Al-Risala · July 2012

جنت کی دنیا

Al-Risala, July 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی تاریخ ایک عورت اور ایک مرد سے شروع ہوئی، پھر لوگ پیدا ہوتے رہے اور مرتے اس طرح یہ سلسلہ نسل در نسل ہزاروں سال سے قائم ہے۔ اکیسویں صدی کے رُبعِ اوّل میں پورے کُرۂ ارض پر انسانوں کی تعداد سات بلین سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے جو لوگ مرگئے، وہ بھی معدوم نہیں ہوئے، بلکہ وہ آخرت کی دنیا میں بدستور زندہ موجود ہیں۔

جس طرح انسانی تاریخ کا ایک آغاز ہے، اُسی طرح اس کا ایک اختتام بھی ہے۔ کے خاتمے کے بعد ایک اور دنیا بنے گی۔ یہ دنیا کامل معنوں میں ایک معیاری دنیا ہوگی۔ دنیا میں پوری تاریخ کے منتخب افراد آباد کئے جائیں گے۔ قرآن میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الأرض يرثها عبادي الصالحون (105: 21) یعنی زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔

یہ حقیقت پچھلی آسمانی کتابوں میں بھی بیان ہوئی ہے۔ موجودہ بائبل میں اس سلسلے میں یہ الفاظ آئے ہیں— بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر اور ہمیشہ تک آباد رہ، کیوں کہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے اور وہ اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا، وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں، پرشریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔

صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ آباد رہیں گے:

Depart from evil, and do good; And dwell forevermore. For the Lord loves justice, And does not forsake His saints; They are preserved forever, But the descendants of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land, and dwell in it forever. (Psalm 37: 27-29)

قرآن کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں کیسا معیاری ماحول ہوگا اور وہاں ہر قسم کے اعلی سامان وافر مقدار میں موجود ہوں گے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكاً كَبِيرًا (76:20) یعنی تم جہاں دیکھو گے، وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے:

Wherever you look, you will see bliss and a great kingdom. جنت میں اہل جنت کے لیے جو اعلی انتظامات ہوں گے، اُن کا خلاصہ قرآن کے ان الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ نعیم، اور ملکِ کبیر۔ نعیم سے مراد ہر قسم کی نعمتیں (blessings) ہیں۔ جو کچھ چاہے گا، وہ سب وہاں اُس کے لیے کامل صورت میں موجود ہوگا (32 :41)۔ ملکِ کبیر سے مراد مکمل آزادی ہے، یعنی کسی بھی قسم کی پابندی کے بغیر زندگی گزارنے کا موقع حاصل ہونا۔ آزادی کی نعمت اُن خوش قسمت افراد کو حاصل ہوگی جنھوں نے موجودہ دنیا میں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ آزادی کے باوجود اپنی آزادی کا صرف صحیح استعمال کرنے والے ہیں۔

جنت کی وسعتوں کو بتاتے ہوئے قرآن میں یہ بات آئی ہے: وسار عوا إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها السموات والأرض، أعدت للمتقين (3: 133) یعنی دوڑ و اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی طرح ہے۔ میں قرآن کی ایک اور آیت کے الفاظ یہ ہیں: وقالوا الحمد لله الذي صدقنا وعده، وأورثنا الأرض نتبوأ من الجنة حيث نشاء، فنعم أجر العاملين (39: 74) یعنی اہل جنت کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، ہم جنت میں

جہاں چاہیں، مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔

جنت کی یہ وسعت موجودہ زمانے میں ایک قابل فہم واقعہ بن چکی ہے۔ جدید دور بینوں کے مشاہدے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کائنات کی وسعتوں میں ایسے قابل آباد کاری سیارے (habitable planets) بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ صرف ہماری کہکشاں (Milky Way) کے اندر کئی بلین کی تعداد میں اس طرح کے سیارے موجود ہیں۔

اس نئی دریافت کو لے کر غور کیا جائے تو جنت کے بارے میں عجیب قسم کا پراہتزاز تصور (thrilling concept) معلوم ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالباً جنت بے شمار ہرے بھرے سیاروں کا ایک کائناتی مجمع الجزائر (universal archipelago) ہے۔ تمام جزیرے اپنی اپنی جگہ پر مکمل دنیائیں ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ انتہائی اعلیٰ قسم کے کمیونیکیشن کے ذریعے باہم جڑے ہوئے ہیں۔ آخرت کے دور میں شاید ایسا ہوگا کہ ہر جنتی کو زندگی گزارنے کے لیے مستقل دنیائیں حاصل ہوں گی ۔ اسی کے ساتھ وہ دوسرے جنتی باشندوں سے معیاری کمیونیکیشن کے ذریعے ہر لمحہ مربوط ہوگا۔ ہر قسم کی نعمتیں بھی ہوں گی اور کامل آزادی بھی۔ اسی کے ساتھ جنت گویا اعلیٰ انسانوں پر مبنی ایک کائناتی سماج ہوگا، جہاں ہر انسان کو کامل معنوں میں فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ ابدی جنت کی یہ ناقابلِ بیان حد تک اعلیٰ نعمتیں اہل جنت کو تمام تر اور یک طرفہ طور پر اللہ کی رحمت کے ذریعے حاصل ہوں گی، لیکن اہل جنت کے اعزاز کے لیے اللہ کی طرف سے یہ اعلان کیا جائے گا کہ: وتلك الجنة التي أورثتموہا بما كنتم تعملون (72 یعنی یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دئے گئے ہو، اُس عمل کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔

Printed page