Dawn over Kashmir
Al-Risala, September 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرا مقام ترکی ہے۔ ترکی میں میرے اندازے کے مطابق، وہ حالات پوری طرح تیار ہیں، جب کہ ترکی اسلامی دعوت کا عالمی مرکز بنے۔ اس موضوع پر ان شاء اللہ، میری ایک مستقل کتاب چھپنے والی ہے۔ اس کا نام یہ ہوگا: Turkey Rediscovered جب میں حضرت ابو ایوب انصاری کی قبر کے سامنے کھڑا تھا، اُس وقت مجھے یہ بتایا گیا کہ ترکی میں اور بھی بہت سے صحابہ کی قبریں ہیں۔ اُس وقت میرے دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ قرآن کی یہ آیت یاد آئی: لمثل هذا، فليعمل العاملون (61 :37)۔
میں نے کہا کہ خدایا، یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے عمل کے نتیجے میں جنت کا استحقاق میرے پاس تو کوئی عمل نہیں، پھر میرا کیا انجام ہوگا۔ اُس وقت مجھے قرآن کی ایک اور آیت یاد آئی۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں: وفي أموالهم حق للسائل والمحروم (19 :51)۔
میں نے کہا کہ خدایا، تو نے بندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ حق داروں کے علاوہ، سائل کو بھی اُن کا حصہ تیرا قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں عمل کرنے والے کو بھی ملے اور سائل کو بھی ملے۔ رحمت سے امید کرتا ہوں کہ تو میرے ساتھ یہی سلوک کرے گا۔ میں اپنے عمل کی بنیاد پر جس چیز کا مستحق نہیں ہوں ، اس کو تو میرے سوال کی بنیاد پر مجھے دے دے گا۔
پھر میں نے کہا کہ قرآن کی مذکورہ آیت (لمثل هذا، فليعمل العاملون) میں غالباً یہ بات بھی شامل ہے کہ: لمثل هذا، فليسئل السائلون - جنت کا استحقاق صرف دو چیزوں سے ہوتا ہے، حقیقی عمل، یا حقیقی دعا ۔ اس کے سوا کوئی تیسری چیز آدمی کو جنت کا مستحق بنانے والی نہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ پوری امت ایک غلطی میں مبتلا ہے۔ اور وہ جنت کا کم تر اندازہ کرنا۔ لوگ ایسی چیزوں کو جنت کی قیمت سمجھے ہوئے ہیں جن کا جنت کے حصول سے کوئی تعلق نہیں۔ صلوٰۃ التسبیح پڑھنے پر جنت، مسلم گھر میں پیدا ہونے پر جنت، کسی بزرگ کا دامن تھام لینے پر جنت، کسی درگاہ کے دروازہ جنت‘‘ سے گزر جانے پر جنت، کسی مقدس قبرستان میں دفن ہونے پر جنت۔ کلمہ گوئی پر جنت، مفروضہ دشمن کے خلاف لڑنے پر جنت، مسلمانوں کے قومی کلچر کو اختیار کر لینے پر جنت، وغیرہ ۔ اس ذہن کی ایک علامتی مثال ایک شاعر کا یہ شعر ہے:
نوک خامہ سے کھول لیں گے سہیل باب فردوس گر کھلا نہ ہوا یہ محض ایک تخیلاتی شعر ہے، حصول جنت کے معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ جنت کا دروازہ کسی انسان کے لیے اس کے نوک خامہ‘‘ سے نہیں کھلے گا، بلکہ وہ صرف اللہ کی رحمت سے کھلے گا۔ 3 مئی 2012 کی شام کا کھانا ہم لوگوں نے ہوٹل میں کھایا۔ کھانے کی میز پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ عرب اسپرنگ (Arab Spring) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کہا کہ یہ اصطلاح خود عربوں نے نہیں بنائی ہے، بلکہ امریکیوں نے بنائی ہے۔ عرب لوگ اس کو "نهضة إسلامية‘‘ کہتے ہیں، یعنی اسلامی بیداری (Islamic resurgence)۔ مگر میں دونوں ہی کو خوش فہمی سمجھتا ہوں۔ آج کل جو کچھ عرب ملکوں میں ہورہا ہے، وہ نہ عرب اسپرنگ ہے اور نہ
اسلامک رسر جینٹس۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف رد عمل کی ایک سیاست ہے۔ اور منفی رد عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔ عرب ملکوں کا موجودہ ہنگامہ صرف ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ (anti-establishment) ہنگامہ ہے، وہ ہر گز کوئی پرو اسلام (pro-Islam) تحریک نہیں۔ ایک مجلس میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں عرب ملکوں میں اسلام کے نام پر مختلف سرگرمیاں جاری ہیں، ان سرگرمیوں کو ایک لفظ میں ’صحوة إسلامية‘ کہا جاتا ہے، یعنی اسلامی بیداری۔ مگر میرے اندازے کے مطابق، یہ صحوة إسلامية نہیں ہے، بلکہ وہ صحوة قومية ہے۔ ان سرگرمیوں کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں عام طور پر ایسا ہو گیا ہے کہ اسلام اور مسلمان کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اپنی قومی سرگرمیوں کو صرف قومی نام دیں، وہ ان کو اسلام کا نام نہ دیں۔ سرگرمیوں کو اسلام کا نام دینے سے خدا کا دین بدنام ہوتا ہے اور خدا کے دین کو بدنام کرنا بلا شبہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کا یہ قومی مزاج بہت قدیم زمانے سے چلا حافظ شیرازی چودھویں صدی عیسوی کے ایک ایرانی شاعر تھے۔ یہی شکایت انھوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کے بارے میں ان الفاظ میں کی تھی:
