Al-Risala · July 2012

حضرت نوح کا رول

Al-Risala, July 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

آدم پہلے انسان تھے اور پہلے نبی بھی۔ اُن کو اور ان کی بیوی کو غالباً عراق کے اُس مقام پر بسایا گیا جس کو قدیم زبان میں میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہا جاتا تھا۔ آدم اور حوا کی نسل سے جو لوگ پیدا ہوئے، وہ کئی نسل تک شریعتِ آدم پر قائم رہے، پھر دھیرے دھیرے اُن کے اندر بگاڑ پیدا ہوا اور تقریباً تمام نسل شرک میں مبتلا ہوگئی۔ انھوں نے اپنے بڑوں (وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر) کو اپنا معبود بنالیا۔ پھر اسی علاقہ (میسوپوٹامیا) میں حضرت نوح پیدا ہوئے۔ انھوں نے لمبی مدت تک نسل آدم کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر ان کی قوم کے بہت کم لوگ اُن پر ایمان لائے (40: 11)۔ روایات کے مطابق، ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کی تعداد 80 تھی۔ اُن کی قوم کے بقیہ تمام افراد اصرار کے ساتھ شرک پر قائم رہے۔

حضرت نوح نے اسرار و اعلان (9: 71) کی تمام صورتیں اختیار کیں۔ لیکن آخر کار اُن پر یہ واضح ہوا کہ معاشرے کی کنڈیشننگ (conditioning) اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ اب قوم کے اندر جو بچہ پیدا ہوگا، وہ آخر کار قوم ہی کے مذہب کو اختیار کرے گا۔ جب بگاڑ اس حد تک پہنچ چکا تو اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ مومنینِ نوح کو بچا کر بقیہ قوم کو ہلاک کر دیا جائے۔

اُس وقت حضرت نوح نے اللہ کے حکم سے ایک بڑی کشتی بنائی۔ اس کشتی میں ایمان لانے والے 80 مردوں اور عورتوں کو سوار کیا گیا۔ اس کے بعد اُس علاقے میں ایک سیلاب آیا۔ اتنا بڑا تھا کہ اُس علاقے کی پہاڑیاں بھی پانی کے اندر ڈوب گئیں۔ حضرت نوح کی کشتی تیرتی ہوئی جودی پہاڑ پر رُکی (44 : 11)۔ یہ واقعہ تقریباً 5 ہزار سال پہلے پیش آیا۔ اس پہاڑ کا موجودہ نام ارارات (Mount Ararat) ہے۔ جدید دریافت کے مطابق، وہ مشرقی ترکی میں واقع ہے۔

کسی قوم کو عذاب دینے کا واقعہ تاریخ میں کئی بار پیش آیا ہے، لیکن ایک عظیم سیلاب کے ذریعے عذاب دینے کا واقعہ صرف ایک بار پیش آیا۔ یہ واقعہ بھی خدا کی طرف سے تاریخ کی تنظیم سے تعلق رکھتا اس بنا پر یہ ممکن ہوا کہ کشتی میں سوار اہل ایمان دور کے علاقے میں پہنچ جائیں۔ چناں چہ یہی بچے ہوئے اہل ایمان تھے جن کی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں انسان کی آبادیاں قائم ہوئیں۔ حضرت نوح کے زمانے تک انسان کی نسل صرف میسوپوٹامیا (عراق) کے محدود علاقے میں پائی جاتی تھی، لیکن طوفانِ نوح کے بعد انسان کی نسل زمین کے مختلف حصوں میں پھیل گئی۔ تاریخ کے دو دھارے قرآن کے بیان کے مطابق، انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے انسانی زندگی کے دو دھارے بن گئے— ایک، اتباع ابلیس کا دھارا، اور دوسرا، اتباع ملائکہ کا دھارا۔ زندگی میں ہمیشہ مثبت اور منفی دونوں قسم کے پہلو موجود ہوتے ہیں۔ اتباع ابلیس یہ ہے کہ آدمی مثبت پہلو کو نظر انداز کر کے منفی پہلو کو اس کے برعکس، اتباع ملائکہ یہ ہے کہ آدمی منفی پہلو کو نظر انداز کر کے مثبت پہلو پر فوکس پوری انسانی تاریخ اسی دو قسم کے اتباع کی کہانی ہے۔ ایک روش کو اتباع ابلیس کا کلچر کہہ سکتے ہیں اور دوسری روش کو اتباع ملائکہ کا کلچر۔

خالق نے انسان کو مکمل آزادی دے دی ہے، خواہ اس آزادی کی بنا پر بگاڑ کی وہ صورت پیدا ہو جائے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت أيدى الناس (30: 30)، مگر خالق نے انسان کی آزادی منسوخ نہیں کی، البتہ خالق نے اس کا اہتمام کیا کہ اصل مقصد تخلیق میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ خالق نے انسان کو آزادی بھی دے دی ہے اور اسی کے ساتھ وہ تاریخ کو اس طرح مینج (manage) کر رہا ہے کہ مجموعے کی سطح پر بگاڑ کے باوجود مطلوب افراد کی پیدائش کا سلسلہ برابر جاری رہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو تاریخ کی معنویت کو واضح کرتا ہے۔ تاریخ میں ایسے انسانوں کی مثالیں کم ہیں جنھوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا۔ مثالیں وہ ہیں، جب کہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ بظاہر یہ تاریخ کی ایک منفی تصویر ہے،

