We cannot afford freedom
Al-Risala, September 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈیا میں میرے جاننے والوں میں ایک صاحب کو تمباکو اور سگریٹ نوشی کی عادت تھی۔ کی نصیحت سے وہ سگریٹ چھوڑ نہیں پاتے تھے۔ مجھ کو معلوم ہوا تو میں نے کہا کہ سگریٹ پینا کوئی سادہ سگریٹ پینے والا آدمی فرشتوں کی صحبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور جو شخص فرشتوں کی صحبت سے
محروم ہوجائے، وہ اسپرپچول ڈیویلپمینٹ سے محروم ہوجائے گا۔ کیا آپ اس کا تحمل کرسکتے ہیں کہ آپ اسپرپچول ڈیویلپمینٹ سے محرومی میں جئیں اور اسی حالت میں مرکر دنیا سے آخرت کی طرف چلے میری بات کا اُن پر بہت اثر ہوا۔ انھوں نے اُسی دن سے سگریٹ پینا چھوڑ دیا۔ عصر کی نماز کے بعد ہم لوگ مسٹر علی کے ساتھ استنبول کے ایک خاص مقام کو دیکھنے کے لیے اس کا نام یہ ہے— چمل جہ (Camlica)— یہ استنبول کی سب سے اونچی پہاڑی ہے۔ سطح سمندر سے 267 میٹر بلند ہے۔ یہاں سے شہر کا بیشتر حصہ دکھائی دیتا ہے۔ یکم مئی 2012 کو لیبرڈے (Labour Day) تھا، اس بنا پر یہاں لوگوں کی کافی بھیڑ نظر آئی۔ میں نے مسٹر علی سے پوچھا کہ آپ کا ملک مشرق اور مغرب دونوں حصوں میں واقع ہے۔ آپ اپنے کو مشرقی سمجھتے ہیں یا انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ — مائنڈ سے یورپین اور ہارٹ سے ایشین۔ عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ جب وہ کسی سے ملتے ہیں تو ہمیشہ اپنی بات سناتے ہیں، لیکن میرا مزاج اس سے مختلف ہے۔ میں یہ کرتا ہوں کہ دوسروں سے بار بار سوال کرکے ان کی بات سنتا ہوں، یہی میں نے یہاں بھی کیا۔ مسٹر علی سے میں بار بار سوال کرتا رہا اور ان کی باتیں سنتا رہا۔ میں نے پایا کہ مسٹر علی کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ اُن کو بہت سے واقعات یاد ہیں۔ تاریخ سے ان کو خصوصی دلچسپی ہے۔ وہ ترکی کے علاوہ، انگریزی اور رشین زبان جانتے ہیں۔ آج کل وہ عربی اور اردو زبان سیکھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ترکی میں ایک مقولہ ہے — ایک زبان، ایک انسان ۔ دو زبان، دو انسان ۔ تین زبان تین انسان:
Bir lisan bir insan, iki lisan iki insan, Üç insan üç insan مابعد اتاترک دور (post-Atatürk period) پر گفتگو کرتے ہوئے مسٹر علی اکین نے کہا کہ ترکی میں اس دور میں دو خاص ترک مفکر پیدا ہوئے— دونوں کی سوچ غیر سیاسی اور تعمیری سوچ ہے۔ بدیع الزماں سعید نورسی (وفات: 1960) نے ترکوں کو نئے دور میں زندگی کی تعمیر کے لیے ایک فکر دیا۔ استاذ فتح اللہ گولن (پیدایش: 1941) نے اس فکر کو ایک باقاعدہ عمل کی صورت دی۔ میں نے کہا کہ جہاں تک
میرا خیال ہے، گولن تحریک کو سوشیو ایجوکیشنل تحریک (socio-educational movement) کہا جا سکتا ہے۔ مسٹر علی نے اس سے اتفاق کیا۔
ترکی میں آج غروبِ شام کو 8 بجے تھا۔ مغرب کے بعد ہم نے یہاں رات کا کھانا یہاں ایک خوب صورت ریستوراں تھا۔ اس طرح کے ریستوراں میں اکثر کافی شور رہتا ہے، مگر یہاں ہمیں شور کا تجربہ نہیں ہوا۔
گفتگو کے دوران مسٹر علی سے میں نے کہا کہ نومبر 2008 میں میں اپنے ساتھیوں کے ہم راہ قبرص (Cyprus) گیا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ قبرص کے مشرقی حصے پر، جو کہ قبرص کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے، اس پر ترکوں کا قبضہ ہے۔ یہ قبضہ 1974 سے قائم ہے۔ اس کی وجہ سے قبرص کے مسیحی لوگوں میں ترکی کے خلاف منفی جذبات پائے جاتے ہیں۔ میں نے کہا قبرص پر اس قبضے کو میں ترکی کے لیے ایک سیاسی بوجھ (political liability) سمجھتا ہوں، وہ جدید ترکی کے لیے کوئی قیمتی اثاثہ (asset) نہیں۔ ترکی کو چاہیے کہ وہ قبرص میں اپنے قبضے کو چھوڑ دے اور اس کے بعد وہاں پر امن انداز میں دعوہ ورک کرے۔ مسٹر علی نے اس رائے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ دعوت کو عام طور پر لوگ تبدیلی مذہب (conversion) کے ہم معنی سمجھتے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ دعوت دراصل نظریے کا ایکسچینج (exchange of thought) ہر ایک کو یہ حق ہے کہ وہ سچائی کے بارے میں اپنی دریافت (discovery) کو پر امن طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ داعی کو جاننا چاہیے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں دعوت کا کام کر رہا ہے جہاں ہر ایک کو خود خدا کی طرف سے مکمل آزادی (total freedom) کوئی داعی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ مدعو کی آزادی کو اُس سے چھین لے۔ ایسی حالت میں دعوہ ورک ففٹی ففٹی کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی پچاس فی صد داعی کی طرف سے دعوت اور پچاس فی صد مدعو کی طرف سے قبولیت (acceptance)۔ میں نے مزید کہا کہ پوری تاریخ عملی طور پر ناکامی کی تاریخ