حافظا، مے خورورندی کن وخوش باش ولے دام تزویر مکن چون دگراں قرآن را 4 مئی 2012 کی صبح کو ہم لوگوں نے ہوٹل میں ناشتہ کیا۔ ناشتے کے بعد ہم لوگ ساڑھے نو بجے فاتح کالج کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ بذریعہ کار 45 منٹ کا راستہ تھا۔ یہ کالج گولن تحریک کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ یہ کالج استنبول کے ایک کھلے ہوئے ایریا میں اس کا کیمپس کافی بڑا ہے۔ یہ کالج جدید طرز کی 6 منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ تعارف نامے میں اس کی بابت یہ الفاظ درج تھے:
Fatih College — our school, which is the new campus of
کالج کی بلڈنگ کی آخری منزل پر ایک وسیع کا نفرنس ہال بنایا گیا ہے۔ یہاں کالج کی طرف سے ایک پروگرام ہوا۔ یہاں کالج کے افراد کے علاوہ، کانفرنس میں آنے والے کچھ شرکا بھی موجود اس مجلس کے آغاز میں کالج کے ڈائریکٹر مسٹر او غور تمبول (Ugur Tombul) نے کالج کا مختصر تعارف پیش کیا۔ اس ذیل میں انھوں نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کالج آپ کا یہ شہر آپ کا شہر ہے۔ انھوں نے کہا کہ کالج کا مقصد ایسی نسل تیار کرنا ہے جو اسلامی معتقدات پر قائم ہو اور اسی کے ساتھ وہ انسانیت کی خدمت کرنے والی ہو۔
کالج میں ابتداء مہمانوں کی تواضع کے لیے زمزم اور کھجور پیش کی گئی۔ اس کے بعد کچھ تازہ پھل دئے گئے۔ اس کو دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ عام طور پر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ آب زمزم کا ایک ایک قطرہ پی لیتے ہیں، جب کہ عام پانی کے معاملے میں وہ ایسا نہیں کرتے، حالاں کہ دونوں پانی یکساں طور پر اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں۔
استاذ فتح اللہ گولن نے سب سے زیادہ زور تعلیم (education) پر دیا ہے۔ یہ بلاشبہ صحیح اسٹارٹنگ پوائنٹ (right starting point) ہے۔ اس کے حوالے سے میں نے ایک مجلس میں کہا کہ یہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ استاذ فتح اللہ گولن کے اندر صحیح طرز فکر پایا جاتا ہے۔ یہاں سب سے پہلے مجھ کو بولنے کا موقع ملا۔ میں نے تعلیم کے موضوع پر انگریزی زبان میں 15 منٹ کی ایک مختصر تقریر کی۔ اس کا بروقت عربی ترجمہ پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے کیا۔ کے بعد مجلس کے دوسرے شرکانے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
4 مئی 2012 کو جمعہ کا دن تھا۔ کالج کے پروگرام کے بعد ہم لوگ گولن تحریک کے تحت نکلنے
والے اخبار زمن (Zaman) کے آفس میں گئے۔ اس کا آفس جدید طرز کے ایک بڑے کا مپلکس میں واقع ہے۔ یہ اخبار ترکی کا مشہور اخبار ہے۔ اس کا سرکولیشن ایک ملین ہے۔ زمن کے دفتر کی کئی منزلہ عمارت کی ایک منزل پر مسجد بنائی گئی ہے۔ یہ جدید طرز کی ایک کشادہ اور خوب صورت مسجد تھی۔ مسجد کے ایک حصے میں عورتوں کے لیے نماز کا انتظام تھا۔ یہاں نمازیوں کی تعداد کافی تھی، پوری مسجد بھری ہوئی تھی۔ یہ سب کے سب لوگ اخبار (زمن) کے اسٹاف کے لوگ تھے۔ امام سے لے کر مقتدی تک سب کے سب کوٹ پتلون پہنے ہوئے تھے۔ ترکی کے سفر سے پہلے ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ کمال اتا ترک نے ترکوں کے لیے ہیٹ (hat) پہننے کو قانونی طور پر لازم قرار دے دیا تھا، مگر ہم کو اپنے سفر میں کوئی ترک ہیٹ پہنے ہوئے نظر نہیں آیا، نہ مسجد کے اندر، نہ مسجد کے باہر۔ ان کے سروں پر نہ ہیٹ ہوتا تھا اور نہ قدیم ترکی ٹوپی۔
اخبار زمن کے اس کیمپس میں پرنٹنگ پریس بھی موجود ہے۔ یہاں سے اخبار کے علاوہ، استاد فتح اللہ گولن کی کتابیں انتہائی اعلیٰ معیار پر چھپی ہیں۔ اس پبلشر کا نام یہ ہے: دار النیل للنشر۔ جمعہ کی نماز کے بعد زمن اخبار کے وسیع ہال میں دوپہر کا کھانا (lunch) کھایا گیا۔ کے دوران کانفرنس میں آنے والے مختلف شرکا سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً مفتی مصر شیخ علی جمعہ، وغیرہ۔ مولانا محمد ذکوان ندوی نے ان کو میری کتاب ’الاسلام یتحدى‘ اور ’الدعوۃ إلى الله‘ کا ایک نسخہ ’الاسلام یتحدى‘ کو دیکھ کر انھوں نے کہا کہ میں اس کتاب کو 35 سال پہلے پڑھ چکا ہوں ۔ واضح ہو کہ ’الاسلام یتحدى‘ کا عربی ایڈیشن پہلی بار 1969 میں کویت سے چھپا تھا۔ یہاں کئی عرب علما سے ملاقات ہوئی ۔ ان میں سے بعض لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ’الاسلام یتحدى‘ کے بعد میری دوسری کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔ میرے ساتھی نے ان کو بتایا کہ ایسا نہیں ہے۔ ’الاسلام یتحدى‘ کے بعد میری دوسری کئی کتابیں مختلف زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔ خاص طور پر میری تفسیر ’تذکیر القرآن‘ کا عربی ایڈیشن 3 جلدوں میں مصر کے ادارہ دارالوفا (منصورہ) سے 2008 میں چھپ گیا ہے۔ تذکیر القرآن کا یہ عربی ایڈیشن تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس ادارے نے راقم الحروف کی
