ایک عمومی فتنه
Al-Risala, October 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الانفال میں ارشاد ہوا ہے: واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة (8:25) یعنی ڈرو اُس فتنے سے جو خاص اُنہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے غلط کاری کے مرتکب ہوئے ہیں:
Beware of an affliction that will not smite exclusively those among you who have done wrong. قرآن کی اس آیت میں فتنے سے مراد خدائی فتنه نہیں ہے، بلکہ انسانی فتنه ہے، یعنی اشتعال کی وہ صورت حال جو ایک انسان یا بعض انسانوں کے ناعاقبت اندیشانہ عمل کے ذریعے پیدا ہوئی ہو۔ طرح کی صورت حال جب کسی سماج میں پیدا ہو جائے تو اُس کے بعد وہاں جو شورش بر پا ہوگی، اس کا برا انجام انتخابی طور پر پیش نہیں آئے گا، بلکہ اس کا برا انجام عمومی طور پر پورے سماج کو بھگتنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر ایک شہر میں غیر مسلموں کی ایک عبادت گاہ ہے۔ وہاں لاؤڈ اسپیکر پر اُن کا کوئی پروگرام ہو رہا ہے۔ اب اگر کچھ مسلمانوں کو اس پر شکایت پیدا ہو، وہ غیر مسلم عبادت گاہ میں جا کر اُن سے لاؤڈ اسپیکر بند کرنے کے لیے کہیں، مگر وہ لوگ اس کو بند نہ کریں۔ اس پر مسلمان غصہ ہو جائیں اور وہ اُن کے لاؤڈ اسپیکر کو توڑ کر پھینک دیں، تو یہ معاملہ کسی حد پر نہیں رکے گا، بلکہ جب یہ خبر پھیلے گی تو غیر مسلموں کی پوری کمیونٹی شدید ردعمل کا شکار ہو جائے گی۔ وہ مسلم کمیونٹی کے خلاف جذباتی کارروائی کرے گی ۔ اس کارروائی کا نشانہ صرف وہی مسلمان نہیں بنیں گے جنھوں نے لاؤڈ اسپیکر کو توڑا تھا، بلکہ اس مقام کی پوری مسلم کمیونٹی اس کی زد میں آجائے گی۔ اسی طرح مثلاً غیر مسلموں کا ایک جلوس نکلتا ہے۔ وہ ایسی سڑک سے گزرنا چاہتا ہے جہاں مسلمانوں کی مسجد واقع ہے۔ اب کچھ مسلمان سامنے آجاتے ہیں۔ وہ جلوس والوں سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ تم لوگ اپنے جلوس کا راستہ بدلو۔ اس سے ہماری مسجد کی بے حرمتی ہوگی۔
پولیس سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کرے اور جلوس کی روٹ (route) کو بدلوائے۔ پولیس، مسلمانوں کی مانگ کے مطابق، جلوس کی روٹ کو نہیں بدلواتی۔ اب مسلمان مزید غصہ ہو جاتے وہ پولیس پر پتھر مارتے ہیں۔ اس کے بعد پولیس مشتعل ہو جاتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولی چلاتی ہے۔ پولیس کی اس گولی کا شکار وہ مسلمان ہوتے ہیں جنھوں نے پولیس کو پتھر مارا، اور وہ بھی جنھوں نے پولیس کو پتھر نہیں مارا۔
یہی معاملہ اُن مقامات کا ہے جہاں زیادہ بڑے پیمانے پر یہ صورت حال پیش آرہی ہے۔ کشمیر اور فلسطین، وغیرہ۔ ان مقامات پر بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلے مسلمان، پولیس یا فوج پر پتھر مارتے اس کے بعد پولیس یا فوج مسلمانوں کے اوپر گولی چلاتی ہے یا ہوائی جہاز سے وہ ان کے اوپر بم اس طرح کے واقعات میں عملاً یہی ہوتا ہے کہ جو مسلمان براہِ راست طور پر اس فعل میں ملوث نہیں ہوتے، وہ بھی جوابی کارروائی میں فوج کی گولی اور بم کا نشانہ بنتے ہیں، یعنی ملوث ہونے والے مسلمان بھی اور ملوث نہ ہونے والے مسلمان بھی۔ اس طرح کے تمام واقعات پر قرآن کی مذکورہ آیت چسپاں ہوتی ہے۔ ایسے واقعات کو لے کر یہ احتجاج کرنا کہ فریق ثانی کی جوابی کارروائی میں قصوروار مسلمان اور غیر قصوروار مسلمان دونوں زد میں آئے، اور یہ انسانی حقوق (human rights) کے اس طرح کا احتجاج سرتا سر باطل ہے۔ قرآن ایسے کسی احتجاج کی تصدیق نہیں کرتا۔ طرح کے واقعات میں ایسا ہونا بالکل فطری ہے کہ قصوروار کے ساتھ غیر قصور وار بھی مارے جائیں۔ قرآنی اصول کے مطابق، اس طرح کے معاملے میں وہ لوگ ذمے دار قرار پاتے ہیں جنھوں نے ابتدائی طور پر اشتعال انگیزی کی کارروائی کی (9:13)۔ اس آیت کے مطابق، مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے میں اشتعال کا ماحول پیدا نہ ہونے دیں، نہ یہ کہ اشتعال کے بعد کے واقعات کو لے کر وہ شکایت اور احتجاج کا ہنگامہ برپا کریں۔ ایسی روش کا دہرا نقصان ہے۔ یہ کہ ایسے لوگ خدا کے غضب کا شکار ہوں، مزید یہ کہ صورت حال کی کبھی اصلاح نہ ہو، اور وہ ہمیشہ ’’ذلت اور مسکنت‘‘ (2:61) کے اسی حال میں مبتلا رہیں۔