نظر آتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے قابل حصول اور ناقابل حصول کے درمیان فرق نہیں انھوں نے ناقابل حصول کو اپنا نشانہ بنا لیا، حالاں کہ انھیں صرف قابل حصول کو اپنا نشانہ بنانا میں نے کہا کہ اس دنیا میں آئیڈیل (ideal) کا حصول ممکن نہیں۔ جو آدمی آئیڈیل کا طالب ہو، اس کو چاہیے کہ وہ آخرت کے لیے عمل کرے۔
چمل جہ (Camlica) سے روانہ ہو کر ہم لوگ رات کو 10 بجے ہوٹل پہنچے۔ یہاں ایک مجلس میں میں نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا ایک تاثر اس طرح بیان کیا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں کمائی کے مواقع بہت بڑھ گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ساری دنیا میں ایک ظاہرہ دکھائی دیتا ہے، وہ ہے ذہنی ارتقا کا رک جانا۔ موجودہ زمانے میں فکری اعتبار سے، اعلی درجے کے لوگ پیدا نہیں ہورہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس زمانے میں تقریباً ہر آدمی پروفیشنل (professional) بنا ہوا ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو ایک شخص نے حیوان کا سب (earning animal) کا نام دیا تھا۔ اس کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا ذہنی ارتقا رک گیا ہے۔ اس مسئلے کو ایک لفظ میں ذہنی بونا پن (intellectual dwarfism) کہا جا سکتا ہے۔ اگلے دن 2 مئی 2012 کی صبح کو 9 بجے ہوٹل سے گولن تحریک کے تحت قائم اکیڈمی (Akademi) کے لیے روانگی ہوئی۔ ہوٹل سے اکیڈمی بذریعہ کار 15 منٹ کے فاصلے پر تھی۔ یہاں صبح کا ناشتہ اس دوران ہر ایک نے مختصر انداز میں اپنا تعارف پیش کیا۔ میں نے اپنے بارے میں کہا کہ میں ایک صوفی داعی ہوں، یعنی مزاج کے اعتبار سے صوفی اور اپنے مشن کے اعتبار سے داعی۔ اکیڈمی کے ارکان کے علاوہ، افریقہ کے مختلف ملکوں کے نمائندہ افراد اور الجزائر کے لوگ بھی موجود یہ لوگ کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکی آئے تھے۔
ناشتے کے بعد یہاں میری ایک تقریر ہوئی۔ اس کا موضوع تھا_ ’’اسلام میں حکمت (wisdom) کی اہمیت‘‘۔ میں نے انگریزی زبان میں تقریر کی۔ اُس کا عربی ترجمہ اُسی وقت پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے کیا۔ پروفیسر زبیر احمد فاروقی عربی سے انگریزی اور انگریزی سے عربی
ترجمے کے ایکسپرٹ سمجھے جاتے ہیں۔
اس تقریر میں میں ایک بات یہ کہی کہ قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، عسر کے ساتھ ہمیشہ یسر موجود ہوتا ہے (فإن مع العسر يسراً، إن مع العسر يسراً)۔ اس لیے تم عسر(problem) کو نظر انداز کرو اور یسر(opportunity) کو دریافت کرکے اس کو میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر عسر کے اعلان کو سب سے بڑا کام اس کی ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک عرب عالم عبد الرحمن الحبنکہ نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: الأفاعي الثلاثة (تین بڑے سانپ)۔ میں نے تقابلی طور پر کہا کہ حضرت موسیٰ کو جادوگروں کے سانپ کو دیکھ کر خوف لاحق ہوا۔ وقت اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم اپنا عصا ڈال دو، وہ اس سانپ کو نگل جائے گا (7:117)۔ میں نے کہا کہ خاتم النبیین کی امت کے پاس بھی ایک عصا ہے اور وہ قرآن ہے۔ قرآن ہر زمانے کے ”افاعی“ کو نگل جانے کے لیے کافی ہے، مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ یہ 45 منٹ کی تقریر تھی۔ مجلہ حراء کے مدیر مسٹر نوزاد صواش اس پروگرام کو کو آرڈی نی ٹ کر رہے تھے۔ انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: نقتبس الحكمة من داعية الحكمة۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام آدھ گھنٹے تک جائی رہا۔ لوگوں نے مختلف سوالات کئے۔ ڈاکٹر محمد موسیٰ باباعمی (جنرل ڈائریکٹر معہد المناہج، الجزائر) نے ایک سوال کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں قرآن کو ’کتاب الثورة‘ کہا ہے۔ اس کا کیا میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرآن بلاشبہہ ایک انقلابی کتاب ہے، لیکن وہ فکری معنوں میں انقلابی کتاب ہے، نہ کہ سیاسی معنوں میں۔ قرآن آدمی کو ایک آئڈیا لوجی دیتا ہے اور یہ آئڈیا لوجی مبنی بر فطرت ہونے کی وجہ سے انسان کے مائنڈ کو ایڈریس کرتی ہے۔ اس طرح قرآن، آدمی کے اندر ایک فکری بھونچال پیدا کر کے اس کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اس پروگرام کے بعد اکیڈمی کے اوپر ی منزل کے ایک غرفہ (upper chamber) میں
ایک مخصوص نشست ہوئی۔ یہ ایک کانفرنس روم تھا۔ اس کی دیواریں چاروں طرف بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے تھے جہاں سے استنبول شہر کا خوب صورت منظر دکھائی دے رہا تھا۔ میں مجلہ ”حراء“ کے ایڈیٹر مسٹر نوزاد صواش نے عربی زبان میں گولن تحریک کا مختصر تعارف پیش کیا، اور تحریک کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے کہا کہ گولن تحریک کا مقصد ہے— غیر سیاسی دائرے میں رہتے ہوئے سماجی خدمت اور تعلیم کا فروغ۔
