Al-Risala · August 2012

Aug-2012

Al-Risala, August 2012, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

(13 جون 2012 کو بیروہ (کشمیر) میں حلقہ الرسالہ کے تحت ایک دعوہ میٹ ہوئی۔ اُس کے لیے صدرِ اسلامی مرکز نے دہلی میں اپنا ایک پیغام ریکارڈ کروایا جو اس دعوہ میٹ میں سنایا گیا۔ زیرِ نظر مضمون اِسی خطاب پر مشتمل ہے) بسم اللہ الرحمن الرحیم ہر چیز کا ایک سپر فارمولا (super-formula) ہوتا ہے۔ اسلام کا سپر فارمولا یا سنٹرل تھیم (central theme) کیا ہے، وہ ہے شکر، یعنی پہلی آیت جو قرآن مجید کی ہے: ”الحمـد لله رب العالمین“ وہی اسلام کی سنٹرل تھیم ہے۔

جب ایک مسلمان پیدا ہوتا ہے تو اس کے کان میں سب سے پہلی آواز جو ڈالی جاتی ہے، وہ کیا ہے، وہ ہے ”اللہ اکبر“، یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے بعد جب وہ قرآن کو پڑھتا ہے تو سب سے پہلی آیت یہ پڑھتا ہے کہ حمد صرف اللہ کے لئے ہے۔ اس کلمہ کو وہ روزانہ اپنی پانچ وقت کی نمازوں میں بار بار پھر قرآن میں ہے کہ آخرت میں بھی یہی ہوگا: ”وقیل الحمد لله رب العالمین“۔ دنیا سے لے کر آخرت تک جو سب سے بڑی چیز مقرر کی گئی ہے، وہ ہے حمد میں جینا۔ ہے، وہ شکر ہے۔ اللہ کی عظمت کو جب آپ پہچانتے ہیں، جب آپ اللہ کی بڑائی کو دریافت کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں جو چیز پیدا ہوتی ہے، وہ ہے اعتراف (acknowledgement)، اِسی اعتراف کا دوسرا نام شکر ہے۔ خود کو جانچنے کے لیے کہ میں اسلام پر ہوں یا نہیں، اللہ کے صحیح راستہ پر ہوں یا نہیں، اس کو پہچاننے کا جو معیار ہے، وہ حمد ہے۔ اگر آپ کو یہ سمجھنا ہے کہ میں اللہ کے راستہ پر ہوں کہ نہیں، تو اپنے آپ کو اس اعتبار سے جانچئے کہ آپ کے اندر شکر کی نفسیات ہے یا نہیں۔

دیکھئے، شکر کرنے والے ہی کے لیے جنت ہے۔ قرآن میں ہے: ”إلّا من أتی الله بقلب سلیم“، جو آدمی قلبِ سلیم کے ساتھ آیا آخرت میں، اس کو جنت میں داخلہ ملے گا۔ قلبِ سلیم کیا ہے، وہ دل جس کے اندر نفرت نہ ہو، کینہ نہ ہو، غصہ نہ ہو، کسی کے خلاف برائی نہ ہو، جو ایسا دل لے کر آخرت میں پہنچا، اسی کے لیے جنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایک صحابی کے کندھے پر

ہاتھ رکھا اور کہا کہ: اگر تم سے ہو سکے تو تم اپنی صبح اور شام اس طرح کرو کہ تمھارے دل میں کسی کے خلاف غش نہ ہو، کینہ (malice) نہ ہو، نفرت نہ ہو، یہ سب چیزیں نہ ہوں۔ اس کو ہم اگر دوسرا لفظ دیں تو کہیں گے کہ— مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ دنیا میں رہو، مثبت سوچ کے ساتھ جیو، مثبت سوچ کے ساتھ مرو۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے جنت ہے۔

