Al-Risala · August 2012

نئی دہلی، یکم جون 2012 دعا گو وحید الدین

Al-Risala, August 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

رمضان کا مہینہ ہجری کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اہل ایمان کے لیے روزہ رکھنے کا حکم ہے (2: 183)۔ رمضان کے مہینے کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں شبِ قدر واقع ہوتی ہے۔ شب قدر کو قرآن میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے۔ یہ لیلۃ القدر دوسری ہزار راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ شب قدر کا ذکر قرآن کی سورہ القدر (97) میں آیا ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: ”بے شک ہم نے قرآن کو اتارا ہے شب قدر میں۔ اور تم کو کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں، ہر حکم لے کر۔ وہ رات سرتاسر سلامتی ہے، صبح نکلنے تک“۔

یہ 610ء کی ایک رات تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے قریب غارِ حرا میں موجود تھے۔ جبریل، قرآن کی پہلی وحی لے کر آپ کے پاس آئے۔ یہ پہلی وحی سورہ العلق (96) کی ابتدائی پانچ آیتیں قرآن کا نزول خدا کی عظیم رحمت کا نزول تھا، اس لیے اُس رات کو ایک یادگار رات قرار دیا گیا۔ شب قدر کے موقع پر خدا اپنے سالانہ فیصلے فرماتا ہے۔ اس لیے یہ رات ذکر اور دعا اور عبادت اور تلاوت کی رات قرار دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو اس موقع پر زیادہ سے زیادہ خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ دعا کرنا چاہیے، تا کہ خدا کے سالانہ فیصلوں میں اُس کو خدا کی رحمت میں زیادہ سے زیادہ حصہ ملے۔ وہ خدا کے نزدیک زیادہ سے زیادہ انعام کا مستحق قرار پائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں رمضان کی آخری راتوں میں اعتکاف میں تھا، اُس وقت مجھ پر شب قدر کا علم اُتار اگیا۔ میں مسجد سے باہر نکلا، تاکہ میں تم کو شب قدر کے وقت کے بارے میں بتا دوں، لیکن اُس وقت مدینہ کے دو مسلمان آپس میں لڑ گئے، اس کے بعد شب قدر کا علم اٹھا لیا گیا (فتلاحی رجلان من المسلمين، فُرفعت) صحيح البخاري، رقم الحديث: 1919۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شب قدر کی خصوصی رحمتوں میں حصے دار بننے کے لیے کیا چیز ضروری ہے، وہ چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر لڑائی جھگڑے کا مزاج نہ ہو۔ اُس کا دل نفرت جیسے منفی جذبات سے خالی ہو۔ اُس کا ذہن پوری طرح مثبت انداز میں سوچنے والا ہو۔ جو عورت یا مرد اپنے اندر اس قسم کی مثبت شخصیت رکھتے ہوں، انھیں کو شب قدر کی رحمتوں میں حصہ ملے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں شب قدر کو پاؤں تو میں کیا دعا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اس طرح کہو: اللهم إنك عفو تحب العفو، فاعف عني (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 3513) یعنی اے اللہ، تو سرتا پا معافی ہے اور تو معافی کو پسند کرتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ شب قدر میں آدمی کے اندر سب سے زیادہ طلب کس چیز کی ہونا چاہیے، وہ یہ کہ آدمی موت کے بعد آنے والی ابدی زندگی کی کامیابی کا حریص ہو۔ وہ اللہ سے یہ درخواست کرے کہ— خدایا، تو میری غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما، آخرت کی ابدی زندگی میں تو مجھے دوزخ سے بچا، اور جنت کے باغوں میں تو مجھے جگہ عطا فرما۔

قرآن کے مطابق، شب قدر میں کثرت سے خدا کے فرشتے اترتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا شب قدر کی صورت میں ہر عورت اور مرد کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ فرشتوں کا ہم نشیں بنے۔ فرشتوں سے ایسی روحانی غذا لے جس کے نتیجے میں اُس کا دل سلامتی کے جذبات سے بھر جائے۔ منفی جذبات اور دنیا پرستی سے اوپر اٹھ جائے اور حقیقی معنوں میں وہ خدا کا طالب بن جائے۔ دل و دماغ رکھنے والے لوگ شب قدر کے موقع پر خدا کی خصوصی رحمتوں میں حصے دار بنیں گے۔ شب قدر ایک اعتبار سے شب امن ہے۔ جس عورت یا مرد کو شب قدر کی رحمتیں مل جائیں، اُس کا دل امن و سلامتی کے جذبات سے بھر جائے گا۔ اس کی سوچ پر امن سوچ ہوگی۔ اس کی گفتگو پر امن گفتگو اس کا کردار پر امن کردار ہوگا۔ اس کا طریقہ پر امن طریقہ ہوگا۔ اس کی پوری شخصیت امن پسند شخصیت بن جائے گی۔ اس کے ذریعے سے دوسروں کو جو چیز ملے گی، وہ امن ہوگا اور صرف امن۔

Printed page