ایک اور کتاب ’خاتون اسلام‘ کا عربی ترجمہ (المرأة بين شريعة الإسلام وحضارة الغرب) شائع کیا ہے۔ ادارے کا مکمل پتہ یہ ہے:
دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، جمهورية مصر العربية، المنصورة ش - الإمام محمد عبده المواجهة لكلية الآداب، ص. ب: 230 Tel: +2050 22 56 230, Fax: +20502260 974 دار الوفا (مصر) کا اپنا ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر تذکیر القرآن کے عربی ایڈیشن کا تعارف ان الفاظ میں دیکھا جا سکتا ہے:
• إن الغرض الرئيسي من هذا التفسير بصفة خاصة، هو (التذكير بالقرآن) ومن حيث أن القرآن نفسه إنما جاء من أجل تحقيق هذه الغاية، أي التذكير والموعظة، فإن الجانب الذي أولاه المؤلف القسط الاوفر من إتمامه، في طرح مضامين هذا التفسير هو أن يجد في القارئ منهلا فياضا أو مرتعا خصبا يضمن له اشباع حاجته إلى التذكير والاعتبار والاتعاظ۔
• وحاول المؤلف اتباع اسلوب الفقرات في طرح مضامين هذا التفسير أي أنه عمد إلى فقرة من فقرات القرآن، ثم تناول ما يندرج تحتها من فكرة أو توجيه معنوي بالتفسير والإيضاح كموضوع متسلسل، وذلك حرصا منه على ألا تنقطع من القارئ سلسلة المعاني والمفاهيم المطروحة خلال قراءته في فقرة تفسيرية معينة، ولكي يتمكن من التزود المستمر المتواصل (بالغذاء التذكيري) للقرآن
• ولقد توخى المؤلف الشيخ وحيد الدين خان في إعداد (تذكير القرآن) من الحكمة، ما جعل كل فقرة من فقراته، مستقلة بذاتها، وذلك لاحتوائہا على فكرة قرآنية واضحة محددة، فسواء قرأ القاري صفحة واحدة من التفسير، أم قرأ مجموعة كبيرة من الصفحات، فإنه لا يكاد ينتهى من قراءته إلا ويكون قد
ظفر بنصيب من (الموعظة القرآنية) على أية حال۔
• وقد توخى الايجاز إلى الحد الممكن، غير عارض للتفاصيل المتصلة بالجانب اللغوي، أو الجانب الفقهي أو الجانب الكلامي، أو ما إلى ذلك من الجوانب والوجوه الأخرى للمدلول القرآني، وإنما الشئ الذي جعله نصب عينيه، هو أن يتسم تفسير القرآن بطابع من البساطة التي يتميز بها القرآن نفسه، فإن القرآن، من جهة يعكس جلال الله وعظمته، ومن جهة أخرى، هو مرأة تنعکس عليه عبودية الإنسان بجميع نواحيها، وهذه هي النقاط الجوهرية التي يتمحور حولها هذا التفسير، ويحاول تجليتها بأسلوب موجز وبسيط، بعيدا عن
تذکیر القرآن کا یہ عربی ترجمہ مولانا ابوصالح انیس لقمان ندوی نے کیا ہے۔ وہ مالے گاؤں (مہاراشٹر) میں 1965 میں پیدا ہوئے۔ اب وہ ابوظبی (عرب امارات) میں رہتے ہیں۔ بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو عربی زبان سے عشق ہے۔ عربی کے علاوہ، وہ انگریزی زبان میں بھی لکھنے پڑھنے اور بولنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس عربی تفسیر کے کئی سیٹ گولن تحریک کے اداروں کی لائبریری کے لیے دئے گئے ۔ میری تین کتابوں کا ایک سیٹ استاذ فتح اللہ گولن کو میرے دستخط سے بھجوایا گیا—التذکیر القويم، الإسلام يتحدى، الدعوة إلى الله۔
ترکی کی جس کانفرنس کے لیے ہم لوگ آئے تھے، اس کا انعقاد ترکی کے ایک دوسرے سرحدی شہر غازی عین تیپ (Gazentep) میں کیا گیا تھا۔ استنبول میں ہمارا قیام پیشگی طور پر اس لیے تھا کہ ہم اس تاریخی شہر کو دیکھیں اور یہاں کے تعلیمی اور سماجی اداروں کا براہ راست طور پر مشاہدہ کر سکیں ۔ عام طور پر کانفرنس کے شرکا کو براہ راست غازی عین تیپ پہنچنا تھا۔ چناں چہ اخبار زمن کے آفس سے ہم لوگ سیدھے کمال اتا ترک کے ڈومسٹک ائز پورٹ گئے۔ یہاں سے ائر پورٹ صرف 15 منٹ کے فاصلے پر تھا۔ ائر پورٹ پر کافی بھیڑ نظر آئی۔ یہاں سیکورٹی کا انتظام سخت تھا۔
مختلف مراحل پر بار بار چیکنگ ہوتی رہی۔ تاہم یہ سب جدید طرز کے آلات کے ذریعے بہت منظم انداز میں ہورہا تھا۔ ایک ترک ساتھی نے اس کو دیکھ کر کہا کہ ترکی میں امریکا سے زیادہ، لوگ امن کے بارے میں حساس واقع ہوئے ہیں۔
یہاں ہمارے ساتھیوں نے ائر پورٹ کے عملہ کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ ترکی زبان میں چھپا ہوا ایک خوب صورت پمفلٹ تھا، وہ بھی یہاں لوگوں کو دیا گیا۔ اس کا عنوان یہ تھا ــــ اکیسویں صدی میں ترکی کا رول Tükiye'nin Rolü 21) (ائر پورٹ پر افریقہ سے آئے ہوئے کچھ علما سے ملاقات ہوئی۔ یہ انڈیا کے رہنے والے تھے، مگر وہ افریقہ (زامبیا) میں مقیم ہیں۔ ہمارے ساتھی نے ان کو دعوتی پمفلٹ اور کتاب معرفت‘ دی۔ اس کو انھوں نے خوشی کے ساتھ لیا۔ ان میں سے کئی لوگوں نے بتایا کہ وہ ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ ائر پورٹ کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز میں داخل ہوئے۔ ائرلائنز (2224-TK) کا نسبتاً ایک چھوٹا جہاز تھا۔ استانبول سے غازی عین تیپ کا فاصلہ تقریباً ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر (848.27) ہے۔ سوا گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم لوگ غازی عین تیپ کے ائر پورٹ پر اتر گئے۔ یہ ایک چھوٹا اور خوب صورت ائر پورٹ تھا۔ فضا میں بادل تھے اور ائر پورٹ کے چاروں طرف دور دور تک پہاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