دیکھیے ہوتا کیا ہے، ہم سب جانتے ہیں اس بات کو، لیکن ہم کسی چیز کو الگ کر دیتے ہیں۔ پولیٹکل (political) شکایت ہوتی ہے تو ہم سوچتے ہیں کہ یہ تو الگ چیز ہے۔ پولیٹکل شکایت الگ چیز نہیں ہے، پولیٹکل شکایت بھی اسی میں شامل ہے۔ دوسری شکایتوں کو لے کر اگر آپ نیگیٹیو (negative) ہوگئے، دوسری شکایتوں کو لے کر اگر آپ کی پازیٹیو تھنکنگ (positive thinking) ختم ہوگئی، تو آپ نے جنت کا رسک (risk) لیا۔ اسی طرح دیکھیے، پولیٹکل شکایتوں کو لے کر اگر آپ نیگیٹیو (negative) ہوگئے، آپ کے اندر نفرت آئی، تشدد آیا، تو بس جنت رسک میں آگئی۔ یاد رکھیے، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں آپ کو کوئی بھی اکسکیوز (excuse) لینا نہیں ہے۔ نہ پولیٹکل اکسکیوز (political excuse) نہ ہی سوشل اکسکیوز (social excuse) نہ ہی اور کوئی اکسکیوز (excuse)۔

جب بھی کوئی تجربہ آپ کے اندر ناشکری پیدا کرے، آپ کے اندر نفرت پیدا کرے، آپ کو نفرت اور تشدد کی طرف لے جائے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ شیطان کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے آغاز ہی میں ایک مثال قائم کردی۔ ایک طرف تھے فرشتے، دوسری طرف تھا ابلیس۔ کے راستہ پر چلا: ”رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِيْ “۔ ابلیس نے نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ سے شکایت کی۔ فرشتوں نے کہا کہ جو آپ کا حکم ہے، یعنی جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، ہم اس کو دل سے مانتے ہیں۔ تو یہ اللہ تعالیٰ نے نمونہ قائم کر دیا کہ جو نفرت اور شکایت اور تشدد کے راستہ پر چلے گا، اس کا انجام شیطان کے ساتھ ہوگا، اور جو محبت، خیر خواہی اور امن اور positivity کے راستے پر چلے گا، اس کے لئے جنت ہے، اس کے لیے اللہ کی رضا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص کو اسی اعتبار سے اپنا محاسبہ (introspection) کرنا چاہئے کہ ہم نے اپنی family life میں، اپنی social life میں اور اپنی قومی زندگی میں کون سا راستہ

اختیار کیا ہے نفرت والا راستہ یا محبت والا راستہ، امن والا راستہ یا تشدد والا راستہ۔ اسی سے فیصلہ ہوگا کہ ہم اللہ کے راستے پر ہیں، یا شیطان کے راستے پر ہیں۔

یہ سب سے بڑی چیز ہے جس کا ہمیں ہر صبح وشام محاسبہ کرنا چاہئے۔ کیوں کہ ہر آدمی کو مرنا مرنے کے بعد اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یاد رکھئے، اللہ کے سامنے کوئی ایکسکیوز (excuse) نہیں چلے گا، کوئی عذر نہیں چلے گا۔ جو پرسنالٹی (personality) آپ نے بنائی ہے، اسی کے ساتھ آپ خدا کے سامنے جائیں گے۔ دنیا میں جو تجربات ہوتے ہیں، اس کے درمیان کیا ہوتا ہے—کسی کی پرسنالٹی، پازیٹیو پرسنالٹی (positive personality) بنتی ہے اور کسی کی نیگیٹیو پرسنالٹی (negative personality) بنتی ہے۔ کوئی آدمی ہوتا ہے نفرت میں جینے والا، کوئی ہوتا ہے محبت اور خیر خواہی میں جینے والا، کوئی ہوتا ہے امن میں جینے والا، کوئی ہوتا ہے تشدد میں جینے والا۔ اسی چیز سے آدمی کی پرسنالٹی بنتی۔ یہی پرسنالٹی آدمی کو یا تو جہنم میں لے جائے گی یا جنت میں لے جائے گی۔ جیسے میں اس وقت دلی میں ہوں۔ میں بول رہا ہوں اور آپ لوگ کشمیر میں میری آواز کو سن دلی اور کشمیر کے بیچ میں 850 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اتنی دوری کے باوجود میں آپ کو ایڈریس کر رہا ہوں، آپ میری بات کو سن رہے ہیں۔ کتنی بڑی نعمت ہے یہ۔ پچھلے زمانہ میں کسی بادشاہ کو بھی یہ نعمت حاصل نہیں تھی، اسی کا نام شکر ہے، ہم کو رات دن شکر ہی کرتے رہنا چاہئے۔ میرا مشورہ ہے، شکر میں جینے والا بنئے، شکر کے آئٹم کو تلاش کیجئے، اور ناشکری کے آئٹم کو چاہے پولیٹکل لائف ہو یا کوئی اور لائف ہو، ہر جگہ دونوں قسم کے آئٹم ہوتے ہیں، شکر کے بھی اور اور ناشکری کے بھی۔ تو شکر کے آئٹم کو تلاش کر کے، اس کو اپنے مائنڈ میں بٹھائیے، ناشکری کے آئٹم کو بھلائیے، بھلائیے، بھلائیے، تاکہ آپ کے اندر مثبت شخصیت (positive personality) بنے، یعنی وہ پرسنالٹی جو آپ کو جنت کا مستحق بنائے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور آپ کو اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق دے، اور ہم آپ اللہ کے سامنے اس طرح حاضر ہوں کہ اللہ ہمیں قبول کرے، وہ ہمیں رد نہ أقول قولي هذا، وأستغفر الله لي ولكم اجمعين۔

