قرآن کا تصورِ تاریخ
Al-Risala, July 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کے بارے میں ایک لمبی حدیث کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے : كتاب الله، فيه نبأ ما قبلكم، وخبر ما بعدكم (الترمذي، رقم الحديث : 2906) یعنی قرآن الله کی کتاب ہے۔ اس میں تم سے پہلے کے لوگوں کی باتیں ہیں اور اس میں تمھارے بعد کے لوگوں کی
ایک صحابی رسول عبد اللہ بن مسعودؓ کے بارے میں فرمایا: فیہ علم الأولین والآخرین (البيهقي، شعب الإيمان، رقم الحديث: 1808) یعنی قرآن میں پچھلے لوگوں کا بھی علم ہے اور بعد کے لوگوں کا بھی علم ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن جامع معنوں میں انسانی نسلوں کی کوئی تفصیلی تاریخ ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قرآن میں تاریخِ بشری کے نمائندہ واقعات موجود ہیں، یعنی ایسے تاریخی حوالے جن پر غور کر کے پورے دورِ تاریخ کی ایک جامع تصویر بنائی جاسکتی ہے۔ تاریخ کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ گزرے ہوئے واقعات کا سلسلہ وار بیان (chronicle) ہو۔ یہ تاریخ کا معروف مؤرخانہ تصور ہے۔ تاریخ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تاریخی واقعات کو اس اعتبار سے بیان کیا جائے کہ وہ خالق کے نقشہ تخلیق کو بتانے والا ہو۔ تاریخ کے پہلے تصور میں تمام واقعات کا احاطہ مقصود تاریخ کے دوسرے تصور میں تاریخ کے صرف منتخب اور نمائندہ اجزا بیان کئے جاتے ہیں۔ یہی دوسرا طریقہ قرآن کے تصورِ تاریخ کے مطابق ہے۔ مگر یہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ تاریخ کے نمائندہ واقعات بھی قرآن میں مروجہ تاریخی اسلوب میں نہیں ہوتے، وہ صرف حوالہ (reference) کے اسلوب میں ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں جن تاریخی حوالوں کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ اشارے کی زبان میں ہوتے ہیں۔ یہ قاری کے اوپر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسا کرے کہ قرآن کے باہر جو تاریخی ریکارڈ موجود ہے، اُس سے ضروری اجزا لے کر وہ قرآن کے اشارات کی تفصیل وہ بظاہر غیر متعین زبان میں کہی ہوئی بات کو متعین اسلوب میں مدوّن کرے ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت آدم کے بعد ان کی نسل میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کے علاقے میں آباد ہوئی۔ یہ نسل شریعت آدم پر قائم تھی۔ بعد کے زمانے میں جب اُن کے اندر بگاڑ آیا تو تقریبا پانچ ہزار سال پہلے پیغمبر نوح پیدا ہوئے ۔ انھوں نے لمبی مدت تک لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ کچھ افراد نے آپ کی دعوت کو مانا، لیکن بیشتر افراد نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس علاقے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اس موقع پر ایمان لانے والے افراد ایک کشتی کے ذریعے بچا لئے گئے اور بقیہ تمام افراد ہلاک کردئے گئے۔
اس کشتی کے بارہ میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فأنـجـيـنـاه وأصحاب السفينة وجعلناها آية للعالمين (29:15) یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچالیا۔ اور ہم نے اس کو دنیا والوں کے لیے ایک نشان بنا دیا۔ قرآن کی ایک اور آیت میں اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: ولقد تر كناها آية (54:15) اس آیت کا ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلوی نے ان الفاظ میں کیا ہے— اور اس کو ہم نے رہنے دیا نشانی کے لیے (We have left it as a sign)
حضرت نوح کا واقعہ ایک پورے دورِ تاریخ سے تعلق رکھتا ہے جو حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا ایک نمائندہ جُو کشتی نوح (Noah's Ark) ہے۔ کے بارہ میں قرآن نے بتایا کہ اُس کو اللہ نے عبرت کے طور پر باقی رکھا ہے۔ ساتویں صدی کے ربع اول میں بوقت نزولِ قرآن کسی کو اس کشتی کا علم نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پہاڑوں کے اوپر جمی ہوئی برف بڑے پیمانے پر پگھلنے لگی۔ اس کے بعد ہوائی سروے کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ ترکی کے مشرقی علاقے میں کوہ ارارات (Mount Ararat) کے اوپر وہ کشتی برف کی موٹی تہ کے نیچے دبی ہوئی موجود تھی جو اکیسویں صدی میں سامنے آگئی۔
قرآن میں کشتی نوح کا ذکر مختصر طور پر موجود تھا۔ اب بعد کو دریافت کردہ معلومات کی روشنی میں یہ ممکن ہو گیا کہ تاریخ بشری کے اس باب کو زیادہ تفصیل کے ساتھ مرتب کیا جائے اور اس کو قرآن کی تاریخی تفہیم کے لیے استعمال کیا جائے۔