ائر پورٹ سے بذریعہ کار ہم لوگ شہر کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ راستہ تقریباً 45 منٹ میں طے غازی عین تیپ میں ہمارا قیام یہاں کے مشہور ہوٹل توجان (Tugcan) میں تھا۔ لیکن پہلے ہم لوگ اوغور پلازا ہوٹل (Ugur Plaza) میں گئے۔ یہاں مغرب کی نماز کے بعد ڈنر (dinner) کا ڈنر کے بعد ہم لوگ توجان ہوٹل چلے گئے جہاں ہمارا قیام تھا۔ یہ ہوٹل بذریعہ کار یہاں سے 10 منٹ کے فاصلے پر تھا۔
یہ جدید طرز کا ایک ملٹی اسٹوری ہوٹل تھا۔ یہاں ہوٹل کے پانچویں فلور پر ہم کو ایک سویٹ (suite) میں ٹھہرایا گیا۔ ہمارے ساتھیوں کے قیام کے لیے اس ہوٹل کے فرسٹ فلور پر ڈبل بیڈ کا
ایک دوسرا روم دیا گیا تھا۔ ہوٹل میں ہر قسم کی راحت کا سامان موجود تھا، لیکن مجھے اس قسم کے سامانورں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ میں اپنے سادہ انداز میں ہوٹل میں رہا اور پھر واپس آگیا۔ 2012ء کو صبح کا ناشتہ اسی ہوٹل میں تھا۔ کانفرنس کے تمام شرکانے ایک بڑے ہال میں میزوں کے گرد بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ یہ پورا ہال کھانے کے مختلف آئٹم سے بھرا ہوا تھا، مگر میں نے اپنی عادت کے مطابق، ناشتے کے لیے صرف دو چیزیں لیں۔ شہد اور براؤن بریڈ۔ ناشتے کے بعد ہم لوگ شہر کے اُس مقام پر گئے جہاں کانفرنس کی کارروائی کا انتظام تھا۔ جدید طرز کا ایک انتہائی وسیع ہال تھا۔ یہاں رسیپشن کے پاس کئی بک اسٹال تھے۔ ہمارے ساتھی کئی کارٹن میں ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں لے گئے تھے۔ مثلاً قرآن کا انگریزی ترجمہ اور عربی اور انگریزی کی دوسری کتابیں ۔ ان میں ترکی زبان میں چھپا ہوا ایک پمفلٹ تھا جو اسی موقع کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ تمام مطبوعات رسیپشن کاؤنٹر کے سامنے لگی ہوئی میزوں پر رکھ دی گئیں۔ کانفرنس کے شرکا اور مقامی لوگوں نے یہاں سے مفت کتابیں حاصل کیں۔ یہ کتابیں ہاٹ کیک کی طرح تھوڑی ہی دیر میں ختم ہوگئیں۔
2012ء کی صبح کو 11 بجے کانفرنس کا آغاز یہاں کے ایک اجتماعی سنٹر (Sehit Kamil Culture and Congress Centre) میں ہوا۔ سب سے پہلے ایک نوجوان ترک قاری نے قرآن کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز کیا۔ یہ تلاوت مصری لہجے میں تھی۔ انھوں نے تلاوت کے لیے سورہ احزاب کی آیات 21- 27 اور 36- 48 کا انتخاب کیا تھا۔ قرات کے بعد کانفرنس کے ناظم مسٹر کمال گولن (Kemal Gülen) نے کانفرنس کا اور اس کے پروگرام کا تعارف کرایا۔ ان کی تقریر تر کی زبان میں تھی۔ اس کانفرنس کا اہتمام مجلہ حراء کی طرف سے کیا گیا تھا۔ چناں چہ تعارفی تقریر کے بعد مجلہ حراء کے ایڈیٹر مسٹر نوزاد صواش کی انھوں نے کانفرنس کے مقاصد کی مزید وضاحت کی۔
اس کانفرنس میں مجھے افتتاحی تقریر (inaugural address) کا موقع دیا گیا۔
انگریزی میں 15 منٹ کی ایک تقریر کی۔ تقریر کا موضوع دعوت الی اللہ تھا۔ اُس وقت میں شدید کیفیت میں تھا۔ مجھے خود نہیں معلوم کہ میں نے کیا کہا، لیکن سننے والوں کا بیان ہے کہ تقریر کے دوران میں خود بھی روتا رہا اور سامعین بھی روتے رہے۔
تقریر کے بعد کئی لوگوں کے تبصرے سامنے آئے۔ کانفرنس کے کو آرڈینیٹر (co-ordinator) مسٹر کمال گولن نے اپنی تقریر کے دوران میرے بارے میں کہا کہ۔ ان کی موجودگی اپنے آپ میں ایک خاموش خطاب تھا۔ اُن کو دیکھ کر مجھے حضرت ابو ایوب انصاری یاد آگئے، کیوں کہ وہ جب ترکی آئے تھے تو وہ بھی اسی طرح بوڑھے تھے، اُس وقت اُن کی عمر 80 سال ہو چکی تھی۔ اسی طرح حواء میگزین کے ایڈیٹر مسٹر نوزاد صواش نے گفتگو کے دوران مجھ سے کہا کہ کانفرنس کو آپ ہی نے شروع کیا اور وہ آپ ہی پر ختم ہوگئی۔ انھوں نے کہا کہ کانفرنس میں آپ کا خطاب سننے کے بعد ہم نے سوچا کہ کانفرنس کو ختم کرکے اب ہم لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں، کیوں کہ جو کچھ کہنا تھا وہ آپ نے کہہ دیا۔ اسی طرح ایک ترک اسکالر نے کہا کہ: You were the hero of this conference. کانفرنس کے خاتمے پر ابھی میں اسٹیج ہی پر تھا کہ لوگ ہجوم کرکے میرے پاس آگئے۔ آٹوگراف لے رہا تھا، کوئی میرے ساتھ تصویر کھنچوا رہا تھا، کوئی میری کتاب پر میرے دستخط لینا چاہتا یہ صورت حال دیر تک باقی رہی۔ ترکی کے ایجوکیشن منسٹر ڈاکٹر محمد گورماز بھی وہاں موجود تھے۔ عربی بول رہے تھے۔
