قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت
Al-Risala, October 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
استانبول ( ترکی ) کے مشہور توپ کاپی پیلیس (Topkapi Palace) میوزیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئی چیزیں موجود ہیں۔ مثلاً دو تلواریں، جبہ، مقوقس کے نام آپ کا مکتوب، وغیرہ۔ سلطان سلیم نے ان چیزوں کے لیے یہاں ایک مخصوص کمرہ بنوایا تھا۔ کمرے میں وہ خود اپنے ہاتھ سے جھاڑو دیتے تھے۔ اس کے علاوہ، انھوں نے اس کمرے میں مختلف حفاظ قرآن کو مقرر کیا تھا جو چوبیس گھنٹے یہاں قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ حفاظ کی ڈیوٹیاں چناں چہ وہ باری باری یہاں آکر قرآن کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔ اس قسم کی تلاوت قرآن صرف بعد کے زمانے کی پیدا وار ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں اس قسم کی تلاوت قرآن کا کوئی وجود نہ تھا۔ رسول اور اصحاب رسول، قرآن کو کتاب دعوت کے طور پر استعمال کرتے تھے، نہ کہ صرف کتاب تلاوت کے طور پر۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن رہنمائی کے لیے اترا ہے۔ وہ اس لیے نہیں اتارا گیا کہ اس کو برکت کے طور پر صبح و شام پڑھا جاتا رہے۔ قرآن کے سلسلے میں اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ اُس پر ایمان رکھنے والے اُس سے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی حاصل کریں اور پھر دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ تیار کر کے اس کو تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ ان کے سوا قرآن کا کوئی بھی دوسرا استعمال کرنے سے اس کا حق ادا قرآن کا احترام کرنا یا قرآن کو خوب صورت کپڑے میں لپیٹ کر رکھنا، یا شب و روز قرآن کی تلاوت کرنا، اس قسم کا کوئی بھی عمل قرآن کا حق ادا کرنے کے لیے کافی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ امت بعد کے زمانے میں قرآن کو کتاب مہجور (25:30) اس کا مطلب یہی ہے۔ قرآن جب نہ کتاب ہدایت رہے اور نہ کتاب دعوت، تو یہی وہ حالت ہے جس کو کتاب مہجور بنا دینا کہا گیا ہے۔ قرآن کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اپنے لیے کتاب ہدایت ہے اور دوسروں کے لیے کتاب دعوت۔