مسٹر نوزاد صواش استاد محمد فتح اللہ گولن کے براہ راست شاگردوں میں سے ہیں۔ استاد فتح اللہ گولن کے بارے میں کئی باتیں بتائیں۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ استاذ کا حافظہ بہت اچھا ان کے اندر فوٹو گرِفک میموری (photographic memory) پائی جاتی ہے۔ وہ ایک اعتدال پسند آدمی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ استاذ فتح اللہ ایک حوصلہ مند (ambitious) طبیعت کے آدمی ہیں۔ کسی ایک حد پر رکنے کے بجائے ہمیشہ ان کی نگاہ آگے کی طرف رہتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے مختلف زبانوں میں کئی ٹی وی چینل شروع کیے۔ ہم نے استاذ فتح اللہ گولن کو جب اس کی خبر دی تو انھوں نے کہا کہ ابھی ہم میڈیا کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ کو اسی پر اکتفا نہیں کرنا ہے، بلکہ ہم کو ابھی اس میدان میں بہت آگے بڑھنا ہے۔ اس سلسلے میں مسٹر نوزاد صواش نے کہا کہ: لا يفرح الأستاذ من الإنجاز، بل يتطلع دائما إلى الإنجازات۔ اس میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کانفرنس کا پروگرام کیا ہو گا۔
یہاں کئی عرب فضلا سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً کویت کے عربی مجلہ : الوعي الإسلامي (1965) کے مدیر فیصل یوسف احمد العلی، اور ڈاکٹر محمد وائل الحنبلی الدمشقی۔ ملاقات کے دوران فیصل یوسف العلی نے بتایا کہ وہ میری کتاب الاسلام يتحدى پڑھ چکے ہیں۔ الحنبلی اس وقت ترکی کے جامعہ سلجوق میں حدیث کے موضوع پر توسیعی لیکچر دے رہے ہیں۔
اس موقع پر میں نے آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔ میری تقریر انگریزی زبان میں تھی۔ پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے میری تقریر کا ترجمہ عربی زبان میں کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں
کہیں ، اُن میں سے دو باتیں یہ تھیں ایک یہ کہ اسلام کے مقابلے میں عصری تحدیات میرا اصل میری کتابیں زیادہ تر اسی موضوع پر ہیں ، براہ راست یا بالواسطہ۔ دوسری بات میں نے ایک حدیث رسول کو لے کر کہی جو کہ ان الفاظ میں آئی ہے : إن اللہ يرفع بهذا القرآن أقواماً ويضع به آخرين (سنن الدارمي، رقم الحديث: 3365)
میں نے کہا کہ اس حدیث میں ”رفع“ سے مراد سیاسی رفع نہیں ہے، بلکہ نظریاتی رفع ہے۔ قرآن کی یہ اہمیت موجودہ سائنسی زمانے میں اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں ہر قسم کی ترقیات کے باوجود شعوری یا غیر شعوری طور پر آج کا انسان حقیقت کی تلاش میں ہے۔ کتاب ہے جس کا موضوع یہی ہے کہ انسان کو زندگی کی حقیقت بتائی جائے اور اس کو خدا کے تخلیقی پلان سے آگاہ کیا جائے۔ موجودہ زمانے میں اسلامی مشن کا سب سے بڑا آئٹم یہی ہے کہ قرآن کو لوگوں کی قابل فہم زبان میں اُن تک پہنچایا جائے۔
یہ اکیڈمی جدید طرز تعمیر کے مطابق بنائی گئی ہے۔ یہاں ایک مسجد ، کانفرنس ہال، لائبریری اور مختلف آفس اور رہائشی کمرے بنے ہوئے ہیں۔ عربی مجلہ ”حراء“ اور ترکی مجلہ ’’ینی امید“ (امید نو) کا دفتر بھی اسی اکیڈمی میں ہے۔ یہاں کام کرنے والے افراد زیادہ تر ترک ہیں۔ یہ لوگ ترکی کے علاوہ، عربی زبان بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہاں کے متعدد اراکین جامع ازہر (قاہرہ) کے تعلیم یافتہ ہیں۔ اکیڈمی کی لائبریری میں میری کتاب الاسلام متحدی کا ترکی ایڈیشن موجود تھا۔ سے ترکی زبان میں اس کا ترجمہ مسٹر عاکف نوری نے کیا ہے، جو استنبول سے پہلی بار 1977 میں اس کے بعد سے اب تک الاسلام متحدی کے کئی ترکی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اکیڈمی میں ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم لوگ سما ہاسپٹل (Sema Hospital) کے لیے منتظمین نے سماہاسپٹل کے معائنے کا یہ پروگرام صرف ہم لوگوں کے لیے بنایا تھا۔ گولن گروپ کے تحت چلائے جانے والے اسپتالوں میں سے ایک ہے۔ اکیڈمی سے ہاسپٹل تک بذریعہ کار آدھ گھنٹے کا راستہ تھا۔ یہ ہاسپٹل بحر مر مرا (Sea of Marmara) کے ساحل پر واقع ہے۔
وہ جدید طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس میں تمام میڈیکل شعبے موجود ہیں۔ اُس کا عملہ (staff) سب کا سب ترک ماہرین پر مشتمل ہے۔ پورا ہاسپٹل نہایت صاف اور نہایت منظم دکھائی دیا۔ ہاسپٹل کا جائے وقوع فطرت کے ماحول میں ہے۔ اس کے ایک طرف بحر مرمرہ ہے اور دوسری طرف خوب صورت گارڈن۔ وہ ہاسپٹل سے زیادہ ایک صحت گاہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ: It is more than a hospital. یہاں ہم لوگوں کو دوپہر کا کھانا (lunch) کھانا تھا۔ سامنے واقع ایک ڈائننگ ہال میں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد ہاسپٹل کے چیئرمین مسٹر مصطفیٰ (Mustafa Ozcan) نے گولن تحریک کے بارے میں مختصر طور پر بتایا۔ انھوں نے کہا کہ گولن تحریک کا ماٹو تین چیزیں ہیں: اللہ کا خوف، اللہ کی عظمت، اللہ کی محبت (مخافة الله، مهابة الله، محبة الله)۔ مسٹر مصطفیٰ ترکی زبان میں بول رہے تھے۔ اس کا انگریزی ترجمہ اُن کے سیکریٹری مسٹر یوجل ڈراک (Yugel Durak) نے کیا۔ اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے میرے ایک ساتھی نے کہا کہ اگر یہ سوچا جائے کہ اس قسم کا ترجمہ انسان کے سوا کوئی دوسری مخلوق نہیں کرسکتی تو یہ واقعہ بلاشبہ خدا کی عظمت اور خدا کے شکر کا ایک پر اہتزاز تجربہ (thrilling experience) بن جائے گا۔ پروگرام کے آخر میں ہاسپٹل کے چیئرمین مسٹر مصطفیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے ہماری ٹیم کے ہر فرد کو گفٹ آئٹم دئے۔ اس میں استاذ محمد فتح اللہ گولن کی عربی اور انگریزی کتابوں کا ایک سیٹ اور رسٹ واچ (wrist watch) شامل تھی۔ اس موقع پر انھوں نے بڑے سائز کا ایک میمنٹو (memento) پیش کیا۔ اس میں سِلور حروف (silver letters) میں آیت الکرسی اور قرآن کی کچھ آیتیں لکھی ہوئی تھیں ۔ انھوں نے کہا کہ اس میمنٹو کو ہم خود اپنے ساتھی مسٹر علی اکین کے ذریعے آپ کے آفس میں پہنچوادیں گے، آپ کو خود اُس کو یہاں سے دہلی لے جانا نہیں پڑے گا۔ سما ہاسپٹل سے روانہ ہو کر ہم لوگ شام کو ہوٹل واپس آگئے۔ یہاں کچھ دیر قیام کرنے کے بعد دوبارہ شام کو 8 بجے ایک پروگرام کے لیے ہوٹل سے روانہ ہوئے۔ استنبول میں گولن تحریک کے تحت
مؤسسة الفرات التربوية التعليمية (Firat Education Centre) کے نام سے ایک بڑا تعلیمی سنٹر قائم ہے۔ یہ جدید طرز ایک کئی منزلہ عمارت ہے۔ اس عمارت کی پانچویں منزل پر کانفرنس میں شریک ہونے والے مختلف ملکوں کے نمائندہ افراد کی ملاقات کا ایک پروگرام تھا۔ استنبول میں استاذ محمد فتح اللہ گولن کا قیام اسی منزل پر ہوتا ہے۔
یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ مغرب کی نماز ہمارے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نماز کے بعد یہاں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مثلاً شیخ ابراہیم صالح الحسین (نائیجیریا، افریقہ)، شیخ عبد الناصر ابو الفیصل (رئيس الجامعة، جامعة العلوم الاسلامیہ العالمية، اردن) سب لوگوں نے کہا کہ ہم نے آپ کی کتاب الاسلام متحدی پڑھی ہے۔
نماز کے بعد اسی تعلیمی سنٹر میں ترکی کے ایک ٹی وی چینل (Samanyolu TV) نے میرا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا جو ترکی میں نشر کیا گیا۔ انھوں نے خاص طور پر تین چیزوں کے بارے میں استاذ فتح اللہ گولن، ترکی اور دعوت الی اللہ۔ استاذ فتح اللہ کے بارے میں میں نے کہا کہ میرے مطالعے کے مطابق، استاذ گولن بلا شبہہ ایک تخلیقی مفکر ہیں۔ اسی طرح میں نے بتایا کہ ترکی مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ترکی کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ مشرق کے ربانی وزڈم کو مغرب کے لوگوں تک پہنچائے۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔ نے چینل کے لوگوں کو ہمارے یہاں کا چھپا ہوا دعوتی لٹریچر دیا۔
انٹرویو کے بعد اسی مرکز میں شام کے کھانے (dinner) کا انتظام تھا۔ کھانے سے فراغت کے بعد ہم لوگوں کو ایک ہال میں لے جایا گیا۔ یہاں دیوار پر لگے ہوئے ایک بڑے اسکرین پر استاذ فتح اللہ گولن کا ایک ویڈیو دکھایا گیا۔ یہ ان کی ایک پرانی تقریر کا ویڈیو تھا۔ یہ تقریر ترکی کی زبان میں تھی، جس کا عربی ترجمہ اسکرین پر ساتھ ساتھ آرہا تھا۔
یہ تقریر قرآن کے موضوع پر تھی۔ تقریر کا اسلوب واعظانہ تھا، مگر وہ مسحور کن تھا۔ باڈی لینگویج (body language) کا بہت زیادہ استعمال پایا جاتا تھا۔ تقریر کے دوران مقرر خود
بھی رورہے تھے اور حاضرین طرف سے بھی بلند آواز سے رونے کی آواز آرہی تھی۔ دوران انھوں نے قرآن کا ایک نسخہ اپنے ہاتھ میں اٹھایا اور اُس کو دکھاتے ہوئے حاضرین سے کہا کہ تم نے خدا کی کتاب کو یتیم بنا دیا۔ تقریر کے دوران انھوں نے ایک حدیث رسول سنائی جس کے الفاظ یہ تھے: يأتـي علـى الناس زمان، القرآن في واد، وهم في واد غيره (كنز العمال، رقم الحديث: 29118) یعنی لوگوں کے اوپر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ قرآن کسی اور وادی میں ہوگا اور لوگ قرآن کے سوا کسی اور وادی میں ہوں گے۔
پروگرام کے خاتمے پر ہم لوگوں کو وہ کمرہ دکھایا گیا جس میں استاذ فتح اللہ گولن قیام کرتے ہیں، جب کہ وہ استنبول آتے ہیں۔ آج کل وہ امریکا میں مقیم ہیں۔ یہ کمرہ بالکل سادہ تھا۔ وہاں کی نمایاں چیز صرف کتابیں تھیں جو ترتیب کے ساتھ دیوار کی الماری میں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کتابیں عربی اور ترکی کی زبان یہاں ہال کے اندر دیوار پر ایک خوب صورت طغری لگا ہوا تھا۔ اس میں ایک لمبی روایت خط ثلث میں جلی قلم سے لکھی ہوئی تھی۔ اس روایت کا ایک حصہ یہ تھا: لا تشغلوا أنفسكم بالدعاء على الملوك (مجمع الزوائد 5/242) یعنی تم حکمرانوں کے خلاف بد دعا کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ عشا کی نماز کے بعد ہم لوگ اس تعلیمی سنٹر سے روانہ ہو کر ہوٹل آگئے۔ اس وقت یہاں سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔ ٹمپریچر گھٹ کر 12 ڈگری ہو گیا تھا، جب کہ آج دوپہر میں یہاں کا ٹمپریچر 20 ڈگری تھا۔