مگر اس منفی تصویر کا بھی ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ اسی ماحول کے دوران وہ حالات پیدا ہوتے ہیں جب کہ انسانوں کا امتحان لے کر مطلوب افراد کا انتخاب کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ یہ نظام مطلق معنوں میں شر نہیں ہے، بلکہ اس میں خیر کا بھی ایک پہلو پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ آزادی کی بنا پر جب ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنی اپنی سرگرمیاں جاری کرتا ہے تو اس سے لوگوں کو طرح طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا لوگوں کو طرح طرح کے نقصانات پیش آتے ہیں۔ یہ سب گویا ایک طرح کا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہوتا ہے۔ اس طرح کے ناخوش گوار تجربات کی بنا پر افراد کے اندر وہ ذہنی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں جس کو نفسیات کی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہا جاتا ہے۔ نفسیاتی مطالعے کے مطابق ، یہی برین اسٹارمنگ ہر قسم کی ذہنی ترقیوں کا ذریعہ ہے۔ معتدل حالات میں آدمی بڑے بڑے کام نہیں کرتا۔ بڑے بڑے کام صرف اُس وقت کئے جاتے ہیں، جب کہ غیر معتدل حالات پیدا ہوں۔ غیر معتدل حالات کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر شدید قوتِ عمل جاگتی ہے۔ اس کے اندر شدید محرک (strong incentive) پیدا ہوتا ہے۔ شدید محرک تمام بڑے بڑے واقعات کو رونما کرنے کا سبب ہے۔

مثلاً صلیبی جنگوں کے ذریعے وہ حالات پیدا ہوئے جن کے ذریعے اہل یورپ میں نیچر کی طاقتوں کی دریافت کا شدید جذبہ پیدا ہوا۔ پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں اسی طرح کا شدید جذبہ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں ہوابازی (aviation) کو ترقی ہوئی۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں وہ شدید محرک پیدا ہوا جس کی بنا پر کمیونیکیشن کو ترقی ہوئی، وغیرہ۔ نئی منصوبہ بندی منصوبہ تخلیق کے مطابق، یہ ممکن نہیں تھا کہ انسان کی آزادی کو منسوخ کیا جائے ۔ اب اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں بالواسطہ طور پر ایک دخل دیا۔ اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک ایسا گروہ پیدا کیا جائے جو مذہب اور سیاسی اقتدار کو ایک دوسرے سے الگ کر دے، تاکہ انسانی تاریخ اپنے صحیح رخ پر سفر کر سکے، بغیر اس کے کہ انسانی آزادی کو منسوخ کیا گیا ہو۔ اس نئے منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ

انسانوں کا مجموعہ خواہ آزادی کا صحیح استعمال نہ کرنے کی بنا پر غلط رخ پرچلتا رہے، لیکن پھر بھی افراد کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق صحیح مذہب کو اختیار کر سکیں۔

اس نئے منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے ہوا۔ حضرت ابراہیم کا مقام عمل قدیم عراق تھا۔ یہاں اُس وقت مشرکانہ کلچر کا غلبہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے لمبی مدت تک اُنھیں توحید کی دعوت دی، مگر وہ لوگ اپنی کنڈیشننگ کی بنا پر توحید کی فکر کو قبول نہ کر سکے، یہاں تک کہ انھوں نے حضرت ابراہیم کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس صورت حال کا تقاضا ہوا کہ حضرت ابراہیم اپنے مقام عمل کو بدل دیں۔ چناں چہ وہ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے فرزند اسماعیل کو لے کر مکہ کے قریب آگئے جو اُس وقت صرف ایک ویران صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔

اس صحرائی ماحول میں توالد و تناسل کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں وہ گروہ وجود میں آیا جس کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے ماحول میں ایک نئی قوم بنانے کا یہ عمل تقریباً ڈھائی ہزار سال تک جاری رہا۔ پھر بنواسماعیل کے اسی گروہ میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ پیغمبر اسلام کی 23 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں یہ ہوا کہ بنواسماعیل کے صالح افراد بڑی تعداد میں آپ کے گرد جمع ہو گئے، یہاں تک کہ وہ گروہ بنا جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول کا زمانہ عمل ساتویں صدی عیسوی ہے۔ اُن کے ذریعے منصوبہ خداوندی کے مختلف کام انجام پائے۔ مثلاً کتاب الہی (قرآن) کا محفوظ ہو جانا۔ دین خداوندی کا ایک عملی ماڈل قائم ہو جانا۔ دین خداوندی جو پچھلے انبیا کے زمانے میں زیادہ تر فکری مرحلے تک محدود تھا، وہ اب انقلابی مرحلے میں پہنچ گیا۔ ان تبدیلیوں کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا کہ پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا تاریخ میں انفرادی پیغمبر کا دور ختم ہو جائے اور اجتماعی امت کا دور شروع ہو جائے، وغیرہ۔ اللہ کی خصوصی نصرت سے، اصحابِ رسول کے ذریعے جو انقلابی کام انجام پایا، اُس کا ایک خاص پہلو وہ تھا جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدين كله لله (8:39)۔ اس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد وہ جارحانہ نظام ہے جو قدیم طرز کی

