Al-Risala · August 2012

ربوبیت کا نظام

Al-Risala, August 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں اللہ کو رب العالمين بتایا گیا ہے۔ رب یا ربوبیت کا مطلب ہے: إنشاء الشيئ حالا فحالا إلى حد التمام (المفردات للراغب) یعنی کسی چیز کی پرورش کر کے اس کو درجہ بدرجہ کمال تک پہنچانا۔ قرآن میں رب کا لفظ اللہ تعالیٰ کے نظام ربوبیت کو بتاتا ہے، اُس کا کوئی تعلق انسان کے قائم کردہ نظام سے نہیں ہے۔

قرآن کی سورہ المومنون کی چند آیتیں یہ ہیں: ولقد خلقنا الإنسان من سلالة من ثم جعلناه نطفة في قرار مكين۔ ثم خلقنا النطفة علقة فخلقنا العلقة مضغةً فخلقنا المضغة عظاماً فكسونا العظام لحماً، ثم أنشأناه خلقاً آخر، فتبارك الله أحسن الخالقین (14-12 : 23)۔ یعنی ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ پھر ہم نے پانی کی بوند کو ایک جنین کی پھر جنین کو ہم نے گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا۔ پھر ہم نے لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں۔ پھر ہڈیوں پر ہم نے گوشت چڑھا دیا۔ پھر ہم نے اس کو ایک نئی صورت میں بنا کر کھڑا کیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا۔

قرآن کی ان آیتوں میں ربوبیت کی وہ مثال بتائی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ نے براہِ راست طور پر خود تخلیق کے عمل میں شامل کر دی ہے۔ اس ربوبیت کے ظہور میں انسان کا کوئی حصہ نہیں۔ طرح کی تخلیقی ربوبیت کا معاملہ پوری کائنات میں جاری ہے۔ اس ربوبیت کا تعلق انسان کے وجود سے بھی ہے اور دوسری اشیا کے وجود سے بھی۔

ربوبیت الہی کی دوسری قسم وہ ہے جو فطرت کے قانون کے تحت اپنے آپ ظہور میں نہیں آتی، بلکہ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مختلف صورتوں میں انسان کو توفیق دیتا ہے اور اللہ کی توفیق سے انسان اس میں اپنا حصہ ادا کرتا ہے۔ اس معاملے کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ

فطرت میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں بطور امکان رکھی ہیں۔ آدمی اللہ کی توفیق سے ، ان امکانات (potentials) کو واقعہ (actual) بناتا ہے۔

تہذیب (civilization) کا ارتقا اسی دوسری ربوبیت سے تعلق رکھتا ہے۔ تہذیب کے تمام اجزا امکان کی صورت میں فطرت میں موجود تھے۔ اللہ کی توفیق سے انسان نے ان امکانات کو واقعہ بنایا۔ اس طرح ایک تدریجی عمل (gradual process) کے ذریعے موجودہ تہذیب وجود میں آئی۔ مثلاً انسان کی ایک ضرورت اپنے وجود کی توسیع ہے۔ اسی توسیع کا ایک ذریعہ وہ ہے جس کو سفر کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں یہ کیا کہ اس نے انسان کو دو پاؤں دئے جس کے ذریعے وہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ سکے۔ پھر جنگل میں اونٹ اور گھوڑے اور خچر جیسے حیوانات پیدا کئے جن کو پکڑ کر انسان سدھائے اور پھر اُن کو اپنی سواری (vehicle) کے طور پر استعمال کرے۔ طرح ، اللہ کی توفیق سے انسان نے کشتی بنائی اور اس طرح وہ پانی کو اپنی گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر انسان نے اللہ کی توفیق سے پہیہ (wheel) بنایا۔ اس سے انسان کے لیے بری سفر کا نیا دور شروع ہو گیا۔ اس کے بعد اللہ کی توفیق سے انسان نے فطرت کی کچھ اور طاقتیں دریافت کیں جس سے تیز رفتار مشینی سواریاں وجود میں آئیں۔ مثلاً ریل اور کار اور ہوائی جہاز ، وغیرہ۔ سفر کے تیز رفتار ذرائع اور دوسری ترقیاتی چیزیں ، جن کا تعلق تہذیب سے ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انسان کو حاصل ہوئیں۔ اس اعتبار سے ، تہذیب کا پورا معاملہ الہی ربوبیت کا ایک تہذیب کا ارتقا بظاہر انسان کے ذریعے ہوا ، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تمام تر اللہ کی توفیق سے انجام پایا۔ اللہ کی خصوصی توفیق کے بغیر انسان ، فطرت کی اُن دریافتوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا جن کے نتیجے میں تہذیب کا واقعہ ظہور میں آیا۔

Printed page