3 مئی 2012 کی صبح کو ہوٹل پر ناشتہ کیا گیا۔ اس کے بعد ساڑھے نو بجے ہم لوگ استنبول کے اُس مقام کو دیکھنے کے لئے روانہ ہو گئے جہاں جامع ایوب ہے۔ یہاں ایک بڑا کا مپلکس تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کے اندر حضرت ابو ایوب انصاری کا مقبرہ ہے۔ یہ مقام ترکی کے مغربی حصہ (Thrace) میں واقع ہے۔ کا مپلکس کے باہر ایک وسیع احاطہ ہے جس کا فرش سفید سنگ مرمر سے بنایا گیا ہے۔ اس کے باہر مارکیٹ اور کئی اوپن رستوراں کھلے ہوئے ہیں۔ یہ کا مپلکس تین چیزوں پر مشتمل ہے— جامع ایوب، مزار ایوب، قبرستان ایوب۔ کا مپلکس کے
اندر ایک بڑے کمرے میں حضرت ایوب کی قبر ہے۔ یہاں اُس وقت کچھ تعمیری کام ہو رہا تھا، اس لیے باہر لگی ہوئی ایک جالی سے ہم لوگوں نے قبر کو دیکھا۔ یہ ایک اونچی قبر تھی جو ہرے رنگ کے کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ جالی کے ایک طرف ترکی زبان میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: Duâ Kapisi۔ ہمارے ساتھی مسٹر علی نے بتایا کہ اس کا مطلب ہے: دعا کا دروازہ۔ میں نے دیکھا کہ ترکی لوگ اور دوسرے زائرین یہاں آتے تھے اور خاموشی سے ہاتھ اٹھا کر دعا کر کے چلے جاتے تھے۔ مقبرے کے سامنے ایک چھوٹا سا احاطہ ہے۔ اس میں ایک قدیم درخت لگا ہوا ہے۔ یہ درخت 5 سو سال پرانا ہے۔ اس کو سلطان محمد فاتح نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔ اس احاطے کے سامنے قدیم طرز کی ایک بڑی مسجد ہے۔ اس کو سلطان محمد فاتح نے 1458 عیسوی میں بنوایا تھا۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے اس مسجد میں دو رکعت نماز ادا کی۔ میں نے نماز کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ اُس وقت خیال آیا کہ اب سے 14 سو سال پہلے عرب کی ایک جماعت کس طرح یہاں آئی اور کس طرح انھوں نے یہاں دینِ اسلام کی اشاعت کی۔ یہ سوچتے ہوئے میرا دل بھر آیا۔ اُس وقت آنسوؤں کے ساتھ میری زبان سے یہ دعا نکلی۔ خدایا، تو مجھ کو اور میرے مشن میں ساتھ دینے والے تمام مردوں اور عورتوں کو صحابہ کے اُس دعوتی قافلے میں شامل فرما۔ وما ذلك على الله بعزيز۔ مسجد کے اندر کچھ عورتیں اور مرد بھی ذکر و دعا میں مشغول نظر آئے۔ مسجد کے عقبی حصے میں ایک قبرستان ہے۔ یہاں بہت سے ترک علما اور کچھ مشہور عثمانی خاندان کے حکمرانوں کی قبریں ہیں۔ ترکی میں عثمانی خلافت (Ottoman Empire) 1299ء میں قائم ہوئی، اور 1924ء میں عملاً وہ ختم ہوگئی۔ ترکی میں سلطان محمد فاتح (وفات: 1481) کے وقت سے یہ طریقہ رائج تھا کہ جب کوئی سلطان تخت نشیں ہوتا تو اُس وقت جامع ایوب (مقبرہ حضرت ایوب انصاری) پر اس کی تاج پوشی کی رسم ادا کی جاتی۔ یہاں شیخ الاسلام (مفتی اعظم قسطنطنیہ) خاندان عثمانی کے بانی سلطان عثمان خان (وفات: 1326) کی تاریخی تلوار اس کی کمر میں حمائل کرتے۔ یہ شاہی رسم سلطان کی تاج پوشی کا لازمی حصہ تھی۔
حضرت ابو ایوب کا پورا نام خالد بن کلیب بن ثعلبہ ہے۔ ان کا تعلق مدینہ کے بنی نجار قبیلے وہ مدینہ میں رہتے تھے۔ انھوں نے بدر وا حد اور خندق اور دوسرے تمام غزوات میں شرکت وہ ایک بہادر انسان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 622 میں جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو ابتداء آپ نے ابو ایوب انصاری کے گھر میں قیام کیا۔ حضرت معاویہ کے زمانے میں حضرت ابو ایوب انصاری یزید بن معاویہ کے ساتھ صحابہ کے ایک قافلے میں قسطنطنیہ کے لیے دعوتی مہم پر روانہ ہوئے ۔ اُس وقت اُن کی عمر تقریباً 80 سال تھی۔ صحابہ کے اس قافلے میں دوسرے صحابہ کے علاوہ، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حسن اور حسین بھی شامل تھے۔ حضرت ابو ایوب انصاری راستے میں بیمار ہو گئے ۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کو وصیت کی کہ اگر راستے میں میری موت آجائے تب بھی مجھ کو اپنے ساتھ منزل (ارض روم، قسطنطنیہ ) لے جانا اور وہیں مجھ کو دفن کرنا ۔ چناں چہ انتقال کے بعد ان کی تدفین قسطنطنیہ (استنبول) میں کی گئی۔ یہ 52 ہجری ( 672 عیسوی) کا واقعہ ہے۔ جامع ایوب کو دیکھنے کے بعد ہم لوگ استنبول کی ایک تاریخی مسجد کو دیکھنے کے لیے روانہ اس کا نام رستم پاشا (Rustem Pasha Mosque) ہے۔