شہنشاہیت (imperialism) کی سرپرستی میں قائم تھا۔ اس شہنشاہی نظام نے ایک ایسا نظام قائم کر رکھا تھا جو خدا کے تخلیقی منصوبے کی تنسیخ کے ہم معنی تھا، یعنی آزادی فکر کا خاتمہ۔ اس لیے خدا کو یہ مطلوب تھا کہ اس جبری شہنشاہی نظام کو توڑ دیا جائے، تاکہ انسانی قافلے کے سفر میں کوئی مصنوعی رکاوٹ حائل نہ رہے۔

ساتویں صدی عیسوی میں اس جبری شہنشاہیت کے دو بڑے نمائندے تھے—ایک ساسانی ایمپائر (Sassanid Empire) اور دوسرے، رومن ایمپائر یا بازنطینی ایمپائر (Byzantine Empire)۔ یہ دونوں ایمپائر اتنا زیادہ طاقت ور تھے کہ اصحاب رسول کے ذریعے ان کو مغلوب کرنا عملاً ناممکن تھا۔ عین اُس زمانے میں ایک معاون واقعہ پیش آیا، یعنی دونوں سیاسی چٹانوں کے درمیان باہمی ٹکراؤ۔ چناں چہ دونوں ایمپائر ایک دوسرے سے لڑ گئے۔ پہلے ساسانی ایمپائر نے رومن ایمپائر کو تباہ کیا، اس کے بعد رومن ایمپائر نے ساسانی ایمپائر کا زور توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ خدائی منصوبے کے مطابق، اصحاب رسول اُن کو مغلوب کر سکیں۔ یہ تاریخی واقعہ پیشگی طور پر منصوبہ الہی میں مقدر کر دیا گیا یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف بائبل میں پیشین گوئی کے طور پر ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا تھا— اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں ۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے ۔ قدیم ٹیلے جھک گئے : He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk, 3: 6)

یہ ساتویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اہل اسلام کو وہ سیاسی غلبہ حاصل ہو گیا جو اس سے پہلے صرف اُن سیاسی نظاموں کو حاصل تھا جو مشرکانہ کلچر کی سرپرستی کرتے مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کے تحت تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ اس عمل کا نشانہ تھا—فطرت (nature) کو موضوع تحقیق (object of investigation) بنانا، جواب تک انسان کے لیے صرف موضوع پرستش (object of worship) بنی ہوئی تھی ۔ انسان کو مکمل آزادی عطا کر کے اس کے لیے ذہنی ارتقا کا راستہ کھولنا، فطرت میں چھپے ہوئے اُن وسائل کو وقوع میں لانا

جو عالمی دعوت کو ممکن بنانے والے ہوں، وغیرہ۔

انسانی آزادی کی بنا پر اس دنیا میں تمام واقعات اسباب کے ماحول میں پیش آتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان علمی تحقیق کا کام خاص طور پر عباسی دور میں شروع ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت قائم ہو چکی تھی۔ اس بنا پر علمی تحقیق کی طرف مسلمان صرف جزئی طور پر متوجہ ہو سکے۔ مسلمانوں کی توانائی کا بڑا حصہ سیاسی سرگرمیوں میں لگا ہوا تھا۔ ان کی توانائی کا صرف محدود حصہ علمی تحقیق کے میدان میں صرف ہو رہا تھا۔ یہ تناسب ناکافی تھا۔ کا یہ کام بہت بڑا کام تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ مسلمان اپنی طاقت کو پوری یکسوئی کے ساتھ علمی تحقیق کے میدان میں وقف کر دیں۔ مگر سیاسی اقتدار اس قسم کی علمی یکسوئی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اس کے برعکس، صلیبی جنگوں کے بعد علمی تحقیق کا کام جب یورپ کی مسیحی قوموں میں شروع ہوا تو سیاسی اقتدار اُن کے لیے رکاوٹ نہ بن سکا، کیوں کہ عملاً وہ اُن کے پاس موجود ہی نہ تھا۔ مسیحی قوموں کے اعلیٰ ذہن بڑی تعداد میں علمی تحقیق کے میدان میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے پوری یکسوئی کے ساتھ علمی تحقیق کا کام شروع کر دیا۔

یہ بھی انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا معاملہ تھا۔ جب خالق نے دیکھا کہ مسلم دنیا کے حالات علمی تحقیق کو زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دینے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، تو اُس نے علمی تحقیق کے کام کو مسلم دنیا سے نکال کر مسیحی دنیا کی طرف منتقل کر دیا، جہاں اس قسم کی رکاوٹ والے اسباب موجود نہیں تھے۔

Printed page