Al-Risala · August 2012

خلافتِ آدم

Al-Risala, August 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے مطابق، انسانیت کا آغاز آدم اور حوا کی تخلیق سے ہوا۔ آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ قرآن کے بیان کے مطابق، انسان کی پیدائش سے پہلے سیارۂ ارض پر ایک ناری مخلوق جنات کو بسایا گیا تھا (15:27)۔ یہ غالباً اُس وقت کی بات ہے جب کہ زمین ابھی گرم حالت میں تھی۔ اس کے بعد جب زمین ٹھنڈی ہوئی اور یہاں کے سمندروں میں پانی بھر گیا تو اس کے بعد اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے لیے خلافتِ ارضی کا فیصلہ کیا۔ اس لحاظ سے انسان، خلیفۃ الجن ہے۔ مطابق، جنات نے زمین پر فساد برپا کیا، اِس لیے زمین کا چارج جنات سے چھین لیا گیا اور اس کو انسان کے حوالے کیا گیا۔ اسی معاملے کو قرآن میں ’’خلافت‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ موجودہ زمین پر انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے بسایا گیا ہے، لیکن یہ آزادی ایک مشروط اس کے مطابق، موجودہ زمین انسان کے لیے ایک امتحان گاہ ہے، وہ انسان کے لیے عیش گاہ اس معاملے کی ایک عملی مثال ابلیس اور ملائکہ کی صورت میں قائم کردی گئی ہے۔ جو لوگ ملائکہ کی مانند خدا کے حکم کے آگے سرینڈر کردیں، وہ قیامت کی عدالت میں کامیاب قرار پائیں گے، اور جو لوگ ابلیس کی مانند خدا کے حکم کے آگے سرینڈر نہ کریں، وہ قیامت کی عدالت میں ناکام قرار دئے جائیں گے۔ انسان کا یہ امتحان خود انسان کی سطح پر ہے، جیسا کہ ابلیس اور ملائکہ کے معاملے میں پیش آیا۔ اس معاملے سے انسان کو ہر زمانے اور ہر نسل میں باخبر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے۔ یہ پیغمبر لوگوں کی اپنی زبان میں صراطِ مستقیم کی وضاحت کرتے رہے۔ یہ پیغمبر جو کچھ کہتے تھے، وہ اللہ کی وحی سے کہتے تھے۔ تمام پیغمبروں کا ایک ہی مشترک اصول تھا—نصح و خیر خواہی، یعنی اپنے مدعو کی یک طرفہ طور پر خیر خواہی، مدعو کی طرف سے پیش آنے والی کسی بھی زیادتی پر رد عمل کا طریقہ اختیار کئے بغیر مثبت انداز میں اپنا پیغام دیتے رہنا۔ خدا اور فرشتوں کا مکالمہ آدم کی تخلیق کے وقت خدا اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اس سلسلے میں قرآن کی

آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں جانتا ہوں، جو تم اور اللہ نے سکھائے آدمی کو سارے نام، پھر اُن کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اُن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک، تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔

یہاں یہ سوال ہے کہ وہ کیا بات تھی جس پر فرشتوں کو اشکال پیدا ہوا، اور بعد کو کیا چیز اُن کے علم میں آئی جس کے بعد اُن کا اشکال دور ہوگیا۔ اصل یہ ہے کہ ابتدا میں فرشتوں نے آدمی کی نسل کو اس کے پورے مجموعۂ انسانیت کے اعتبار سے لیا۔ اُن کو نظر آیا کہ جس طرح اختیار پا کر جنات کا گروہ سرکش بن گیا، اس طرح اختیار پانے کے بعد انسانی نسل بھی مجموعی طور پر سرکش بن جائے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرے کے ذریعے انسانی نسل کے منتخب افراد کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور آدم نے ان منتخب افراد کا تعارف کرایا۔ اُس وقت فرشتوں کو اندازہ ہوا کہ اگرچہ مجموعہ کے اعتبار سے انسانی نسل میں فساد آ جائے گا، لیکن عمومی فساد کے باوجود ہر زمانے میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو فساد سے خالی ہوں اور اصلاح کے راستے پر چلنے والے ہوں۔ نسلِ انسانی کے اُنھیں منتخب افراد کو قرآن میں انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین (4: 69) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس مظاہرے کے بعد فرشتوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبے کا علم ہوا۔ فرشتوں نے جانا کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تعلق پورے مجموعۂ انسانیت کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ اس مجموعے کے استثنائی افراد سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جنت کی معیاری دنیا میں آباد کرنے کے لیے ایسے افراد درکار تھے جو مکمل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچائیں اور خدا کی زمین پر خدا کے مطیع بن کر رہیں۔ افراد صرف کھلی آزادی کے ماحول میں بن سکتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے اس کو کامل آزادی کے ماحول میں بسایا اور پھر فرشتوں کو مقرر کیا کہ وہ اُن استثنائی افراد کا ریکارڈ تیار کریں جو

دباؤ کے بغیر خدا کی معرفت حاصل کریں اور پھر اپنے آزادانہ فیصلے کے تحت اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کا یہی استثنائی افراد اللہ کے مطلوب افراد ہیں۔ انھیں مطلوب افراد کا انتخاب کرکے اُن کو جنت کی معیاری دنیا میں بسایا جائے گا۔

Printed page