارے میں خالق کے نقشہ (model) کو دریافت کیا جائے، اور اِس کے بعد اِس خدائی نقشے کی روشنی میں تاریخ کا جائزہ لیا جائے۔

جو لوگ تاریخ کے بارے میں منفی نقطۂ نظر رکھتے ہیں، اُن سب کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے مفروضہ نقشے کی روشنی میں تاریخ کو سمجھنا چاہتے ہیں، اور جب تاریخ اُن کے مفروضہ نقشے کے مطابق، با معنی نظر نہیں آتی تو وہ تاریخ کے بارے میں منفی سوچ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کے بارے میں اِسی منفی نقطۂ نظر کے تحت ایک مغربی مفکر نے کہا کہ—اِس دنیا میں ہر چیز حسین ہے، صرف ایک چیز حسین نہیں، اور وہ انسان ہے:

In this world everything is beautiful except man. یہ تبصرہ غلط معیار کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ دنیا جتنی حسین ہے، اِس سے بھی زیادہ انسانی دنیا حسین ہے۔ انسان مقصدِ کائنات ہے، پھر وہ غیر حسین کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ تبصرہ دراصل ایک غلط معیار کا نتیجہ ہے۔ مذکورہ مبصر نے مادی دنیا کو دیکھا۔ اِس کو نظر آیا کہ مادی دنیا میں پورے مجموعے کی سطح پر حسن پایا جاتا ہے۔ اِس نے چاہا کہ یہی مجموعی حسن اِس کو انسانی دنیا میں بھی نظر آئے ۔ جب اُس نے پایا کہ انسانی دنیا میں اِس قسم کا مجموعی حسن نہیں ہے، تو اُس نے مذکورہ قسم کا ریمارک (remark) دے دیا۔

خالق کے منصوبے کے مطابق، انسانی دنیا اور بقیہ مادی دنیا کے درمیان ایک فرق پایا وہ فرق یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں مجموعی نظم (collective discipline) درکار ہے، کیوں کہ بقیہ دنیا امتحان (test) کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہے، بلکہ وہ انسان کے لیے ایک معاون ذریعے کے طور پر پیدا کی گئی ہے، مجموعی نظم کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔

اس کے برعکس، انسان کا معاملہ فرد فرد کا معاملہ ہے۔ یہاں مجموعی حسن مطلوب نہیں، بلکہ یہاں انفرادی حسن مطلوب ہے۔ انسانی دنیا میں ہر فرد کو الگ الگ جانچا جا رہا ہے۔ ہر فرد کو الگ الگ یہ موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو جنت کے معاشرے کا ایک کامیاب ممبر اِسی منصوبہ تخلیق کی بنا پر دونوں کی جانچ کا الگ الگ معیار ہوگا۔ انسان کو فرد کی سطح پر جانچنا چاہئے اور بقیہ کائنات کو مجموعے کی سطح پر۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کی دونوں مثالیں شاہ کار ہیں، انسان بھی اور بقیہ کائنات بھی، مگر دونوں کو جانچنے کا معیار ایک دوسرے سے الگ ہے۔ تاریخ کے مطالعے کے بارے میں جو لوگ منفی نقطہ نظر رکھتے ہیں، ان کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ پورے انسانی معاشرے یا پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ چوں کہ مجموعے کی سطح پر اُنھیں مطلوب معیاری سماج نظر نہیں آتا، اِس لیے وہ کہہ دیتے ہیں کہ انسانی دنیا میں برائی (evil) کے سوا کچھ اور نہیں، حالاں کہ انھیں یہ کہنا چاہیے کہ انسانی دنیا میں اگرچہ مجموعے کی سطح پر برائی ہے، لیکن افراد کی سطح پر خیر موجود ہے۔ مذکورہ منفی سوچ کے تحت ’پرابلم آف اول‘ (problem of evil) جیسا نظریہ وجود میں آیا ہے، جو کہ موجودہ زمانے میں عام طور پر اہلِ علم کے ذہن پر چھایا ہوا ہے۔ انسانی دنیا کو مجموعی سطح پر معیاری بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انسانی آزادی کو منسوخ کر دیا جائے، کیوں کہ انسانی سماج میں تمام برائیوں کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ انسان کی طرف سے آزادی کا غلط استعمال (misuse of freedom) ہے۔ مگر انسان کی آزادی کو منسوخ کرنا خود خالق کے منصوبے کو منسوخ کرنے کے ہم معنی ہے۔ اِس لیے خالق نے اپنے منصوبے کی اِس طرح تشکیل کی کہ اس نے انسان کے معاملے کو مبنی بر مجموعہ (collective-based) نہیں بنایا، بلکہ اس کو مبنی بر فرد (individual-based) بنایا۔ اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، خدا کا کَنْسَرن (concern) یہ نہیں ہے کہ پورے مجموعۂ انسانی میں لازماً معیاری نظام قائم ہو۔ ایسا صرف اُس وقت ہو سکتا تھا جب کہ انسان کی آزادی کو کلی طور پر منسوخ کر دیا جاتا، اور خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اِس منصوبہ تخلیق کے مطابق، پورے اجتماع یا پورے مجموعے کی سطح پر معیار (ideal) کا

