قرآن : کتاب قدر
Al-Risala, August 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ القدر کی پہلی آیت یہ ہے: إِنَّا أنزلناه في ليلة القدر (97:1) یعنی ہم نے قرآن کو اتارا ہے قدر کی رات میں۔ اس آیت میں قدر کا مطلب تقدیر (Destiny) ہے۔ آیت میں قدر کی نسبت رات کی طرف کی گئی ہے، مگر حقیقت میں اس کی نسبت قرآن کی طرف ہے، یعنی وہ رات جس میں کتاب قدر (Book of Destiny) اتاری گئی۔
قرآن میں انسان کی تقدیر بتائی گئی ہے، یعنی وہ قوانین فطرت جو انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے ہیں، فرد کی تقدیر بھی اور قوم کی تقدیر بھی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ قرآن کے ان ابدی قوانین تقدیر کو معلوم کرے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔
مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: إن تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً (3: 120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے مقرر کئے ہوئے قانون حیات کے مطابق، انسان کی طاقت کا سرچشمہ صبر اور تقویٰ ہے۔ کسی فرد یا قوم کا اصل مسئلہ سازش غیر کی موجودگی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اپنے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود نہیں۔
اس قانون فطرت کے مطابق، اگر کوئی قوم یہ پائے کہ دوسرے لوگ اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے، نہ کہ اپنے آپ سے باہر۔ طرح کی صورت حال میں کسی مفروضہ حریف کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلانا اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک غیر متعلق (irrelevant) کام ہے۔
اصل یہ ہے کہ ایسے موقع پر خود اپنا جائزہ لیا جائے، صبر و تقویٰ کے اعتبار سے اپنی کمیوں کو تلاش کیا جائے۔ جو لوگ اس اعتبار سے قرآن کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں، وہی شب قدر کی برکتوں کو پائیں گے۔
آپ نے لکھا ہے کہ جنت کسی کی سفارش سے نہیں ملتی، اگر ایسا ہے تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے کہ میری شفاعت میری اُمت کے گناہِ کبیرہ کرنے والوں کے لئے ہے: شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي (مسند أحمد، رقم الحديث: 13566)۔ ابھی الرساله، جون 2012 کا شمارہ مجھے ملا۔ اس میں ’’وسیلہ کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے آپ کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے جنت اور مغفرت حاصل نہیں ہوگی اور اس کو وسیلہ کا نام دینا خود ساختہ مفہوم ہے۔ جو شخص اپنے عمل کے اعتبار سے جنتی نہ ہو، وہ پیغمبر کی سفارش سے جنتی نہیں بن اگر کوئی شخص شفاعت کا یہ مطلب سمجھتا ہے تو یہ مطلب صحیح نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ نہ کسی کو پیغمبر کی سفارش سے جنت اور مغفرت حاصل ہوگی اور نہ کوئی جہنمی شخص پیغمبر کی سفارش سے جنتی بن جائے گا۔ تمام تر اللہ کا عطیہ ہے، قرآن اور حدیث دونوں میں اس بارے میں واضح ہدایات ہیں۔ میں جاننا چاہوں گا کہ قرآن کی کس آیت میں اور حدیث کی کس روایت میں یہ واضح ہدایات آپ نے شفاعت کا جو مطلب بیان کیا ہے، اُس کی روشنی میں ’’شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي‘‘ کا مفہوم واضح فرمائیں۔ (اے، جے، قادری، امبیڈکر نگر، یوپی) احادیث کے بارے میں علما کا مسلک یہ ہے کہ جب دو حدیثوں میں تعارض ہو تو ایک حدیث کو لیا جائے گا اور دوسری حدیث کی تاویل کی جائے گی، مسند احمد کی مذکورہ روایت کا معاملہ یہی ہے۔ ایک طرف یہ حدیث ہے اور دوسری طرف ایسی کئی روایتیں ہیں جو اس حدیث کے سراسر خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں اس سلسلے میں چند حدیثیں نقل کی جاتی ہیں:
1- ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ ما أدري، وأنا رسول اللہ، ما يفعل بي، ولا بكم (صحیح البخاري، رقم الحديث: 7018) یعنی خدا کی قسم، میں
نہیں جانتا، اگر چہ میں خدا کا رسول ہوں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمھارے ساتھ۔ 2 - عن أبي هريرة قال لما نزلت: وأنذر عشيرتك الأقربين۔ جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم قريشا فخص وعمّ، فقال يا معشر قريش، انقذوا أنفسكم من النار، فإني لا أملك لكم من الله ضرا ولا نفعا۔ يا معشر بني عبد مناف، أنقذوا أنفسكم من النار، فإني لا أملك لكم من الله ضرا ولا نفعا۔ يا معشر قصي، أنقذوا أنفسكم من النار، فإني لا أملك لكم من الله ضرا ولا نفعا۔ يا معشر بني عبد المطلب، أنقذوا أنفسكم من النار، فإني لا أملك لكم من الله ضرا ولا نفعا۔ يا فاطمة بنت محمد، أنقذي نفسك من النار فإني لا أملك لك من الله ضرا (سنن الترمذي، رقم الحديث: 3185)
یعنی جب قرآن کی یہ آیت اتری: وأنذر عشيرتك الأقربين (26: 214) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو جمع کیا۔ آپ نے خصوصی طور پر اور عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے قریش کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے بنو عبد مناف کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے بنی قصّی کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے بنو عبد المطلب کے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ اے فاطمہ بنت محمد، تم اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، کیوں کہ میں تمھارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کسی ضرر پر قدرت رکھتا اور نہ کسی نفع پر۔ 3- عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: سددوا وقاربوا وأبشروا، فإنه لا يُدخل أحدًا الجنة عمله. قالوا: ولا أنت يا رسول الله۔ قال: ولا أنا، إلا أن يتغمدني الله بمغفرة ورحمة (صحیح البخاری، رقم الحديث: 6467) یعنی رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا رویہ درست رکھو اور میانہ روی پر قائم رہو اور پرامید رہو، کیوں کہ کسی بھی شخص کو اُس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے کہا کہ کیا آپ کو بھی نہیں اے خدا کے رسول، آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھ کو بھی نہیں، الایہ کہ اللہ مجھ کو اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: ليس للإنسان إلا ما سعی (53:39)۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لیے کچھ نہ کر سکے گا۔ اُس دن سارا معاملہ صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا: يوم لا تملك نفس لنفس شيئاً، والأمر يومئذ لله (19:82)۔ ان آیتوں اور ان حدیثوں سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا جنت میں داخلہ صرف اپنے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی دوسرے شخص کی سفارش کی بنیاد پر۔ میں مسلمہ اصول کی بنیاد پر مذکورہ روایت (شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي) یا اس قسم کی کسی اور حدیث شفاعت کی تاویل کی جائے گی۔ وہ تاویل یہ ہے کہ حدیث میں شفاعت سے مراد سفارش (recommendation) نہیں ہے، بلکہ شہادت (witness) ہے۔ اس تاویل کا درست ہونا خود قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن کی سورہ الزخرف میں یہ آیت اس موضوع پر حجتِ قاطع کی حیثیت رکھتی آیت کے الفاظ یہ ہیں: ولا يملك الذين يدعون من دونه الشفاعة، إلا من شهد بالحق وهم يعلمون (43:86) یعنی اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، مگر وہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں گے۔
اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ ”قیامت میں پیغمبر اور داعیانِ حق جو شفاعت کریں گے، وہ حقیقۃً شفاعت نہیں ہے، بلکہ شہادت ہے، یعنی ایسی بات کی گواہی دینا جس کو آدمی ذاتی طور پر جانتا ہو۔ آخرت میں جب لوگوں کا مقدمہ پیش ہوگا تو سارے علم کے باوجود اللہ تعالیٰ مزید تائید کے طور پر اُن لوگوں کو کھڑا کرے گا جو قوموں کے ہم عصر تھے، انھوں نے اُن کے سامنے حق کا پیغام پیش کیا، پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہیں مانا، کسی نے حق کا ساتھ دیا اور کوئی حق کا مخالف بن کر کھڑا ہو گیا۔ یہی تجربہ جو اُن صالحین پر براہِ راست گزرا، اس کو وہ خدا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ ایسا ہی
ہوگا جیسے کہ کوئی گواہ عدالت میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ایک سچا بیان دے۔ اس کے سوا کسی کو قیامت میں یہ اختیار حاصل نہ ہوگا کہ وہ کسی مجرم کا شافع بن کر کھڑا ہو اور وہ اس کے بارے میں اُس خدائی فیصلے کو بدل دے جو از روئے واقعہ اس کے بارے میں ہونے والا تھا۔ خدا اس سے بہت بلند ہے کہ اُس کے حضور کوئی شخص ایسا کرنے کی کوشش کرے۔ “ (تذکیر القرآن، صفحہ: 1351) غلو کیا ہے اور غلو کا نقصان کیا ہے۔ براہِ کرم، اس کو واضح فرمائیں، نیز یہ بتائیں کہ کسی تحریک سے وابستہ افراد اپنی تحریک کو غلو اور فرقہ بندی کی نفسیات سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔ (عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر)
اسلام میں غلو سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ممانعت قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ اور حدیث میں اگرچہ غلو کے لیے حرام کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے غلو کی برائی یقینی طور پر حرام سے کم نہیں۔
غلو کا مطلب حد سے تجاوز کرنا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو انتہا پسندی (extremism) کہا جاسکتا ہے۔ غلو کی دو قسمیں ہیں ــ اعتقادی غلو، اور عملی غلو۔ دونوں قسم کے غلو کی نوعیت ایک دوسرے سے الگ ہے۔ عملی غلو سے انفرادی مزاج میں بگاڑ آتا ہے، لیکن اعتقادی غلو کی برائی اس سے اعتقادی غلو اگر بڑھ جائے تو اُس سے نئے نئے فرقے وجود میں آتے ہیں۔ عملی غلو کی ایک مثال یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ ہوائی جہاز سے سفر کرنا سنت کے خلاف ہے اور پھر وہ حج کے لیے پیدل یا اونٹ کے ذریعے سفر کرکے مکہ پہنچے۔ یہ طریقہ ایک شخص کے مزاج میں انتہا پسندی پیدا کر سکتا ہے، لیکن اُس سے کوئی الگ فرقہ نہیں بنے گا۔
اعتقادی غلو زیادہ شدید قسم کا غلو ہے۔ ایک شخص اعتقادی غلو کی بات کرے اور پھر بہت سے لوگ اس کے ماننے والے بن جائیں تو اس سے ایک نیا فرقہ وجود میں آ جائے گا۔ مثلاً کوئی شخص یہ دعویٰ
کرے کہ نبوت کلی معنوں میں ختم نہیں ہوئی، زمانے کے بدلنے سے دوبارہ کوئی نبی آسکتا ہے، اور اس نئے پیغمبر پر ایمان لانا اس کے معاصرین کی نجات کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح کی بات اگر زیادہ لوگ مان لیں تو اس سے دین میں ایک نیا فرقہ وجود میں آجائے گا۔
غلو ایک قسم کی بدعت ہے۔ غلو ہر حال میں ایک برائی ہے، لیکن اگر کوئی شخص ایک ایسی سنت کو زندہ کرنے کے لیے کھڑا ہو جو معاصرین کو بظاہر نئی چیز معلوم ہو، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف ایک متروک سنت کا احیا ہو تو ایسی تحریک غلو نہیں۔ مثلاً دعوت الی اللہ کی تحریک۔ ایسی تحریک سے دین میں کبھی کوئی برائی پیدا نہیں ہوگی۔
آپ کے سوال کا دوسرا جز یہ ہے کہ— کسی تحریک سے وابستہ افراد اپنی تحریک کو غلو اور فرقہ بندی کی نفسیات سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔ میرے نزدیک، اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ قسم کے غلو اور فرقہ بندی سے بچنا غالباً ممکن نہیں۔ غلو اور فرقہ بندی کی یہ قسم اصلاً دور زوال کا ظاہر ہے۔ اسی بنا پر یہود کے اندر بعد کے دور میں فرقے پیدا ہوئے اور اسی بنا پر مسیحیوں میں بعد کے دور میں فرقے پیدا ہوئے اور اسی بنا پر خود امت محمدی میں بعد کے دور میں فرقے پیدا ہوئے۔ چوں کہ دور زوال لازماً ہر تحریک پر آتا ہے، اس لیے دورِ زوال میں اس قسم کے غلو اور فرقہ بندی جیسی چیزیں بھی ضرور پیدا ہوتی ہیں۔ اس قسم کے غلو اور فرقہ بندی کی پیدائش کو روکنا تو ممکن نہیں ہے، البتہ دوسری چیز ممکن ہے، وہ یہ کہ تحریک کے افراد اس سلسلے میں بہت زیادہ حساس اور باشعور ہوں۔
چناں چہ جب دور زوال میں اس قسم کا غلو پیدا ہو تو اُن کے درمیان ایسے مصلح اٹھیں جو دوبارہ لوگوں کو غلو سے ہٹا کر صراط مستقیم پر لانے کی کوشش کریں، وہ اُن کو فرقہ بندی اور شخصیت پرستی کے بجائے دوبارہ حقیقی خدا پرستی کے راستے پر قائم کریں، وہ قرآن اور حدیث کے دلائل کے ذریعے اُن پر یہ واضح کریں کہ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے، وہ غلو اور فرقہ بندی نہیں، بلکہ اعتدال اور آفاقیت ہے۔ اس آفاقی ذہن کے بغیر نہ کوئی مذہبی تحریک کبھی کامیاب ہو سکتی ہے، اور نہ سیکولر تحریک۔
سہارن پور (یوپی) میں ڈاکٹر محمد اسلم خان اپنے ساتھیوں کے تعاون سے دعوتی کام کر رہے ہیں۔ طرف سے 15 اپریل 2012 کو وہاں کے کمشنر مسٹر گنیش شنکر ترپاٹھی کو پرافٹ آف پیس اور تذکیر القرآن (انگلش) کا نسخہ بطور ہدیہ دیا گیا۔ ایک ہفتے کے بعد مسٹر شنکر نے ہمارے ساتھیوں کو بتایا کہ وہ اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھتے تھے۔ کتابوں کے مطالعے کے بعد ان کا ذہن بدل گیا، اسلام سے متعلق ان کی غلط فہمی دور ہوگئی۔ انھوں نے کہا کہ ان کتابوں کے مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ اسلام امن اور سچائی کا مذہب ہے۔
2- مئی 2012 کے پہلے ہفتہ (1-6 مئی) میں صدر اسلامی مرکز نے ترکی کا سفر کیا۔ صدر اسلامی مرکز کے ساتھ اس سفر میں سی پی ایس ٹیم کے تین افراد شریک تھے— ڈاکٹر فریدہ خانم، مسٹر جت ملہوترا، مولانا محمد ذکوان ندوی۔ استاذ محمد فتح اللہ گولن کی تحریک کے تحت سیرت رسول کے موضوع پر منعقد ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے ہوا یہ کانفرنس ترکی کے سرحدی شہر غازی عین تاب (Gaziantep) میں مئی 2012 کو ہوئی۔ اس میں 60 ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے علاوہ، سفر کے دوران استنبول کے مختلف اداروں میں صدر اسلامی مرکز کے پروگرام ہوئے۔ سفر کی تفصیلی روداد، ان شاء اللہ، الرسالہ میں سفر نامے کے تحت شائع کر دی جائے گی۔ 3- سہارن پور کے نیشنل میڈیکل کالج (NMC) میں 9 مئی 2012 کو ایک آل انڈیا ورک شاپ منعقد اس میں بڑی تعداد میں سہارن پور کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی۔ مثلاً ڈاکٹر راجیو، ڈاکٹر انشل جین، ان لوگوں کو ہمارے ساتھیوں کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیا گیا۔ 4- سہارن پور حلقہ الرسالہ کے ایک قاری مسٹر بشیر کی بیٹی کے نکاح کے موقع پر 21 مئی 2012 کو تمام حاضرین کو سہارن پور ٹیم کی طرف سے اردو، ہندی اور انگریزی زبان میں مختلف کتابیں اور پمفلٹس دئے گئے۔ 5- نارتھ کیرولینا (امریکہ) کے اسلامک افرس سیکشن کے تحت چلنے والے ادارہ مسلم چپلن (Muslim Chaplain) کے ذریعے وہاں کے مسیحی لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیا جا رہا ہے۔ چپلن کی درخواست پر 25 مئی 2012 کو ادارے کے پتے پر قرآن کی مزید کاپیاں اور دعوتی پمفلٹس روانہ کردئے گئے ہیں۔ 6- ترکی کے ویکلی میگزین 'اکسیان' (AKSIYON) کے نمائندہ مسٹر عثمان انالن نے 25 مئی 2012 کی شام کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع تھا— اسلام اور جدید ترکی۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا جو میگزین کے شمارہ 4 جون 2012 میں شائع ہوا۔
7- انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 2 جون 2012 کو ایک سمپوزیم ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا: The Presidential Election-2012 اس پروگرام میں صدر اسلامی مرکز کو افتتاحی خطاب (inaugural address) کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔
اس کے مطابق، صدر اسلامی مرکز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس پروگرام میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں 20 منٹ کا خطاب کیا۔ اس موقع پر حاضرین کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ 8- نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور) میں 10 جون 2012 کو ایک پروگرام ہوا۔ اس موقع پر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ مثلاً ڈاکٹر اے کے ڈمری (ڈائرکٹر آگنو)، ڈاکٹر جی بی لال، ڈاکٹر آڈے سنگھ، وغیرہ۔ 9- سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے کچھ ساتھیوں نے کشمیر کا سفر کیا۔ اس مناسبت سے بیروہ میں 13 جون 2012 کو ایک دعوہ میٹ ہوئی۔ اس میں کشمیر میں دعوتی کام کرنے والے نمائندہ افراد شریک ہوئے۔ اس اجتماع میں یہ طے کیا گیا کہ کس طرح کشمیر میں پر امن انداز میں زیادہ منظم طور پر دعوت کا کام کیا جائے۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کی نئی کتاب صبح کشمیر (Dawn over Kashmir) کے اردو اور انگریزی ایڈیشن کا اجرا کیا گیا۔ 10- سہارن پور میں الوسیلہ ویلفیر سوسائٹی کی طرف سے 17 جون 2012 کو ایک آل انڈیا اسلامک کانفرنس اس میں انڈیا کے مختلف مقامات کے علما اور دانش وروں نے شرکت کی۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں بڑے پیمانے پر لوگوں کو اسلامی لٹریچر برائے مطالعہ دیا۔ لوگوں نے اس کو بخوشی قبول کیا۔ 11- امریکا کے لیے صدر اسلامی مرکز کے ٹیلی فونی خطاب کا سلسلہ جاری ہے۔ موضوعات مع تاریخ درج ہیں: April 29, 2012: The Importance of Religious Freedom May 13, 2012: Lessons from Makkan and Madinan Periods of the Prophet May 27, 2012: Hudaybiya Principle 12- صدر اسلامی مرکز کے مضامین اردو اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں۔ 24 مئی 2012 کو روزنامہ راشٹریہ سہارا میں ایک مضمون ”تاریخ بشری کے پانچ دور“ شائع ہوا۔ نیز یہ مضامین انگریزی اخبارات ٹائمس آف انڈیا، وغیرہ میں شائع ہو رہے ہیں۔ یہ مضامین سی پی ایس کے ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) موجود ہیں۔
پختگی نام ہے اس استعداد کا کہ کسی تلخی کے بغیر ناخوش گوار اور مایوس کن حالات کا مقابلہ کیا جائے۔