خطاب کے بعد وہ میرے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں حضرت ابو ایوب انصاری کا جو حوالہ دیا، اس نے مجھ کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ میری عربی کتابیں پڑھ چکے ہیں۔ ترکی کے لوگوں نے جس اعلیٰ اعتراف کا مظاہرہ کیا، وہ بلاشبہہ ان کے زندہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
میرے ساتھی نے یاد دلایا کہ میں نے اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ جب میں استنبول
میں حضرت ابو ایوب انصاری کی قبر کے پاس کھڑا تھا تو وہاں مجھے ایک خاموش آواز سنائی دی۔ خاموش تھی، لیکن وہ بہت زیادہ واضح تھی ۔ وہ آواز یہ تھی کہ اے امتِ محمد، تم کہاں ہو ۔ ما قبل کمیونیکیشن دور میں خدا کا پیغام یہاں تک پہنچایا تھا۔ اب تم اٹھو اور آگے بڑھ کر اس پیغام کو ما بعد کمیونیکیشن دور کی مدد سے پوری دنیا میں پہنچا دو۔ ہم نے قدیم دنیا کے انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچایا تھا، تم جدید دنیا کے انسانوں تک خدا کا پیغام رحمت پہنچا دو۔
کانفرنس ہال سے ہم لوگ نکلے تو یہاں استنبول کے ٹی وی چینل الترکیہ (TRT) کی ٹیم اس ٹیم کے نمائندہ مسٹر جمیل جو موش تھے۔ انھوں نے میرا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اُن کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں، اُن کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مسائل (problem) زندگی کا حصہ ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کیا جائے: Ignore the problems, avail the opportunities. مسٹر جمیل جو موش نے دوران گفتگو سوال کیا کہ کیا استاذ فتح اللہ گولن سے آپ کی ملاقات ہوئی میں نے کہا نہیں، البتہ میں نے ان کی بعض کتابیں دیکھی ہیں۔ میں ان کی قدر کرتا ہوں ۔ ایک مخلص اور تعمیر پسند لیڈر ہیں۔
کانفرنس مجموعی طور پر دو دن تک جاری رہی، لیکن میں اور میرے ساتھی اس کے صرف پہلے سیشن (افتتاحی اجلاس) میں شریک رہے۔ کانفرنس ہال سے نکلنے کے بعد ہم لوگوں کو اوغور پلازا ہوٹل لے جایا گیا جہاں دوپہر کے کھانے کا انتظام تھا۔
یہاں ہوٹل میں مختلف ملکوں کے کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اُن میں سے ایک مسٹر احمد (Ahmet Alibasic) تھے۔ وہ بوسنیا سے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ نے بتایا کہ وہ مجھ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ بہت پہلے سے میری کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ نے انگریزی زبان میں چھپی ہوئی ایک کتاب دی۔ یہ کتاب 615 صفحات پر مشتمل ہے۔
اس کتاب کو 5 مصنفین نے مشترک طور پر ایڈٹ کیا ہے۔ اس کتاب کا نام یہ تھا: Yearbook of Muslims in Europe, (Vol. 3, Brill, Leiden-2011)
پروفیسر احمد کتاب کے 5 ایڈیٹروں میں سے ایک ہیں۔ اُن کے بارے میں کتاب میں یہ الفاظ درج ہیں :
Ahmet Alibasic is a lecturer at the Faculty of Islamic Studies, University of Sarajevo, and Director of the Center for Advanced Studies in Sarajevo. He was educated in Kaula Lumpur (Islamic Studies, political sciences, and Islamic civilization). He also served as the first director of the Interreligious Institute in Sarajevo (2007-2008). مسٹر احمد سے دعوت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ بوسنیا میں اور یورپ کے دوسرے حصوں میں قرآن کا ترجمہ زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔ مسٹر احمد کو ہمارے یہاں کا چھپا ہوا انگریزی ترجمہ قرآن دیا گیا۔ اس کو انھوں نے بہت پسند کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں یہاں سے جانے کے بعد منظم طور پر اس کے لیے کام کروں گا کہ یورپ میں اور خاص طور پر بوسنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس ترجمہ قرآن کو پہنچایا جائے ۔
کھانے سے فارغ ہو کر ہم لوگ اپنے ہوٹل واپس آگئے ۔ یہاں کچھ دیر قیام کرنے کے بعد ہم لوگوں کو دوبارہ اوغور پلازا ہوٹل لے جایا گیا ہے۔ یہاں مغرب کے بعد شام کا کھانا (dinner) اس کے ساتھ یہاں کانفرنس کی ایک نشست بھی ہوئی۔ کھانے کے بعد کانفرنس کے مختلف شرکا نے مختصر آ یہاں خطاب کیا۔ ان میں سے ایک تیونس کے ملیح المرعشی تھے۔ انھوں نے پرجوش انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا: نحن نريد أن نعيد مجد الأمة الإسلامية في العصر الحاضر (ہم چاہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں امت اسلامیہ کی عظمت کو ہم دوبارہ واپس لائیں ) ۔ یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام مسلم رہنماؤں اور دانش وروں کا ذہن ہے۔ وہ ملتِ مسلمہ کی "عظمتِ رفتہ" کو دوبارہ واپس لانے کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح کی باتیں سن کر میں سوچتا ہوں کہ
