Al-Risala · November 2012

ترکی کا نیا رول

Al-Risala, November 2012

By Maulana Wahiduddin Khan

ترکی میں ساتویں صدی عیسوی میں اسلام داخل ہوا۔ یہاں اسلام کو کافی فروغ ملا، یہاں تک کہ یہاں عثمانی خلافت کے نام سے تیرھویں صدی عیسوی میں ایک مسلم ایمپائر قائم ہو گیا۔ ترکی اور اُس وقت کی مسلم دنیا کے لیے اس عثمانی ایمپائر کا بہت بڑا مثبت رول ہے۔ اُس زمانے میں اسلام کے فروغ کے لیے سیاسی انفراسٹرکچر (political infrastructure) درکار تھا۔ عثمانی خلافت یا عثمانی ایمپائر کو اللہ تعالیٰ نے اسی اہم کام کا ذریعہ بنایا۔ یہ سلسلہ کئی صدیوں تک جاری رہا۔ اس سیاسی بنیاد کے بغیر پچھلی صدیوں میں اسلامی دعوت کا استحکام ممکن نہ تھا۔ کے آخر میں قانون فطرت کے تحت اس نظام پر زوال اور انحطاط کا دور آیا، یہاں تک کہ اس کے لیے پچھلی حالت پر قائم رہنا مشکل ہو گیا۔ اُس وقت کمال اتاترک نے ایک رول ادا کیا۔ اپنے 18 سالہ دور اقتدار میں کمال اتاترک نے جو کام کیا، اس کو ترکی کی تاریخ میں کمال ازم کا نام دیا گیا ہے۔ میرے علم کے مطابق، کمال اتاترک مخالفِ مذہب نہ تھے، وہ دراصل اُس زوال یافتہ مذہبی ڈھانچے کے خلاف تھے جس کی نمائندگی اُس وقت کے ترک علما کر رہے تھے۔ بارے میں انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار (Mete Tuncay) نے درست طور پر لکھا ہے: Atatürk was not an outright atheist but a deist who believed in a rational theology, denying the absolute truth of revealed religions. For tactical reasons, at the beginning of his political career, he recognized Islam as the latest and most perfect of all religion; this declaration, however, equated Islam with the natural religion he fancied. (Kemalism, The Oxford Encyclopedia of the Modern Islamic world, Vol. 2, page. 411)

کمال اتاترک نے جو انقلابی کارروائیاں کیں، اُس کا مثبت تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کے بعد ترکی میں شخصی سلطنت کے بجائے جمہوریت (democracy) کے دور کا آغاز ہوا، قدیم مذہبی تعلیم کی جگہ سیکولر تعلیم رائج ہوئی، مشرقی کلچر کی جگہ مغربی کلچر اختیار کیا گیا، روایتی نظام کی جگہ ہر شعبے میں ماڈرن طریقے رائج ہوئے، وغیرہ۔

اتاترک آپریشن کے بعد ترکی میں جو نئے مواقع کھلے، اُس کے نتیجے میں ترکی میں ریفارمر (reformers) پیدا ہوئے۔ مثلاً سعید نورسی (وفات : 1960) اور استاذ محمد فتح اللہ گولن (پیدائش: 1941)، وغیرہ۔ استاذ فتح اللہ گولن اور ان کے پیروؤں نے ترکی میں ایک قابلِ قدر کام انجام انھوں نے بڑی تعداد میں جدید طرز کے تعلیمی ادارے کھولے، کلچر اور صحافت کے میدان میں انھوں نے نمایاں کام کیا، غیر سیاسی انداز میں سماج کی تعمیر کے لیے انھوں نے امتیازی کام انجام دیا۔ کہنا صحیح ہوگا کہ انھوں نے ترکی میں قدیم پولیٹکل انفراسٹرکچر(political infrastructure) کی جگہ بڑے پیمانے پر ایک نیا سوشل انفراسٹرکچر (social infrastructure) قائم کر دیا جو کہ اگلے مرحلے کے کام کے لیے ایک مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔

اکیسویں صدی کے ربع اول میں اب وقت آ گیا ہے کہ ترکی میں اگلے مرحلے کا کام کیا یہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام دراصل اُس کام کی تکمیل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں صحابہ اور تابعین کے ذریعے ترکی میں انجام پایا تھا اور پھر دھیرے دھیرے وہ تقریباً ختم ہو گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے دعوتی مشن کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور ترکی میں سماجی اور تمدنی اعتبار سے جو نئی بنیاد قائم ہوئی ہے، اس کو بھر پور طور پر استعمال کرتے ہوئے پیغمبرِ اسلام کے دعوتی مشن کی تکمیل کی جائے۔

Printed page