The Rüstem Pasha Mosque is an Ottoman mosque located in Strawmat Weavers Market in the Tahtakale neighborhood, of the Eminönü district of Istanbul, Turkey. The Rüstem Pasha Mosque was designed by Ottoman imperial architect Mimar Sinan. Rüstem Pasha died in July 1561 and the mosque was built after his death from around 1561 until 1563. یہاں مسجد کے امام صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہاں کے دیگر ائمہ مساجد کی طرح کوٹ پتلون پہنے ہوئے تھے۔ تاہم مزاج کے اعتبار سے وہ نہایت سادہ تھے۔ ہم لوگوں کی تواضع کے لیے انھوں نے چائے کے ساتھ بھنی ہوئی مونگ پھلی پیش کی۔ مجھے ان کی یہ سادہ تواضع بہت پسند سادہ تواضع ہی اسلام کی اسپرٹ کے مطابق ہے، مگر موجودہ زمانے میں سادہ تواضع کا طریقہ
مسلمانوں میں تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔
سی پی ایس کے ایک ممبر ڈاکٹر ثانی اثنین خاں اس سے پہلے استنبول آئے تھے۔ نے امام صاحب کو ہمارے یہاں سے چھپے ہوئے انگریزی ترجمہ قرآن کی کاپیاں دی تھیں۔ ہم وہاں پہنچے تو یہ ترجمہ قرآن وہاں مسجد کے گیٹ پر ایک اونچی جگہ پر رکھا ہوا نظر آیا۔ اس مسجد میں سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ یہ سیاح بھیڑ لگا کر قرآن کا انگریزی ترجمہ یہاں سے لے رہے تھے۔ استنبول کے ایک بڑے پریس (Imak Offset) نے یہ پیش کش کی ہے کہ ڈسٹری بیوشن کے لیے جتنے بھی انگریزی ترجمہ قرآن کی ضرورت ہوگی، وہ اُس کو نو پرافٹ، نو لاس (no profit, no loss) کی بنیاد پر چھاپ کر دیں گے۔
مسجد کے امام اسماعیل (Ismail Karakelle) ترجمہ قرآن کو پھیلانے کا کام نہایت ذوق وشوق سے کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے وہ سیاحوں کو قرآن اپنے ہاتھ سے دیتے تھے تو سیاح کم دلچسپی لیتے تھے، پھر انھوں نے یہ کیا کہ قرآن کے سائز کا ایک خوب صورت بیگ بنایا اور اس میں قرآن کا نسخہ رکھ دیا۔ یہ بیگ سیاحوں کے ذوق کا ہے، اس لئے وہ اس کو بخوشی لے لیتے ہیں۔ مقام پر قرآن کے نسخے رکھے گئے ہیں، وہاں پر بڑے حروف میں یہ الفاظ لکھ دئے گئے ہیں: Free Spiritual Gift امام صاحب نے کہا کہ ہم اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومتی سطح پر ایک وقف بنا دیا جائے، تاکہ اس کے تحت ترکی کے ہر تاریخی مقام پر سیاحوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا جاسکے۔ رستم پاشا مسجد میں جب میں آیا تو میں نے دیکھا کہ یہاں مختلف ملکوں کے سیاح بڑی تعداد میں آرہے ہیں اور جب وہ مسجد کو دیکھ کر واپس ہوتے ہیں تو ہر ایک کے ہاتھ میں قرآن کا ایک نسخہ ہوتا یہ دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ مسجد پہلے صرف ایک عبادت خانہ تھی، مگر اب وہ ’مسجد پلس‘ ہوگئی وہ مسجد کے ساتھ قرآن ڈسٹری بیوشن کا ایک عالمی سنٹر بن گئی ہے۔ امام صاحب نے بتایا کہ مسجد کے علاوہ بھی وہ یہاں قرآن کا ترجمہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً حال میں استنبول کے
ایک مقام پر سیرتِ رسول کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں غیر ملکی لوگ بھی شامل اس موقع پر انھوں نے ایک ہزار لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیا۔ امام صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک بات یہ کہی کہ ایک رپورٹ کے مطابق، 2011 میں 31 ملین سے زیادہ غیر ملکی سیاح ترکی میں آئے۔ یہ لوگ معروف معنوں میں صرف سیاح نہیں، بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ملک سے نکل کر یہاں آتے ہیں اور ہمارے دروازےپر آکر دستک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے حاملینِ قرآن، ہم یہاں ہیں، لاؤ تم ہم کو خدا کا وہ کلام دو جو تم کو پیغمبر اسلام کے ذریعے ملا ہے۔ امام صاحب نے میری بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ آنے والے سیاح نہ صرف یہ کہ ہمارے ملک میں آ کر ہم کو دستک دے رہے ہیں، بلکہ وہ ہماری مسجدوں میں داخل ہو کر ہم سے پوچھتے ہیں کہ اسلام کیا ہے اور قرآن کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس طرح کا دعوتی ماحول ہر مسلم ملک میں موجود ہے، مگر مذہب کے نام پر ہونے والی باہمی لڑائیوں نے وہاں کے مسلمانوں کو دعوتی مزاج سے محروم کر رکھا ہے، جب کہ ترکی میں کمال آپریشن کے بعد آنے والے کھلے پن (openness) کی وجہ سے یہاں دعوت کے موافق ماحول موجود ہے۔
ترکی میں کثرت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ چناں چہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ: ”ترکی میں سیاحت یا ملازمت کی غرض سے آنے والے غیر مسلم ہر دن اپنے اطراف میں آباد مساجد سے پانچ دفعہ اذان کی آواز سن کر اس سے متاثر ہوتے ہیں اور دینِ اسلام کے بارے میں مزید معلومات کے حصول کی جستجو کرتے نظر آتے ہیں۔ چناں چہ اب صورتِ حال یہ ہے کہ غیر ملکی افراد کی قابلِ ذکر تعداد مقامی دار الافتا کے دفتر میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے کی غرض سے آنے لگی ہے، جن میں اکثریت خواتین پر مشتمل ہے۔ چناں چہ ترکی حکومت کے شعبہ برائے اسلامی امور کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے ایک سال میں 634 غیر ملکی افراد اسلام قبول کر چکے ہیں، جن میں 467 خواتین ہیں۔
