ترکی کا پلس پوائنٹ
Al-Risala, November 2012
By Maulana Wahiduddin Khan
ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کو 18 سال (1938-1920) تک سیاسی اقتدار حاصل رہا۔ اس مدت میں انھوں نے جو ریڈیکل کام کئے، اس کو کمال ازم (Kemalism) کہا جاتا ہے۔ کا اگر موضوعی مطالعہ (objective study) کیا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ کمال ازم اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی بلڈوزر (divine bulldozer) کی حیثیت رکھتا تھا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے زوال یافتہ بوسیدہ کلچر کو ڈھا دیا، تاکہ اس کی جگہ ایک نئی عمارت کی تعمیر کی جاسکے۔ کمال ازم کا یہ معاملہ ترکی کے مشہور صوفی شاعر جلال الدین رومی کے اس شعر کا مصداق تھا کہ جب کسی عمارت کو آباد کرنا ہوتا ہے تو پہلے پرانی عمارت کو ڈھا دیتے ہیں: چوں بنائے کہنہ آباداں کنند او لأ تعمیر را ویراں کنند اسلام کا اصل ماڈل وہ ہے جو دعوت الی اللہ کے تصور پر قائم ہوتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں یہی اسلام کا ماڈل تھا، مگر بعد کورفتہ رفتہ اُس پر زوال آیا اور دعوتی ماڈل کے بجائے دو متوازی (parallel) ماڈل قائم ہوگئے— پولیٹکل ماڈل، اور فقہی ماڈل۔ پولیٹکل ماڈل کا یہ نتیجہ ہوا کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے لیے دعوت کا موضوع نہ رہیں، بلکہ وہ سیاست اور حکومت کا موضوع بن اسی طرح فقہی ماڈل کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام، اسپرٹ کے معنی میں تعلق باللہ کا موضوع نہ رہا،
بلکہ وہ صرف فارم کی بابت فنی بحثوں کا مجموعہ بن کر رہ گیا۔ یہ دونوں ماڈل اللہ کی مرضی کے مطابق نہ تھے، چناں چہ اللہ کو مطلوب ہوا کہ اُن کو بے رحمی کے ساتھ بلڈوزر کر کے ڈھا دیا جائے۔ یہی کام تھا جو کمال اتاترک کے ہاتھوں بیسویں صدی کے ربع اول میں انجام پایا۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ فطرت کا بلڈوزر تھا، نہ کہ کمال اتاترک کا بلڈوزر۔