تمکین فی الارض
Al-Risala, August 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ النور کی ایک آیت میں ایک اہم تاریخی اصول بتایا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور عملِ صالح کریں کہ اللہ اُن کو زمین میں استخلاف عطا کرے گا، جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو استخلاف عطا کیا تھا۔ اور اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو تمکین عطا کرے گا جس دین کو اللہ نے اُن کے لیے پسند کیا ہے۔ کی خوف کی حالت کے بعد اُس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو وہ میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں ’’تمکین‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تمکین کا مطلب قدرت دینا اس قدرت یا تمکین سے کیا مراد ہے، اُس کا ذکر خود قرآن کی مذکورہ آیت میں موجود ہے۔ آیت کے مطابق، وہ قدرت یا تمکین یہ ہے کہ دین کے معاملے میں خوف کی حالت ختم ہو جائے اور امن کی حالت قائم ہو جائے ۔ اہلِ ایمان کو یہ موقع مل جائے کہ وہ شرک سے محفوظ ہو کر اللہ کی مطلوب عبادت کر سکیں۔ ’استخلاف فی الارض‘ سے مراد اسی قسم کی تمکین ہے۔ اس آیت میں استخلاف یا تمکین سے مراد کسی قسم کا قومی غلبہ یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد وہ موقع ہے جب کہ ایک مومن کو آزادانہ طور پر عابدانہ زندگی گزارنا ممکن ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ، اس دنیا میں انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ آزادی کی بنا پر یہ ممکن نہیں ہے کہ اجتماع کی سطح پر کوئی کامل نظام قائم ہو جائے ۔ اس لیے نظام یا سیاسی اقتدار کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے یہ اصول رکھا ہے کہ حالات کے تحت کبھی ایک گروہ کو سیاسی اقتدار ملے اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تلک الأيام نداولها بين الناس (3:140)
اللہ کی یہ سنت مجموعی نظام یا سیاسی اقتدار کے بارے میں ہے، مگر جہاں تک افراد کا تعلق ہے،
ان کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ ان کو ہر حال میں یہ موقع حاصل رہے کہ وہ خدائے واحد کی آزادانہ عبادت کریں اور پرامن دعوت الی اللہ کو کسی رکاوٹ کے بغیر ہر حال میں جاری رکھ سکیں۔ لیے اللہ نے اس سلسلے میں یہ اصول اختیار کیا ہے کہ وہ سیاسی اقتدار کے معاملے میں قوموں کو ایک حد تک آزادی دئے ہوئے ہے، لیکن اللہ نے کسی کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ عبادت اور دعوت الی اللہ کے کام میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرے۔ جب بھی کوئی گروہ اس قسم کی غیر ضروری رکاوٹ ڈالتا ہے تو اللہ تعالی تاریخ میں مداخلت کرکے اس غیر ضروری رکاوٹ کو ختم کردیتا ہے، تاکہ آزادانہ عبادت اور پرامن دعوت کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔
ساتویں صدی عیسوی میں فتنه (جارحانہ شرک) کو ختم کرنے کے لیے اصحاب رسول کو قتال کا حکم دینا اسی مصلحت کے تحت تھا (8: 39)۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہی کام ایک اور صورت میں انجام سوویت یونین (کمیونسٹ جبر) دوبارہ دعوت اور عبادت کے معاملے میں اسی قسم کی ایک رکاوٹ بن گیا تھا، اللہ نے اس کو امریکا کے ذریعے 1991 میں توڑ دیا۔
استخلاف یا تمکین کا مطلب حکومت الہیہ کا قیام نہیں ہے۔ استخلاف کا تعلق دراصل خدا کی سنت امتحان سے ہے۔ اس سنت امتحان کا ایک پہلو وہ ہے جو فرد سے متعلق ہے، دوسرا وہ ہے جو قوم سے متعلق ہے۔ جس طرح افراد کو اُن کے انفرادی دائرے میں کوئی چیز دے کر اُنھیں جانچا جاتا ہے، اُسی طرح قوموں کو باری باری اقتدار دیا جاتا ہے، تاکہ اُنھیں جانچا جائے (165: 6)۔ استخلاف بمعنی زمینی اقتدار کا تعلق اگر لازماً ایمان اور عمل صالح سے ہو، تو تمام نبیوں کو زمینی اقتدار حاصل ہونا چاہئے تھا، جب کہ معلوم ہے کہ پچھلے نبیوں میں سے صرف دو نبیوں کو زمینی اقتدار ملا، یعنی حضرت داؤد اور حضرت سلیمان۔
اسی طرح تمکین سے مراد تمکین سیاسی نہیں ہے، بلکہ تمکین دینی ہے، یعنی فرد کی نسبت سے دینی ذمے داری ادا کرنے کے لیے جو مواقع درکار ہیں، اُن مواقع کی پوری آزادی۔ فرد کی دینی ذمے داری بنیادی طور پر دو چیزیں ہیں — آزادانہ عبادت، پرامن دعوت ۔ سیاسی اقتدار کے محدود دائرہ میں
اگر کوئی غیر مسلم حکمران ہو، لیکن پر امن دعوت اور آزادانہ عبادت کے معاملے میں اہل ایمان کو پورے مواقع حاصل ہوں تو کہا جائے گا کہ ایسے مقام پر اہل ایمان کو تمکین حاصل ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام جمہوری ملکوں میں اہل ایمان کو پوری طرح یہ مواقع حاصل ہیں۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانے کے جمہوری ملکوں میں وہ چیز عملاً حاصل ہے جس کو قرآن میں 'تمکین فی الارض' کہا گیا ہے۔ قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو مصر میں تمکین (21 : 12) عطا کی۔ واضح طور پر غیر سیاسی تھی۔ خود قرآن سے یہ ثابت ہے کہ مصر میں حضرت یوسف کا معاصر غیر مسلم حکمران بدستور تخت اقتدار پر تھا اور ملک میں اُسی کا شاہی قانون (76 : 12) رائج تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا تعلق صرف انتظام ملکی سے ہے، اُس کا براہِ راست طور پر نجاتِ آخرت سے کوئی تعلق نہیں۔ کرنی مقصود ہے، لہذا شوق اور خاص طور پر لکھنؤ اور اطراف کہ قارئین کی حس پر، بہتر یہي مقصد کے لیے مشرقی یوپی، خاص طور پر لکھنؤ اور اطراف کے قارئین، حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں: Hafiz Mohammad Salman Noori Madrasa S. Umar Farooq Chawk, Lucknow-226 003 الرساله مشن کا مقصد مثبت سوچ اور خدا رخی زندگی کی تعمیر ہے۔ الرسالہ مشن کے ذریعے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی واقع ہوئی، ہم آپ کی زبان میں اس کو مرتب کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے آپ کو دعوت دی جاتی ہے کہ آپ اس سلسلے میں اپنے تجربات اور واقعات ، نام و پتہ وغیرہ کی مکمل ضرورت نہیں ہے، مگر آپ اس سے آپ کی بات اور وضاحت، اپنے تفصیل کے ساتھ، ہم کو واضح اور متعین انداز میں لکھ کر روانہ فرمائیں :