گارڈ پارٹیکل کیا ہے
Al-Risala, October 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
گارڈ پارٹیکل (God Particle) کیا ہے۔ گارڈ پارٹیکل کا مطلب خدائی ذرہ نہیں، گارڈ پارٹیکل دراصل ایک سائنسی مسئلے کی سائنسی تشریح (scientific description) ہے۔ گارڈ پارٹیکل کا تصور دراصل خدا کا مشینی بدل (mechanical substitute of God) ہے۔ گارڈ پارٹیکل کی دریافت کا براہ راست طور پر مذہبی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔
4 جولائی 2012 کو سائنس دانوں نے ایک دریافت کا اعلان کیا۔ اس کو نیوڈسکوری (near discovery) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک سب ایٹمک پارٹیکل (sub-atomic particle) کی دریافت ہے جس کے بارے میں پچھلے تقریباً 50 سال سے سرچ ہو رہی تھی۔ اسی درمیان 1993 میں ایک امریکی سائنس داں لیان لیڈر مین (Leon Lederman) نے ایک کتاب تیار کی ۔ اس کا ٹائٹل اس نے گاڈ ڈیم پارٹیکل (Goddamn Particle) تجویز کیا۔ اُس وقت تک یہ پارٹیکل ایک پراسرار پارٹیکل بنا ہوا تھا۔ لیان لیڈر مین اپنی کتاب میں اس پارٹیکل کا کوئی واضح تصور نہیں دے سکا تھا۔ نے جھنجھلاہٹ میں اپنی اس کتاب کا نام ’گاڈ ڈیم پارٹیکل‘ رکھ دیا۔ گاڈ ڈیم ایک بگڑا ہوا نام ہے۔ کہتے ہیں خدا کی لعنت۔ خراب موسم ہو تو کہا جائے گا، گاڈ ڈیم وید ر (Goddamn weather)- پبلشر کو کتاب کا یہ نام پسند نہیں آیا۔ اس نے بطور خود ڈیم کا لفظ نکال دیا اور کتاب کو گاڈ پارٹیکل کے نام سے اُس وقت سے عوامی طور پر اس ذرے کو گاڈ پارٹیکل کہا جانے لگا۔ تاہم سائنس دانوں کے نزدیک اس ذرے کا نام ہگس بوزان (Higgs Boson) ہے۔
بوزان کا لفظ دراصل ’بوس‘ کے نام سے لیا گیا ہے۔ ستیندر ناتھ بوس (SN Bose) ایک انڈین سائنس داں تھے۔ ان کی وفات 1974 میں ہوئی۔ انھوں نے 1924 میں ’سب ایٹمک پارٹیکل‘ (behaviour of subatomic particles) کے بارے میں ایک پیپر تیار کیا تھا۔ اس پیپر کو البرٹ آئن سٹائن (وفات: 1955) اور دوسرے سائنس دانوں نے بہت پسند کیا تھا۔ اُس وقت سے اس پارٹیکل کا نام بوزان (boson) پڑ گیا ہے۔ اس مخصوص پارٹیکل کو ’بوزان‘ کا نام سب سے پہلے برٹش سائنس داں پال ڈیراک (Paul Dirac) نے دیا تھا۔
اسکاٹ لینڈ کے ایک سائنس داں پیٹر ہگس (Peter Higgs) نے 1964 میں اس موضوع پر زیادہ واضح انداز میں ایک مفصل پیپر تیار کیا، جس کا ٹائٹل یہ تھا: Broken Symmetries and the Masses of Gauge Bosons اس وقت سے زیر تلاش پارٹیکل کو ہگس بوزان کہا جانے لگا۔
سائنسی نقطہ نظر سے ہگز بوزان کی اہمیت بہت زیادہ تھی، اس لیے وہ ساری دنیا کے سائنس دانوں کے لیے تلاش کا موضوع بن گیا۔ آخرکار 1998 میں اس موضوع کی تحقیق کے لئے ایک خصوصی سرنگ بنائی گئی۔ اس سرنگ کو ایک یورپین ادارہ نے تیار کیا تھا۔ اس کا نام یہ ہے: European Oganization for Nuclear Research اس سرنگ کا نام یہ تھا — لارج ہیڈرون کولائڈر(Large Hadron Collider) ۔
اس پروجیکٹ میں دنیا کے ایک سو ملک شریک ہوئے اور 10 ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں نے اس میں کام کیا۔ 4 جولائی 2012 کو اس پروجیکٹ کے نتیجہ (result) کا اعلان کیا گیا۔ سائنس دانوں نے اعلان کیا کہ اس تحقیق میں وہ 'نیئر ڈسکوری' تک پہنچ گئے ہیں۔ ہگز بوزان دراصل فوکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کا ایک گم شدہ partícula ہے جو اس بات کی توجیہہ کرتا ہے کہ ابتدائی انفجار کے بعد کائنات کیسے وجود میں آئی۔ فوکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کو سائنس داں کائنات کے بلڈنگ بلاک (building block) کی توجیہہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ماڈل کے مطابق، کائنات کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔ بگ بینگ کا نظریہ سائنس دانوں کے نزدیک عمومی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ 13 بلین سال پہلے کائنات ایک بہت بڑے کا سمک بال کی صورت میں تھی۔ کائنات کے تمام partícula اس کے اندر شدت سے باہم پیوست تھے۔ پھر اس کا سمک بال میں ایک انفجار ہوا اور اس کے تمام اجزا چاروں طرف روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے۔ روشنی کی رفتار معلوم طور پر سب سے زیادہ ہے جو ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ کا سمک بال سے جو partícula خارج ہوئے، وہ نہایت تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے تھے۔ ہر چیز جو اس کائنات میں ہے، وہ ایٹم سے بنی ہے۔ یہ تمام ایٹم الیکٹران اور پروٹان کے ملنے سے بنتے ہیں۔ ضرورت تھی کہ یہ تمام partícula باہم ملیں، لیکن بگ بینگ کے انفجار کے بعد الیکٹران اور پروٹان بھاگ رہے تھے، کیوں کہ اُن میں کمیت (mass) نہیں تھی۔ یہ ذرات باہم مل کر ایٹم کو صرف اُس وقت بنا سکتے تھے جب کہ ان کی رفتار کم ہو، اور ان کی رفتار صرف اُس وقت کم ہو سکتی تھی جب کہ ان کے اندر کمیت پیدا ہو جائے۔
