Al-Risala · October 2012

عقل کا مسئلہ

Al-Risala, October 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

عقل (reason) کیا ہے۔ عقل خالق کا ایک قیمتی عطیہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ۔ اللہ تعالی نے سب سے افضل چیز جو پیدا کی ، وہ عقل ہے (ما خلق الله خلقاً أكرم عليه من حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام کمالات کا انحصار عقل پر اور عقل کے استعمال پر ہے، عقل کے بغیر کوئی بھی انسانی ترقی ممکن نہیں۔ عقل نہ ہو تو انسان پتھر کے ایک اسٹیچو کی مانند ہو جائے گا۔ وہ نہ حق سمجھ سکے گا اور نہ باطل کو باطل۔

عقل بذات خود معیار (criterion) نہیں ہے۔ عقل فہم و ادراک کی صلاحیت (ability) عقل کی حیثیت آلہ یا فیکلٹی (faculty) کی ہے، عقل کی حیثیت مستقل بالذات حج کی نہیں۔ عقل، حقائق سے نتیجہ اخذ کرنے کی استعداد کا نام ہے:

Reason: The intellectual faculty by which conclusions are drawn from premises. عقل (reason) اور وحی (revelation) کو ایک دوسرے کا حریف بتانا بلاشبہ ایک حقیقت یہ ہے کہ وحی ایک مستقل ذریعہ علم ہے، جب کہ عقل بذات خود کوئی ذریعہ علم نہیں۔ خود وحی کی صحت پر جب کوئی شخص یقین کرتا ہے تو وہ بھی یہی کرتا ہے کہ وہ اپنی خداداد عقل کو استعمال کرکے اُس پر غور کرتا ہے اور پھر یقین کے درجے میں پہنچ کر وہ وحی کی صداقت کو دریافت کرتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ عقل ، وحی کی مددگار ہے، نہ کہ وحی کی مد مقابل۔ عقل، خالق کی دی ہوئی ایک فطری صلاحیت ہے، عقل کسی کی ذاتی ایجاد نہیں۔ اس معاملے میں غلطی کا آغاز یہاں سے ہوا کہ دوسری تمام چیزوں کی طرح عقل کے معاملے میں بھی کچھ لوگوں نے عقل کا غلو آمیز تصور (extreme version) پیش کیا۔ انھوں نے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خود ساختہ طور پر یہ دعویٰ کیا کہ عقل بذات خود حصول علم کا معیاری ذریعہ ہے۔ مذہبی طبقے نے اس تصور عقل کو

درست سمجھ لیا اور وہ غیر ضروری طور پر عقل یا عقلی غور و فکر کو مذہب کا مخالف سمجھنے لگے اور وہ اس طرح کی غیر علمی باتیں کرنے لگے کہ ــ عقل کا دائرہ الگ ہے اور وحی کا دائرہ الگ ــ عقل کا دائرہ وہاں پر ختم ہو جاتا ہے، جہاں سے وحی کا آغاز ہوتا ہے، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ عقل الگ ہے اور عقل پرستی الگ۔ قرآن میں 'عقل' کا مادہ (root) تقریباً 50 بار استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں بار بار عقل کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اپنی عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے : إنا أنزلناه قرآناً عربياً لعلكم تعقلون (12:2) یعنی ہم نے اس کتاب کو عربی بنا کر اتارا ہے، تاکہ تم سمجھو:

اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو (10:16)، وغیرہ۔ انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ سے ایک صلاحیت، عقل ہے۔ مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ کے اندر دیکھنے کی صلاحیت۔ کان کے اندر سننے کی صلاحیت، وغیرہ۔ اسی طرح انسان کو عقل دی گئی ہے جو سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی کے ساتھ انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اُس کا غلط استعمال کرے، اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کان اور آنکھ کا صحیح استعمال بھی ہے اور اس کا غلط استعمال بھی۔ عقل انسان کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ ڈیٹا (data) جمع کرکے اور پھر حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے صحیح علم تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ تاہم عقل بذات خود علم کا ذریعہ نہیں، اس لیے عقل صحیح فیصلہ تک بھی پہنچ سکتی ہے اور غلط فیصلے تک بھی۔ جو لوگ عقل کو بذات خود علم کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل عقلی مدرسہ فکر (school of thought) کے انتہا پسند (extremists) لوگ ہیں۔ انتہا پسند لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ خود مذہب اور عقیدے کے دائرے میں بھی۔

Printed page