ان افراد کی عمر 30 تا 35 سال بتائی گئی ہے۔ ان کا تعلق جرمنی، ہالینڈ، فرانس، چین، برازیل، امریکا، رومانیہ اور اسٹونیا سے بتایا جاتا ہے۔ یہاں کے مفتی علی مرا شلیگل نے بتایا کہ اسلام کی جانب ان کے رجحان کا آغاز عموماً اذان کی آواز کا سننا ہوتا ہے، دوسرے مرحلے میں مسجد کے امام سے رابطہ، قرآن مجید کا مطالعہ اور پھر اسلام کے قبول کرنے کا اعلان ہوتا ہے“۔ (پندرہ روزہ تعمیر حیات، لکھنؤ، 25 مئی 2012، صفحہ 19) یہ واقعہ فطرت کی اہمیت کو بتاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر فطری طور پر یہ جذبہ شامل ہے کہ وہ سچائی کی تلاش کرے۔ یہ فطری طلب گویا پیشگی طور پر ہر انسان کے لیے سچائی کو اس کا مطلوب بنائے ہوئے ہے۔ جیسے ہی کسی انسان کو سچائی اپنی بے آمیز صورت میں ملتی ہے، وہ اس کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر فوراً قبول کر لیتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اور بلاشبہ یہ یہی اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
رستم پاشا مسجد سے نکل کر ہم لوگ استنبول کے مشہور سائنسی میوزیم کو دیکھنے کے لئے گئے۔ اس میوزیم کا نام یہ ہے:
The Istanbul Museum of the History of Science and Technology in Islam. یہ میوزیم ایک بڑے رقبے میں واقع ہے۔ اس کا نام گل خانہ پارک (Rose Garden) یہ ایک وسیع اور پر فضا مقام ہے۔ یہاں پارک میں چنار کے درخت کثرت سے موجود ہیں۔ یہ میوزیم ایک ترکی سلطان کے قدیم محل میں بنایا گیا ہے۔ اس کے اندر مسلمانوں کی سائنٹفک اور ٹکنیکل ترقی کے نمونے موجود ہیں، جو کہ ساتویں صدی عیسوی سے لے کر سترھویں صدی عیسوی کے دور تک محیط ہیں۔
اس میوزیم کو مشہور تر کی اسکالر ڈاکٹر فواد سیز گین (Fuat Sezgin) نے 2008 میں قائم کیا ڈاکٹر فواد سیز گین 1924 میں پیدا ہوئے۔ 1961 میں وہ استنبول سے جرمنی منتقل ہو گئے۔
وقت سے اب تک وہ فرینکفرٹ یونی ورسٹی (Johann Wolfgang Goethe University) میں ہسٹری آف نیچرل سائنس کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے ترکی کے علاوہ، جرمنی میں ہسٹری آف عرب اسلامک سائنس کے موضوع پر 1982 میں ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر فؤاد سیزگین کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی مشہور کتاب "تاریخ التراث العربی" ہے۔ اس تاریخی میوزیم کے تعارفی پمفلٹ کے آخر میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: Thanks to this Museum, Istanbul has been enriched by yet another bridge between East and West, one which explores the deep historical relationship of the scientific traditions in eastern and western cultures. ترکی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک کلچرل برج (cultural bridge) ہے۔ اس کے علاوہ، اُس کا زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ وہ مشرق کے وزڈم (wisdom) کو مغرب تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے تحت قائم کردہ القرآن مشن (Al-Quran Mission) اِسی تعلق کو زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ استنبول کے اِس تاریخی میوزیم کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ڈاکٹر فؤاد سیزگین اور ان کے ساتھیوں نے بلاشبہ ایک بہت بڑا کام انجام دیا ہے۔ انھوں نے علم کے معاملے میں مسلمانوں کے تاریخی کنٹری بیوشن کو بتایا ہے۔ یہ میوزیم عملی طور پر بتاتا ہے کہ مسلمانوں نے قدیم اور جدید سائنس کے درمیان کس طرح پل کا کام انجام دیا۔
سائنس میوزیم دیکھنے کے بعد ہم لوگ ایک ریستوراں (Can Kurtaran) کے لئے یہ نئے انداز کا ایک اوپن ریستوراں ہے جو بحر مرمر اکے کنارے واقع ہے۔ ریستوراں کے قریب وہ تاریخی مسجد واقع ہے جس کو آ یا صوفیہ اور مسجد سلطان احمد کہا جاتا ہے۔ ریستوراں میں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا۔
کھانے سے پہلے اپنے میزبان (مسٹر علی اکین) کے سامنے میں نے یہ تجویز پیش کی کہ
ہم لوگ اس وقت 6 آدمی ہیں ۔ آپ صرف 4 کھانا منگوایئے ۔ وہ ہم سب کے لیے کافی ہو جائے گا حدیث میں آیا ہے : طعام الواحد يكفي الاثنين (صحيح مسلم، رقم الحديث : 2059) مگر یہ بات عام رواج کے خلاف تھی ، اس لیے میری تجویز کے خلاف زیادہ کھانا آ گیا۔ اس معاملے میں ایک طریقہ یہ ہے کہ کھانا بقدرِ ضرورت منگایا جائے ، تا کہ وہ ضائع نہ ہو ۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جو امریکا میں رائج ہے ۔ وہاں لوگ بچے ہوئے کھانے کو رکھ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور اگلے وقت اس کو استعمال کرتے ہیں ، اس کے لیے میزبان اور ہوٹل دونوں نہایت خوشی سے ایک خوب صورت بیگ مہیا کر دیتے ہیں ۔