وہ کون سی عظمت ہے جس کو یہ لوگ واپس لانا چاہتے ہیں۔ جہاں تک مادی آسودگی اور دینی سرگرمیوں کی بات ہے، وہ بلاشبہ مسلمانوں کو پچھلے ادوار کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ حاصل ہے۔ حتیٰ کہ سیاست کے اعتبار سے بھی ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں کی 58 حکومتیں ہیں۔ دعوت کے مواقع بھی پچھلے ادوار کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ حاصل ہیں، پھر وہ کون سی عظمت ہے جس کے کھونے پر موجودہ زمانے کے مسلمان فریاد و ماتم میں مبتلا ہیں۔ وہ صرف ایک ہے اور وہ نام نہاد پولیٹکل ایمپائر ہے۔ پولیٹکل ایمپائر کے زمانے میں مسلمانوں کو جو کچھ حاصل تھا، اُس سے بھی بہت زیادہ آج مسلمانوں کو پھر یہ فریاد و ماتم کس لیے۔ یہ صرف ابلیس کی تزئین ہے۔ ابلیس چاہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو شکر کے جذبات سے محروم کر کے اُنھیں ناشکری کے جذبات میں مبتلا کر دے، تاکہ اُس کا وہ چیلنج پورا ہو جو اُس نے اِن الفاظ میں کیا تھا: ولا تجد أكثرهم شاكرين (7:17)۔
اس سلسلے میں ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تاریخ کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر اِس سے بالکل مختلف ہے جس میں آج کل کے تقریباً تمام مسلم مقررین اور محررین مبتلا اسلامی نقطہ نظر کے اعتبار سے، صحیح یہ ہے کہ تاریخ کو مواقع (opportunities) کے اعتبار سے دیکھا جائے، نہ کہ مسائل (problems) کے اعتبار سے۔ مسائل کو نظر انداز کرنا اور مواقع کو استعمال کرنا، یہی سنتِ رسول ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس اہم ترین سنتِ رسول کا شعور موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں مفقود ہو گیا ہے۔
ترکی کے وزیرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد گورماز (Dr. Mehmet Görmez) بھی اس پروگرام میں شریک تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ ہم لوگوں کے ساتھ ایک عام آدمی کی طرح رہتے لفٹ (lift) میں بھی وہ عام آدمی کی طرح آتے جاتے ہیں۔ اُن کے ساتھ کوئی سکیورٹی موجود یہ سادگی ترکی کے سوا کسی بھی مسلم ملک میں موجود نہیں۔
یہ فرق کیوں ہے۔ اس فرق کا سبب وہی بدنام آپریشن ہے جس کو کمال ازم (Kemalism) کہا جاتا ہے۔ کمال اتاترک (وفات: 1938) کی امیج (image) علما کے درمیان یہ ہے کہ وہ ایک
اسلام دشمن انسان تھا، مگر ایسا نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ کمال اتاترک نے فرسودہ مشرقی کلچر کے تحت پیدا شدہ جمود (stagnation) کو ختم کر کے اس کی جگہ وہ کلچر رائج کیا جو خود اس کی اپنی زبان میں’’ سائنٹفک کلچر‘‘ تھا۔ اسی سائنٹفک کلچر کا یہ نتیجہ ہے کہ ترکی واحد ملک ہے جہاں مغرب کی ترقی یافتہ قوموں کی وہ خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے معترف خود ہمارے علما ہیں۔ وقت کی پابندی، ورک کلچر، وغیرہ۔
ترکی کے اس سفر کے دوران ایک عجیب تجربہ یہ ہوا کہ یہاں کمال اتاترک کی نہ کوئی تعریف کرنے والا ملا اور نہ تنقید کرنے والا۔ میں نے ایک تعلیم یافتہ ترک سے اتاترک کے بارے میں سوال کیا، مگر انھوں نے اس موضوع پر کچھ زیادہ گفتگو نہیں کی۔ اگر یہی موجودہ ترکوں کا مزاج ہے تو وہ نہایت درست مزاج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کو بھلانا اور ساری توجہ حال پر مرتکز کر دینا۔ یہ بلاشبہہ وہی مزاج ہے جس کو تعمیر پسندانہ مزاج کہا جاتا ہے۔ 6 مئی 2012 کی صبح کو غازی عین تیپ سے استنبول کے لیے روانگی تھی۔ چناں چہ ناشتے کے بعد ہم لوگ ائر پورٹ کے لیے روانہ ہو گئے۔ ہوٹل سے ائر پورٹ تک کا سفر 45 منٹ میں طے راستے میں مختلف مقامات پر ہرے بھرے درختوں کی قطاریں دکھائی دیں۔ یہ انجیر اور زیتون اور پستہ (Pistachio) کے درخت تھے۔
علامہ بدر الدین العینی نویں صدی ہجری کے مشہور محدثین میں سے ہیں۔ ان کی پیدائش 762 ہجری میں اسی شہر غازی عین تیپ میں ہوئی۔ بعد کو وہ قاہرہ (مصر) میں مقیم ہو گئے اور یہیں 855 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ غازی عین تیپ کی نسبت سے ان کو’’العینی‘‘ کہا جاتا ہے۔ العینی کی بہت سی کتابیں ہیں۔ ان میں سب سے مشہور کتاب بخاری کی شرح عمدة القاري في شرح البخاري ہے جو 11 جلدوں میں چھپ کر شائع ہو گئی ہے۔
غازی عین تیپ سے صبح کو ساڑھے آٹھ بجے ٹرکش ائر لائنز کی فلائٹ نمبر 2221 کے ذریعے استنبول کے لیے روانگی ہوئی۔ ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم لوگ استنبول کے ائر پورٹ پر پہنچ
