لوح محفوظ
Al-Risala, August 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ البروج میں یہ آیت آئی ہے: بل ھو قرآن مجید في لوح محفوظ (85: 21-22) یعنی وہ ایک با عظمت قرآن ہے، لوح محفوظ میں۔ اس آیت میں لوح محفوظ (well-guarded tablet) کا مطلب کیا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی مستند حدیث موجود نہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں ایک محفوظ لوح ہے اور اس لوح پر قرآن کا متن لکھا ہوا ہے۔ بات اصولاً درست ہے، لیکن لوح سے مراد معروف لوح نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ربانی لوح ہے۔ اصل یہ ہے کہ پورا عالم موجودات مکمل طور پر اللہ کے امر کے تحت ہے۔ شمس و قمر اور دوسرے ستاروں اور سیاروں کے بارے میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُن کا ایک مقرر کورس (determined course) ہے، اور وہ ادنیٰ انحراف کے بغیر اس مقرر کورس پر چلتے ہیں (36: 38)۔ اسی معاملے کو علمی طور پر اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ عالم مادی ،فطرت کے قانون (law of nature) کی پابند ہے، اور عالم حیوانات اپنی جبلت (instinct) کی پابند۔
انسان کا معاملہ بظاہر مختلف ہے، کیوں کہ انسان کو اپنے قول و عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ اس آزادی کے باوجود انسانی تاریخ پر اللہ نے اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔ تاریخ پر اسی کنٹرول کی ایک صورت وہ ہے جس کو قرآن کے حوالے سے اس طرح بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک لوح محفوظ میں ہے۔ لوح محفوظ کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں ہے، مطالعہ کے ذریعے اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن سے پہلے نبیوں کے ذریعے بہت سی کتابیں بھیجیں جو انسان کے لیے معتبر ہدایت نامہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ مگر پچھلی کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ اب آخری پیغمبر بھیج دیا جائے تو اس فیصلے کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ آخری پیغمبر کے ذریعے آئی ہوئی کتاب (قرآن) کی مستقل حفاظت کا انتظام کر دیا جائے ــــ لوح محفوظ کے الفاظ میں قرآن کے اسی مخصوص حفاظتی انتظام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اس کی تدبیر یہ کی گئی کہ اولاً قرآن کا معیاری متن (standard version) علم الہی یا بہ الفاظ دیگر، ملاء اعلیٰ میں محفوظ کر دیا گیا اور پھر تاریخ کے لیے مقدر کردیا گیا کہ وہ اس معاملے میں اسی رخ پر سفر کرے۔ چناں چہ عملاً یہی ہوا۔ اولاً یہ ہوا کہ ساتویں صدی کے نصف اول میں قرآن کو حافظے سے کتابت کی صورت میں محفوظ کیا گیا۔ ہزاروں لوگوں نے نسل درنسل یہ کیا کہ قرآن کو نہ صرف یاد کر کے اپنے حافظے میں ریکارڈ کر لیا، بلکہ اسی کے ساتھ وہ قرآن کے کتابت شدہ نسخے برابر تیار کرتے اس طرح وہ ایک نسل سے دوسری نسل تک مکتوب قرآن کو پہنچاتے رہے۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: علّم بالقلم ـــ تعلیم بالقلم کا یہ عمل اس طرح مسلسل تقریباً ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ انسانوں کو یہ توفیق دی کہ وہ طباعت کے آلات ایجاد کریں۔ اس فن کے ارتقا میں بہت سے انسانوں نے کام کیا۔ آخر کار جرمن گولڈ سمتھ جو ہانس گوٹن برگ (وفات: 1468) اس میں کامیاب ہو گیا کہ وہ ایک قابل عمل طباعتی آلہ اس دریافت کے بعد تاریخ میں ایک پرنٹنگ انقلاب (printing revolution) آیا جو تیزی سے ترقی کرتے ہوئے موجودہ اعلیٰ طباعتی مشین (printing press) تک پہنچا۔ لوح محفوظ کے الفاظ میں اسی تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قرآن کا نزول 610 عیسوی میں شروع ہوا۔ اس کی تکمیل تقریباً 23 سال میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق سے استثنائی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ خدا کے نزدیک، قرآن کا جو معیاری متن (standard version) تھا، وہ ادنیٰ تغیر کے بغیر پہلے انسانی حافظے میں ریکارڈ ہوا، پھر ادنیٰ تغیر کے بغیر کتابت کے ذریعے اس کی
جلدیں بنائی گئیں، پھر تاریخ میں ایک پر اس جاری ہوا جس کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کا ایک نسخہ نہایت درست طور پر تیار کیا جائے اور پھر اس کی بلین اور بلین کا پیاں تیار کر لی جائیں۔ آج ہر گھر میں اور ہر مسجد میں اور ہر مدرسہ اور ہر لائبریری میں قرآن کے نہایت صحیح مطبوعہ نسخے موجود ہیں۔ اس طرح خدا کی تقدیر اس بات کی ضامن بن گئی کہ قرآن کسی بھی قسم کے تغیر اور تبدل کے بغیر ہر انسان کے لیے قابل دستیاب ہو جائے ۔ سیکولر مبصرین عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا سفر اس کے پیغمبر کے جلد ہی بعد ٹوٹ گیا، بعد کی تاریخ میں اسلام کا تسلسل باقی نہ رہا۔ مگر یہ رائے صرف سرسری مطالعے کا نتیجہ ہے۔ اسلام خدا کا دین ہے۔ اسلام کی تاریخ خدائی منصوبے کے تحت مسلسل سفر کر رہی ہے۔ غلط فہمی صرف اس لیے ہوتی ہے کہ لوگ یہ نہیں جانتے که تاریخ کا ہر سفر ناموافق حالات میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا سفر انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے جاری ہے، نہ کہ انسانی آزادی کو منسوخ کر کے۔ انسانی تاریخ میں اسلام کے سفر کے تین مرحلے ہیں: Land expansion—consolidation—overseas expansion پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں اپنے مشن کا آغاز 610 عیسوی میں کیا۔ بعد دین توحید کی ایک نئی تاریخ بنی۔ اس تاریخ کا خلاصہ یہ تھا کہ انسانی آزادی کو منسوخ کئے بغیر دین توحید کی تاریخ بنانا اور اس کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچانا۔ اس تاریخ پر اب تقریبا ڈیڑھ ہزار سال گزر چکے ہیں۔ یہ تاریخ مسلسل طور پر اپنی منزل کی طرف سفر کر رہی ہے۔ اس مدت کے دوران بظاہر جو اتار چڑھاؤ کے واقعات نظر آتے ہیں، وہ انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے تاریخ کو پہنچ (manage) کرنے کی مثالیں ہیں۔
قرآن کی سورہ الانعام میں بتایا گیا ہے کہ یہ قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ تم اے پیغمبر ، آگاہ کردو اہل مکہ کو اور مکہ کے اطراف کے لوگوں کو (92 :6)۔ قرآن کی اس آیت میں، مکہ اور اطراف مکہ سے مراد بڑی حصہ ارض ہے، جہاں تک اُس زمانے کے درمیان حق کا پہنچنا بہ آسانی ممکن تھا۔
زمین کے نقشہ (map) پر نظر ڈالیں تو عرب کے ایک طرف بحر متوسط (Mediterranean Sea) ہوگا، جس کے دوسری طرف یورپ کا براعظم واقع ہے۔ اسی طرح اگر آپ عرب سے افریقہ کی طرف چلیں تو اس کی آخری سرحد پر اٹلانٹک سمندر (Atlantic Ocean) ہوگا، جس کے دوسری طرف امریکا کا براعظم واقع ہے۔ اسی طرح اگر آپ عرب سے بحر ہند (Indian Ocean) کی طرف چلیں تو اس کے دوسری طرف آسٹریلیا کا براعظم دکھائی دے گا۔
