ایمان اور عمل
Al-Risala, August 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان کے بارے میں علما کا یہ اتفاق ہے کہ ایمان دو چیزوں کا نام ہے ۔ زبان سے اقرار کرنا، اور دل سے تصدیق کرنا (الإيمان: اقرار باللسان، وتصدیق بالقلب)۔ اس مسئلے پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ قولی اقرار اور قلبی تصدیق، دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ کے خارجی اظہار ہی کا دوسرا نام قولی اقرار ہے۔ اس اعتبار سے، ترتیب میں قلبی تصدیق پہلے ہے اور قولی اقرار اس کے بعد۔ یہ قلبی تصدیق کوئی سادہ بات نہیں۔ اس قلبی تصدیق کے ساتھ معرفت جڑی جب آدمی معرفت کے درجے میں اللہ کو دریافت کرتا ہے تو اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ اس کا قلب اس کی تصدیق کرنے والا بن جاتا ہے۔ اور جب قلب تصدیق کرتا ہے تو اس کے بعد لازماً یہ ہوتا ہے کہ اس کی زبان پر کلمہ کے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں۔
پھر یہ معرفت کوئی سادہ بات نہیں۔ اس معرفت کا تعلق اللہ رب العالمین سے ہے۔ معرفت کے درجے میں اللہ کو دریافت کرے، اُس نے گویا کہ اپنے خالق کو دریافت کیا۔ اُس نے اُس برتر ہستی کو دریافت کیا جو اس کا مالک ہے، جو دینے والااور چھیننے والا ہے، جس کے سامنے آدمی اپنے تمام اعمال کے لیے جواب دہ (accountable) ہے، جو خالق ہونے کے علاوہ، آدمی کا محاسب اور مجازی بھی ہے، جس کی گرفت سے انسان کسی حال میں بچ نہیں سکتا، جو دنیا اور آخرت کا واحد مالک اس حقیقت کو سامنے رکھے تو یہ بات ایک غیر متعلق بات قرار پاتی ہے کہ عمل، ایمان کے اندر داخل ہے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمل، ایمان کا ایک لازمی حصہ ہے، جس کو ایمان سے الگ نہیں کیا جس آدمی کو معرفت والا ایمان حاصل ہو، اس کے لیے ایمان ایک انقلاب کے ہم معنی ہوگا، ایمان اس کی پوری زندگی کو بدل دے گا۔ اُس کی نیت، اس کی سوچ، اس کی گفتگو، اس کا سلوک، رد و قبول کے بارے میں اُس کا معیار، سب کچھ یکسر بدل جائے گا۔ ایسے آدمی کے لیے ایمان اور عمل دو چیز نہیں، ایسے آدمی کے لیے ایمان گویا کہ ایک بیج ہے اور عمل اُس بیج سے نکلا ہوا درخت۔