ائر پورٹ سے روانہ ہو کر ہم لوگ سب سے پہلے انا طولو ایجنسی (Anadolu Ajansi) یہ ایک سرکاری نیوز ایجنسی ہے۔ اس کو 92 سال پہلے کمال اتاترک نے 1920 میں قائم کیا اس کی بلڈنگ بہت بڑی اور نہایت منظم تھی۔ اس کا ہر حصہ نہایت صاف ستھرا تھا۔ انڈیا میں ورلڈ اسٹینڈرڈ (world standard) کی بات بہت کی جاتی ہے، لیکن عملاً یہاں کوئی بھی چیز ورلڈ اسٹینڈرڈ کے مطابق نہیں، لیکن ترکی میں ہر چیز ورلڈ اسٹینڈرڈ کے مطابق نظر آئی۔ اناطولو ایجنسی میں ایک پوری ٹیم نے میرا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان وہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ انٹرویو مسٹر توران ترکی (Turan Kislakci) تھے۔ ایجنسی کے عربی نیوز شعبہ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے جو سوالات کئے، اُن سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ میری زندگی اور میرے مشن سے اچھی طرح واقف ہیں۔ انٹرویو کا موضوع اصلاً’’اسلام اور ماڈرن تہذیب‘‘ تھا، لیکن سوالات کے اعتبار سے یہ ایک جامع انٹرویو تھا۔ سوالات کے دوران جو موضوعات زیر بحث آئے، اُن میں سے کچھ یہ تھے اسلام اور عصر حاضر، سیکولرزم، ڈیموکریسی، عرب اسپرنگ، اسلامی حکومت، شیعہ سنی اختلافات، تقسیم ہند، اسلام میں عورت کا مقام، دور جدید میں دعوت الی اللہ کے امکانات، وغیرہ۔
ایک سوال اتاترک کے کمال ازم (Kemalism) کے بارے میں تھا۔ میں نے کہا کہ اتاترک کا کیس اسلام دشمنی کا کیس نہیں تھا۔ اتاترک کا آپریشن دراصل جمود اور فرسودہ مسلم کلچر کے خلاف تھا جو آخری زمانے میں خلافت عثمانی کے زوال کے نتیجے میں پیدا ہو گیا تھا۔ میں نے کہا: The case of Ataturk was not one of modernization of Islam, instead it was one of Islamization of Modernism. ترکی کے جدید ڈیولپ مینٹ میں مصطفی کمال اتاترک (وفات: 1938) کا ابتدائی رول کمال اتاترک فطری طور پر ایک جرأت مند اور با عزم آدمی تھے۔ یہ کمال اتاترک ہی تھے جو ترکی میں ریڈیکل ریفارم (radical reform) لے آئے۔ مثلاً رومن رسم الخط کو ترکی کی زبان کا رسم الخط بنانا، مغربی طرز تعلیم کو ترکی میں رائج کرنا، وغیرہ۔ ان انقلابی تبدیلیوں کے پیچھے کمال
اتاترک کا نظریہ کیا تھا ، وہ اصولی طور پر اُن کے اِس مشہور قول میں ملتا ہے سائنس انسانی زندگی کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد رہنما ہے:
Science is the most reliable guide in life (EB/2/257)
کمال اتاترک جو تبدیلیاں لائے ، اُن کو مخالفِ اسلام (anti-Islam) کہنا درست نہ زیادہ صحیح طور پر اتاترک کا مشن مخالفِ جمود (anti-stagnation) مشن تھا۔ ترکی میں کمال اتاترک کی ریڈیکل کارروائیوں کے نتیجے میں بہت سی مثبت چیزیں پیدا ہوئیں۔ مثلاً طویل جمود کا ٹوٹنا، لوگوں میں اوپن نیس (openness) کا آنا، جدید تعلیم کا فروغ، مغربی کلچر سے ڈائنا مزم (dynamism) کا آنا، مثبت سیکولر قدروں (positive secular values) کو فروغ، جدید وسائل کو رواج دینا، ترکی زبان کے لیے رومن رسم الخط اختیار کرنے کی بنا پر کمپیوٹر کی تیز رفتار ترقی کا ممکن ہو جانا، عالمی انٹریکشن (global interaction) کا عمومی پھیلاؤ، حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic thinking) کا رواج، علاحدگی پسندی (separatism) کا خاتمہ، ہر شعبے میں جدید کاری (modernization)، وغیرہ۔
مصطفیٰ کمال اتاترک کوئی مذہبی انسان نہیں تھے، وہ صرف ایک سیکولر انسان تھے۔ میں جو انقلابی تبدیلیاں ان کے ذریعے وجود میں آئیں، وہ باعتبارِ نتیجہ ایسی تھیں جن سے اسلامی دعوت کے نئے مواقع کھل گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ نے میرے جوابات سے اتفاق کیا۔
انا طولو ایجنسی کے پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد ہم لوگ توپ کاپی پیلیس میوزیَم دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ توپ کاپی پیلیس (Topkapi Palace) عثمانی خلفا کا محل تھا۔ اُس کو میوزیَم بنا دیا گیا ہے۔ یہ میوزیَم ایک بہت بڑے قلعے کی صورت میں ہے۔ اس کے بہت سے اس کو چند گھنٹوں میں دیکھا نہیں جاسکتا۔ ہم نے اس کے کچھ حصوں کو دیکھا۔ دورِ تاریخ کے نوادرات بہت کثرت سے موجود ہیں۔ یہ میوزیَم اپنے بیش قیمت تاریخی نوادرات کی
وجہ سے دنیا کے مشہور ترین میوزیم میں شمار ہوتا ہے۔