عزیزم عبد الرحمن چاؤش السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 16 مئی 2012 کو ٹیلی فون پر یہ خبر ملی کہ عزیزه ام السلام (پیدائش: 1950) کا انتقال ہو گیا: انا للہ وانا اليه راجعون۔ مرحومہ میری اولاد میں بلکہ میری پوری فیملی میں سب سے زیادہ نیک خاتون تھیں ۔ خاندان کے کسی شخص کو کبھی اُن سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش نہیں آیا ۔ وہ پورے معنوں میں صبر وشکر کا پیکر اپنی صفات کے اعتبار سے وہ بلا شبہ ایک جنتی خاتون تھیں ۔ مرحومہ اتنا زیادہ صالح مزاج کی خاتون تھیں کہ وہ نہ کبھی کسی سے فرمائش کرتی تھیں ، نہ کسی سے ان کو شکایت ہوتی تھی ۔ وہ گھر میں کبھی کوئی پرابلم پیدا نہیں کرتی تھیں ۔ وہ کبھی دنیوی باتوں کا چرچا نہیں کرتی تھیں ۔ بس اپنی ذمے داری ادا کرنا اور نماز، روزہ کرنا، یہی ان کا مشغلہ تھا۔ صبر، قناعت، سادگی، شکر، یہ سب باتیں ان کی زندگی کا حصہ بن گئی تھیں ۔ ام السلام بظاہر میرے دعوتی مشن میں براہ راست شریک نہ تھیں ، مگر وہ برابر اس کے لئے دعا کرتی میرے ساتھ اللہ تعالی کا یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ میرے تمام بچے ، بلکہ بچوں کے بچے بھی میرے دعوتی مشن میں کسی نہ کسی پہلو سے شریک ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سب سے زیادہ دخل ام السلام کی دعاؤں کا مرحومہ اس بات کی ایک انوکھی مثال تھیں کہ دعوتی مشن میں شریک نہ ہوتے ہوئے بھی ایک شخص بالواسطہ طور پر دعوتی مشن کے لیے بہت بڑا کام کر سکتا ہے۔ مرحومہ دل سے میرے دعوتی مشن میں شریک تھیں ۔ اپنے شوہر محمد عثمان چاؤش (وفات : 2005) کے لیے کبھی کوئی مسئلہ نہ بنیں۔ ان کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ محمد عثمان چاؤش صاحب کو یہ موقع ملا کہ وہ پورے مہاراشٹر میں ہمارے دعوتی لٹریچر کو پھیلا دیں ۔ دعوتی مشن میں اُن کی خاموش شرکت کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان کی اولادیں سب کی سب، دعوتی مشن میں شامل ہو گئیں۔ وہ مقرریا محر نہ تھیں ، مگر انھوں نے اپنے صالح مزاج کی بنا پر مقرر اور محرر سے بھی زیادہ بڑا کام کیا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے ۔ میری دعا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالی مرحومہ کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آپ کے گھر میں ان کے جانے سے جو کمی واقع ہوئی ہے، خدا اس کی بھر پور تلافی فرمائے۔

Printed page