اعلان و اسرار
Al-Risala, August 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت آدم کے بعد ان کی نسل جس علاقے میں پھیلی، وہ غالباً وہی علاقہ تھا جس کو میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے، یعنی دجلہ اور فرات کے درمیان کا زرخیز علاقہ۔ حضرت آدم کے بعد کئی نسلوں تک وہ درست حالت پر قائم رہے۔ پھر ان کے درمیان بگاڑ آیا۔ ان میں شرک پھیل گیا، یعنی خالق کے بجائے مخلوق کی پرستش کرنا۔ اس کے بعد ان کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ حضرت نوح نے وحی کے ذریعے ان کو خدا اور آخرت کا پیغام دیا۔ ان کی کوشش سے ان کی قوم کی ایک محدود تعداد اُن پر ایمان لائی، لیکن قوم کی بڑی اکثریت سرکشی پر قائم رہی۔ حضرت نوح نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ خدایا، میں نے اعلان کے ساتھ بھی کام کیا اور اسرار کے ساتھ بھی (71:9)۔ اس آیت میں اعلان سے مراد قوم سے اجتماعی خطاب ہے، اور اسرار سے مراد انفرادی سطح پر اُن کو نصیحت کرنا ہے۔ حضرت نوح نے لمبی مدت تک دونوں طریقے سے اپنا دعوتی مشن جاری رکھا، مگر قوم کی سرکشی ختم نہ ہوسکی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا طوفان بھیجا جس میں چند لوگ زندہ بچے جو حضرت نوح کی کشتی پر سوار تھے، بقیہ پوری قوم طوفان میں غرق ہو کر ہلاک ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس طوفان کے بعد حضرت نوح کے تین بیٹے زندہ بچے جن کا نام— حام، سام، انھیں تین بیٹوں سے بعد کی انسانی نسل چلی اور پھر وہ دھیرے دھیرے پوری سطح ارض پر پھیل جب انسانی نسل زمین کے مختلف حصوں میں آباد ہوئی تو ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے انھیں میں سے کسی فرد کو پیغمبر بنایا جس نے اپنی قوم کو خدائی صداقت کا پیغام دیا۔ مگر جو انجام ہوا، وہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ لوگوں نے اپنے پیغمبروں کا مذاق اڑایا اور ان کو ماننے سے انکار کر دیا (36:30)۔ اس عام گمراہی کا سبب لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ لوگ مخلوقات کو دیکھتے تھے، مگر خالق ان کو
نظر نہ آتا تھا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ مخلوقات میں سے جو چیز بظاہر بڑی دکھائی دی، اُسی کو اُنھوں نے اپنا معبود سمجھ لیا اور اس کو پوجنے لگے۔ مثلاً سورج اور چاند، وغیرہ۔ اس عام گمراہی کی بنا پر ایسا ہوا کہ پیغمبروں کی یا پیغمبروں کے مشن کی کوئی تاریخ ریکارڈ نہ ہوسکی۔ انسان نے جب لکھنا پڑھنا سیکھا تو اس نے اپنی تاریخ بھی لکھی، مگر ان تاریخوں میں بادشاہوں اور جنرلوں کے واقعات لکھے گئے، مگر پیغمبروں کو یا ان کے مشن کو ناقابلِ ذکر سمجھ کر چھوڑ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک کسی بھی پیغمبر کا حوالہ مدوّن تاریخ (recorded history) میں موجود نہیں۔ تاہم موجودہ زمانے میں زمین کی کھدائی سے پیغمبروں کے دور کے کچھ آثار برآمد ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر کچھ پیغمبروں کے حالات مورخین نے تحریر کئے ہیں۔ مثلاً حضرت ابراہیم انیسویں صدی عیسوی تک تاریخی شخصیت نہیں سمجھے جاتے تھے۔ بیسویں صدی کے نصف اول (1943-1922) میں کھدائی (excavation) کے ذریعے عراق کا قدیم شہر اُر (Ur) دریافت ہوا جو کہ حضرت ابراہیم کا مقامِ عمل اس کے بعد پیغمبر ابراہیم کو ایک تاریخی حیثیت سے مان لیا گیا۔