فطرت کا ایک قانون
Al-Risala, July 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
اہلِ مغرب، اصلاً خدائی دین کے مؤید کے طور پر ابھرے تھے، لیکن ردعمل کی نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اِسی خدائی منصوبے کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے غیر ضروری طور پر اہلِ مغرب کو اپنا دشمن سمجھ لیا اور اُن سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کی دوسوسالہ تاریخ اِس غیر ضروری لڑائی میں ضائع ہو گئی۔
تاریخ کے اس ارتقائی سفر کو جاری رکھنے کے لیے ہمیشہ ایک قائد درکار ہوتا ہے۔ اِس قسم کے ایک قائد تھے۔ اِس سے پہلے اہلِ اسلام کو قیادت کا یہ موقع ملا تھا۔ موجودہ زمانے میں منصوبہ الہی کے تحت یہ موقع اہلِ مغرب کے حصے میں آیا۔
ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول جب ایران میں داخل ہوئے تو اہلِ ایران اُن سے
خائف ہو گئے ۔ انھوں نے اصحابِ رسول کے طاقت ور داخلے کو دیکھ کر کہا: دیواں آمدند، دیواں آمدند(دیو اہل ایران نے اصحابِ رسول کے داخلے کو منفی معنوں میں لیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ ایک نئی تہذیب کے نقیب (harbinger)تھے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار ایک صحابی رسول ربعی بن عامر نے ایران کے سپہ سالار رستم سے گفتگو کرتے ہوئے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: اللہ ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد إلى عبادة الله (البداية والنهاية ، 7/46 ) یعنی اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تاکہ وہ جس کو چاہے، ہم اُس کو بندوں کی بندگی سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔ ساتویں صدی میں اٹھنے والے اصحابِ رسول کی اصل حیثیت یہی تھی کہ وہ اِس زمانے میں ایک نئے دور کے نقیب تھے۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ جو گروہ نئے دور کا نقیب بن کر ابھرتا ہے، اِس کو دوسروں کے اوپر قیادت (leadership) کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ قیادت کسی سازش یا دشمنی کے سبب وجود میں نہیں آتی، بلکہ وہ فطرت کے لازمی تقاضے کے طور پر وجود میں آتی ہے۔ یہی معاملہ موجودہ زمانے میں اہلِ مغرب کے ساتھ پیش آیا۔ اہل مغرب اصلاً ایک نئی تہذیب کے لیکن فطری تقاضے کے طور پر مزید یہ ہوا کہ اُن کو اپنی ہم عصر قوموں کے اوپر قیادت حاصل ہوگئی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ وہ اہل مغرب کی اس قیادت کو ایک فطری واقعہ سمجھ کر قبول کر لیں، جیسا کہ اِس سے پہلے دنیا کی قوموں نے مسلم قیادت کو قبول کر لیا تھا۔ زمانے کے مسلمان اس راز کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ انھوں نے مغربی تہذیب کو دشمنی اور سازش کا کیس قرار وہ اُن سے نفرت کرنے لگے، یہاں تک کہ ہر جگہ وہ اُن سے لڑنے لگے۔ یہ لڑائی جو جہاد کے نام پر کی گئی تھی، وہ قانونِ فطرت کے خلاف تھی، اِس لیے وہ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود مکمل طور پر ناکام اِس نا کامی کی ذمہ داری مکمل طور پر خود مسلمانوں کے اوپر ہے۔ مسلمانوں نے اہلِ مغرب کے خلاف جو جنگ چھیڑی، وہ اُن کے خیال کے مطابق، اہل مغرب کے خلاف جنگ تھی، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ منصوبہ الہی کے خلاف جنگ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ مکمل طور پر ناکام ہوئی، اِس کا انجام اس کے سوا کچھ اور نہیں نکلا کہ مسلمانوں کی تباہی میں مزید اضافہ ہو گیا۔