یہاں ترکی کے ایک پبلشر اور مصنف مسٹر محمد امین اپنے والد کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لیے آگئے تھے ۔ وہ کھانے میں شریک رہے اور آخر میں کھانے کا بل بھی انھوں نے ادا کیا ۔ انھوں نے مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو استنبول میں واقع اپنے گھر پر آنے کی دعوت دی ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ میری ایک کتاب کا ترجمہ انھوں نے ترکی زبان میں چھاپا ہے۔ انھوں نے کتاب کا مضمون بتایا ، لیکن کتاب کا نام ان کو یاد نہیں تھا ۔ اُس وقت کھانے کی میز پر بیٹھے بیٹھے میرے ایک ساتھی مسٹر رجت ملہوترانے ڈاکٹر ثانی اثنین خاں کو دہلی ٹیلی فون کیا ۔ انھوں نے بتایا کہ اس کتاب کا اصل نام ” نحو البعث الإسلامي “ ہے۔
اس تجربے کے بعد میں نے کہا کہ استنبول اور دہلی کے درمیان تقریباً 5 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ یہ جدید ٹکنالوجی کا کرشمہ ہے کہ اتنی دوری کے باوجود ایک لمحے میں دونوں کے درمیان گفتگو ہو گئی ۔ میں نے کہا کہ اس طرح کی بے شمار نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس دور میں ظاہر کی ہیں۔ ان نعمتوں پر خدا کا شکر کرنے والا کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا ، نہ مسلمانوں میں اور نہ دوسرے لوگوں مسلمان اپنے قومی ذہن کی بنا پر حقیقی شکر سے محروم ہیں اور دوسرے لوگ اپنے تفریحی ذہن کی بنا پر ۔ میں نے کہا اللہ کے عطیات پر آدمی اگر شکر کا رسپانس نہ دے سکے ، تو وہ اس آیت کا مصداق بن کر رہ جائے گا : يتمتعون ويأكلون كما تأكل الأنعام (47:12)
3 مئی 2012 کو استانبول کے دوسرے تاریخی مقامات کو دیکھنے کا پروگرام تھا، مگر بعض وجوہ سے آج اس پروگرام کو ملتوی کر دیا گیا۔ چناں چہ ہم لوگ ریستوراں سے روانہ ہو کر 5 بجے شام کو ہوٹل آ گئے۔ راستے میں گاڑی کے اندر میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 1924 میں جب ترکی میں عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا تو ساری دنیا کے مسلمانوں نے اس کو ’اسلام دشمنوں کی سازش‘ کے معنی میں لیا، حالاں کہ وہ قانونِ فطرت کا ایک معاملہ تھا۔ وہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان سیاسی رول کے بجائے دعوتی رول ادا کرنے کی تیاری کریں۔ فطرت کے اس اشارے کو سمجھ نہ سکے اور سارا وقت شکایت اور احتجاج میں ضائع ہو گیا۔ سورج کا نکلنا اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ لوگ نئے دن میں نیا کام کریں۔ اسی طرح خلافت کے سیاسی ادارے کا خاتمہ اس بات کا اشارہ تھا کہ مسلمان نئے مواقع کو سمجھیں اور دورِ جدید میں ان کو دعوتِ الی اللہ کے لیے استعمال کریں۔
ترکی میں ہم لوگوں کے لیے ہر قسم کی سہولتوں کا انتظام تھا، لیکن حقیقی سکون پھر بھی حاصل نہیں اس پر بات کرتے ہوئے میرے ساتھی مولا نا محمد ذکوان ندوی نے کہا کہ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ ۔ انسان غیر جنت کا تحمل بھی نہیں کر سکتا، پھر وہ جہنم کا تحمل کیسے کر سکے گا۔ یہ صورتِ حال بلاشبہ ایک عظیم دعا کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کی حیثیت رکھتی ہے، اور وہ ہے ۔ جنت کی دعا۔ مومن وہ ہے جس کو دنیا کا ہر خوش گوار تجربہ جنت کی یاد دلائے اور ہر ناخوش گوار تجربہ اس کے اندر جہنم سے پناہ مانگنے کا شدید جذبہ پیدا کر دے۔
3 مئی 2012 کو ہم لوگ واپس ہو کر اپنے ہوٹل پہنچے۔ یہاں ہم نے عصر کی نماز ادا کی ۔ کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے کے اُس حصے میں بیٹھ گئے جہاں سے باسفورس کا منظر نہایت صاف دکھائی دیتا تھا۔ اُس وقت میں نے گفتگو کے دوران اپنے ساتھیوں سے کچھ باتیں کہیں جس کو انھوں نے اِسی وقت ریکارڈ کر لیا۔ یہ باتیں زیادہ تر تذکیری اور دعوتی نوعیت کی تھیں۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ مجھے آج کی مسلم دنیا میں دو مقامات ایسے دکھائی دے رہے ہیں
جہاں سے اسلام کے حق میں دو بڑے واقعات ہونے والے ہیں— ایک، کشمیر اور دوسرا، ترکی۔ کشمیر سے اسلام کے مذہب امن ہونے کا اعلان، اور ترکی سے اسلام کی عالمی اشاعت۔ کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کی عمومی امیج (image) یہ بن گئی ہے کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ یہ میڈیا کا پروپیگنڈہ نہیں ہے، بلکہ خود مسلمانوں کی غلط روش کے نتیجے میں ایسا ہوا ہے۔ انھیں میں سے ایک کشمیر کے مسلمان ہیں۔ کشمیر کے مسلمان نادان لیڈروں کے فریب میں آگئے اور انھوں نے اسلام کے نام پر کشمیر میں تشدد کلچر چلا دیا۔ اب اگر کشمیر کے مسلمان کھلے طور پر اعلان کردیں کہ ہم کو گمراہ کیا گیا تھا۔ اسلام پورے معنوں میں امن کا مذہب ہے اور ہم نے اپنی سابق روش کو چھوڑ کر پرامن اسلام پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے، تو اُن کا یہ اعلان بلاشبہ اسلام کی امیج کو درست کردے گا اور اس کے بعد کشمیر میں اسلامی دعوت کے نئے راستے کھل جائیں اس موضوع پر حال میں میری ایک کتاب شائع ہوئی ہے۔ اردو میں اس کا نام ’’صبحِ کشمیر‘‘ ہے اور انگریزی میں اس کا نام یہ ہے: