شکر قلیل، شکر کثیر
Al-Risala, January 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من لم يشكر القليل، لم يشكر الكثير (مسند احمد، جلد 4، صفحہ (278) یعنی جو شخص کم پر شکر نہیں کرے گا، وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرے گا۔ اِس حدیثِ رسول میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے، وہ قانون یہ ہے کہ چھوٹے واقعے کو یاد کرنے سے بڑے بڑے واقعات ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں۔
نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ میں بہت سے الگ الگ فائل (files) ہوتے مثلاً محبت کا فائل، نفرت کا فائل، اعتراف (acknowledgement) کا فائل، ظلم کا فائل، جو چیزیں انسان کے تجربے اور مشاہدے میں آتی ہیں، اُن کو دماغ الگ الگ ان کے متعلق فائل میں ڈالتا رہتا ہے۔ آدمی جب کسی ایک واقعے سے متاثر ہو تو اُس وقت انسان کا دماغ ٹریگر (trigger) ہو جاتا ہے اور پھر فوری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اُس نوعیت کا فائل کھل جاتا ہے اور اس نوعیت کے تمام واقعات آدمی کے ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں۔
فطرت کا یہ قانون شکر اور اعتراف کے معاملے میں بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ آپ کو ایک موبائل ملا۔ اُس سے آپ نے دور کے ایک شخص سے بات کی۔ اُس وقت آپ نے سوچا کہ پہلے زمانے میں مجھ کو دوسرے کسی آدمی سے ربط کرنے میں کتنی مشکل پیش آتی تھی، اِس پر آپ نے گہرے تاثر کے ساتھ خدا کا شکر ادا کیا تو اس کے بعد فوراً یہ ہوگا کہ آپ کا دماغ ٹریگر ہو جائے گا۔ وقت دماغ کا وہ فائل کھل جائے گا جس میں آپ کی پوری زندگی میں پیش آنے والے شکر و اعتراف کے تمام آئٹم (item) محفوظ ہیں۔ فطرت کے اِس نظام کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ شکر کے چھوٹے واقعے کی یاد، شکر کے دوسرے تمام واقعات یاد دلا دیتی ہے۔ اس طرح شکر کا چھوٹا واقعہ بڑے شکر کا سبب بن جاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کے دل میں شکر کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔ شکر کا احساس خدا سے آدمی کے تعلق کو بڑھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اعلیٰ معرفت کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