Al-Risala · October 2012

مثبت شخصیت، منفی شخصیت

Al-Risala, October 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی فقہ کا یہ مسئلہ ہے کہ اگر ایک ٹب پاکیزہ پانی ہو، اُس میں گندگی کا ایک قطرہ ڈال دیا جائے تو ٹب کا پورا پانی گندا ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر ایک ٹب گندا پانی ہو اور اس میں ایک قطرہ پاک پانی ڈال دیا جائے تو اُس سے وہ پانی پاک نہیں ہو جائے گا، بلکہ وہ بدستور گندار ہے گا۔ ایک خارجی نوعیت کی مادی مثال ہے۔ یہی معاملہ انسان کی داخلی شخصیت کا ہے۔ ایک شخص کے ذہن میں اگر 99 مثبت آئٹم ہوں اور صرف ایک منفی آئٹم اس کے اندر داخل ہو جائے تو یہی منفی آئٹم غالب آ جائے گا اور آدمی کی پوری شخصیت منفی شخصیت بن جائے گی۔ نفسیاتی حقیقت ہے کہ مثبت سوچ کسی درجے میں بھی منفی سوچ کو قبول نہیں کرتی۔ آدمی کی شخصیت یا تو صد فی صد مثبت شخصیت ہوگی، یا وہ سرے سے مثبت شخصیت ہی نہ ہوگی۔

یہ ایک اہم نفسیاتی اصول (psychological principle) ہے جو آدمی اپنے اندر مثبت شخصیت (positive personality) کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اُس کو لازمی طور پر یہ کرنا ہے کہ وہ سختی کے ساتھ اپنا محاسب بن جائے۔ وہ ہر وقت اس بات کی نگراںی کرتا رہے کہ اس کے ذہن میں ادنی درجے میں بھی کوئی منفی سوچ داخل نہ ہو۔ شکایت یا نفرت کا کوئی ایک آئٹم بھی اگر اس کے اندر موجود ہے تو وہ ڈھونڈ کر اس کو باہر نکال دے۔ اس معاملے میں وہ خود اپنا نگران بن جائے ۔

تعمیر شخصیت کا یہ ایک مستقل عمل ہے جو ہر آدمی کو ہر صبح و شام انجام دینا ہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اس معاملے میں غفلت کی تلافی نہیں بن سکتا۔

یاد رکھنا چاہیے کہ مثبت شخصیت ہی ربانی شخصیت ہے اور ربانی شخصیت ہی وہ شخصیت ہے جس کو آخرت کے دور حیات میں جنت میں داخلہ ملے گا۔ منفی شخصیت رکھنے والے لوگ بلاشبہ جنت میں داخلے کے لیے غیر مستحق قرار پائیں گے۔

Printed page