ہگز بوزان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ اس سائنسی مسئلے کا جواب فراہم کرتا ہے۔ ایک سب ایٹمک پارٹیکل کا نام ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق، ہگز بوزان کا کام یہ ہے کہ وہ ایٹم کے پارٹیکل کو کمیت عطا کرے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایٹم مل کر مالی کیول (molecule) بنائیں اور پھر مالی کیول کے بننے سے کمپاؤنڈ بنے۔ پھر کمپاؤنڈ کے ملنے سے وہ تمام چیزیں بنتی ہیں جو کہ اس وقت کائنات میں موجود ہیں۔ اگر ہگز بوزان نہ ہوتے تو پارٹیکل میں کمیت پیدانہ ہوتی جو کہ باہم مل کر ایٹم بناتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام پارٹیکل روشنی کی رفتار سے خلا میں سفر کرنے لگتے، پھر یہ ناممکن ہو جاتا کہ وہ باہم مل کر ایٹم بنائیں اور اس کے بعد کائنات کی تمام چیزیں وجود میں آئیں، ستاروں سے لے کر سیاروں تک اور غیر ذی روح اشیا سے لے کر ذی روح اشیا تک۔ قرآن کی تصدیق قرآن کی سورہ النساء میں ارشاد ہوا ہے: أفلا يتدبرون القرآن، ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا (82:4) یعنی کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اُس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ یہ سائنس کی دریافتوں سے بہت پہلے کا اِس قبل دریافت زمانے میں قرآن کی اِس آیت کا اترنا گویا یہ دعویٰ کرنا تھا کہ بعد کی دریافت شدہ حقیقتیں قرآن کے عین مطابق ہوں گی، قرآنی بیانات اور دریافتوں کے درمیان کبھی عدم مطابقت (inconsistency) نہ ہوگی۔ اِس طرح یہ واقعہ اِس بات کی تصدیق ہوگا کہ قرآن عالم الغیب کی کتاب ہے، کیوں کہ عالم الغیب کے سوا کوئی بھی پیشگی طور پر اِن حقیقتوں کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اِس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا تصور اور ہگز بوزان کا تصور پیشگی طور پر قرآن میں موجود تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ الانبیاء کی درج ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے: أولم ير الذين كفروا أن السماوات والأرض كانتا رتقا ففتقناهما، وجعلنا من الماء كل شیئ حى، أفلا يؤمنون (21:30) یعنی کیا انکار کرنے والوں نے
نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے اُن کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جان دار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتےـ قرآن کی اس آیت میں تخلیق کے تین مرحلوں کا ذکر ہے ـ پہلے مرحلے کو ’رتق‘ کہا گیا ہےـ رتق کا مطلب ہےمنضم الاجزاء یعنی کائنات کے تمام پارٹکل کا باہم جڑا ہوا ہونا۔ میں کا سمک بال کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ دوسرے مرحلے کو قرآن میں ’فتق‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فتق کا مطلب ہے: الفصل بین المتصلین ، یعنی باہم ملی ہوئی چیزوں کا ایک دوسرے سے الگ اس میں بگ بینگ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد تیسرے مرحلے میں پانی (الماء) کے بننے کا ذکر ہے۔ یہاں پانی کا ذکر علامتی طور پر ہے، یعنی پانی اور دوسری تمام چیزیں۔ پانی ایک جو ہری مادہ (substance) ہے۔ اس طرح کے بہت سے جوہری مادے کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ پانی ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے ملنے سے بنتا ہے۔ یہی معاملہ دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔ ہر چیز ایٹم کے ملنے سے بنی ہے اور ایٹم اُس وقت بنا جب کہ اس کے پارٹکل میں کمیت (mass) پیدا ہوئی۔ اس طرح، اس آیت میں پانی کا ذکر کر کے اس نوعیت کی دوسری تمام مادی چیزوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے، یعنی ’فتق‘ کے واقعے کے بعد تمام پارٹکل میں کمیت کا پیدا ہونا اور پھر پارٹکل کا مجتمع ہو کر تمام چیزوں کا وجود میں آنا۔ قرآن ، سائنس کی کتاب نہیں ہے، البتہ قرآن میں مظاہرِ فطرت کے بہت سے حوالے دئے گئے ہیں جو کہ سائنس کا موضوع تحقیق ہیں۔ قرآن کا مقصد صرف یہ ہے کہ فطرت میں موجود آیات (signs) کا حوالہ دے کر قرآن کی آئیڈیالوجی کو علمی طور پر ثابت کرنا۔ اس طرح قرآن میں فطرت کے بہت سے مظاہر کے متفرق حوالے (fragmentary references) دئے گئے ہیں۔ حوالوں کے بارے میں قدیم زمانے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ گویا کہ قرآن میں یہ حوالے مستقبل کی انسانی نسلوں کو شامل کرتے ہوئے دئے گئے تھے۔ اس طرح انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ قرآن کے ان حوالوں کا تقابل بعد کے حالات سے کر کے قرآن کی صداقت کی تصدیق حاصل کرے۔