حصول ممکن نہیں، لیکن یہ عین ممکن ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں ایسے معیاری افراد وجود میں آتے رہیں جو اپنی ذات کی سطح پر سچائی کو دریافت کریں اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیں، یہی استثنائی افراد خالق کو مطلوب ہیں۔ یہی مطلب ہے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مطلوب کے مطابق، تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا۔

خالقِ کائنات کی یہ اسکیم قرآن کے مطالعے سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ النساء کی دو آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے، یعنی نبی اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے اُن کی رفاقت۔ یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ کا علم کافی ہے“۔ قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سے منتخب افراد ہوں گے جن کے مجموعے سے جنت کا معاشرہ وجود میں آئے گا۔ ان افراد کو بتانے کے لیے یہاں چار الفاظ استعمال کئے گئے ہیں— نبی، صدیق، شاہد، صالح۔ نبی سے مراد صاحب وحی انسان (revealed person) ہے۔ صدیق سے مراد وہ انسان ہے جو حق کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ وابستہ کرے کہ اس کو پیغمبر کے ساتھ مزاجی مناسبت حاصل ہو جائے۔ شہید یا شاہد سے مراد وہ انسان ہے جس کی زندگی میں حق اتنا زیادہ متشکل ہو جائے کہ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ لوگوں کے درمیان حق کا گواہ بن جائے۔ سے مراد وہ انسان ہے جس کی زندگی میں فکر وعمل کی مطابقت کامل درجے میں پائی جائے۔ بنیادی طور پر یہی چار قسم کے افراد ہیں جن کے مجموعے سے وہ معیاری معاشرہ تشکیل پائے گا جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ ان افراد کا تعلق کسی ایک زمانے یا کسی ایک معاشرے سے نہیں ہوگا، بلکہ وہ مختلف غیر معیاری معاشروں کے منتخب کئے ہوئے افراد ہوں گے۔ خالق کی اس اسکیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس دنیا میں صرف انفرادی کامیابی (individual achievement) ممکن جہاں تک اجتماعی کامیابی (social achievement) کا تعلق ہے، وہ امتحان کی اس دنیا میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔

موجودہ دنیا میں درست روش پر قائم ہونے کے لئے مثبت ذہن ضروری ہے۔ مگر مثبت ذہن کے ساتھ جینا کوئی سادہ بات نہیں۔ مثبت ذہن کے ساتھ جینے کے لئے آدمی کو ایک لازمی امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ ہے دو متضاد رجحانات کو مینج (manage) کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔ اصل یہ ہے کہ آدمی پیدائشی طور پر ایک معیار پسند مخلوق ہے، مگر عملاً اس کو ایک غیر معیاری دنیا میں رہنا پڑتا ہے۔ اس حقیقت سے شعوری طور پر باخبر ہونا بہت ضروری ہے۔ ورنہ یہ ہوگا کہ اس کا معیار پسند ذہن دنیا کے غیر معیاری تجربات کی بنا پر رد عمل کا شکار ہوتا رہے گا اور نتیجہ وہ مثبت ذہن سے محروم ہو جائے گا، اور مثبت ذہن سے محروم ہونا ہر چیز سے محروم ہونے کے ہم معنی ہے۔ آدمی کو شعوری طور پر یہ جاننا چاہیے کہ اس کا معیار پسند ذہن اس لئے ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا کا طالب بنے، نہ یہ کہ وہ اسی موجودہ دنیا میں جنتی زندگی یا جنتی معاشرہ کو حاصل کرنے موجودہ دنیا جنتی انسان بنانے کے لئے ہے، نہ کہ جنتی معاشرہ بنانے کے لئے۔ جو آدمی شعوری طور پر اس راز کو جان لے کہ موجودہ دنیا میں اس کو اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے وہ کامیاب ہوا۔ اور جو آدمی موجودہ دنیا ہی کو جنتی دنیا بنانے کی کوشش میں لگ جائے، وہ ناکام و نامراد رہا۔ موجودہ دنیا میں جنتی شخصیت بننا تو ممکن ہے، مگر جنتی نظام بننا ممکن نہیں۔ تاریخ کی خدائی تنظیم قرآن میں تاریخ کا جو تصور پیش کیا گیا ہے، اس کے مطابق، انسانی تاریخ آدم سے شروع ہوتی ہے، جو کہ پہلے انسان (first man) تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اور ان کی بیوی حوا کو پیدا کر کے اُنھیں جنت میں آباد کیا۔ خدا کی طرف سے اُن کو صرف ایک ہدایت دی گئی تھی، وہ یہ کہ: اے آدم، تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس سے کھاؤ آسودگی کے ساتھ، جہاں سے چاہو۔ درخت کے قریب مت جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے“۔

آدم کے ساتھ ان کی بیوی کو پیدا کرنے میں اس بات کا اشارہ تھا کہ انسان کی پیدائش سے اللہ تعالیٰ کو جو چیز مطلوب ہے، وہ صرف ایک انسانی فرد نہیں، بلکہ ایک انسانی نسل ہے۔ انسان کے لیے

جنت کا مستحق ہونے کی شرط صرف ایک تھی، یہ کہ وہ خود انضباطی کردار (self-disciplined character) کا پابند رہے، وہ آزادی کا غلط استعمال نہ کرے ۔ مگر آدم اور حوا اس شرط پر پورے نہیں اترے ۔ لیے انھیں جنت سے نکال کر سیارہ ارض پر آباد کر دیا گیا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ پہلے انسان کو یہ موقع دیا گیا تھا کہ انسان عمومی بنیاد (general basis) پر جنت میں رہے، یعنی ہر پیدا ہونے والے عورت اور مرد کو جنت کی زندگی حاصل ہو۔ انسان اس اعتماد پر پورا نہیں اتراتو اس کے بعد اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ انسان کی آزادی تو برقرار رہے گی، لیکن اب عمومی بنیاد پر نہیں، بلکہ انتخابی بنیاد پر صرف مستحق افراد کو جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو خدا کی طرف سے مینج (manage) کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔ موجودہ زمین اس تخلیقی مقصد کے لیے سلیکشن گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب یہ ہوگا کہ قیامت کے بعد فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، صرف منتخب عورتوں اور مردوں، قرآن کے الفاظ میں احسن العمل (67:2) افراد کو، یہ خوش نصیبی حاصل ہوگی کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں آباد ہوسکیں۔ زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام تو خدا کی طرف سے کیا گیا تھا، مگر انسان کو اپنے قول و عمل کی مکمل آزادی حاصل تھی، لیکن دوبارہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ یہ ہوا کہ عمومی طور پر انسانی نسل شرک یا فطرت پرستی (nature worship) میں مبتلا ہوگئی۔ گویا کہ پہلے انسان نے ”درخت“ کا صرف پھل کھایا تھا، اب انسان نے ”درخت“ کو معبود قرار دے کر اس کی پرستش شروع کردی۔

تاہم منصوبہ تخلیق (creation plan) کے مطابق، یہ ممکن نہیں تھا کہ انسان کی آزادی کو منسوخ کردیا جائے، اس لیے اللہ نے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ اللہ نے یہ کیا کہ انسانوں میں سے کسی فرد کو منتخب کر کے اُس کو اپنا پیغمبر بنایا۔ اُس کو وحی (revelation) کے ذریعے اپنی رہنمائی بھیجی۔ ان پیغمبروں نے انسانوں کو بتایا کہ عبادت کے قابل صرف ایک اللہ ہے۔ تم ایک اللہ کی عبادت کرو اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔

مگر انسانوں کی بڑی تعداد ایسا نہ کرسکی۔ اللہ کی عبادت کا معاملہ ناقابل مشاہدہ (unobservable) ہستی کو معبود بنانے کا معاملہ تھا۔ انسان نے اپنی ظاہر پرستی کی بنا پر نیچر کو اپنا معبود بنالیا، جو کہ اس کے لیے ایک قابل مشاہدہ (observable) معبود کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی نیچر ورشپ کا دوسرا نام شرک ہے۔

پیغمبروں کی آمد کے باوجود انسان کے لیے آزادیٔ اختیار (freedom of choice) کا موقع بدسر باقی تھا۔ اس لیے انسان پیغمبروں کا انکار کرتا رہا۔ یہ معاملہ نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک انسان کے لیے غالب کلچر بن گیا، تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ مشرکانہ کلچر کے عمومی غلبہ کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ وقت کی حکومتوں نے شرک کو اسٹیٹ کے مذہب کے طور پر اختیار کر لیا۔ اس طرح شرک کو ہر جگہ سیاسی طاقت کی سرپرستی حاصل ہوگئی۔ پہلے اگر شرک سادہ معنوں میں ایک اعتقادی برائی تھی تو اب وہ ایک طاقت ور برائی بن گئی۔ مشرکانہ اقتدار کا کلچر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ برائی پیدا ہوئی جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔

شرک کی اسی سیاسی سرپرستی کے نتیجے میں وہ جارحانہ مذہبیت پیدا ہوئی جس کو تاریخ میں، مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ سیاسی حاکموں نے ایسا ماحول قائم کیا جس کے نتیجے میں لوگوں کے لیے صرف ایک ہی آپشن باقی رہا، اور وہ مشرکانہ مذہب تھا۔ تو توحید کا مذہب اختیار کرنے والوں کے لیے یہ انجام مقدر ہوگیا کہ وہ یا تو ریاست کے مذہب کو اختیار کر لیں، یا وہ قتل دورِ قدیم کی یہی وہ صورت حال ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ البروج کی آیات (8: 4-85) میں اشارہ کیا گیا ہے۔

اس صورت حال سے یہ واضح ہو گیا کہ اب مذہب حق کا صرف اعلان کافی نہیں ہے۔ پہلی ضرورت یہ ہے کہ مذہب کو سیاسی اقتدار سے جدا کر دیا جائے، تاکہ انسان کے لیے آزادی کے ساتھ اپنے عقیدے کا فیصلہ کرنا ممکن ہو جائے۔

Printed page