عقبہ بن نافع (وفات: 683ء) ایک تابعی تھے۔ وہ عرب سے ایک دستہ لے کر نکلے اور افریقہ میں اسلام کی اشاعت کرتے ہوئے اس کے مغربی ساحل تک پہنچ گئے۔ یہاں تاحد نظر اٹلانٹک سمندر (Atlantic Ocean) پھیلا ہوا تھا۔ وہ اُس وقت گھوڑے پر سوار تھے۔ انھوں نے اپنا گھوڑا سمندر کے کنارے کھڑا کیا اور کہا: اللهم إني لو أعلم وراء هذا البحر بلداً لخُضتُہ إليه، حتى لا يُعبد أحد دونك (خدایا، اگر میں جانتا کہ اِس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا، یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے)۔ عقبہ بن نافع کا یہ واقعہ علامتی طور پر یہ بتاتا ہے کہ دورِ اول میں اسلام کی دعوتی توسیع زمین کے بری حصے میں برابر ہوتی رہی، لیکن وہ سمندر پار کے ملکوں تک نہ پہنچ سکی، کیوں کہ سمندری سفر کے لیے اْس زمانے میں قابلِ اعتماد اسباب موجود نہ تھے۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ ایک پہلو استحکام (consolidation) تھا۔ استحکام کے بغیر دعوتی توسیع عملاً غیر موثر ہو جاتی، حتی کہ قرآن کی حفاظت بھی ممکن نہ ہوتی۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالی نے ایسے عالمی حالات پیدا کئے کہ ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہو گیا۔ یہ مسلم ایمپائر اس بات کا ضامن تھا کہ خدا کا آخری دین پوری طرح محفوظ ہو جائے اور اس کی اشاعت مسلسل جاری رہے۔
مذکورہ استحکام کے دور میں اس کے زیر اثر ایک اور تاریخی پراسس (historical process) اس کا مقصد تھا فطرت (nature) میں چھپے ہوئے امکانات کو وقوع میں لانا۔ تدریج کے ساتھ تاریخ میں جاری رہا۔ اس عمل کا آغاز ابتداء مسلمانوں نے کیا۔ اس کے بعد
یورپ میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر کار وہ چیز وجود میں آگئی جس کو کمیونیکیشن کا دور (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس مواصلاتی انقلاب کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کی توسیع زمین کے بڑی حصے تک محدود نہ رہے، بلکہ وہ سمندر پار کے ملکوں تک بہ آسانی پہنچ جائے۔ اسلامی دعوت کی عالمی توسیع اول دن سے اسلام کا نشانہ تھی (25: 1)۔ مگر اسلام کی یہ عالمی توسیع، اسباب کی اس دنیا میں ضروری وسائل کے بغیر ممکن نہ تھی۔ جدید مواصلاتی انقلاب نے اس کو پوری طرح ممکن بنا دیا۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی واقعہ تھا جس کی خبر پیشگی طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دے دی تھی: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، رقم الحديث: 24215) یعنی زمین کی پشت پر کوئی گھر یا خیمہ ایسا نہیں بچے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہو جائے۔
اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام انسان جو اس زمین پر پیدا ہوئے، اُن کو موت سے پہلے یہ بتا دیا جائے کہ خدا کا تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) ان کے بارے میں کیا انسان کی پوری تاریخ میں اس کو مسلسل طور پر جاری رہنا ہے۔ آغاز کے پہلے مرحلے میں اس کی توسیع زمین کے بری حصہ (ایشیا اور افریقہ) میں ہوتی رہی۔ اس کے بعد استحکام کے ساتھ ایسے مادی اسباب پیدا ہوئے جس کے تحت مواصلاتی ذرائع میں ایسا انقلاب آیا جس کے تحت یہ ممکن ہو گیا کہ اسلامی دعوت کی عالمی اشاعت کا کام کیا جا سکے۔ موجودہ زمانے میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اور دوسرے ذرائع کی بنا پر اسلامی دعوت کے اس عالمی نشانے کو پورا کرنا آخری حد تک ممکن ہو گیا ہے۔ اسی کے ساتھ موجودہ زمانے میں مذہبی آزادی (religious freedom) بھی مکمل طور پر حاصل ہو چکی ہے۔ اب امت محمدی سے وابستہ افراد کی یہ لازمی ذمے داری ہے کہ وہ اسلام کے دعوتی مشن کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچائیں، یہاں تک کہ کئہ ارض پر بسنے والا کوئی مرد یا عورت خدا کے اس پیغام سے بے خبر نہ رہے۔