ضمیر کی آزادی
Al-Risala, October 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی تخلیقی اسکیم میں انسانی آزادی کے تصور کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انسان کو اس دنیا میں امتحان کے لیے رکھا گیا ہے، اور آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں۔ انسان کا مستقبل تمام تر اس پر منحصر ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے، یا وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ انسان کی آزاد فکری پر روک لگادی جائے تو اس کے بعد امتحان کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے۔ قرآن میں واضح لفظوں میں ارشاد ہوا ہے: لا إكراه في الدين، قد تبين الرشد من الغي، فمن يكفر بالطاغوت ويؤمن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى، لا انفصام لها والله سميع عليم (2:256) یعنی دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت، گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
اسی طرح قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: فذكر إنما أنت مذكر - لست عليهم بمصيطر - إلا من تولى وكفر - فيعذبه الله العذاب الأكبر - إن إلينا إيابهم - ثم إن علينا حسابهم (88:21-26) یعنی (اے پیغمبر) تم بس یاد دہانی کرو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو ۔ تم اُن پر داروغه نہیں۔ مگر جس شخص نے روگردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ اس کو بڑا عذاب ہماری ہی طرف ہے اُن کی واپسی، پھر ہمارے ہی ذمے ہے اُن کا حساب لینا ۔ اس طرح کی قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو اس بات کی کامل آزادی دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہے، سوچے اور جس طرح چاہے، بولے اور یہ آزادی انسان کو اُس وقت تک حاصل رہتی ہے جب تک کہ وہ دوسرے انسانوں کو نقصان نہ اسلام میں سماجی جرم (social crime) کا تصور ہے، مگر اسلام میں فکری جرم (thought crime) کا کوئی تصور نہیں۔
لندن سے 406 صفحات پر مشتمل ایک کتاب چھپی ہے۔ کتاب کا نام اور مصنف کا نام یہ ہے: Richard Dawkins, The God Delusion (2006)
کتاب کے مصنف نے افغانستان کے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جب کہ ایک افغانی شخص (عبدالرحمن) نے اپنا مذہب بدل دیا۔ اُس نے اسلام کو چھوڑ کر مسیحی مذہب اختیار کر لیا۔ اس پر افغانستان کی عدالت میں اس کے لیے موت کی سزا سنائی گئی۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے: It is still an article of constitution of 'liberated' Afghanistan that the penalty for apostasy is death. Apostasy, remember, doesn't mean actual harm to persons or property. It is pure thought crime, to use George Orwell's 1984 terminology, and the official punishment for it under Islamic law is death. (p. 287)
یعنی اب بھی آزاد افغانستان کے قانون کا ایک حصہ یہ ہے کہ ارتداد کی سزا قتل ہے۔ کہ ارتداد کا مطلب کسی انسان کو یا کسی کی پراپرٹی کو حقیقی نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ 1984 میں انگلش آتھر جارج آرویل کی وضع کردہ اصطلاح کو لیتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک خالص 'فکری جرم' ہے، اور اسلام کے قانون کے مطابق، اس جرم کی مسلمہ سزا قتل ہے۔
یہ صرف غلط فہمی کا ایک معاملہ ہے۔ مصنف نے افغانستان میں ہونے والے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے اور اُس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ یہ بعد کے کچھ فقہا کا مسلک ہے، نہ کہ قرآن اور سنت کا مسلک۔ قانون کا مستند ماخذ صرف قرآن وسنت ہے، کوئی بھی دوسری چیز اسلام میں قانون کا ماخذ نہیں۔ جدید مغربی فکر میں آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) سمجھا جاتا ہے۔ مفکرین کا خیال ہے کہ آزادی فکر کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہو سکتی۔ اس کے برعکس، وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں صرف محدود آزادی کا تصور ہے، اس لیے اسلام دورِ جدید کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ صرف غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں آزادی کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ مغربی تہذیب
اور یہ بالکل فطری بات ہے، کیوں کہ اسلام کے مطابق، انسان کو موجودہ دنیا میں امتحان (test) کے لیے رکھا گیا ہے۔ امتحان کے لیے آزادی لازمی طور پر ضروری ہے۔ آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں، اس لیے آزادی خود خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اسلام میں آزادی ہر انسان کا مطلق حق ہے، لیکن وہ ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ وہی ہے جو خود مغربی تہذیب کا مسلمہ ہے، یعنی انسان کو آزادی صرف اپنے ذاتی دائرے میں حاصل آدمی کی آزادی اُس وقت ختم ہو جاتی ہے، جب کہ وہ دوسرے کے لیے ضرر رساں (harmful) بن جائے۔
اس کے علاوہ، اسلام میں آزادی ایک اور لحاظ سے بھی ہے۔ خالق نے اس دنیا میں ہر چیز کو امکان (potential) کے طور پر پیدا کیا۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کا کام انسان کو خود کرنا ہے۔ نے خام لوہا (ore) بنایا۔ خام لوہے کو مشین کی صورت دینا، یہ انسان کا اپنا کام ہے۔ یہ تمام ترقیاں صرف اُس وقت حاصل ہوسکتی ہیں جب کہ انسان کے اندر آزادانہ طور پر ذہنی سرگرمیاں جاری ہوں۔ اس مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی حاصل ہو۔ تاہم اسلام میں جرم کی دو قسمیں ہیں ـــــ جرم بہ مقابلہ انسان (crime vis-à-vis man) اور جرم بہ مقابلہ خدا (crime vis-à-vis God)۔ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، ہر انسان کو دوسرے انسان کے مقابلے میں مکمل طور پر فکری آزادی حاصل ہے۔ اُس کا معاملہ صرف اُس وقت قابل مواخذہ یا قابل سزا (punishable) بنے گا، جب کہ وہ دوسرے انسان کے لیے عملی طور پر جارح بن جائے۔
مگر خدا کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کوئی شخص خدا کو عملی جراحت نہیں پہنچا سکتا۔ معاملے میں جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف رویہ اختیار کرے، وہ خدا کی بتائی ہوئی صراط مستقیم کا اتباع نہ کرے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان خدا کے معاملے میں غلط عقیدہ مثلاً خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا، انسان کو خدا کا بیٹا قرار دینا، خدا کے پیغمبر کا انکار کرنا، وغیرہ۔
یہ سب چیزیں اگر چہ تھاٹ کرائم (thought crime) کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن وہ خدا کے نزدیک، قابلِ سزا کرائم (punishable crime) ہیں۔ ایسے لوگ اگر اسی حال میں مریں تو بلاشبہ وہ خدا کی سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔ لیکن جرمِ بہ مقابلہ خدا کے معاملے میں، سزا کا اختیار صرف خدا کو ہے، جو کہ آخرت میں کسی انسان کو دی جائے گی۔ جرم بہ مقابلہ انسان کے بارے میں فیصلہ کرنا، انسانی عدالت کا کام ہے۔ لیکن جرم بہ مقابلہ خدا کا تعلق انسانی عدالت سے نہیں۔ ایسے معاملے میں انسان کو صرف پر امن دعوت و تبلیغ کا حق ہے، نہ کہ عملی سزا کا حق۔
اسلام میں آزادیٔ ضمیر (freedom of conscience) کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے جتنی کہ کسی دوسرے نظامِ فکر میں ۔ البتہ اسلامی نظامِ فکر اور سیکولر نظامِ فکر میں اس اعتبار سے ایک فرق پایا جاتا ہے۔ سیکولر نظامِ فکر میں آزادیٔ ضمیر کو مطلق (absolute) حیثیت حاصل ہے، یعنی سیکولر نظامِ فکر کے مطابق، ایک شخص کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو مطلق معنوں میں صداقت سمجھے، مگر اسلامی نظامِ فکر میں ایسا نہیں۔ اسلامی نظامِ فکر کے مطابق، صداقت (truth) کا معیار کسی کے ضمیر کی آواز نہیں ہے، بلکہ اس کا معیار وحی الہیٰ ہے۔ جو تصور وحی الہیٰ کے مطابق ہو، وہی درست اور جو تصور وحی الہیٰ سے مطابقت نہ رکھتا ہو، وہ انسان کا ذاتی واہمہ (obsession) یا کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے، نہ کہ مطلق معنوں میں صداقت۔
آزادیٔ ضمیر سے وابستہ یہ سوال بھی ہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی کا حکم کیا ہے۔ اس معاملے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ انسان کو اظہارِ خیال کی آزادی کا کلی حق حاصل ہے۔ آدمی جب تک دوسرے انسان کے لیے جارح نہ بنے، اس کو کامل معنوں میں اظہارِ خیال کی آزادی حاصل رہے گی۔ کے مطابق، انسانی زندگی کے دو مرحلے ہیں—موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ اظہارِ خیال کی کامل آزادی کا حق صرف موت سے قبل کی دنیا کے لیے ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں خدا یہ فیصلہ کرے گا کہ کس نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا اور کس نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ پھر اس کے بعد ہر ایک کے لیے اس کے دنیوی ریکارڈ کے مطابق، انعام یا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