اس میوزیم میں جو چیزیں رکھی گئی ہیں، ان میں سے چند چیزیں یہ تھیں ــ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب چیزیں۔ مثلاً آپ کا جبہ، آپ کی دو تلواریں، شاہ مقوقس کے نام آپ کا مکتوب، وغیرہ ــ تاریخی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں عباسی خلفا کے پاس موجود چناں چہ 1517 میں مملوک سلطنت کو شکست دینے کے بعد جب عثمانی سلطان سلیم اول (وفات: 1520ء) کو ”خادم الحرمین الشریفین“ کا لقب دیا گیا، اُس وقت مصر میں مقیم آخری عباسی خلیفہ المتوکل علی اللہ الثالث (وفات: 1543 ء) کی طرف سے سلطان سلیم کو ”خلافت“ کا منصب بھی عطا کر دیا گیا۔ اِسی کے ساتھ المتوکل نے سلطان سلیم کو مذکورہ تاریخی چیزیں بھی سند خلافت کے طور پر دے دیں۔ اس کے بعد سے عثمانی سلاطین کو ”خلیفہ“ کہا جانے اُس وقت سے یہ تاریخی چیزیں استنبول کے توپ کاپی پیلیس میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، اس میوزیم میں عثمانی سلاطین کی بہت سی یادگاریں، لائبریری اور مختلف بادشاہوں کے شاہی تخت بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ایرانی بادشاہ اسماعیل صفوی کا تخت، وغیرہ۔
اس کے بعد ہم لوگ استنبول میں اپنے آخری پروگرام کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ مسٹر محمد امین ترکی (Mehmet Emin Baspehlivan) کی دعوت پر اُن کے گھر جانا تھا۔ مسٹر محمد امین پبلشر بھی ہیں اور اِسی کے ساتھ مصنف بھی۔ انھوں نے ہماری بعض کتابیں ترکی زبان میں شائع کی ہیں۔ کے ادارے کا نام یہ ہے: Excellence Publishing Ltd. STI مسٹر محمد امین استنبول کی ایک پاش کالونی میں رہتے ہیں۔ یہ ایک نہایت صاف ستھری کالونی تھی، دہلی کی کسی پاش (posh) کالونی سے بہتر۔ یہاں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا۔ بعد فیملی کی سطح پر گھر کے ایک ہال میں مختصر پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں میں نے دعوت الی اللہ کی اہمیت کے بارے میں کچھ باتیں کہیں۔ آدھ گھنٹے کے خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام یہاں میں انگریزی میں گفتگو کر رہا تھا۔ مسٹر علی اکینز ترکی زبان میں اس کا ترجمہ کر رہے تھے۔
گھر کی ایک خاتون نے سوال کیا کہ آپ قرآن کے ترجمے کو لوگوں کے درمیان ڈسٹری بیوٹ (distribute) کرنے پر بہت زور دیتے ہیں۔ کیا صرف قرآن ڈسٹری بیوٹ کرنے سے دعوت کا حق ادا ہو جائے گا۔
اس کے جواب میں میں نے کہا کہ ہاں، قرآن مکمل دعوت ہے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کا مقصد کنورژن (conversion) نہیں ہے۔ دعوت کا مقصد انذار و تبشیر (19:97) ہے، یعنی خدائی ہدایت نامے کو لوگوں تک پہنچا دینا، اور قرآن پہنچانے کے بعد یہ کام بلاشبہ اصولی طور پر انجام پا جاتا ہے۔ داعی کا کام خدا کے پیغام کو پرامن انداز میں مدعو تک پہنچا دینا اس کے بعد یہ مدعو کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کے بارے میں کیا رسپانس دیتا ہے۔ مسٹر امین کا گھر بظاہر ایک ماڈرن گھر تھا، لیکن اُن کے مزاج میں سادگی اور دین داری تھی۔ ان کی بیوی اور ان کی والدہ دونوں حافظ قرآن تھیں۔ انھوں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھنے کی چناں چہ ہمارے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے قرآن کی سورہ الم نشرح (94) کی اس کے بعد میں نے اس سورہ کی تشریح کی۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں عسر کے ساتھ یسر بھی لازماً موجود رہتا ہے۔ گھر کی ایک خاتون نے یہ سوال کیا کہ ڈفرنس کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا طریقہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ ڈفرنس کو فطرت کا ایک حصہ سمجھا جائے۔ لے کر شدید طور پر حساس ہونے کے بجائے، اس کے بارے میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جس کو اس مشہور مقولے میں بیان کیا گیا ہے: Take it easy - حقیقت یہ ہے کہ ڈفرنس کوئی مسئلہ نہیں، یہ لوگوں کی اپنی حساسیت ہے جس نے ڈفرنس کو غیر ضروری طور پر ایک مسئلہ بنا دیا ہے۔ مسٹر امین کے گھر سے اتاترک انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ ایئرپورٹ یہاں سے ایئرپورٹ پر چیکنگ معمول کے مطابق تھی۔ مسٹر علی ایکیز بار بار منع کرنے کے باوجود ایئرپورٹ کے اندر آخری گیٹ تک ہمارے ساتھ رہے اور ہر مرحلے میں ہماری مدد کرتے رہے۔ آج کا پورا دن
ہمارے لیے ایک ہیکٹک دن (hectic day) تھا، لیکن مسٹر علی آخر تک نہایت خوش دلی کے ساتھ غازی عین تیپ سے استانبول ائرپورٹ تک کے تمام مراحل میں ہمارا ساتھ دیتے رہے۔ جدید ترکی میں یہ مزاج ہم نے ہر جگہ دیکھا۔ ان لوگوں کے اندر وہ چیز عام طور پر پائی جاتی ہے جس کو ورک کلچر (work culture) کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ان لوگوں میں شرافت اور فراخ دلی اور سادگی جیسے اخلاقی اوصاف عام طور پر دیکھنے میں آئے۔ واپسی کے سفر میں جہاز کے اندر کچھ چیزیں مطالعے کے لئے موجود تھیں ۔ سے ایک مشہور ترک اخبار زمن (Zaman) تھا۔ اس کا انگریزی ایڈیشن ٹوڈیز زمن (Today's Zaman) کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ 6 مئی 2012 میں ایک مضمون اس عنوان کے تحت تھا: