سماجی قبولیت یا نفاذ قانون
Al-Risala, October 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ البقرہ میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اُن کو ایک ہدایت اس طرح دی گئی ہے ــــــــ اے ایمان والو، اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر شیطان تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے (208:2)۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، ہر صاحبِ ایمان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائے۔ اُس پر موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ مکمل معنوں میں، اسلام میں داخل ہو چکا ہو۔ جیسا کہ قرآن کی دوسری آیت میں ارشاد ہوا ہے: ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون یعنی تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔
آیت کا یہ مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ اس آیت کو مومن کی اپنی ذات کے اعتبار سے لیا جائے، نہ کہ اجتماعی نظام کے اعتبار سے۔ کیوں کہ مومن کی اپنی زندگی پوری طرح اس کے اختیار میں ہوتی ہے۔ اس پر قادر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو پوری طرح اللہ کے رنگ میں رنگ لے (صبغۃ اللہ، ومن أحسن من الله صبغۃ)۔ اُس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ انفرادی اعتبار سے، اپنے آپ کو مگر اجتماعی نظام کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اجتماعی نظام میں خدا کے دین کو کامل طور پر داخل کرنا صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے، جب کہ اجتماعی زندگی کا ہر فرد اُس سے اتفاق تاریخ میں کبھی اس قسم کا اجتماعی اتفاق پیش نہیں آیا۔ اسی لیے اجتماعی زندگی (socio-political life) میں کبھی کامل معنوں میں، اسلام کو داخل کرنا بھی ممکن نہیں ہوا۔ میں کامل افراد تو بار بار پیدا ہوتے رہے، مگر کامل معنوں میں اجتماعی نظام کبھی وجود میں نہیں آیا۔ ایسی حالت میں اگر قرآن کی مذکورہ آیت کو اس معنی میں لیا جائے کہ اُس سے مراد اجتماعی نظام میں خدا کے دین کا کامل داخلہ ہے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ اللہ نے اہل ایمان کو ایک ایسا حکم دیا جس پر عمل کرنا سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔ ایسی حالت میں اہل ایمان کے حصے میں صرف یہ آئے گا کہ وہ
ہر زمانے میں لڑ لڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کرتے رہیں اور کبھی مطلوب منزل تک نہ پہنچ سکیں۔ انڈیا کے ایک عالم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے لیے حصولِ اقتدار اور خلافت کا قیام ضروری ہے، کیوں کہ اس کے بغیر اسلامی احکام نافذ نہیں ہو سکتے۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک دلیل یہ دی ہے کہ صرف قانون بنا دینے یا صرف وعظ و نصیحت سے برائیاں دور نہیں ہوتیں۔ قانون کے نفاذ کے لیے قوتِ نافذہ ضروری ہے، اور قوتِ نافذہ، سلطان (نظامِ خلافت) ہی ہو سکتا حضرت عثمان کا قول ہے کہ جو برائی قرآن سے دور نہیں ہوتی، اسے اللہ تعالیٰ سلطان (حکومت) کے ذریعے دور کر دیتا ہے (ان اللہ یزع بالسلطان، مالا یزع بالقرآن)۔ یہ غیر سنجیدہ استدلال کی ایک مثال ہے۔ صاحبِ مضمون اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے تو ان کی سمجھ میں آتا کہ حضرت عثمان کے پاس اقتدار تو اپنی کامل صورت میں موجود تھا۔ اس کے باوجود، عین اُنھیں کے زمانے میں مسلم معاشرے میں اتنا خلل آیا کہ لا قانونیت کی صورت پیدا ہو گئی، اور حضرت عثمان خلیفہ ہونے کے باوجود اس پر قابو نہ پا سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کا یہ قول صرف محدود معنی (limited sense) میں ہے، نہ کہ مطلق معنی (absolute sense) میں۔ حضرت عثمان کے اس قول میں سرے سے یہ بات موجود نہیں کہ مسلمان سیاسی تحریک چلا کر اقتدار پر قبضہ کریں، تاکہ وہ قوانینِ اسلامی کا نفاذ (enforcement) کر سکیں۔
کسی قانون کے نفاذ کے لیے صرف سیاسی قوت کافی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں سیاسی قوت کا رول صرف پچاس فی صد ہے، بقیہ پچاس فی صد کا تعلق سماجی قبولیت (social acceptance) جس سماج میں قبولیت کا مادہ موجود نہ ہو، وہاں محض سیاسی قوت کے ذریعے کسی قانون کا نفاذ نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں، پہلا کام افراد کے اندر قبولیت کی استعداد پیدا کرنا ہے۔ اس کے برعکس، قوتِ نفاذ (enforcement power) کے حصول کے نام پر سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنے کی تحریک چلانا گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے (putting the cart before the horse) کے مصداق ہے۔ یہ ایک غیر فطری اس دنیا میں کوئی با معنی نتیجہ صرف فطری طریقے سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ غیر فطری طریقے سے۔