سستی کی شکایت
Al-Risala, October 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے کہا کہ میرے اندر سستی (laziness) بہت زیادہ ہے۔ جب میں کتاب کا مطالعہ کرتا ہوں تو جلد ہی اکتاہٹ (boredom) پیدا ہوجاتی ہے اور میں کتاب کو بند کر کے رکھ میں نے کہا کہ جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو کیا اُس وقت بھی آپ کے اندر یہی سستی پیدا ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر اصل مسئلہ سستی کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ انٹرسٹ (interest) کا ہے۔ آپ کو سنجیدہ مطالعہ یا سنجیدہ غور وفکر سے دلچسپی نہیں۔ آپ تفریح کو پسند کرتے ہیں، اِسی لیے آپ کو سنجیدہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے سستی آجاتی ہے، لیکن جب آپ اپنے بچوں یا اپنے دوستوں میں ہوتے ہیں تو اُس وقت آپ کو سستی نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ یہ کسی فطری کمزوری کی بات نہیں۔ یہ آپ کے طرز فکر کا معاملہ ہے۔ طرز فکر کو بدلئے۔ اہم اور غیر اہم کے معاملے میں آپ اپنی سوچ پر نظر ثانی کیجئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آپ اپنے ذہن کی ری انجینئرنگ (re-engineering of mind) کیجئے۔
میں نے کہا کہ آپ سب سے پہلے یہ جانیے کہ وقت کے استعمال کا معیار کیا ہے۔ وہ کون سا پیمانہ ہے جس سے ناپ کر ہم یہ سمجھیں کہ ہم نے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا یا غلط استعمال کیا۔ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ کے علم (learning) میں اضافہ ہو، آپ کوئی حکمت (wisdom) کی بات دریافت کر سکیں۔ اس لحاظ سے اگر آپ جانچیں تو آپ پائیں گے کہ ایک گھنٹہ اگر آپ نے کسی سنجیدہ کتاب کے مطالعے میں صرف کیا تو اُس سے آپ کو کوئی نہ کوئی حکمت کی بات ملے گی۔ برعکس، اگر آپ سطحی تفریحات میں ایک گھنٹہ گزاریں تو اس کے ذریعے آپ کوئی حکمت کی بات جاننے میں نا کام رہیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ اس اصول کو لے کر اپنے اوقات کی تنظیم کیجئے۔ وقت کے اُسی استعمال کو درست سمجھیے جس کے ذریعے آپ کو اپنے ذہنی ارتقا میں مدد ملی ہو۔ یہی محاسبہ ہے اور اسی کے ذریعے آپ اپنے کو وقت اور توانائی کے ضیاع سے بچا سکتے ہیں۔