احیاء سنت
Al-Risala, October 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کا نام کبھی دنیا سے ختم نہیں ہوتا۔ جو چیز دنیا سے ختم ہوتی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی سنت ہے۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تمسك بسنتي عند فساد أمتي، فله أجر مأة شهید (تاریخ الإسلام للذهبي، رقم الحديث: 3097) یعنی میری امت میں بگاڑ کے وقت جس نے میری سنت کو پکڑا، اس کے لیے سو شہیدوں کا اجر ہے۔ اسلام کی راہ میں لڑ کر اپنی جان دے دینا ایک ایسا عمل ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑا مگر بگاڑ کے زمانے میں اپنے آپ کو سچے دین پر قائم کرنے کا اجر اس سے سو گنا زیادہ بتایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اول الذکر اپنے آپ کو ایک دن قربان کرتا ہے جب کہ ثانی الذکر کو ہر روز اپنے آپ کو قربان کرنا پڑتا ہے۔
امت کے اندر جب بگاڑ آتا ہے تو اُس وقت یہ حال ہو جاتا ہے کہ ایک بگڑے ہوئے مذہب کا نام دین بن جاتا ہے۔ سارے دینی ادارے، تمام دینی اعزازات اِسی بگڑے ہوئے مذہب سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ دین کے تمام شعبوں میں ایسے لوگ قبضہ پالیتے ہیں جو دین کو تجارت بنا چکے ہوتے ہیں۔ خواص اپنے مصالح کی بنا پر، اور عوام اپنی جہالت کی بنا پر، اِسی بگڑے ہوئے دین کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب کوئی بندہ خدا کے سچے اور بے آمیز دین کو لے کر اٹھتا ہے، تو سارے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اِس شخص کا دین ان کے اپنے دین کو بے اعتبار بنارہا ہے۔ فوراً اُس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رسول خدا والے طریقہ کو پکڑنے والا آدمی خود اپنے معاشرے میں بے جگہ ہو جاتا ہے، وہ سب کے درمیان ایک غیر مطلوب شخص بن جاتا ہے۔ بگاڑ کے زمانے میں یہ ہوتا ہے کہ وقتی اور رسمی عملیات کو لوگ جنت کا ٹکٹ سمجھ لیتے ہیں، اس کے مقابلے میں سنت رسول کو پکڑنے والا آدمی حقیقی اعمال پر جنت کا مدار رکھتا ہے۔ لوگ مذہبی مناظرے اور سیاسی مجادلے کے مشغلوں کو دینی کارنامہ سمجھنے لگتے ہیں، وہ بتاتا ہے کہ صبر اور قربانی کے طریقوں کو اختیار
کرنے کا نام دین ہے۔ لوگ اپنے دنیوی ہنگاموں کو دین کا عنوان دئے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ آخرت کے لیے جینے اور مرنے کا نام دین ہے۔ لوگ اخبار و رہبان کے دین کو پکڑے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ دین وہ ہے جو خدا اور رسول سے ملا ہو۔ لوگ اپنے بزرگوں کے ارشادات وملفوظات سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ قرآن وسنت والے دین کو اپنا دین بناؤ۔ لوگ قصے کہانیوں کے ذریعے اپنا ایک دینی ایڈیشن تیار کر کے اس کی تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اس کے بجائے محکم آیات اور ثابت شدہ سنت رسول پر اپنے دین کی بنیاد رکھو۔ لوگ اپنے طور پر مختلف قسم کی مذہبی موشگافیاں ایجاد کرتے ہیں اور اس کو دین کا قائم مقام بنا لیتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اُس صاف اور سیدھے دین کو اختیار کرو جو خدا اور رسول نے بتایا ہے اور جو اصحاب رسول کے ذریعے ہم کو پہنچا ہے۔ جو شخص اس قسم کا دین بگڑے ہوئے زمانے میں لے کر اٹھے، وہ لوگوں کی نظر میں کافر اور مشرک سے بھی زیادہ مبغوض ہو جاتا ہے، کیوں کہ وہ اُن کی دینی حیثیت کو بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔ سے ان کو اپنی قیادت پر ضرب پڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس سے ان کے معاشی مفادات درہم برہم اس سے ان کی گدّیاں چھنتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اُس کو ماننا اپنے آپ کو جمے ہوئے مفادات سے محروم کرنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا شخص ایک طرف عوام کی عافیت کوش زندگی کے لیے تازیانہ بن جاتا ہے اور دوسری طرف، خواص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اُن کے "شہ سوارِ اسلام" ہونے کو مشتبہ بنا رہا ہے۔ یہ چیزیں اُس شخص کو اتنی بے شمار قسم کی مخالفتوں اور مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ اُس کے مقابلے میں ایک دن میدانِ جنگ میں لڑ کر مر جانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ ان مخالفتوں میں سب سے زیادہ شدید مخالفت اُن قائدین کی طرف سے سامنے آتی ہے جو دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اُن کی قیادت کا راز صحیح دین کا علم بردار بننا نہیں ہوتا۔ وہ یہ کرتے ہیں کہ بگاڑ کے زمانے میں پائی جانے والی دینی شکلوں میں اپنی جگہ بنا کوئی کسی ادارے کی گدی پر بیٹھ جاتا ہے، کوئی دینی جشنوں اور تقرییوں میں خطابت کا جوہر دکھا کر مرجع خلائق بن جاتا ہے۔ کوئی دین کو رائج الوقت پیمانوں میں ڈھال کر لوگوں کے درمیان
مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ کوئی گزری ہوئی مقدس شخصیتوں کا سہارا لے کر اُن کے نام پر اپنا کاروبار چلا رہا ہوتا ہے۔ کوئی دین کے ایسے سستے نسخوں کی کامیاب تجارت کر رہا ہوتا ہے جس میں لوگوں کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلے بغیر جنت کی بشارتیں مل رہی ہوں___ صحیح دینی دعوت کا اٹھنا اس قسم کے تمام لوگوں کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔ اُس کے فروغ میں ان کو اپنا عزت و اقتدار مٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک عرصہ تک عزت و استقبال کے جلو میں رہنے کے نتیجے میں ان کے اندر ایک قسم کا دینی کبر پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو اور دین کو ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔ فطری طور پر وہ ایک ایسے شخص کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو اُن کی امتیازی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کرے۔ اعاظم واکابر کی یہ مخالفت سچے دین کے علم بردار کے لیے انتہائی شدید مسائل پیدا کر دیتی وقت کے دینی حلقوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ اس کی بے دینی کے فتوے دئے اس کی معاشیات کو برباد کیا جاتا ہے۔ اس کو ماحول میں بے جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف ہر قسم کی معاندانہ کارروائی کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ اکابر قوم کی مخالفت سے اصاغر قوم کو مزید جرأت ہوتی ہے، بالآخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اپنی قوم کے اندر رہنا اس کے لیے انگاروں کے درمیان رہنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ان حالات میں ”فسادِ امت“ کے وقت ”سُنت رسول“ کو زندہ کرنے کے لیے اٹھنا اتنی بے پناہ مشکلات کا سبب بن جاتا ہے جو سو بار قتل ہونے کے برابر ہے۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لیے اللہ کے یہاں سو شہیدوں کا اجر ہے۔ جس طرح خدا کی کوئی حد نہیں، اسی طرح خدا کے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کی بھی کوئی حد خدا کا دین گویا دنیا میں رزق الہی کا ایک عظیم دسترخوان ہے۔ اس رزق کا سب سے بڑا حصہ اُسی کو ملتا ہے جو اس راہ میں اپنے آپ کو مٹانے کے لیے تیار ہو۔ یہ عزت و شہرت کا اسٹیج نہیں، یہ بربادی کے مقامات ہیں۔ ان مقامات کو طے کرنا بلا شبہ سولی پر چڑھنے سے زیادہ سخت ہے۔ میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمی دین کو اُس کی اعلیٰ سطح پر اُس وقت تک پا نہیں سکتا جب تک وہ قربانیوں کی قیمت پر دین کو حاصل کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