اس قسم کا ایک اور تاریخی حوالہ وہ ہے جو پیغمبر موسیٰ کے دورِ تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔ ہزار سال پہلے مصر میں یہ واقعہ ہوا کہ پیغمبر موسیٰ کے معاصر بادشاہ فرعون کو خدا نے بحر قلزم (Red Sea) میں غرق کر دیا۔ اس کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے کہ بوقتِ غرق اللہ نے فرمایا: فاليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية (10:92) یعنی آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔
فرعون کا یہ واقعہ بھی ایک پورے دورِ تاریخ کی علامت ہے مگر ساتویں صدی عیسوی میں جب کہ قرآن
نازل ہوا، یہ بات کسی کو معلوم نہ تھی کہ فرعون کی لاش کہاں محفوظ ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے کچھ مستشرقین (orientalists) نے دریافت کیا کہ مذکورہ فرعون کی لاش محفوظ حالت میں اہرام مصر میں موجود اب یہ لاش اہرام مصر سے نکال کر قاہرہ کے میوزیم میں رکھ دی گئی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل ڈاکٹر موریس بکائی کی کتاب (The Bible, The Quran and Science) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ قرآن نے انسانی تاریخ کا جو تصور دیا ہے، اس کے مطابق، ایسے علامتی واقعات قرآن میں موجود ہیں جن کو مزید معلوم تاریخ کے اضافے سے از اول تا آخر مدون کیا جاسکتا ہے۔ قرآن میں پچھلی تاریخ کے بارے میں علامتی واقعات ملتے ہیں اور بعد کی تاریخ کے بارے میں ایسی پیشین گوئیاں موجود ہیں جو قیامت تک کی پوری تاریخ انسانی کا احاطہ کر رہی ہیں۔ قرآن میں موجود ان تاریخی حوالوں کی حیثیت صرف عنوانات کی ہے۔ ان عنوانات کی روشنی میں اگر دیگر حاصل شدہ معلومات کو شامل کیا جائے، تو اس کے ذریعے قرآن کے تصور تاریخ کے مطابق، انسانی تاریخ کی پوری تصویر بنائی جاسکتی ہے۔ مورخین کے یہاں مختلف قسم کے تاریخی تصورات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً خاندانی بادشاہت کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، قوموں کے عروج و زوال کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، مختلف تہذیبوں (civilizations) کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، وغیرہ۔ مگر خدائی تصور تاریخ (divine concept of history) اس سے مختلف ہے۔ خدائی تصور تاریخ کیا ہے، اس کو قرآن کے مطالعے سے سمجھا جاسکتا ہے۔
خدائی تصور تاریخ کے مطابق، اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ اس کے بعد انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ توالد و تناسل کے ذریعے اپنی تعداد بڑھائے۔ اس کی نسلیں کرہ ارض (planet earth) کے مختلف حصوں میں آباد ہوں یا غلط استعمال کرے۔ اللہ نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی۔ اللہ نے انسان کو یہ موقع دیا کہ خواہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ غلط استعمال کرے، وہ زمین میں اصلاح کرے یا وہ زمین میں فساد برپا کرے، وہ اپنی زندگی کو عدل پر قائم کرے یا بے انصافی پر قائم کرے، حتیٰ کہ
انسان کو یہ بھی آزادی حاصل ہے کہ چاہے تو وہ اللہ کا اقرار کرے اور چاہے تو وہ اللہ کا انکار کر کے سرکش بن جائے ۔ اللہ کے منصوبے کے مطابق ، آزادی کی یہ صورت حال قیامت تک جاری رہے گی۔ اس پورے تاریخی عمل کے دوران اللہ کا مطلوب صرف ایک ہے، اور وہ ہے صالح افراد کا یہ افراد وہ ہیں جو ہر قسم کے ہنگاموں کے باوجود اپنے آپ کو آزادی کے صحیح استعمال پر قائم رکھیں، جو اپنی ذہنی قوتوں کو استعمال کرتے ہوئے اور نبیوں کی ہدایت سے استفادہ کرتے ہوئے اللہ کو دریافت کریں اور اپنی زندگی کو ہدایتِ الہی کے مطابق بنائیں۔ اسی قسم کے صالح افراد اللہ کو مطلوب ہیں۔ اپنے خصوصی انتظام کے تحت پوری تاریخ میں مسلسل طور پر ایسے ہی صالح افراد کا انتخاب کر رہا ہے۔ آدم سے لے کر قیامت تک کے پورے تاریخی عمل کے دوران اللہ کی سنت یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو منسوخ نہ کیا جائے، البتہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو اس طرح مینج (manage) کیا جائے کہ اللہ کا اصل مطلوب (صالح افراد کی پیداوار) کا عمل برابر جاری رہے۔ دوسرے مورخین تاریخ کو مجموعے کی صورت میں دیکھتے ہیں، جب کہ خدائی تصور کے مطابق ، صحیح یہ ہے کہ تاریخ کو افراد کے اعتبار سے دیکھا جائے ۔ انسانی مجموعے کو لے کر تاریخی رائے قائم کرنا مورخین کا طریقہ ہے، جب کہ خدائی تصور کے مطابق ، صحیح طریقہ یہ ہے کہ انسانی افراد کو لے کر تاریخ ٹورنامنٹ کا طریقہ ہے، جب تک وہاں کے کھلاڑی ہوں ، اس طریقہ پر یہ ہے کے بارے میں رائے قائم کی جائے۔ (20 اپریل 2012)
کے دورے رماری