مشرق سے مغرب کی طرف
Al-Risala, July 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں ہوا۔ حالات کی موافقت کی بنا پر اس کی توسیع اتنی تیز رفتاری کے ساتھ ہوئی کہ 50 سال کے اندر اہل اسلام کا ایک ایمپائر قائم ہو گیا۔ اب یہ مطلوب تھا کہ امت محمدی تسخیر فطرت اور سماجی انقلاب کے وہ مطلوب کام انجام دے جس کے لیے اُس کو سیاسی غلبہ عطا کیا گیا تھا۔ مگر مسلمان بہت جلد آپس کے سیاسی ٹکراؤ میں مشغول ہو گئے اور
مطلوب کام کی طرف وہ زیادہ پیش قدمی نہ کر سکے۔
اب خدائی منصوبے کے مطابق، تاریخ میں وہ واقعہ پیش آیا۔ جس کو قرآن کی سورہ محمد میں استبدال قوم (38 : کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ استبدال (replacement) کا مطلب یہ تھا کہ مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے بجائے ایک اور قوم کو کھڑا کرنا۔ (Crusades) کے ذریعے استبدال کا یہی معاملہ پیش آیا۔
خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمانوں نے فلسطین کو مسیحیوں سے چھین لیا اور اُس پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ فلسطین مسیحی قوموں کے لیے ایک مقدس سرزمین (holy land) کی حیثیت رکھتا تھا۔ چناں چہ مسیحی قومیں اِس قبضے کو کبھی قبول نہ کر سکیں۔ یہ نزاع باقی رہی، یہاں تک کہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے وہ شام اور فلسطین کے علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیں۔
صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ 1095ء میں شروع ہوا۔ تقریباً 200 سال کے اندر دونوں قوموں کے درمیان وقفے وقفے سے 9 بار خوں ریز لڑائیاں ہوئیں، مگر یورپ کی مسیحی سلطنتوں کی متحدہ کوشش کے باوجود اُن کو زبردست ناکامی ہوئی۔ اِس کے بعد وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ مسلح جنگ کے ذریعے مسلمانوں کو شکست دینا اُن کے لیے ممکن نہیں۔ چناں چہ مسیحی قوموں میں ایک نیا ذہن شروع ہوا۔ نئی جدوجہد کا نام اسپرچول کروسیڈ (spiritual crusades) تھا۔ اسپرچول کروسیڈ سے مراد دراصل انٹلیکچول کروسیڈ (intellectual crusades) تھا۔ چناں چہ مسیحی قوموں نے اب اپنی کوششوں کو علمی ترقی کی طرف موڑ دیا۔ یونانی فلسفیوں اور مسلم فلسفیوں کی کتابوں کے ترجمے وسیع پیمانے پر لاطینی زبان میں کئے جانے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ یورپ میں تعلیم اور علمی رسرچ کی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہوئیں۔ چناں چہ اس کی دو مثالیں یہ ہیں کہ ’’اسپرچول کروسیڈ‘‘ کے سینٹر کے طور پر 1096 میں برطانیہ میں آکسفورڈ یونی ورسٹی قائم ہوئی اور 1209 میں کیمبرج یونی ورسٹی قائم کی گئی، وغیرہ۔ اِس کے بعد چودھویں صدی اور سولھویں صدی کے درمیان یورپ میں وہ انقلاب آیا
جس کو نشاة ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ اب اسپر پھول کروسیڈس نے مزید ترقی کر کے نیچرل کروسیڈس (natural crusades) کی حیثیت اختیار کر لی۔
مغرب میں اسپر پھول کروسیڈس اور نیچرل کروسیڈ ابتداءً منفی ذہن کے تحت پیدا ہوئی ۔ کو جس چیز نے ابتداءً متحرک کیا تھا، وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے میدان میں ہاری ہوئی جنگ کو دوبارہ علم کے میدان میں کامیاب بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مغرب کی اس منفی نفسیات کو محرک (incentive) کے طور پر استعمال کیا۔ اللہ نے اہل مغرب کو اس کا ذریعہ بنایا کہ وہ نیچر میں چھپے ہوئے اسرار کو دریافت کریں اور ایک ایسی دنیا وجود میں لائیں جو اسلامی مشن کے لیے تائید کا ذریعہ ثابت ہو۔ اہل مغرب کے ذریعے یہ تائیدی واقعہ جو اپنی پوری صورت میں بیسویں صدی میں ظہور میں آیا، اس کی پیشگی خبر قرآن کی ایک آیت میں دی گئی تھی: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (53 :41) یعنی مستقبل میں ہم اُن کو اپنی آیات دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی ۔ یہاں تک کہ اُن کے اوپر یہ آشکارا ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اہل مغرب کے اس رول کا تذکرہ حدیث میں بھی بطور پیشین گوئی موجود ہے۔ الفاظ یہ ہیں : إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاري، رقم الحديث : 3062) یعنی اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔ اس حدیث میں ’فاجر‘ کا لفظ سیکولر کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سیکولر مؤیدین سے مراد مغربی دنیا کے وہ لوگ ہیں جن کی کوششوں سے جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی اور اس کے ذریعے آفاق وانفس کی آیات دریافت ہوئیں ۔ اہل مغرب کے اندر انتقام کی جو نفسیات پیدا ہوئی ، وہ فطری طور پر نہایت شدید تھی۔ اس شدید محرک کو اللہ نے رموز فطرت کی دریافت کے لیے استعمال کیا۔
رموز فطرت کی دریافت کا یہ کام ایک بے حد مشکل کام تھا۔ اُس میں اپنے آپ کو ڈیڈی کیٹ (dedicate) کرنے کے لیے نہایت شدید محرک (strong incentive) درکار تھا۔ صلیبی جنگوں میں
اہلِ مغرب کی توہین آمیز شکست (humiliating defeat) نے اُن کے اندر یہی شدید محرک پیدا کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں برطانیہ کی ایک سائنٹفک ٹیم نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ انٹارکٹکا (Antarctica) کی دریافت کریں۔ یہ ایک نہایت جان جوکھم کا کام تھا۔ ٹیم کے سربراہ سر ارنسٹ شیکلٹن (Sir Ernest Shackleton) نے 1900ء میں لندن کے اخبار ٹائمس (The Times) میں ایک اشتہار چھپوایا۔ اس کے الفاظ یہ تھے:
“Men wanted for hazardous journey. Small wages, bitter cold, long months of complete darkness, constant dangers, safe return doubtful. Honour and recognition in case of success.”
یعنی ایک پر خطر سفر کے لیے آدمی درکار ہیں۔ بہت کم معاوضہ، شدید ٹھنڈک، لگاتارتاریکی کے لمبے مہینے، مسلسل خطرہ، محفوظ واپسی مشتبہ، کامیابی کی صورت میں عزت اور اعتراف۔ یہ اشتہار جب ٹائمْس میں چھپا تو اس میں شرکت کے لیے اتنے زیادہ افراد کی درخواستیں آئیں کہ سلیکشن (selection) کی بنیاد پر اُن میں سے صرف منتخب افراد کو لیا گیا۔ یہی وہ مجنونانہ اسپرٹ تھی جس نے اہلِ مغرب کو یہ موقع دیا کہ وہ جدید دور کو وجود میں لاسکیں۔